اچھی خبروں میں بڑے بڑے شگاف

اچھی خبروں میں بڑے بڑے شگاف۔۔۔۔(الطاف حسن قریشی)
اتوار ستمبر 27, 2009
یہ خبر تو یقینا بڑی حوصلہ افزا ہے کہ پاکستان کے ساتھ یک جہتی اور معاشی تعاون کی منزلیں طے کرنے کے لیے نیویارک میں دنیا کے تیس کے لگ بھگ سربراہانِ مملکت و حکومت نیویارک میں جمع ہوئے اور ان کی میزبانی کا شرف صدر آصف زرداری نے امریکی صدر اور برطانوی وزیراعظم کے ساتھ حاصل کیا۔ اس اہم تقریب کے انعقاد و انصرام کے ذمے دار منتظمین بلاشبہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔ امریکہ میں پاکستانی سفیر تحسین و تبریک کے حقدار ہیں کہ انہوں نے ایک خاص وقت پر کیری لوگر بل کی سینٹ سے منظوری حاصل کرنے کے لیے زبردست لابنگ کی جو ’’احباب پاکستان‘‘ کی طرف سے عید کا تحفہ قرار پایا۔ ہمارے منتخب صدر زرداری کی اس موقع پر کارکردگی حیرت انگیز طور پر اچھی رہی اور ان کی قائدانہ صلاحیتوں کا شعلہ گاہے گاہے لپکتا رہا۔ صدر اوباما نے دہشت گردی کے خلاف وادی سوات میںمحیرالعقول کامیابیوں پر صدر زرداری کی برملا تعریف کی اور دنیا کے عظیم زعماء نے پاکستان کو اپنے تعاون کا یقین دلایا اور عالمی بنک کی نگرانی میں ٹرسٹ فنڈ قائم کر دیا گیا ہے جس میں ’’احباب پاکستان‘‘ رقوم جمع کرائیں گے اور پاکستان جو عالمی امن کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے اس کے معاشرتی اور اقتصادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔ ان اچھے جذبات کی قدر کی جانی چاہیے کہ بھارت کی منفی سرگرمیوں کے باوجود پاکستان کو عالمی سطح پر بڑی عزت ملی ہے اور زبردست سفارتی حمایت حاصل ہوئی ہے۔
خبروں کی تزئین و آرائش کا جو ہنرمند لوگ فن جانتے ہیں‘ وہ سبز باغ دکھاتے رہتے ہیں۔ ہمیں ان سبز باغوں کی مصنوعی فضا سے باہر نکل کر ذرا گردوپیش کا کھلی آنکھوں سے جائزہ لینا ہو گا۔ پاکستان کے لیے یہ امر یقینا باعث تشویش ہونا چاہیے کہ اس کے دو آزمودہ اور انتہائی قریبی دوست چین اور سعودی عرب اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ اخباری اور ٹی وی رپورٹ کے مطابق اس وقت چین کے صدر نیویارک ہی میں قیام پذیر تھے‘ لیکن وہ احباب پاکستان کو اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ اسی طرح سعودی عرب کا کوئی نمائندہ وہاں موجود نہیں تھا۔ ان کی غیرموجودگی سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم سے معاملات کی انجام دہی اور دوستی کے تقاضے پورے کرنے میں کوئی بہت بڑی کوتاہی سرزد ہوئی ہے اور اعلیٰ ترین سطح پر تعلقات میں بہت بڑا خلل واقع ہوا ہے۔ ہمیں اس اہم ترین مسئلے پر فوری توجہ دینا ہو گی۔ ہماری تجویز یہ ہے کہ بلاتاخیر اے پی سی بلائی جائے جس میں ان دونوں دوست ممالک کی اعلیٰ قیادت سے بات چیت کے لیے موزوں شخصیتوں پر مشتمل وفود تشکیل دیے جائیں جو ان تک عوام کے حقیقی جذبات پہنچائیں اور معاملات کی تہ تک پہنچتے اور تعلقات میں گرم جوشی پیدا کرنے کی پوری سنجیدگی سے کوشش کریں۔ ان وفود میں سیاسی اور دینی جماعتوں کے نمائندے شامل کیے جانے چاہئیں۔ احباب پاکستان کے اجلاس نے جو ہمیں ایک منفی پیغام دیا ہے‘ اس کا مثبت اور تعمیری انداز میں فوری طور پر جواب دینا اور عملی قدم اٹھانا بے حد ضروری ہے۔
کیری لوگر بل میں سینٹ نے کیا کیا شرائط منظور کی ہیں‘ وہ تمام کی تمام ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی ہیں جو یقینا ایک باعث تشویش امر ہے۔ عوام کو ان سے بروقت مطلع کرنا اور پارلیمنٹ میں ان پر مباحثہ ضروری تھا۔ امور خارجہ کے ماہرین اپنے تجزیوں اور تبصروں میں اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ امریکہ اور بھارت کو ہمارے داخلی معاملات اور فوجی امور میں دخل دینے کا جواز حاصل ہو جائے گا۔ یہ صورت حال پاکستانی عوام کے لیے کسی طور قابل قبول نہیں ہو گی اور امریکہ اور بھارت کے خلاف نفرت میں اضافہ ہو گا۔ اس کے علاوہ حکومت پاکستان کی منظوری کے بغیر مختلف جماعتوں اور علاقوں کو امداد فراہم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں جن سے درپردہ سازشوں کی بو آ رہی ہے۔ امداد کی مانیٹرنگ پر تو شاید کسی کو اعتراض نہ ہو‘ مگر بہ امر فساد کا باعث بن سکتا ہے کہ حکومت پاکستان سے بالا بالا مختلف اکائیوں اور سیاسی حصہ داروں کو امداد فراہم کی جائے۔
صدر اوباما نے احباب پاکستان کے اجلاس میں صدر زرداری کی تعریف و توصیف کی تاہم اسے عوام کے ساتھ اظہار یک جہتی سے منسلک اور مربوط کر دیا ہے مجھے ایسا لگا کہ وہ ایک رسمی کارروائی تھی اور پس پردہ واقعات و کیفیات کچھ اور ہیں۔ صدر اوباما جب جنرل اسمبلی سے خطاب کر رہے تھے‘ صدر زرداری اس وقت موجود نہیں تھے۔ مجھے یہ واقعہ بہت عجیب لگا تھا اور یہ احساس ہوا تھا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ اب یہ خبر بھی آئی ہے کہ تین مزید مواقع ایسے آئے جن میں صدر آصف زرداری ایک فاصلے پر رکھے گئے۔ یہ منظر بھی مجھ پر بہت گراں گزرا تھا اور مجھے قومی خفت کا احساس ہوا تھا جب وہ ہالبروک سے اس ادب اور نیاز مندی سے ملے جو عہد غلامی میں وائسرائے ہند کے ساتھ ملاقات کے وقت مخصوص تھے۔ صدر زرداری سارے کام نیاز مندی سے نکالنا چاہتے ہیں‘ مگر اس میں ایک وقار ضرور ہونا چاہیے وہ اگرچہ ایک پارلیمانی طرز حکومت میں ایک آئینی صدر ہیں‘ لیکن قوم کی خاطر وہ بوجھ اُٹھائے ہوئے ہیں جو اُٹھائے نہ بنے۔ وہ خبروں کے شگاف بند کر دینے اور دشمنی کو دوستی میں تبدیل کرنے کی بے پناہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس نازک موڑ پر ان کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔


    Powered by Control Oye