نئے چین کے ساتھ چند لمحے

 
نئے چین کے ساتھ چند لمحے,,,,سویرے سویرے…نذیر ناجی 
 
 
 
پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہبازشریف نے گزشتہ روز چین کے ثقافتی گروپ کے اعزاز میں ایک استقبالیہ دیا۔ یہ گروپ چین کے جشن آزادی کی تقریبات کے سلسلے میں پاکستان کے دورے پر آیا تھا۔ کافی عرصے سے پاکستان میں چینی مہمانوں کے ساتھ گرمجوشی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔ لیکن اس بار میں نے محسوس کیا کہ پاکستانی میزبان اپنے چینی مہمانوں سے کافی گرمجوشی اور محبت سے مل رہے ہیں۔ پرانی محبت کو پھر سے بیدار ہوتے دیکھ کرمیں نے اس کی وجہ پر غور کیا‘ تو خیال آیا کہ ہم 1965ء کی طرح ایک بار پھر خطرات میں گھرے ہیں۔ خصوصاً امریکہ کی طرف سے جو بے شمار اندیشے لاحق ہیں اور بھارت نے جو بے لچک رویہ اختیار کر رکھا ہے‘ اس کی بنا پرہماری نظریں ایک بار پھر چین کی طرف اٹھ رہی ہیں اور ہمارے لاشعور میں کہیں 1965ء والا چین بیٹھا ہے اور کوئی موہوم سی امید ٹمٹما رہی ہے کہ ایک بار پھر وہی کچھ دوہرایا جائے گا۔ چین ہمارے دشمنوں کو للکارتا ہوا‘ میدان جنگ میں کودنے کی دھمکیاں دیتا‘ہماری پشت پر آ کھڑا ہو گا اور ہم ایک بار پھر بحران سے نکل جائیں گے۔ اس پس منظر میں جب میں نے شہبازشریف کے مدعو کئے ہوئے مقامی مہمانوں کو چینی مہمانوں سے والہانہ محبتوں کا اظہار کرتے دیکھا‘ تو خوشی ضرور ہوئی۔ مگر مجھے ان کی امیدیں نئے دور کے تقاضوں کے بجائے‘ پرانے زمانوں کے رومان میں ڈوبی ہوئی معلوم ہوئیں۔
چین سے شہبازشریف کی امیدیں نئے دور کے تقاضوں کے مطابق ہیں۔ وہ اس سے زیادہ کچھ نہیں چاہتے کہ چین ہمیں تجارت اور صنعتی تجربات سے مستفید ہونے کا موقع دے‘ ہمارے کسانوں اور ٹیکنیشنوں کو تربیت دے اور زراعت میں اپنے تجربات سے سیکھنے کے مواقع فراہم کرے۔ انہوں نے اپنی خیرمقدمی تقریر کے بعد پاک چین دوستی زندہ باد کے نعرے لگوائے۔ جس پر چین کے آنریبل سفیر نے پرجوش طریقے سے اظہارمسرت کیا۔ حاضرین کے نعروں میں بھی وہی جوش تھا‘ جو پاکستان اور چین کے روایتی رشتوں کے اظہار میں ہوتا ہے۔
اس تقریب کے مہمان زندگی کے ہر شعبے سے متعلق تھے۔ ان میں ماہرین تعلیم بھی تھے‘ صنعت کار بھی‘ تاجر بھی‘ صحافی بھی‘ درآمدوبرآمد کاکاروبار کرنے والے بھی اور اعلیٰ افسران بھی۔ ہر شعبے کے لوگ چینی مہمانوں سے اپنی گفتگو میں چین کی دوستی پر یقین کا اظہار یوں کر رہے تھے‘ جیسے وہ کچھ اور ہی قسم کی امیدیں رکھتے ہوں جبکہ چینی مہمان اپنے روایتی حسن اخلاق کا مظاہرہ کرنے پر ہی قناعت کر رہے تھے اور میں دیکھ رہا تھا کہ ان کے طرزگفتگو اور باڈی لینگویج میں وہ چیز کہیں موجود نہیں جس کی ان کے کئی میزبانوں کو جستجو تھی۔ ثقافتی وفد کے اراکین اور ان کے ساتھ آنے والے سفارتکار اس اظہار محبت پر جوابی محبت کا رسمی فرض ادا کر رہے تھے جبکہ پاکستان میں مختلف منصوبوں پر کام کر نے والے چینی‘ جو نئے چین کے کارپوریٹ سیکٹر کے نمائندے تھے‘ اظہار محبت کی ہر کوشش کے جواب میں معیشت اور ٹیکنالوجی کی باتیں کرنے لگتے۔ عالمی تجارت میں چین کی کامیابیوں کو دوہراتے اور پاکستان میں چین کے تعاون سے بننے والے ترقیاتی منصوبوں کے ذکر کے ساتھ مستقبل کے امکانات کی طرف اشارہ کرتے۔ لیکن وہ محبت جو 65ء کے چین کے لیڈر اور شہری ٹوٹ کر کیا کرتے تھے‘ بات بات پر جھک جھک جاتے تھے اور پاکستان کی ہر مشکل میں ساتھ دینے کی یقین دہانی کرایا کرتے تھے ‘ کسی بات میں نہیں تھی۔میں چینی خواتین اور حضرات کے طوراطوار کو گہری نظر سے دیکھ رہا تھا۔ ان کے چلنے ‘ کھڑے ہونے اور بات کرنے کے انداز بدل چکے ہیں۔ بادشاہتوں کے جبر اور سامراجی طاقتوں کے مظالم کی طویل تاریخ کے نتیجے میں چینی قوم میں جو عاجزی اور لجاجت آ گئی تھی‘ وہ آزادی کے پچیس تیس برس بعد تک بھی کسی نہ کسی انداز میں موجود رہی۔ لیکن گزشتہ 30 برس سے چین نے ترقی کے ساتھ ساتھ خود اعتمادی کی طرف جو سفر شروع کیا تھا‘ مجھے اپنے مہمانوں کو دیکھ کر اب کامیابی کی بلندیوں پر آگے بڑھتا ہوا نظر آیا۔ان کے کھڑے ہونے اور قدم اٹھانے اور چلنے کے طریقوں میں قومی عظمت کے احساس کے ساتھ ساتھ احساس قوت کی جھلک نمایاں تھی۔ صاف لگ رہا تھا کہ وہ ایک سپر طاقت کے شہری ہیں۔ پرانا چین ماضی کی گرد جھاڑ کر نئی توانائیوں کے ساتھ کھڑا ہو چکا ہے۔ اس کی نظر مستقبل پر ہے اور وہ بیرونی رشتوں میں رومانویت کے عنصر کو خارج کرکے‘ حقائق پر مبنی رشتے قائم کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ وہ رومانویت اب سفارتی سطح پر باقی رہ گئی ہے‘ جس کے حوالے ہماری طرف سے جذباتی انداز میں دیئے جاتے ہیں۔ مگر چینیوں کی طرف سے اب وہ محض تاریخی حوالے ہیں۔ یہی چیز عزت مآب چینی سفیر کی تقریر میں بھی تھی۔ انہوں نے غیرجذباتی انداز میں ماضی کی رومانوی دوستی میں پاکستان کی ان خدمات کا ذکر کیا‘ جو آزادی کے فوراً بعد چین کے لئے‘ اس وقت کے لحاظ سے غنیمت تھیں۔ جیسے خودمختار چین کو مسلم دنیا میں سب سے پاکستان نے تسلیم کیا تھا۔ جب سرمایہ دار دنیا نے چین کا بائیکاٹ کر رکھا تھا‘ اس وقت پاکستان ہی تھا‘ جس نے اسے بیرونی دنیا سے رابطوں کے ذرائع مہیا کئے۔ وہ پاکستان ہی تھا جس نے امریکہ اور چین کے درمیان رابطے قائم کرنے کی سہولت مہیا کی۔ مگر یہ باتیں اب محض حوالوں کے لئے رہ گئی ہیں۔ اب ہمیں چین کو دوستی کے رومانوی طریقے سے دیکھنا ترک کر دینا ہو گا۔ زیادہ امیدیں لگائیں گے تو مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔
اب چین گزشتہ 12 سال سے غیر رسمی رابطوں میں مسلسل ہمیں مشورہ دے رہا ہے کہ بھارت کے ساتھ کشیدگی ختم کر کے معمول کے تعلقات بحال کرنے پر توجہ دی جائے۔ چینی اپنی مثالیں دیتے ہوئے‘ ہمیں سمجھاتے ہیں کہ انہوں نے کس طرح ہانگ کانگ اور میکاؤ پر بیرونی قبضے ہوتے ہوئے قابض ملکوں کے ساتھ سفارتی رابطے اور تعلقات آگے بڑھائے اور ایک گولی چلائے بغیر اپنے علاقے واپس لے لئے۔ وہ تائیوان کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وہاں امریکہ کی جارحانہ موجودگی کے باوجود‘ وہ امریکہ کے سب سے بڑے تجارتی حصے دار بن چکے ہیں۔ وہ اب تک تائیوان پر اپنے دعوے سے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹے۔چین کے موجودہ صدر ہوجن تاؤ نے موجودہ منصب سنبھالنے سے پہلے ہمارے ماہر معیشت شاہدکاردار سے کہا تھا کہ ”بھارت اور آپ کے درمیان جو تاریخی‘ تہذیبی اور ثقافتی رشتے ہیں‘ وہ ہمارے اور آپ کے درمیان نہیں ہیں۔ پاکستان اور بھارت میں ایک جیسی زبان بولی جاتی ہے۔ ایک جیسے کھانے کھائے جاتے ہیں۔ ایک جیسا لباس پہنا جاتا ہے۔ ایک جیسے رسوم و رواج ہیں جبکہ چین میں اردو بولنے والوں کی اور پاکستان میں چینی بولنے والوں کی تعداد مشکل سے چند ہزار ہو گی۔ اگر ہم اس قدر محدود تہذیبی اور ثقافتی رشتوں کے ساتھ دوستی کے رشتے قائم کر سکتے ہیں اور اپنے علاقوں پر قابض سامراجی ملکوں سے معمول کے تعلقات قائم رکھتے ہوئے‘ تجارت کو فروغ دے سکتے ہیں‘ تو پاکستان ایسا کیوں نہیں کر سکتا؟“ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں چین بھی ہم سے وہی چاہتا ہے‘ جس کا مطالبہ امریکہ اور اس کے اتحادی کر رہے ہیں۔ ہمیں اس مریضانہ سوچ سے باہر نکلنا چاہیے کہ پاکستان کو ساری دنیا سے خطرہ ہے۔ ایک ہم ہی سچائی پر ہیں اور باقی ساری دنیا ہم پر تہمتیں لگاتی اور جھوٹی الزام تراشی کر تی ہے۔ کبھی اپنے دامن کے اندر جھانک کر یہ جاننے کی کوشش بھی کرنا چاہیے کہ کہیں ہم ہی غلطی پر تو نہیں؟



    Powered by Control Oye