دورہ امریکہ کا نتیجہ۔

آصف علی زرداری کے دورہ امریکہ کا نتیجہ۔ ۔ ۔ آصف زرداری ایک مضبوط صدر، خدا کے لئے بجلی کی قیمتیں اتنی نہ بڑھائیں کہ لوگوں کے لئے ادائیگی ممکن نہ رہے، عدلیہ آزادی تحریک اور لاہور کے ایک جوڈیشل مجسٹریٹ سے اسلام آباد پولیس کا توہین آمیز سلوک، لاہور کے جعلی پولیس مقابلے،چیف جسٹس آف پاکستان کب از خود نوٹس لیں گے ( خوشنود علی خان کا کالم ناقابل اشاعت)
پیر ستمبر 28, 2009
قارئین محترم! بجلی کی قیمت میں مزید چھ فیصد اضافے کی سمری ملک کی ذمہ دار ترین شخصیت کو بھیجی گئی ہے۔ ۔ ۔ بتدریج یہ اضافہ 24فیصد تک جائے گا۔ سمری یقیناً منظور ہو جائے گی۔ ۔ ۔ ابھی سمری بھیجے جانے کی خبر ہی چھپی ہے کہ فیصل آباد، جھنگ اور بعض دوسرے علاقوں میں لومز بند ہو گئی ہیں۔ ۔ ۔ بعض خبروں میں یہ بھی بتایا گیا کہ 50 یونٹ تک استعمال ہونے والی بجلی کا کوئی بل نہیں ہو گا۔ ۔ ۔ قارئین! میں نے اور میرے بچوں نے رینٹل پاور کو بھگتنا ہے۔ اس کی وجہ سے شاید ایک دو گھر تو اربوں پتی بن جائیں گے لیکن باقی ملک دیوالیہ ہو جائے گا۔ ۔ ۔ لوگ ’’جہنم‘‘ میں رہیں گے۔ ۔ ۔ کل مجھے یوسف صلاح الدین نے ایک انٹرویو میں بہت ہی تلخ فقرہ کہا تھا کہ اب حالات یہ ہیں کہ ہر سفید پوش گھرانے نے بھی اپنی ایک آدھ لڑکی عصمت فروشی کے لئے مختص کر دی ہے یہ بظاہر بہت سخت بات ہے۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس وقت عوام کو جس قیمت پر بجلی مل رہی ہے۔ ۔ ۔ کیا وہ اس کے بل ادا کرنے کی پوزیشن میں ہیں، کیا وہ یہ بل برداشت کر سکتے ہیں؟ میرا جواب یہ ہے نہیں کر سکتے۔ مزید 6 سے 24 فیصد اضافے کامطلب تو ملک کی انڈسٹری بند کر دینا ہے ۔ ۔ ۔ ابھی تو پاور لومز بند ہوئی ہیں، چند دنوں میں شاید پوری انڈسٹری کھڑی کر دے۔ ۔ ۔ اس فیصلے کا ایک اور مطلب بھی ہے۔ ۔ ۔ کہ جو چیز اس سے پہلے فیکٹری سے5 روپے کی نکل رہی تھی اب 7روپے میں نکلے گی۔ ہم بین الاقوامی منڈی میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے باقی کی دنیا کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے ہماری برآمدات ختم ہو جائیں گی یا بہت کم ہو جائیں گی۔ ۔ ۔ ہم بطور قوم اور بطورملک کیسے زندہ رہیں گے؟ یہ بہت بڑا سوال ہے اور اصل سوال یہ ہے کہ ہم زندہ کیسے رہیں گے؟ میں تو سب سے پہلے اخبارات کی بات کروں گا کہ ان کی پروڈکشن کی قیمت فوراً بڑھ جائے گی؟ لوگ تو انفارمیشن بھی حاصل کرنے سے آہستہ آہستہ محروم ہوتے جائیں گے۔ ۔ ۔ الیکٹرانک میڈیا کو تبھی دیکھا جاسکے گا جب الیکٹرک ہو گی؟
قارئین محترم! ایک اور موضوع کیری لوگر بل اور پاکستان کو امریکہ سے ملنے والی سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد ہے۔ ۔ ۔ ان شرائط کے کئی پہلوہیں۔ سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ ہم مریدکے اور کوئٹہ میں قائم دہشت گردی کے اڈوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔ آپ کو سمجھانے کے لئے بتاتا چلوں کہ مریدکے میں لشکر طیبہ کا مرکز ہے۔ ۔ ۔ کوئٹہ میں بھی کچھ ایسا ہی ہے؟
یہ جو ہر دوسرے دن انڈیا حافظ سعید کی گرفتاری اور ٹرائل کی بات کرتا ہے یہ دراصل امریکہ، اسرائیل اور انڈیا کا مشترکہ (بلکہ را، موساد اور سی آئی اے کا مشترکہ) ایجنڈا ہے۔ ۔ ۔
ذرا دوسری شرط کی طرف چلتے ہیں وہ یہ ہے کہ امریکیوں کو ’’ایٹمی پھیلاؤ میں ملوث ہر شخص تک رسائی ہو گی‘‘ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سمیت تمام اہم سائنسدانوں سے امریکی پوچھ گچھ کر سکیں گے۔
تیسری شرط یہ ہے کہ پاکستان القاعدہ، طالبان، لشکر یا کسی جیش کو اپنی زمین استعمال نہیں کرنے دے گا۔ ۔ ۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان اپنی مرضی سے تو پہلے بھی نہیں کر رہا۔ اس کے لئے تو یہ سارے جیش از خود ہی زمین کا استعمال ممکن بنا لیتے ہیں۔
چوتھی شرط یہ ہے کہ فوج کی کمان کی تبدیلی اور بجٹ پر سول کنٹرول کا جائزہ لیا جائے گا۔ ۔ ۔ اصل میں بھارتی، اسرائیلی اور امریکی چاہتے ہیں کہ پاکستان کا بجٹ اسمبلی وسینٹ میں عام ہو تاکہ بھارت کو ہماری تیاریوں کا علم ہو۔ ۔ ۔ اس پر بڑی حد تک پہلے ہی عمل ہو چکا۔ ۔ ۔ لہٰذا پاکستان کے عوام اور خاص سب جانتے ہیں کہ یہ خواہش کس کی ہے اور کیوں ہے؟
قارئین محترم! یہاں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ کیری لوگر بل کی پانچویں شرط بہت ہی اہم ہے۔ ۔ ۔ اور وہ ہے ’’فوج سیاسی اور عدالتی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرے گی‘‘
ذرا دیکھتے ہیں فوج نے اب تک کس عدالتی معاملے میں حصہ لیا، فوج کے سابق سربراہ نے چیف جسٹس آف پاکستان جناب افتخار محمد چوہدری کو ان کے عہدے سے الگ کیا جبکہ فوج (خصوصاً جنرل کیانی) کی مداخلت سے ہی چیف جسٹس مسٹر جسٹس افتخار محمد چوہدری بحال ہوئے۔ غالباً امریکیوں کی اب خواہش یہ ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان اور حکومت میں ورکنگ ریلیشن شپ بن جائے اور سیاست و عدل سول حصے کے پاس رہے۔ اس کے کئی معانی ہیں ایک معنے یہ ہے کہ امریکی چاہتے ہیںکہ صدر آصف علی زرداری حکومت کے باقی ماندہ عرصے کے لئے مضبوط ہوں۔ ۔ ۔ اور فوج اس دوران اقتدار سے دور رہے۔ ۔ ۔ اور سول حکومت کے لئے کوئی مشکل پیدا نہ ہونے دے۔ ۔ ۔
قارئین کرام! صدر آصف علی زرداری کی مضبوطی کے نتیجے میں یہاں میں بعض تبدیلیاں دیکھتا ہوں۔ ۔ ۔ جو آج بہت مضبوط نظر آرہے ہیں شاید اگلے کچھ دنوں میں وہ مضبوط اور طاقتور نہ رہیں۔ لیکن ان ساری باتوں کو ایک طرف چھوڑ کر میں صدر پاکستان کو یہ مشورہ دوں گا کہ امریکہ سے واپسی کے فوراً بعد وہ کرپٹ عناصر کو کابینہ سے الگ کریں اور یہ بھی واضح کریں کہ حکومت پاکستان کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ یہ بعض لوگوں کا انفرادی عمل تھا۔ ۔ ۔
قارئین! ملک میں عدلیہ کی آزادی کی بہت بات ہوئی لیکن آہستہ آہستہ نہ جانے کیوں لوگوں میں یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ عدلیہ آزادی مثلاً میں اس ملک کے چیف جج‘ پنجاب کے چیف جسٹس اور سیشن جج اسلام آباد کے علاوہ صدر مملکت‘ وزیر اعظم پاکستان‘ آئی جی اسلام آباد اور ایس ایس پی اسلام آباد کے سامنے عید سے پہلے ایک شام افطار سے کوئی 16,15 منٹ پہلے پیش آنے والا واقعہ رکھ رہا ہوں۔ ۔ ۔ لاہور کینٹ کے جوڈیشل مجسٹریٹ جواد عالم قریشی اپنی گاڑی پر فیملی کے ساتھ اسلام آباد میں داخل ہو رہے ہیں۔ ۔ ۔ اسلام آباد کو دہشت گردی سے بچانے والی پولیس انہیں اشارہ کرتی ہے کہ آپ گاڑی سائیڈ پر لگائیں۔ ۔ ۔ جواد عالم قریشی ڈگی کھولتے ہیں۔ ۔ ۔ پولیس ڈگی بھی چیک کرتی ہے اور شیشوں کے اندر فیملی کو بھی دیکھتی ہے اور جانے کا اشارہ کرتی ہے۔ ۔ ۔ چند قدم پر جب جوڈیشل مجسٹریٹ گاڑی کا ٹوکن Pay کرتے ہیں۔ ۔ ۔ لیکن اس دوران وہاں ایک اور پولیس والا آتا ہے اور کہتا ہے ۔ ۔ ۔ گاڑی چیک کروائیں۔ ۔ ۔ جواد عالم قریشی انہیں بتاتے ہیں کہ میں چند قدم پہلے گاڑی چیک کرواکے کلیئر کرواچکا ہوں ۔ ۔ ۔ میرے ساتھ فیملی ہے۔ ۔ ۔ افطاری میں چند منٹ ہیں آپ مجھے اور میری فیملی کو کیوں تنگ کر رہے ہیں۔ ۔ ۔ یہاں وہ افسر یا اہلکار پہلی بار بہت سخت رویہ اختیار کرتا ہے اور جواد عالم قریشی سے کہتا ہے کہ میں ابھی تیرا دماغ درست کرتا ہوں۔ ۔ ۔ وہ کہتے ہیں میرا دماغ بالکل خراب نہیں۔ ۔ ۔ لیکن آپ میری اور میری فیملی کے پیچھے کیوں پڑے ہیں۔ ۔ ۔ وہ افسر یا اہلکار گاڑی کی طرف اشارہ کرکے کہتا ہے کہ اس طرح کی گاڑیوں میں آپ جیسے لوگوں کا دماغ خراب ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ وہ پہلی بار جوڈیشل مجسٹریٹ کو گالی دیتا ہے اور دور کھڑے (پرائیویٹ کپڑوں میں) ایک شخص کی طرف لے جاتا ہے۔ ۔ ۔ اسے کچھ بتاتا ہے وہ شخص وہاں سے چلتا ہے تو گالیاں دیتا ہوا اور شیشے کے پاس جھک کر مزید گالی دیتے ہوئے گاڑی ایک سائیڈ پر لگانے کو کہتا ہے ۔ جواد عالم قریشی کے ساتھ فیملی ہے۔ ۔ ۔ وہ ایک بار پھر گاڑی سائیڈ پر لگاتے ہیںڈگی کھولتے ہیں۔ ۔ ۔ اس افسر کا ریڈر یا وائرلیس بردار آگے بڑھتا ہے اور جواد عالم قریشی کو مزید گالیاں دیتا ہے اسے اس کی بیوی بچوں کے سامنے بے عزت کرتا ہے اور کہتا ہے تم نے میرے افسر کو گالی دی میں تمہیں تھانے لے جاکر سبق سکھاتا ہوں۔ ۔ ۔ اس دوران ایس ایچ او گولڑہ آگے بڑھتا ہے وہ جواد عالم قریشی سے کہتا ہے ۔ ۔ ۔ آپ گھبرائیں نہیں۔ ۔ ۔ میں سنبھال لیتا ہوں۔ ۔ ۔ لیکن دور کھڑا افسر اشارہ کرتا ہے ۔ ۔ ۔ ایک پولیس اہلکار گاڑی میں بیٹھ کر جواد عالم قریشی کو کہتا ہے گاڑی چلاؤ۔ ۔ ۔ ایک نمبر پلیٹ ٹوٹی گاڑی آگے چلتی ہے ۔ ۔ ۔ تھانہ گولڑہ میں اڑھائی گھنٹے جواد عالم قریشی کو حبس بے جا میں رکھا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ فیملی کو ہراساں کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ جوڈیشل مجسٹریٹ کو بے عزت کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ گاڑی اور کاغذات قبضے میں لے لئے جاتے ہیں۔ جواد عالم قریشی اپنے ایک محسن سیشن جج گوجرانوالہ سے رابطہ کرتے ہیں کہ میں اس حالت میں ہوں۔ ۔ ۔ وہ سیشن جج اسلام آباد سیشن جج کو صورت حال سے آگاہ کرتے ہیں۔ ۔ ۔ سیشن جج اسلام آباد جواد عالم قریشی سے رابطہ کرتے ہیں ۔ تفصیلات پوچھتے ہیں۔ ۔ ۔ اور پھر تھانے کے نمبر پر فون کرتے ہیں جہاں کیپٹن (ر) لیاقت ملک اے ایس پی بھی موجود ہیں جن کے حکم پر جوڈیشل مجسٹریٹ کو گرفتار کرکے وہاں حبس بے جا میں رکھا گیا ہے لیکن تھانے کا فون اٹینڈ نہیں ہوتا۔ ۔ ۔ جس پر سیشن جج اسلام آباد ایک بار پھر جواد عالم قریشی کے فون پر رابطہ کرتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ یہاں موجود کسی افسر سے میری بات کرادیں۔ جواد عالم قریشی جب ایس ایچ او سے سیشن جج اسلام آباد کی بات کراتے ہیں تو ایس ایچ او جواد عالم قریشی جوڈیشل مجسٹریٹ کینٹ سے کہتے ہیں کہ آپ ملزموں کے کمرے سے اٹھ کر میرے کمرے میں آجائیں۔ ۔ ۔ اس وقت کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت ملک اے ایس پی متعلقہ وہاں سے غائب ہونے کی کوشش کرتے ہیں لیکن جوڈیشل مجسٹریٹ کینٹ لاہور جواد عالم قریشی ان سے کہتے ہیں کہ آپ نے مجھے اڑھائی گھنٹے جو حبس بے جا میں رکھا ۔ ۔ ۔ مجھے اس کی تحریر تو دے دیں میرا جرم کیا تھا؟ لیکن ایس ایچ او جواد عالم قریشی سے کہتے ہیں۔ ۔ ۔ غلطی ہوگئی آپ ہماری نوکریوں کے پیچھے کیوں پڑگئے؟
قارئین! یہ ایک واقعہ ہے جس کی تفصیل ہم تک پہنچ گئی اور اس کی وجہ یہ بنی کہ بعض لوگ (عدلیہ میں) اس وجہ سے ڈسٹرب ہوئے تو مجھے یہ واقعہ بتا دیا گیا۔ ۔ ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ لوگوں کو انصاف دینے والا جواد عالم قریشی اپنی فیملی کی نظروں میں کیا مقام پائے گا۔ اس واقعے سے معاشرے میں اس کا کیا مقام طے ہوا؟ کیا چیف جسٹس خود اس واقعہ کا نوٹس لیں گے ؟ اور اس کے ساتھ مجھے چیف جسٹس صاحب سے یہ گزارش بھی کرنا ہے کہ لاہور میں جعلی پولیس مقابلوں کا رواج عام ہوگیا ہے۔ ۔ ۔ آپ ان پولیس مقابلوں کا نوٹس لیں۔ ۔ ۔ کیونکہ جعلی پولیس مقابلوں کو شائع کرنے والے اخبار نویسوں کو اب جعلی پولیس مقابلوں کی شہرت رکھنے والے پولیس افسران نے پولیس مقابلوں میں مارنے کی دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں ۔


    Powered by Control Oye