اقتدارکا کھیل

اقتدارکا کھیل


عمار چودھری.......کل اور آج

 ammar700@gmail.com .......
اقتدار کی غلام گردشوں کی بہت سی کہانیاں ایسی ہیں جو اقتدار کے ایوانوں سے باہر نہیں آ سکیں۔ تاہم جب ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو مورخ کا قلم بہت سے حقائق سے پردہ اٹھاتا ہے۔اقتدار کی رسہ کشی دنیا کے ہر خطے اور ہر دور میں جاری رہی ہے۔ایسا بھی ہوا کہ تخت کی خواہش رکھنے والے تختہ دار پر جا پہنچے جبکہ بعض خوش نصیب ایسے بھی تھے جو تختہ دار سے نکل کر تخت کے وارث بنے۔حکمرانی کے خواہش مند بظاہر اپنے قریبی رفقاءکے ساتھ بڑا حسن سلوک روا رکھتے تھے لیکن کئی موڑ ایسے بھی آئے جب حکمرانوں نے اپنے قریب ترین ساتھیوں کو منظر سے اس طرح غائب کیا گویا ان کا وجود ہی نہ تھا۔اقتدار کے نشے نے بھائی کو بھائی کے سامنے لا کھڑا کیا جس کے بعد ایک دوسرے کا خون بہانے سے بھی دریغ نہیں کیا گیا۔ایسی ہی ایک خونی داستان شاہ جہان کے دور میں رقم ہوئی ۔
شاہ جہان مغل سلطنت کا پانچواں بادشاہ تھا۔شاہجہان کے چار بیٹے تھے۔دارا شکوہ،شاہ شجاع،اورنگزیب اور مراد بخش۔1658ءمیں جب شاہ جہان شدید بیمار ہوا تو اسکے چاروں بیٹوں کی نظریں تخت پر جم گئیں۔شاہ کے چاروں بیٹے انتظامی اور عسکری معاملات کے ماہر تھے اور ان سب کے پاس الگ الگ فوجی قوت اور فوج میں ان کے وفادار بھی موجود تھے۔بڑا بھائی دارا شکوہ شاہ جہان کے بہت قریب تھا۔ شاہجہان کی بیماری کے دوران داراشکوہ نے حکومت کا انتظام اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ دارا کی اس جلدبازی سے شاہجہان کی موت کی افواہیں پھیلنے لگیں اور ملک میں ابتری پھیل گئی ۔ادھر بنگال میں شاہ شجاع نے اپنی بادشاہت قائم کرلی اور آگرے پر فوج کشی کے ارادے سے روانہ ہوا۔ بنارس کے قریب دارا اور شجاع کی فوجوں میںجنگ ہوئی جس میں دارا کو فتح ہوئی۔اس کے کچھ ہی عرصے بعد شاہ جہان کے سب سے چھوٹے بیٹے مرا د بخش نے اورنگزیب کی شہ پر خود کو گجرات کا بادشاہ ظاہر کر دیا۔ اورنگزیب نے مراد کے ساتھ مل کر دارا سے مقابلے کی ٹھانی۔ اجین کے قریب اورنگزیب اور دارا کی فوجوں کا آمنا سامنا ہوا۔ اس خونی جنگ میں اورنگزیب نے دارا کی فوج کو شکست دی اورآگرہ کا محاصرہ بھی کر لیا۔ دارا کی جان خطرے میں تھی، اس نے اپنے والد شاہجہان کو وہیں چھوڑ دیا اور موقع ملتے ہی فرار ہو گیا۔آگرہ کے قریب پھر لڑائی ہوئی جس میں اورنگزیب کو دوبارہ کامیابی ہوئی۔دارا نے شکست تسلیم کرلی ۔ اس طرح آگرہ کا لال قلعہ اورنگزیب کی ملکیت میں آ گیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ شاہ جہان نے اپنے بیٹے اورنگزیب سے مذاکرات کیلئے پیغام بھجوایا لیکن اورنگزیب نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اُس کے والد نے داراکی طرفداری کی تھی لہٰذا وہ اس قابل نہیں کہ اس سے کسی قسم کی بات چیت ہو سکے۔ پھراپنا مطلب حاصل ہونے کے بعد اس نے چھوٹے بھائی مراد بخش کو بھی گرفتار کرانے کے بعد مروا دیا۔ اس دوران دارا نے اپنا نیٹ ورک دوبارہ ترتیب دیا اور نئی حکمت عملی کے تحت دہلی جا کر شجاع کے ساتھ اتحاد بنانے کی کوشش کی۔ تاہم اورنگزیب کی طرف سے بنگال کی گورنری کی پیشکش کے بعد شجاع نے دارا کو آنکھیں دکھانا شروع کر دیں۔ اس اقدام نے دارا کو تنہا کر دیا اور اس کے ہزاروںسپاہی اورنگزیب سے جا ملے اور بالاخر اسکی فوج کو اورنگزیب کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ شجاع چھوٹے بھائی مراد بخش کا انجام دیکھ چکا تھا لہٰذا اس نے فریب میں آنے کی بجائے اورنگزیب کے ساتھ جنگ کرنے کی کوشش کی جس میں اسے ناکامی ہوئی اور اس نے جلاوطنی اختیار کرلی۔وہ بہت عرصے غائب رہا۔ خیال کیاجانے لگا کہ شاید اس کی موت واقع ہو چکی ہے۔
اپنے بھائیوں شجاع اور مراد کو شکست فاش دینے اور اپنے والد شاہ جہان کو آگرہ میں پابند سلاسل رکھنے والا اورنگزیب دارا کے خون کا پیاسا ہو چکا تھا۔ اس نے دارا کی تلاش میں اپنی فوجیں دوڑا دیں۔بالاخر دارا کے اپنے ہی ایک جرنیل نے دارا کے خلاف بغاوت کر کے اسے گرفتار کروا دیا۔ 1659ءمیں رسم تخت پوشی کی تقریب میںاورنگزیب بادشاہ بن گیا۔ اس کے حکم پر دارا کو بیڑیوں میں جکڑ کردہلی کی طرف پیدل چلایا گیا۔ دہلی پہنچنے پر دارا کا سر بھرے چوک میں قلم کر دیا گیا جو بعض مورخین کے مطابق اس کے باپ شاہ جہان کو بھجوا دیا گیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اورنگزیب نے اپنے والد کی سزا معاف نہیں کی اور اسکی موت تک اسے آگرہ کے لال قلعے میں نظر بند رکھا جہاں اورنگزیب کے حکم سے اسے حکیموں کے ذریعے زہر دینے کی بھی کوشش کی گئی لیکن حکیموں نے شاہ سے وفاداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے زہر کے پیالے خود پی لئے۔شاہ جہان اور اس کے چار بیٹوں کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی میں فتح بالاخر اورنگزیب کی ہوئی۔ بعض مورخین نے اورنگزیب کو اس وقت کا طالبان اور جابر حکمران لکھا کہ جس نے تلوار کے زور پر لوگوں کو مسلمان کیا۔ جبکہ بعض کے مطابق برصغیر پاک و ہند میں اسلام کی نشر و اشاعت میں اورنگزیب نے تاریخی کردار ادا کیا۔ یہ جنگ ثابت کرتی ہے کہ حکمرانوں کے نزدیک اقتدار ہی سب کچھ ہے اوراس کے سامنے رشتہ داری یا قرابت داری کی کوئی بھی حیثیت نہیں ۔ حکومت کرنے کا نشہ خون کے رشتے ناتوں کواقتدار کی ہوس میں بہا لے جاتا ہے۔ حکمرانوں کیلئے اقتدار کو حاصل کرنا اور اسے قائم رکھنا ہی زندگی کا سب سے بڑا مقصد ہوتاہے جس کیلئے وہ اپنے پیش رو حکمرانوںکے عبرتناک انجام کو بھی خاطر میں نہیں لاتے۔ ایسے میں کبھی منافقت کا سہارا لیا جاتا ہے کبھی اتحاد کئے جاتے ہیں اور کبھی تحریکیں چلائی جاتی ہیں۔ اور جب اتحادی کی ضرورت نہ رہے تو پھر اسے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کر کے پھینک دیا جاتا ہے۔ یوں بہت سارا وقت اسی میں ضائع ہوجاتا ہے کہ کون تخت پر بیٹھنے کا حقدار ہے۔
سابقہ دور حکومت میں جنرل (ر) مشرف نے اپنے اقتدار کو طول دینے کےلئے ہر جائز و ناجائز طریقہ اختیار کیا۔ تاہم 18اگست کووہ ایک کمزور ترین انسان بن چکے تھے ۔وہ قوم کے سامنے آ کر استعفیٰ دے رہے تھے تو ان کے ساتھ ایک بھی شخص نہیں کھڑا تھا۔ ق لیگ کے وہ لیڈر، جواُن پر جان چھڑکتے تھے ، آخری وقت میںصدر کومستعفیٰ ہونے کا مشورہ دیتے رہے۔ اقتدار کی جنگوں میں فائدے اور نقصان کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ کون اچھی چال چلا کہ یہ بات بلا وجہ نہیں کی جاتی کہ محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے۔اقتدار کا یہ کھیل آج ہمیں پھرایک نازک موڑ پر لے آیا ہے۔ سامنے دہشت گردی،مہنگائی،خودکشی،لاقانونیت اوربے روزگاری جیسے نہ ختم ہونےوالے لا تعداد مسائل قطار باندھے کھڑے ہیں۔ خدا خیر کرے۔



    Powered by Control Oye