گاﺅں میں بجلی آئی ہے !۔۔اسداللہ غالب

میرے گاﺅں میں بجلی آئی ہے !۔۔اسداللہ غالب

پیپلزپارٹی کا طرہ ِ امتیاز یہ رہا ہے کہ اسے جب بھی حکومت ملی ہے تو اس نے ملک اور قوم کو مزید بجلی کا تحفہ دیا ہے ۔ پارٹی کے بانی شہید ذوالفقار علی بھٹو کو حکومت ملی تو انہیں تربیلا ڈیم کے افتتاح کا اعزاز میسر آیا۔یہ ڈیم دنیا میں سب سے بڑا ڈیم ہے اور اس کی وجہ سے ایک طرف تو پاکستان کے کھیتوں میں ہریالی آئی اور دوسری طرف آنگنوں ، دکانوں،دفتروں اور کارخانوں کو بجلی کی نعمت میسر آئی۔ بھٹو کی حکومت کا تختہ فوج نے الٹ دیا اورپھر انہیں پھانسی پر چڑھاکر شہید کردیا گیا لیکن فوجی ڈکٹیٹرجنرل ضیاءالحق کو گیارہ سالہ طویل اقتدار میں کسی نئے آبی ذخیرے یا بجلی کے منصوبے کو شروع کرنے کی توفیق نہ ہوئی، اس دوران میں بجلی کی مانگ میں اضافہ ہوا اور جونہی محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کو اقتدار ملا تو انہیں بجلی کی ضروریات فوری طورپر پوری کرنے کیلئے نئے تھرمل یونٹوں کی منظوری دینا پڑی۔ ان کےخلاف اس وقت کی اپوزیشن اور اس کے اکسانے پر میڈیا نے آسمان سر پر اٹھالیا کہ قوم کو مہنگی ترین بجلی کے شکنجے میں کساجارہا ہے۔ لیکن محترمہ بے نظیر کے دو مرتبہ مختصر دور اقتدار کے بعد میاں نوازشریف کے دو مرتبہ اقتدار اور جنرل مشرف کے دس سالہ طویل اقتدار میں بجلی کے کسی قابلِ ذکر نئے منصوبے کو شروع نہ کیا گیا۔ پچاس کے عشرے سے کالاباغ ڈیم کی سٹڈی شروع کی گئی تھی، اس کے خلاف پاکستان کے تین صوبے بیک آواز تھے اور شروع کرنے کی صورت میں پاکستان توڑنے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ مشرف دور میں ملک کے چاروں صوبوں کی منتخب اسمبلیوں نے متفقہ قراردادیں منظور کیں اور یوں اس ڈیم کی قسمت ہمیشہ کیلئے سربمہر ہوکررہ گئی۔ مشرف نے غازی بروتھا اور چند ایک دوسرے چھوٹے چھوٹے بجلی کے منصوبے ضرور مکمل کئے لیکن اس اثناء میں بجلی کی مانگ میں بے انتہااضافہ ہوگیا تھا اور یکم جنوری دوہزار آٹھ کی صبح پورا ملک تاریکی میں ڈوب جانے سے ثابت ہوگیا کہ مشرف حکومت اور ان کے دس سالہ اقتدار کے ق لیگی تین وزرائے اعظم اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے ملک و قوم کے ساتھ ایک مجرمانہ کرد ار اداکیا ہے ۔ بجلی کے منصوبوں کی باتیں تو بہت ہوئیں لیکن یہ سب کچھ زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہ تھا۔
ماضی کی طرح ایک پھر بجلی کے بحران کا سامنا پیپلزپارٹی حکومت کوہی کرنا پڑا ہے۔آج ملک کی قسمت اس حد تک خراب ہے کہ مسلم لیگ ن بھی کالاباغ ڈیم پر خاموشی اختیار کرچکی ہے ۔ چنانچہ اندھیروں کو دور کرنے کیلئے پیپلزپارٹی حکومت کے پاس شارٹ ٹرم حل ڈھونڈنے کے سواکوئی راستہ باقی نہیں رہا۔ مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ اس پارٹی نے اقتدار سنبھالتے ہی اس بات کا احساس تو کرلیا تھا کہ بجلی کے بحران کا حل رینٹل پاور پراجیکٹس میں مضمر ہے لیکن اس کی منصوبہ بندی یا اسکی منظوری میں ڈیڑھ برس ضائع کردیا گیا ہے ۔ اگر اس کا فیصلہ پہلے دن ہی کرلیا جاتا تو گذشتہ سال دسمبر میں لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نجات مل چکی ہوتی۔ چلئے تاخیر سے سہی، اب جبکہ یہ فیصلہ کرہی لیا گیا ہے تو ہمارے میڈیا کے سیاہ نگاروں کو تاریکی سے اس قدر رغبت ہوگئی ہے کہ انہوں نے رینٹل پاور پراجیکٹس کی مخالفت کو دین ایمان کا حصہ بنالیا ہے اور ایک ایک سانس میں اسے کڑوی گولی قرار دیا جارہا ہے۔
مجھے یہ سمجھنے میں سخت دشواری کا سامنا ہے کہ وزیراعظم کس نفسیاتی الجھن کا شکار ہوگئے ہیں۔ شاید پارلیمانی نظام میں اپنے آپ کو مضبوط اور مختار کل دیکھنا چاہتے ہیں ۔ لیکن اس کا یہ مطلب کہاں سے نکلتا ہے کہ کوئی صوبہ اپنے فیصلوں میں خودمختار نہ ہواور کوئی وفاقی وزارت اور محکمہ اپنے فیصلے کرنے میں بھی آزاد نہ ہو۔ 1973ءکے دستور میں کہیں یہ درج نہیں کہ وزیر اعظم فیصل آباد کا گھنٹہ گھر ہوگا۔ اس دستور میں وزیراعظم کے اختیارات کی صراحت کردی گئی ہے اور ساتھ ہی ساتھ وفاقی محکموں اور صوبوں کی خودمختاری اور آزادی عمل کی بھی یقین دہانی موجود ہے ۔ میں صدقِ دل سے سمجھتا ہوں کہ بجلی کے بحران کا جس ہمت اور حوصلے سے وفاقی وزارتِ بجلی و پانی نے سامنا کیا ہے، اس پر یہ داد کی مستحق ہے اور میرے بشمول جو لوگ راجہ پرویز اشرف پر تنقید کرتے رہے ہیں، وہ سراسر غلطی پر تھے۔ میں اپنی غلطی پہلے بھی تسلیم کرچکا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ کم از کم ہمارے بزرگ تجزیہ کار ہوش مندی کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے اور راجہ پرویز اشرف کی ذاتی مخالفت سے گریز کرینگے۔ کم از کم وہ لوگ جو ماضی میں اقتدار کا جھولا بھی جھول چکے ہیں اور حکومت کا نفسِ ناطقہ بنے ہوئے تھے، انہیں ہرگز یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ گندے کپڑے ے عین چوک میں دھونے شروع کردیں۔ راجہ پرویز اشرف کا ذاتی طورپر کوئی فرض نہیں کہ اگر وہ بجلی کے وزیر بن گئے ہیں تو گوجر خاں کے تالابوں سے بجلی پیدا کرکے لوگوں کے گھروں میں پہنچائیں۔ اس وقت جب ملک کے چاروں صوبے کالاباغ ڈیم کی مخالفت پر متفق ہیں اور سندھ اور بلوچستان کی ایک ہی رٹ ہے کہ دریائے سندھ پر کوئی نیا ڈیم نہ بنایا جائے ۔ ان کی مخالفت کی جائز ناجائز کئی وجوہات ہیں مگر جب کوئی نیا آبی منصوبہ شروع کرنے کی کوئی صورت نہ ہوتو سوائے تھرمل اور رینٹل پاور پراجیکٹس کے اور کیا چوائس باقی رہ جاتی ہے ۔ تھرمل منصوبے بے نظیر کے دور میں لگے ۔اور وہی آج ہماری آخری آس ہیںلیکن ان کو چلوانے کیلئے ادائیگیاں کرنا ضروری ہیں،جو مشرف دور سے لٹکی چلی آرہی ہیں۔ میں بھی حیران ہوں کہ جب مشرف صاحب یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ خزانہ بھرا ہوا ہے تو پھر انہوں نے تھرمل منصوبوں کے بل کیوں روکے اور اب سارا بوجھ نئی حکومت پر آن پڑا ہے ۔ اس حقیقت سے کون آگاہ نہیں کہ ہر شخص بجلی تو مانگتا ہے لیکن ہر شخص بجلی کا بل ادا کرنا ضروری نہیںسمجھتا، بڑے زمیندار، اندرون سندھ ، کراچی شہر ، قبائلی علاقے اور بلوچستان کے اندرون میں رہنے والے تو بجلی چوری حق سمجھتے ہیں۔ اس پس منظر میں پیپکو یا وفاقی وزارت بجلی و پانی کے پاس مالی وسائل کہاں سے آئیں گے اور تھرمل مالکان کو کیسے ادائیگی کی جاسکے گی۔ مگرجیسے تیسے کرکے گذارہ چلانے کی کوشش جاری ہے ۔دریں اثناءرینٹل پاور پراجیکٹس بھی لانے کی منظوری دے دی گئی ہے جس سے امید پیداہوچلی ہے کہ اس سال کے آخر تک لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے چھٹکارا مل جائیگا،مگر وزیراعظم کا اصرار ہے کہ قوم کو تسلی دینے کی کوئی ضرورت نہیں ۔خدامعلوم وزیراعظم نہیں چاہتے کہ وفاقی وزارتِ بجلی و پانی اپنا فرض ادا کرتے ہوئے لوگوں کو اس عذاب سے نجات دلائے۔ جب بے نظیر شہید نے تھرمل بجلی گھروں کی کڑوی گولی نگلی تھی تو ہمارے موجودہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نئے نئے مجلسِ شوریٰ اور غیر سیاسی انتخاب کے ذریعے قائم ہونیوالی اسمبلی کے ٹوٹنے سے پیپلزپارٹی میں وارد ہوئے تھے۔ شاید اسی لئے انہیں پیپلزپارٹی کے دکھوں کا پوری طرح احساس نہیں۔ بہرحال ان کے جو بھی خیالات ہیں ،وہ ان کو مبارک ہوں، قوم کو بجلی چاہئے، سستی ملے،مہنگی ملے،پانی سے پیدا ہو،کوئلوں سے حاصل کی جائے ، تاجکستان سے منگوائی جائے یا رینٹل پاور پراجیکٹس کے ذریعے فراہم ہو۔اس پرقوم اطمینان کا سانس لے گی اور مجھے یقین ہے کہ اگر وفاقی وزیرراجہ پرویز اشرف اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے پر زور دیتے رہیں اور لوڈشیڈنگ کے دور انئے میں کمی واقع ہوجائے تو یہی وزیراعظم گیلانی اپنے وزیرراجہ پرویز اشرف کو شاباش دیتے نظر آئینگے اور قوم بھی موجودہ وزیراعظم کی ستائش کریگی۔ اور پیپلزپارٹی ایک بار پھر”بجلی بچاﺅ“ کی جگہ ”میرے گاﺅں میں بجلی آئی ہے “ کے اشتہار چلانے میں فخر محسوس کریگی ۔



    Powered by Control Oye