’’خبریں‘‘ کی 17 ویں سالگرہ مبارک

جناب ضیاشاہد کو ’’خبریں‘‘ کی 17 ویں سالگرہ مبارک ۔۔۔۔(خوشنود علی خان کا کالم ناقابل اشاعت)
اتوار ستمبر 27, 2009
ہر انسان کی زندگی میں اس کے کچھ خواب ہوتے ہیں۔ میرے بھی کچھ خواب تھے اور خواب ہیں۔ اللہ کریم کے ہاں ہر شخص کے خوابوں کی تعبیر کا ایک سسٹم ہے۔ یہ ایک عجیب بات ہے کہ میرے خوابوں کی تعبیر میںکہیں نہ کہیں جناب ضیاشاہد کا بطور میرے سینئر ساتھی کے عمل دخل لکھا گیا تھا۔
مجھے سن یاد نہیں‘ لیکن میں روزنامہ جنگ میں تھا۔ جناب ضیاشاہد غالباً اس وقت نئے نئے جنگ میں آئے تھے۔ میری ان سے دوستی ہوگئی۔ ’’جنگ‘‘ میں پہلے سے موجود لوگوں میں سے بعض جناب ضیاشاہد کی صلاحیتوں سے خوفزدہ ہونے کی وجہ سے ہر وقت ان کے خلاف سازشوں میں مصروف رہتے۔ ان کی ان حرکات کی وجہ سے ہماری دوستی پکی ہوتی گئی۔ مجھے اپنے ذہین و فطین ہونے کا دعویٰ نہیں مگر یہ دعویٰ ضرور ہے کہ میں مشقتی ہوں اور جزنلزم کو میں نے پیشے کے طورپر سوچ سمجھ کر اپنایا ہے اور لاہور جیسے شہر میں اس پروفیشن میں اپنے ٹارگٹس کے حصول کیلئے اتنا پیدل چلا کہ میرے پاؤں اور چہرے کا رنگ ایک ہو جاتا تھا۔ میں نے جناب میر شکیل الرحمن سے بھی بہت کچھ سیکھا ہے۔انہوں نے مجھ سے کام لینے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی لہٰذا مجھے السر ہوگیا۔
ایک دن میں روزنامہ جنگ لاہور میں اپنے کیبن میں فرش پر اخباریں سر کے نیچے رکھے لیٹا تھا اور دودھ کے ایک پیکٹ سے السر کی تکلیف کو کم کرنے کیلئے نالی کے ذریعے ایک دو گھونٹ دودھ لے لیتا۔ دروازہ کھلا‘ جناب ضیاشاہد نے میری حالت دیکھی۔ انہوں نے دروازہ جس زور سے کھولا تھا‘ اسی زور سے یہ دروازہ بند کرکے واپس چلے گئے۔
بعدازاں معلوم ہوا کہ وہ میر شکیل الرحمن کے پاس گئے اور ان سے کہا یہ یہیں کام کرتا کرتا مر جائے گا۔ شکیل صاحب نے کہا میں کیا کروں‘ اس نے یہاں اپنے جیسا کوئی اور پیدا ہی نہیں ہونے دیا۔
میرے کام کے حوالے سے یہ فقرہ شاید میری زندگی کی حاصلات میں سے ایک ہے۔ مجھے چھٹی تو نہ ملی مگر ہماری دوستی مزید پکی ہوگئی۔ میں نے اور جناب ضیاشاہد نے دو بار ’’جنگ‘‘ چھوڑا اور دو بار ’’نوائے وقت‘‘ آئے۔ ہم جب آپس میں ملتے ہیں تو کیا ہوتا ہے‘ اس کا اظہار ایک دن جناب ضیاشاہد نے دریائے سوات کے کنارے ہمارے ایک سفر کے دوران کیا اور کہا دراصل ہم دونوں مل کر ایک بنتے ہیں۔
اس قول کی پہلی تعبیر روزنامہ پاکستان تھا جس میں پیسہ جناب اکبر علی بھٹی کا تھا‘ سوچ اور عمل ہمارا تھا۔ جب ’’پاکستان‘‘ کامیاب ہوگیا تو ہمیں وہاں سے جانا تھا‘ لیکن ہمیں یہ بھی معلوم تھا کہ ہم یہاں نہیں رہ سکیں گے بلکہ یہ بات شاید بہت سے لوگوں کیلئے خبر ہو کہ ہم دونوں روزنامہ پاکستان شائع ہونے سے پہلے مستعفی ہوگئے تھے‘ لیکن ہم نے روزنامہ پاکستان کو نکالا اور کامیاب کیا تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ ہم اس ملک میں ایک کامیاب اخبار نکال سکتے ہیں۔
روزنامہ پاکستان سے فراغت کے بعد ہم ایک بار پھر سڑک پر تھے۔ ضیا صاحب نے مجھے اسلام آباد فون کیا اور بلایا۔ ضیا صاحب کے گھر ہم دونوں ملے اور طے پایا کہ ہم ایک ایسا اخبار نکالیں گے جو ہمارے خوابوں کی تعبیر ہو۔
ہم دونوں کے پاس ملا کر چند ہزار روپے تھے۔ میں نے جوہر ٹاؤن میں اپنا پلاٹ بیچا۔ ضیاشاہد صاحب نے اور میں نے ہی کروڑوں روپے کا انتظام کرنا تھا۔ ضیا صاحب کا بینک ان کے بڑے بھائی (مزمل صاحب) تھے اور جو کچھ بک سکتا تھا‘ بیچ کر ہم نے پنج محل روڈ پر جماعت اسلامی کی بلڈنگ اور ’’جسارت‘‘ کیلئے لگائے گئے جہلم کے دو یونٹ خریدے جو بعد میں اسلام آباد شفٹ کئے گئے۔ بلڈنگ کی خریداری کیلئے کلر یونٹس منگوانا۔ لوگوں سے ایک ایک ہزار کے شیئرز اکٹھے کرنا اور ایک ادارہ بنانا یہ سب ’’جان لیوا‘‘ کام تھا۔
ہر کامیابی کا ایک خراج بھی ہوتا ہے۔ جناب ضیاشاہد اور میری صحت کی خرابی وہ خراج ہے۔ جو ہم نے دے دیا۔ بہرحال ’’خبریں‘‘ کامیاب ہوا‘ لیکن اس کیلئے میں نے کاغذ کے ٹرک کے انتظار میں کتنی راتیں سڑکوں پر گزاریں‘ جب ان لمحات کا خیال کرتا ہوں تو اپنے رب کے حضور اب بھی سربسجود ہو جاتا ہوں کہ اس نے ہم جیسے بے وسیلہ لوگوں سے کیا کام لیا۔
’’خبریں‘‘ پاکستان کی صحافتی تاریخ کا ایک ایسا تجربہ ہے جس نے پاکستانی صحافت سے اجارہ داری ختم کی جس نے یہ تصور دیا کہ پاکستان میں دو چار کے بعد مزید اخبارات بھی شائع ہو سکتے ہیں۔ بعض لوگوں نے اس وقت اس تجربے کو دل سے تسلیم کیا اور بعض نے تسلیم نہیں کیا۔ مثلاً جناب مجید نظامی اس وقت ہمیں مبارکباد دینے آئے‘ لیکن بعض نے دل سے اس کامیاب تجربے کو تسلیم نہ کیا‘ لیکن آج پاکستان میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو جو وسعت حاصل ہے‘ اس کی بنیاد ’’خبریں‘‘ ’’بنا

گزشتہ روز جناب ضیاشاہد نے اپنے 26 ستمبر 2009ء کے ’’خبریں‘‘ میں رنگین صفحات کے ٹائٹل پر جو مضمون لکھا ہے‘ اس میں انہوں نے اسلام آباد سٹیشن کی بے سروسامانی کا ذکر کیا ہے۔ یہ بے سروسامانی تو اپنی جگہ چونکہ اسلام آباد میں تو صرف جہلم کی مشین کے دو یونٹ تھے‘ رنگین صحافت لاہور سے چھپ کر جاتے تھے‘ لیکن مجھے ایک بات بہت کھل کر کہنا ہے کہ ’’خبریں‘‘ کی کامیابی میں اسلام آباد سٹیشن کا بہت بڑا حصہ تھا۔
اس حوالے سے آزادکشمیر کے وزیر مرحوم شاہد حمید کو ’’خبریں‘‘ کی چھاپہ مار ٹیم کا لڑکیوں اور شراب کے ساتھ گرفتار کرانا یہ ہماری ملکی صحافتی تاریخ کا پہلا واقعہ تھا جس میں ایک شخص رات تک وزیر تھا اور صبح اخبار کی تصویروں اور خبروں کی وجہ سے وزیر نہ تھا۔
دوسرا واقعہ امریکن سکول کی ایک تقریب تھی جس میں لڑکے لڑکیاں اس حالت میں دکھائے گئے تھے جس حالت میںپاکستان میں طلباء و طالبات تصور نہیں کئے جاتے تھے لہٰذا یہ بھی پاکستان کی صحافتی تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ لوگوں نے یہ ڈیمانڈ کی کہ ہمیں اگلے دن کے نیوز کے صفحات نہیں چاہئیں بلکہ ہمیں وہی کلر صفحات چھاپ کر بھیج دیں۔ اس طرح تین دن نیوز کے صفحات سے جو وقت پریس میں پرنٹنگ کیلئے بچتا‘ اس میں تین دن تک وہی کلر صفحہ شائع ہوتا رہا۔
میں نے ’’خبریں‘‘ کے ساتھ عشق کیا۔ اسلام آباد سے چکوٹھی تک ہر دسویں پتھر پر اور اسلام آباد سے سوات‘ کالام تک بھی ساری چاکنگ خود پاس کھڑے ہوکر کروائی۔ ناصر کاظمی مرحوم اور راولا کوٹ کا فوٹوگرافر گلزار اور اصغر مشین مین‘ بٹ خیلہ کے نیوز ایجنٹ سعود خان‘ پشاور کے میر سلام‘ مظفرآباد کے شاہد اعوان اور ہنگو کے سیف الاسلام اور نہ جانے کون کون میرے ساتھ سڑکوں پر گزری ان راتوں میںمیرے ساتھ میرے ہمسفر رہے۔ اگر اللہ نے توفیق دی تو اس حوالے سے میرے پاس بڑی نایاب تصویریں ہیں جو میں اپنی کتاب میں شائع کروں گا۔ مجھے تو مقبوضہ کشمیر میں شہید ہونے والا جہاد کشمیر کا پہلا پاکستانی صحافی بشارت عباسی بھی کبھی نہیں بھولا۔ یہ سب میرے ساتھی تھے۔
’’خبریں‘‘ نے دکھی انسانیت کے دکھوں کا مداوا کیا۔ آج وہی کام میں ’’جناح‘‘ و ’’صحافت‘‘ اور جناب ضیاشاہد ’’خبریں‘‘ میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
’’خبریں‘‘ کی کامیابی کے بارے میں جب بھی کچھ لکھا جائے گا اس میں لبرٹی پیپرز لمیٹڈ کے ڈائریکٹر صاحبان کا ذکر بھی آئے گا اور ان کارکنوں کا ذکر بھی آئے گا جنہوں نے اس کی کامیابی کیلئے’’جنوں‘‘ کی طرح کام کیا۔ ’’خبریں‘‘ محض اخبار نہیں ایک تربیت گاہ بھی تھا۔ مثلاً میں ’’خبریں‘‘ اسلام آباد کا ذکر کروں تو مجھے ’’خبریں‘‘ اسلام آباد کے چیف رپورٹر آفتاب احمد خان مرحوم ضرور یاد آتے ہیں۔ فیاض ولانہ‘ عامر الیاس رانا‘ مشتاق منہاس‘ طارق چودھری‘ عدنان کیانی‘ طاہرخان‘ شمشاد مانگٹ‘ خواجہ شفقت‘ سردار ندیم‘ اعجاز انجم‘ جناب منظور صادق‘ نوید اکبر چودھری‘ امام یوسف مرحوم‘ عصمت ہاشوانی‘ حامد حبیب‘ محبوب بٹ‘ ناصر اسلم راجہ‘ شکیل چشتی‘ الطاف قریشی‘ آصف شبیر‘ منیر وحید‘ اظہر سید‘ منظور ملک‘ طاہر مغل‘ شوکت ملک‘ راجہ ذوالفقار‘ ضمیر قادری‘ صالح مغل‘ رسالت عباسی‘ جمیل مرزا‘ اے ڈی عباسی‘ آصف بھٹی‘ صدیق ساجد‘ راشد حبیب‘ سعید مہدی‘ شاہد صابر‘ کاظم خان‘ جاوید اقبال چیمہ‘ ظہور مشوانی‘محبوب الرحمن تنولی‘ طاہر عباس‘ عبدالرزاق سیال‘ عابد رشید‘ علی عمران‘ شوکت چودھری‘ عقیل ترین‘ عبدالحفیظ‘ شاہد محمود‘ نوازش علی عاصم‘ عظمت اللہ‘ سردار جہانزیب‘ اصغر مشین مین‘ ایاز استوری‘ خالد ملک‘ ناصر رضوی (مرحوم)‘ بنارس چودھری‘ عاصم ٹیلی فون آپریٹر‘ یاسر‘ زرقا‘ فاطمہ‘ اقبال پی اے‘ وحید انجم (پی اے)‘ شائستہ پی اے‘ فرزانہ‘ عابد مغل‘ سید ضمیر جعفری‘ راجہ کفیل‘ عابد فاروقی‘ راجہ افسر‘ وسیم بھولا‘ غلام احمد انصاری‘ اقبال زیدی مرحوم‘ ملک ممتاز‘ شہزاد گیلانی‘ سعید چوھری‘ اسلم کنول‘ ہارون طور ثاقب‘ خواجہ نواز‘ محسن ممتاز‘ فاروق‘ ملک خادم‘ جاوید اختر‘ ملک صدیق اعوان‘ جاوید شیرازی‘ عالم فوٹوگرافر‘ عثمان حیدر‘ وسیم خان‘ سعدیہ نزہت‘ حافظ غیاث الدین‘ کمال افسر‘ رفیق بٹ اور لاہور سے میاں حبیب ‘ میاں غفار‘ شبنم ارشاد‘ محمد سلیمان‘ محمد فیصل درانی۔ میں کس کس کا ذکر کروں۔ ’’خبریں‘‘ پر تو کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ میں نے یہ سطور اس لئے لکھی ہیں کہ ہمارے پروفیشن میں آج تک یہ روایت نہیں بن سکی کہ کسی ادارے سے الگ ہو جانے والے نے اس ادارے کے بارے میں کچھ اچھا لکھا ہو‘ لیکن میں یہ روایت ڈال رہا ہوں اور یہ سطور صرف ’’خبریں‘‘ میں نہیں‘ ’’جناح‘‘ ’’صحافت‘‘ اور ’’دوپہر‘‘ میں بھی اسی طرح شائع ہونگی جس طرح ’’خبریں‘‘ میں۔
میں ہمیشہ ہی ’’خبریں‘‘ کی ترقی کیلئے دعاگو ہوں۔ میں اب ہر صبح ’’خبریں‘‘ کی پیشانی دیکھتا ہوں تو اس کیلئے دعا کرتا ہوں۔ اس لئے کہ ’’خبریں‘‘ مجھ سے ہے اور میں ’’خبریں‘‘ سے ہوں۔ میں اگر آج ’’جناح‘‘ ’’صحافت‘‘ ’’دوپہر‘‘ شائع کرتاہوں‘ ان کی پیشانی پر میرا نام چھپتا ہے تو میں ان کی ادارت پوری یکسوئی اور لگن سے کرتا ہوں۔
میں نے اوپر لکھا کہ صحافت میری چوائس۔ میرے رب نے مجھے ’’صحافت‘‘ جیسے اخبار کا نام بھی دیا ہے اور صحافت کے پیشے سے محبت بھی ہے۔ خدا کرے میرا رب ’’خبریں‘‘ کو قائم و دائم بھی رکھے۔
میرے اور جناب ضیاشاہد کے الگ الگ ادارے ہیں۔ لوگ الگ الگ ہوتے رہتے ہیں۔ لوگ اداروں سے بھی الگ ہوتے رہتے ہیں‘ لیکن دعا کرنی چاہیے کہ وہ ادارے ہمیشہ قائم رہیں۔ ’’خبریں‘‘ کو 17 ویں سالگرہ مبارک۔



    Powered by Control Oye