چھوٹی سی بات!

چھوٹی سی بات!
عمار چودھری
زندگی میں بہت سی باتیں ایسی ہیں جو آسانی سے سمجھ میں آ جاتی ہیں۔لیکن بعض اوقات ایک چھوٹی سی بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی اور اسے سمجھنے کیلئے ہم ایک ایسے سفر پر نکل پڑتے ہیں جس کا انجام ذلت، رسوائی، بھوک، قید اور موت کے تحفے کی شکل میں نکلتا ہے۔ وہ بات کیا ہے یہ میں آپ کو کالم کے آخر میں بتاﺅں گا،پہلے ایک واقعہ سناتا ہوں۔کسی ملک میںایک پہلوان اپنی شہ زوری کے باوجود مفلسی کا شکار تھا۔اپنے وطن میں روزی حاصل کرنے میں ناکامی ہوئی توباپ سے پردیس جانے کی اجازت مانگی۔باپ نے سمجھایا کہ صرف طاقتور ہونا کامیابی کی علامت نہیں۔ پانچ افرد ایسے ہیں جنہیں سفر راس آتا ہے۔ امیر کبیر سوداگر۔ خوش آواز مغنی۔عالم۔ خوب رُو اور پانچواں وہ شخص جو کوئی ہنر جانتا ہو۔پہلوان نے باپ کی نصیحت کو بے دلی سے سنااور سفر پر نکل پڑا۔ایک کشتی میں سوار ہوا ۔راستے میں ایک ویران جزیرے پر اتر گیا۔ تھکاوٹ کا غلبہ اتنا تھا کہ جب سو کر اٹھا تو اگلا سورج غروب ہونے کوتھا۔ادھر اُدھردیکھا لیکن کشتی کا نام و نشان تک نہ تھا۔ دو دن اور دو راتیں اسی جزیرے پر بھوکا پیاسا بیٹھا رہا۔پھر کچھ نقاہت اور نیند کے غلبے سے دریا میں گر پڑا۔لیکن اسکی زندگی ابھی باقی تھی۔دریا کی لہروں نے اچھال کر کنارے پر پھینک دیا یوں وہ مچھلیوں کی خوراک بننے سے بچ گیا۔پہلوان کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ اپنے وطن سے کتنی دور اور کس علاقے میں ہے۔لیکن زندگی باقی ہو تو غیب سے سامان پیدا ہو جاتا ہے۔ایک شہزادہ شکار کھیلتا ہوا اس طرف آ نکلا۔ پہلوان کی کہانی سنی توآبدیدہ ہوا۔خاص آدمی کی ڈیوٹی لگائی کہ اسے اسکے وطن پہنچا دے اور یوںپہلوان چہرہ لٹکائے وطن واپس پہنچ گیا۔
اب ہم اپنے ملک میں واپس آتے ہیں جہاںایسے ہی ایک پہلوان کی کہانی گوجرانوالہ کی تاریخ کا حصہ بنی۔گوجرانوالہ کے قریب ایک گاﺅں ہے چک نظام۔اس گاﺅں میں اسلم نامی شخص رہا کرتا تھا۔اسکا ایک بیٹا قاسم انگریزی فلموں کا بڑا شوقین تھا۔وہ ایک الگ انداز سے فلم دیکھنے کا عادی تھا۔فلموں میں مار پیٹ اسے بالکل پسند نہ تھی اس کی بجائے وہ ان مناظر کو خاص طور پر دیکھتا جن میں یورپی ممالک کی سڑکیں،وہاں کی بلند عمارتیںاور جدید طرز زندگی دکھائی جاتی۔وہ جب بھی فلم دیکھ کر باہر نکلتا تو اسے لگتا کہ جیسے گاﺅں کی تنگ گلیاں،کچے گھر، لہلہاتے کھیت اورپانی کے چھپڑ اس کا منہ چڑا رہے ہوں۔ ایسے میں وہ سر شام کھیتوں میں چلا جاتا اور درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ جاتا۔جب سورج آہستہ آہستہ حرکت کرتا ہوا سامنے قطار میں کھڑے سفیدے کے درختوں کے پیچھے گم ہو جاتا۔تو اسے خیال آتا کہ اسکی زندگی بھی کسی دن سورج کی طرح غروب ہو جائے گی اور وہ یوں ہی مر کھپ جائے گا۔ اسے یورپ کے کسی ملک میںجانے کا بہت شوق تھا۔لیکن یہ سب کیسے ممکن تھا۔وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اسے اچانک ایک خیال بجلی کی طرح کوندا۔اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی اوروہ کپڑے جھاڑتا ہوا اپنے جگری دوست سے ملنے کیلئے چل پڑا۔اس کا دوست اسے ایک ایجنٹ کے پاس لے گیا۔جب ملاقات ختم ہوئی تو قاسم کا چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا۔وہ واپس آکر سوگیا اور خواب میں خود کو لندن کے ٹریفالگر سکوائر پر کبوتروں کو دانہ ڈالتے اورسیٹیاںبجاتے دیکھتا رہا۔ اگلی صبح اس نے اپنے والد کو اپنا آئیڈیا سنایا۔اسکا والد مطمئن نہ ہوا۔ لیکن اولاد کے آگے کس کی چلی ہے۔قاسم کی ماں نے اپنازیور بیچا۔ باقی رقم لوگوں سے ادھار لی گئی ۔یوں وہ پانچ لاکھ روپے لےکر ایجنٹ کے پاس پہنچ گیا۔ایجنٹ نے رقم پوری طرح گنی اور قاسم کو تین دن بعد تیار رہنے کا حکم دے دیا۔
یہ دن بھی کسی طرح گزر گئے اور گھر والوں کو روتا دھوتاچھوڑ کر قاسم رات کے اندھیرے میں ایجنٹ کے ساتھ نکل پڑا۔اسے ایک ٹرک میں سوار کر دیا گیا جس میں چالیس پچاس افراد پہلے سے موجود تھے۔ راتوں رات وہ زمینی راستے سے سرحد عبور کر چکے تھے۔پھر انہیں ایک سمندر کے کنارے کھڑی لانچ میں سوار کر دیا گیا۔کئی روز تک وہ اسی میں سفر کرتے رہے۔وہاں سے نکلے تو ٹرک پر لگے ایک کنٹینر میں ٹھونس دیا گیا ۔کنٹینر میں چار انچ کا ایک سوراخ موجود تھا جہاں سے روشنی کی ایک باریک لکیر آتی تو سب سمجھ جاتے کہ دن چڑھ چکا ہے۔اسی سوراخ سے ہوا کا بھی گزر ہوتا تھا اوریہیں سے کنٹینر میںچند سوکھے ٹکڑے پھینک دئیے جاتے۔ اس دوران قاسم اور دیگر لڑکے شدیدبیمار ہو گئے اور ہڈیوں کا ڈھانچہ بننے لگے۔ایسے میں قاسم کی آنکھوں کے سامنے اسکے گاﺅں کا منظرگھومنے لگا۔اسے گاﺅں کی گلیاں،کچے گھر،لہلہاتے کھیت اورچھپڑ نہایت حسین لگنے لگے اور جدید ممالک کے مناظر سے نفرت ہونے لگی۔وہ انہی سوچوں میں گم تھا کہ کنٹینر کا ڈھکنا اپنی جگہ سے سرکا۔لڑکے باہر کی طرف دوڑے۔باہر آئے تو ہر طرف خوف اور دہشت کا عالم تھا۔ اندھیرے کے باعث ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دے رہا تھا کہ اچانک نامعلوم سمت سے تڑاتڑ گولیاں چلنے لگیں۔جس کا منہ جدھر ہوا بھاگنا شروع کر دیا۔لڑکے گولیاں کھا کھا کر گرتے رہے۔ایک گولی قاسم کی ٹانگ میں لگی اور وہ بے ہوش ہو گیا۔ہوش آئی تو ایک جیل میں تھا۔کئی سال گزرنے کے بعد اسے رہائی ملی اور وہ اپنے وطن واپس پہنچ گیا۔
قاسم نہ پہلا پاکستانی تھا نہ آخری جو شرمندگی کی چادر لپیٹے وطن واپس پہنچا۔ پہلوان کی طرح وہ یہ چھوٹی سی بات نہ سمجھ سکا کہ ایک بے ہنر اور بے کار شخص کو کوئی بھی معاشرہ ہضم کرنے کو تیار نہیں ہوتااورنہ ہی بے ہنرکو سفر راس آتاہے۔قاسم ایک ایسے معاشرے کاحصہ ہے جہاں ہر سال لاکھوں گریجوایٹ پیدا ہو رہے ہےں لیکن روزگار نہ ہونے کے باعث مایوسی کی دلدل میں اتر جاتے ہیں۔ قاسم جیسے لوگوں کی سمجھ میں اگر یہ بات آ جائے تو پھر ہر سال سینکڑوں پاکستانی ترکی کی جیلوں میں گلنے سڑنے، استنبول کے مضافاتی علاقوں میں چیلوں کی خوراک بننے اوریونان کے راستے ترکی پہنچنے کی کوشش میں سمندر کی مچھلیوں کی غذابننے سے بچ جائیں۔ کہا جاتا ہے کہ انسانی سمگلر بہت بڑے مجرم ہیں۔لیکن میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا۔اسکی وجہ بڑی سادہ اور واضح ہے ۔یہ سمگلر کسی کو گھر سے اٹھا کر نہیں لے جاتے۔یہ کاروبار ہم جیسے لوگوں کی وجہ سے ہی چل رہا ہے جو ہر قیمت پر یورپی ممالک کے سی کلاس شہری بن کر رہنا چاہتے ہیں۔اس جرم کا ماسٹر پلان ہمارے ہاتھوں بنتا ہے اور اسے پورا کرنے کی قیمت بھی ہم ہی ادا کرتے ہیں۔ہم آج تک اتنا بھی نہیں سمجھ سکے کہ بے ہنرافراداُس مٹی کی طرح ہوتے ہیں جوسمندر کی تہ میں گارے کی شکل میںبیٹھ جاتی ہے لیکن ہنر مند ان جواہرات کی مانند ہوتے ہیں جوسمندر سے نکل کربادشاہوں کے محلات کی زینت بنتے ہیں۔ ہم بھی عجیب لوگ ہیں کہ غیر ممالک میںبلند عمارتوںکے شیشے صاف کرنے،برفانی راتوں میں پٹرول پمپوںپر ڈیوٹی دینے،کمر پر منوں بوجھ لادنے اوربش اور براﺅن کے کتے نہلانے میں تو عار نہیں سمجھتے لیکن اپنے وطن میں موٹرمکینک، الیکٹریشن، پینٹر، ڈیزائنر اورکارپینٹر بننے کو باعث ذلت سمجھتے ہیں۔ہم بھی کیسے لوگ ہیں۔خدا ہمارے حال پر رحم کرے۔

    Powered by Control Oye