سپیشل پرسن


سپیشل پرسن
عمار چوہدری
گرمیوں کی ایک تپتی ہوئی دوپہر تھی۔گاﺅں کے لوگ ڈیرے میں جمع تھے۔میں کچھ دیر سے پہنچا تھا۔دھوپ سے بچنے کیلئے پیپل کا ایک درخت دیکھ کر اسکے نیچے کھڑا ہو گیا۔ڈیرے کے باہر ایک طرف پانچ چھ افراد دائرے کی شکل میں موجود تھے۔ ان میں سب سے آگے ملک صاحب تھے ۔لوگ آتے ، افسوس کرتے اور ملک صاحب اللہ کا حکم کہہ کر خاموش ہو جاتے۔یہ سلسلہ کافی دیرچلتا رہا۔رش کچھ کم ہوا تو موقع پا کرمیں بھی آگے بڑھا۔ان سے گلے ملا،افسوس کا اظہار کیا اور ایک طرف کھڑا ہو گیا۔
میری نظریں بڑی تیزی سے کسی کی تلاش کر رہی تھیں۔اسی اثنا میںمجھے ڈیرے کی دیوار کے ساتھ بیساکھیوں کے سہارے ایک بچہ کھڑا نظر آیا۔میں تیزتیز قدم اٹھاتا اس کی طرف بڑھا۔قریب پہنچ کر دیکھا تو وہ فہد تھا۔اس نے سفید رنگ کی شلوار قمیض پہن رکھی تھی۔ زیادہ رونے کی وجہ سے اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں ۔ میں اسے ایک طرف گاڑی میں لے گیا۔گاڑی سٹارٹ کر کے اے سی آن کیا۔فہدسے مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔یہاںجتنے بھی لوگ افسوس کیلئے آئے ہیں، ابھی کچھ دیر بعد یہاں سے چلے جائیں گے اورتم اکیلے رہ جاﺅ گے۔ایسے میں تمہیں اپنی ماں کی یاد ستائے گی۔وہ وقت یاد آئے گا جب تم بیمار ہوتے تھے تو وہ ساری ساری رات تمہیں گود میں لئے بیٹھی رہتی تھی۔ تمہیں سکول بھیجتی تھی تو تمہارے لئے دعائیں کرتی تھی۔گھر سے نکلتے ہوئے تم پیچھے مڑ کر دیکھتے تو وہ مسکراتے ہوئے تمہیں الوداع کہنے کیلئے موجود ہوتی۔ سکول سے واپسی تک تمہاری راہ تکتی رہتی۔ اس نے تمہیں کبھی یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ تم معذور ہو۔لیکن لوری سنانے والی،الوداع کہنے والی،دعائیں کرنے، انتظار کرنےوالی اور حوصلہ دینے والی تمہاری پیاری ماں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے تم سے جدا ہو چکی ہے ۔اب بے رحم زمانے کی تند وتیز ہوائیں تمہاری منتظر ہیں۔اگر تم اسی طرح روتے رہے۔ تم نے دل ہار دیا تو پھر یہ زمانہ جیت جائے گا ۔تم ہار جاﺅ گے۔اس بات سے قطع نظر کہ میرے سامنے ایک چھوٹا سا بچہ تھا جو نہ جانے میری باتیں سمجھ بھی سکتا تھا یا نہیںمیں بولتا جا رہا تھا۔ تمہاری ماں تمہیں ایک بڑا آدمی بنانا چاہتی تھی ۔تم نے اپنی ماں کی خواہشوں کا مان رکھنا ہے۔کوشش کرنا کہ یہ معذوری اس راہ میں رکاوٹ نہ بننے پائے۔ دنیا میں وہی لوگ کامیاب ہوئے جوکسی محرومی کا شکار ہوئے اور پھر انہوں نے ایک نئے عزم اور ہمت کے ساتھ سفر کا آغاز کیا اوربالاخر اپنی منزل کو پا لیا۔یقین کرو اگرتم نے ایسا کیا تو کامیابی تمہارے قدم چومے گی۔ یہ زمانہ تمہارے پاﺅں کی ٹھوکر میں ہوگا۔ تمہارے یہ زخم خودبخود بھر جائیں گے اور تمہاری یہ محرومی اور معذوری ،اعتماد اورکامیابی میں بدل جائے گی۔ میں نے فہد کی طرف دیکھا۔اس کی آنکھوں میں آنسوﺅں کی جگہ اُمید اور چمک نے لے لی تھی۔میں نے اسکاکاندھا تھپتھپایا اور ہم گاڑی سے باہر نکل آئے۔
یہ واقعہ مجھے اس وقت یاد آیا جب میں نے چند روز قبل ایک لڑکی کے بارے میں پڑھاجس نے دونوں ہاتھوں اور پیروں سے معذور ہونے کے باوجود میٹرک میںسات سو نمبر حاصل کئے تھے۔زہرا عباس کہنیوں کی مدد سے لکھتی رہی اور اپنی جسمانی معذوری کو اپنے بلند ارادوں سے شکست دی۔یہ واقعہ ایک ایسے معاشرے میں رونما ہوا جس میں کروڑوں افراد ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے آسمان سے من و سلویٰ گرنے کے منتظر ہیں۔زہرانے ایسے لوگوں کوشرمندگی کا آئینہ دکھلا دیا جو صحیح سلامت ہونے کے باوجودمعاشرے کو دیمک کی طرح چمٹے ہوئے ہیں اور ہاتھ پاﺅں ہلانے کی بجائے قسمت کو ذمہ دار ٹھہراتے رہتے ہیں۔ میں ابھی یہ خبر پڑھ ہی رہا تھا کہ دروازے کی بیل ہوئی۔ صحن میں ایک خط گرا ہوا تھا۔کھولا تو فہد کاتھا۔ آج اتنے سالوں بعد فہد نے مجھے خط لکھا تھا۔آپ کی دعاﺅں سے میں نے ایف ایس سی فرسٹ ڈویژن میں پاس کر لی ہے۔ لیکن مجھے ایک بار پھر آپ کی مدد کی ضرورت ہے ۔میراانجینئرنگ یونیورسٹی لاہور اور ٹیکسلا میں داخلے کا چانس بہت کم ہے۔یہ مسئلہ صرف میرا نہیں بلکہ ان سینکڑوں معذور طلبا کا بھی ہے جنہوں نے اس سال ایف ایس سی فرسٹ ڈویژن میں پاس کی ہے اور انجینئرنگ میں داخلہ کے تمام ٹیسٹ بھی پاس کئے ہوئے ہیں لیکن وہ صرف اس لئے داخلہ نہیں حاصل کر پائیں گے کہ ان کےلئے انجینئرنگ کے تمام مضامین میں سیٹیں موجود نہیں۔معذور افراد کیلئے انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں صرف دو شعبوں میں ایک ایک جبکہ انجینئرنگ یونیورسٹی ٹیکسلا میں صرف ایک سیٹ موجودہے۔یہ شعبے آرکی ٹیچکر،ریجنل پلاننگ اورسافٹ ویئر کے ہیں۔ساری دنیا جانتی ہے کہ انجینئرنگ کے جن مضامین کی مانگ ہے ان میں الیکٹریکل، مکینیکل، کیمیکل، سول، الیکٹرانک اورانڈسٹریل شامل ہیں لیکن ہم معذوروں کویہ معاشرہ ایک بے معنی مخلوق سمجھتا ہے۔اسی لئے پورے پاکستان میں ہمارے لئے صرف تین سیٹیں رکھی گئی ہیں اور وہ بھی ایسے شعبوں میں جن کی کوئی وقعت ہے نہ مانگ۔ اگر ہر شعبے میں دو دو سیٹیں رکھی جائیں تو بہت سے طلباءکا مستقبل تاریک ہونے سے بچ سکتا ہے۔آپ کو یاد ہو گاکہ دس سال قبل آپ میری ماں کی وفات پر میرے پاس آئے تھے۔آپ نے مجھے حالات سے لڑنے کا طریقہ سکھایا۔ ان دس سالوں میں ایک پل بھی ایسا نہ تھا جب مجھے اپنی ماں کی یاد نہ آئی تھی، میں چپکے چپکے رونے لگتا تو یکدم ماں کا چہرہ میرے سامنے آ جاتا، میں آنسو پونچھتا اور پھر سے کام میں لگ جاتا۔میں نے اس سانحے اور اتنی بڑی محرومی کو معذوری نہیں بننے دیا۔ لیکن شاید میری آزمائش اور امتحان ابھی ختم نہیں ہوا۔آپ تو لکھتے رہتے ہیں۔ آپ کی آواز حکومت کے ایوانوں میں سنی جاتی ہے۔آپ ہی ان حکمرانوں سے پوچھئے کہ وہ ہمیں کب تک بی کلاس شہری سمجھتے رہیں گے،ہمارے صبر اور حوصلے کا کب تک امتحان لیتے رہیں گے اورہمارے ارمانوں اور خواہشوں کا خون کب تک ہوتا رہے گا۔
خط پڑھ کر میرے دماغ میں ایک بھونچال سا آ گیا۔مجھے یوں لگا کہ جیسے معذور وہ نہیں جن کی ٹانگ یا ہاتھ نہیں بلکہ وہ ہیں جن کے پاس سب کچھ ہے،لیکن وہ ان جیسے مجبور اور بے آسرا لوگوں کو منہ لگانے کو تیار نہیں۔ فہد اور زہرا کو دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ معذور یہ لوگ نہیں بلکہ ہمارا یہ نظام ہے جو معذوروں کو معاشرے کا ایک بے کار جزو سمجھتا ہے۔ ہماری وہ سوچ ہے جو معذوروں کو ردی کے کاغذ کے برابر بھی نہیں سمجھتی۔ ہمارا وہ رویہ ہے جو معذوروں کو بیساکھی اور ویل چیئر کے حوالے کر کے یہ سمجھتا ہے کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ یقین کیجئے ہمارے اس نظام ،ہماری سوچ اور ہمارے اس رویے نے پورے معاشرے کو معذور بنا کر رکھ دیا ہے۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ یہ معاشرہ معذور افراد کوسپیشل پرسن تو کہتا ہے لیکن ان کیلئے دھکے، گالیوں، ذلت اور بے عزتی کا پیکج بھی اسی معاشرے نے تیار کیا ہے۔ فہد جیسے نہ جانے کتنے طالب علم ہوں گے جن کی امید کی شمع بجھنے والی ہے ۔ لیکن حکومت کی ذرا سی توجہ ان کی زندگی میں نئی روشنی لا سکتی ہے،ان کے ارمانوں کا خون ہونے سے بچا سکتی ہے۔ انہیں ان کی منزل سے ہمکنار کر سکتی ہے اوران کی اَنا کو ٹھیس لگنے سے بچا سکتی ہے۔

    Powered by Control Oye