گورنر اوڈائر اور جنرل مشرف

 

گورنر اوڈائر اور جنرل مشرف


عمار چودھری.......کل اور آج

 ammar700@gmail.com .......
”مجھے اس شخص کے کردار پر سخت غصہ تھا ۔ اس سے نفرت تھی،اس لئے میں نے اسے اپنی گولی کا نشانہ بنایا ہے،یہ اسی سزا کا مستحق تھا۔میں 21سال سے اس موقع کی تلاش میں تھا۔اسے قتل کر کے میرے دل و دماغ کو ایک دیرینہ اُبال سے نجات مل گئی ہے۔“۔ یہ الفاظ سردار اُودھم سنگھ نے ایک ایسے شخص کو مارنے کے بعد کہے جس کے ایک حکم پرہزاروں نہتے افراد کو اندھا دھند گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔مرنے والوں میں اودھم سنگھ کا والد اور بھائی بھی شامل تھا۔اودھم سنگھ کون تھا،ان لوگوں کو کیوں مارا گیا،انہوں نے کون سا جرم کیا تھا یہ جاننے کیلئے ہمیںبیسیویں صدی کے دوسرے عشرے میں جانا ہو گا۔
بیسیویں صدی کے آغاز میں جب آزادی کی تحریک اپنے عروج پر پہنچی تو رولٹ ایکٹ کے خلاف مزاحمت کا سلسلہ شروع ہو گیا۔جلاﺅ گھیراﺅ اور گرفتاریاںشروع ہو گئیں۔جس کے بعد 13اپریل1919ءکو امرتسر کے جلیانوالہ باغ میںاحتجاجی جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا۔پنجاب کے گورنر سر مائیکل اوڈائراسکے انعقاد کے خلاف تھے۔جلیانوالہ باغ 52کنال پر مشتمل ایک ویران باغ تھا جس کے چاروں طرف عمارتیں تھیں۔اس میں داخل ہونے کا صرف ایک ہی تنگ راستہ تھا۔جلسہ گاہ لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔جس میںاندازاً بیس ہزار افراد موجود تھے۔ان میں ہندو، مسلمان ،سکھ سبھی شامل تھے۔سب خاموشی سے اپنے لیڈروں کی تقریریں سن رہے تھے۔اس دوران بریگیڈیئر ڈائر90مسلح فوجیوںکے ساتھ گیٹ پر آگیا۔ڈائر نے فوجیوں کو باغ کے چاروں اطراف میں پھیلا دیا۔سب کے پاس پوائنٹ تھری زیرو تھری کی برطانوی رائفلیں موجود تھیں جو ایک منٹ میں دس راﺅنڈ فائر کرسکتی تھیں۔جبکہ دو گاڑیوں پر مشین گنیں بھی موجود تھیں۔ ڈائر نے کسی وارننگ کے بغیربھرے مجمع پر فائر کھولنے کا حکم دے دیا۔جونہی رائفلز نے شعلے اگلنے شروع کیے،ایک بھگڈر مچ گئی۔ نہتے لوگ گولیاں کھاکھا کر گرتے رہے۔دس منٹ میں گولیوں کے 1658راﺅنڈ فائر ہوئے۔ڈیڑھ ہزار افراد ہلاک اورتین ہزار سے زائد زخمی ہو گئے۔مارے جانیوالوں میں چھ ہفتے کا شیر خوار بچہ بھی شامل تھا۔آخر میں ڈائر نے تڑپتی ہوئی لاشوں پر فاتحانہ نظر ڈالی اور لاشوں کوقدموں تلے روندتا باہر آ گیا۔ایک سکھ نوجوان اودھم سنگھ اس وقت جلسہ گاہ میں موجود تھا۔وہ مجمع میں موجود لوگوں کو پانی پلا رہا تھا۔اسکے باپ اور بھائی اسکی آنکھوں کے سامنے گولیوں کا نشانہ بنے جسکے بعد اس کے زخمی دل میں بدلے کی نہ بجھنے والی آگ جل اُٹھی۔
اس واقعے کے بیس سال بعد لندن کے ایک اخبار میں ایک تقریب کی خبر چھپی جس کے مقررین میں سر مائیکل اوڈائر بھی شامل تھے۔یہ خبر اودھم سنگھ نے پڑھی تو اسکا ذہن بیس سال قبل جلیانوالہ باغ میں پہنچ گیا۔باپ بھائی اور دوسرے بے گناہ لوگوں کی لاشیں گرنے کا منظر اسکی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا۔ وہ بیس سال سے ایک ملک سے دوسرے ملک پھرتا رہا تھا اور ہر قیمت پر برطانیہ پہنچنا چاہتا تھا ۔اس دوران اس نے کئی روپ بھی بدلے۔اٹلی،فرانس،سوئٹزرلینڈ،آسٹریا سے ہوتا ہوا بالاخروہ 1934ءمیںلندن پہنچ گیا۔ان ممالک میں اس نے قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ جلیانوالہ باغ میں طاقت کا مظاہرہ کرنےوالے گورنر سرمائیکل اوڈائر کا نام پڑھتے ہی غصے اور جوش سے اس کا جسم کانپنے لگا۔ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ہوئے۔اس نے جیب سے رومال نکالا۔پسینہ پونچھا۔اعتماد کے ساتھ اٹھا۔الماری سے چھ گولیوں والا پرانا ریوالور نکالا۔اسے چمکایا دمکایا۔تیل لگا کر پرزوں کو نرم کیا۔ایک دو مرتبہ چلا کر دیکھا کہ کہیں دھوکا نہ دے جائے۔پھر غسل کیا۔صاف ستھرے کپڑے پہنے۔ایک موٹی کتاب کے صفحات نکال کر ان کی جگہ ریوالورچھپایااور گنگناتا ہوا کیکسٹن ہال کی طرف چل پڑا ۔ہال لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔اودھم نے ہال پر گہری نظر ڈالی۔اسے ڈائس کے قریب ہی جگہ مل گئی۔ڈائس پر جو مقررین بیٹھے تھے اس میں اوڈائر بھی تھا۔جیسے ہی اودھم سنگھ کی نظر اوڈائر پر پڑی،اودھم کا چہرہ سرخ ہو گیا،آنکھوں میں چیتے کی سی چمک آ گئی۔وہ مناسب موقع کا انتظار کرنا لگا۔جیسے ہی جلسہ ختم ہوا۔ دیگر مہمانوں کے ساتھ مائیکل اوڈائر سٹیج سے نیچے اترا۔ اودھم نے کتاب کھولی ،ریوالور نکالااور اچھل کر اس کے سامنے آ گیا۔اوڈائر ریوالور چھیننے کیلئے اس پر جھپٹا،تاہم اودھم سنگھ کی انگلیاں ریوالور کے ٹریگر پر رقص کرنے لگیں۔گولیاں سر مائیکل اوڈائر کا سینہ چیر تے ہوئے آر پار ہو گئیں۔یہ یقین کر لینے کے بعد کہ اس کا نشانہ ٹھیک رہا ہے اس نے باقی گولیاں اس کے ساتھیوں پر خالی کر دیں۔بعد میں اودھم سنگھ پھانسی کا پھندا چوم کر اپنے باپ اور بھائی کے پاس پہنچ گیا۔
جنرل(ر) پرویز مشرف کے ساڑے آٹھ سالہ دور میں ایک چیز مشترک تھی۔اور وہ تھی طاقت کا بے مثال مظاہرہ۔یہ مظاہرہ12اکتوبر1999ءکوایک منتخب وزیراعظم کو برطرف کرنے سے شروع ہوااور آٹھ سال دس ماہ، چھ دن،اٹھارہ گھنٹے اور سولہ سیکنڈ تک جاری رہا۔ان کی عظیم کامیابیوں میں لال مسجد آپریشن سر فہرست ہے۔مسلسل نو دن تک لال مسجد پرگولیوں اور بارود کی بارش ہوتی رہی۔آپریشن میں فوج اور رینجرز کے بارہ ہزار فوجیوں اور سپیشل سروسز گروپ کے164کمانڈوز نے حصہ لیا۔جس میں ایس ایس جی کے10 اوررینجر کا ایک سپاہی جاں بحق ہوا۔جبکہ سینکڑوں طلبا و طالبات جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔قوم نے طاقت کا ایک اور مظاہرہ 26اگست2006 ءکو کوئٹہ سے 150میل کے فاصلے پر کولہو میں دیکھا جب آکسفورڈ کا تعلیم یافتہ،بلوچستان کا5واںوزیر اعلیٰ اور 13واں گورنر نواب اکبر بگٹی دہشت گرد قرار پایا اور بموں اور میزائلوں کی بارش میں کولہو کے غار میںزندہ دفن کر دیا گیا۔طاقت کا یہ مظاہرہ یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ ملک بھر سے 650افراد کو گھروں سے اٹھا لیا گیا۔اس مسئلے پر نوٹس لینے والے چیف جسٹس کو ساٹھ ججوں سمیت معزول کر کے انکے گھروں میں قید کر دیا۔طاقت کا یہ مظاہرہ عورتوں اور بچوں پر بھی کیا گیا اورپانچ سال قبل قوم کی ایک بیٹی کو اسکے تین بچوں سمیت غائب کر دیا گیا جن میں چھ ماہ کا شیر خوار بچہ بھی شامل تھا۔بالاخر عوام نے وہ دن بھی دیکھا جب 18اگست کو جنرل مشرف استعفیٰ دے رہے تھے لیکن آخری وقت میں بھی وہ دونوں مکے ہوا میں لہرا رہے تھے گویا یہ پیغام دے رہے ہوں کہ میں اب بھی بہت طاقتور ہوں اور کسی کا ہاتھ میری گردن تک نہیں پہنچ سکتا۔کہتے ہیں کہ وقت بہت بڑا مرہم ہوتا ہے اور بڑے سے بڑے غم کو بھلا دیتا ہے۔تاہم یہ سچائی بھی اب جھوٹ بن چکی ہے اوراس جھوٹ کا ذمہ دار سردار اودھم سنگھ ہے۔ اودھم سنگھ سات ہزار چھ سو اکتالیس دن تک اُس آگ کو سینے میںلئے پھرتا رہا جو جنرل مشرف اور مائیکل اوڈائر جیسے حکمرانوں کے نزدیک بہت جلد بجھ جانی چاہیے۔ اس کے سینے میں آتش فشاں اس وقت تک ٹھنڈا نہیں ہوا جب تک اس نے اوڈائر کو اس کے انجام تک نہیں پہنچا دیا۔حساب لگائیں تو اوڈائر کے مظالم جنرل (ر) مشرف کے مظالم کے عشرعشیر بھی نہیں۔بے شمار سینے ایسے ہیں جن میں انتقام کی آگ آج بھی بھڑک رہی ہے اور کبھی نہیں بجھے گی۔جنرل صاحب دنیا کے جس خطے میں چاہیں چلے جائیں،سکیورٹی کا حصار جتنا مرضی سخت کر لیں،پلاسٹک سرجری کے ذریعے چہرہ تبدیل کر لیں،زمین کے اندر سو میل گہری سرنگ بنا کر محصور ہو جائیں، بلٹ اور بم پروف چادر لپیٹ کر سو جائیں،لیکن انہیں اطمینان کبھی نصیب نہیں ہو گا۔ان کی جان ہمیشہ سولی پر لٹکتی رہے گی۔کیا زندگی بھر کا یہی عذاب اُن کے لئے کافی نہیں؟

 



    Powered by Control Oye