پاکستان کے ریاستی اثاثے اور بوجھ۔۔۔۔

پاکستان کے ریاستی اثاثے اور بوجھ۔۔۔۔(نجم سیٹھی)
جمعہ جولائی 10, 2009
صدر زرداری کئی خوبیوں کے مالک ہیں۔ حال ہی میں انہوںنے ماضی کی ان سنگین غلطیوں کا اعتراف کیا جو آج ریاست و حکومت پاکستان کیلئے وبال جان چکی ہیں۔ ایک غیر ملکی اخبار سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سابق سٹریٹجک اثاثے’’ جہادی ، طالبان اور مجاہدین‘‘ آج ایک ایسا بوجھ بن گئے ہیں کہ ا ن کا وجود ریاست کی بقاء کیلئے خطرہ بن چکا ہے۔ اسلام آباد میں ریٹائرڈ بیوروکریٹس کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اپنے اسی پیغام کو دہرایا اور کہا ’’ آج کے دہشتگرد کچھ سال قبل ہمارے ہیرو تھے، انتہاپسندی اور عسکریت پسندی نے ملکی سول بیوروکریسی کو کمزور اور بددل پاکر ریاست کو چیلنج نہیں کیابلکہ عسکریت پسندی کو دانستہ تخلیق کر کے ایک پالیسی کے تحت اس کی نشوونما کی گئی تاکہ مختصر مدت میں کچھ ٹیکنیکل مقاصد کو حاصل کیا جا سکے‘‘۔
واضح الفاظ میں ماضی کی پالیسی کی یہ نئی تعریف ہے۔ گزشتہ ماہ مالاکنڈ پھر وزیر ستان میں طالبان کے خلاف اس نئی پالیسی کے تحت محاذ آرائی کے آغاز کے ساتھ ہی اس نئی تعریف کا پیش کیا جانا بھی ضروری تھا۔ اس سلسلے میں مثبت پیش رفت یہ ہے کہ حالیہ چند دنوں میں صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف پرمشتمل ٹرائیکا کے درمیان 2 مرتبہ ملاقات ہوئی تاکہ اندورنی اور بیرونی عناصر کو مثبت سگنل مل سکے۔
کچھ واقعات صدر زرداری کے اس جرات مندانہ بیان کی تائید کرتے ہیں۔گوانتاناموبے کے قیدی اور القاعدہ کمانڈر قاری الیاس زین جو اسلام آباد کے ایک ریسٹورنٹ میں 2008 ء کے دوران ہونے والے بم دھماکے کا ذمہ دار بھی ہے ، کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔اسی طرح ریسکیو 15 ، آئی ایس آئی آفس لاہور ، مناواں پولیس ٹریننگ سنٹر اور سری لنکن کرکٹ ٹیم پر اور اسے اغواء کرنے کی کوشش میں ملوث دہشتگردوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔مالاکنڈ میں فوج طالبان کا شکار کر رہی ہے، جنوبی وزیر ستان میں ڈرون حملے اپنا کام کر رہے ہیں۔بدھ کے ڈرون حملے میں بیت اللہ محسود کا اہم گڑھ نہ صرف تباہ ہوا بلکہ دو کمانڈروں اور غیر ملکی دہشتگردوں سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے ۔ وزیرستان میں بیت اللہ محسود کی طالبان ’’امارت ‘‘ سخت بدحالی کا شکار ہے۔ اس کے اہم کمانڈر بغاوت پر اتر آئے ہیں، فوجی آپریشن کے نفسیاتی اثرات کا نتیجہ ہے کہ انہیں یقین ہو چکا ہے کہ بیت اللہ محسود نیٹ ورک کے دن گنے جا چکے ہیں۔اہم پیش رفت یہ ہے ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ’’عبداللہ ‘‘ اور ’’ ترکستان‘‘ کی سربراہی میں مزاحمتی گروپ بن گئے ہیں جو طالبان کے خلاف لڑنے کیلئے تیار ہیں۔
صدر زرداری نے بھارت کے ساتھ غیر مشروط پر امن روابط کے فروغ کی بات بھی کی ۔دوسرے الفاظ میں زرداری امن مذاکرات کے اس عمل کو جاری رکھنا چاہتے ہیں جس کا آغاز 2004 ء میں کشمیر کے مستقبل اور بھارت سے لاحق خطرات کے بارے میں پائی جانے والی سوچ میں بنیادی تبدیلی سے ہوا ، مگر 2007 ء کے داخلی عدم استحکام کے باعث جنرل مشرف اسے جار ی نہ رکھ سکے۔صدر زرداری اور جنرل (ر) مشرف کی سوچ میں ایک واضح فرق ہے۔ اگرچہ دونوں بھارت کی نسبت طالبان کو پاکستان کیلئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں تاہم صدر زرداری بھارت کے بارے میں پالیسی میں واضح تبدیلی کے حق میں ہیں جبکہ جنرل (ر) مشرف دبے الفاظ میں بھارت کے خلاف ڈیٹرنس برقرار رکھنے کی بات کرتے ہیں،اس کی وجہ ملٹری میں کئی دہائیوں سے پیدا کئے گئے’’ بھارت مخالف احساسات ‘‘ ہو سکتے ہیں۔
3 اہم عوامل کے باعث فوجی اسٹیبلشمنٹ مجبور ہو گی کہ افغانستان میں طالبان کو اپنا سٹریٹجک اثاثہ بنانے کی پالیسی پر از سرنو غور کرے۔ اول یہ کہ امریکہ افغانستان میں اپنے طویل قیام کے انتظامات کر چکا ہے۔ کرغزستان کے ساتھ امریکہ کا معاہد ہ ہو چکا ہے جس کے تحت افغانستان میں آپریشن کیلئے وہ کرغزستان کے ایئر بیس استعمال میں لا سکے گا۔کریملن میں صدر اوبامہ اور روسی صدر کے درمیان سمٹ کے دوران معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت سالانہ 4500 ملٹری فلائیٹس کے ذریعے نیٹو و امریکی فورسز اپنی فوج اور ہتھیار روسی سرزمین کے ذریعے افغانستان لے جا سکیںگے۔ اس معاہدے سے امریکہ کو نیا اور اہم ٹرانسپورٹیشن روٹ مل گیا ہے جس سے افغانستان میں موجود عالمی فورس کی بہترمعاونت ہو گی۔سمٹ کے بعد دونوں رہنماؤں کا مشترکہ اعلامیہ انتہائی اہمیت رکھتا ہے’ جس میں انہوں نے کہا’ دونوں ممالک ( روس اور امریکہ) افغانستان کے استحکام کے لئے ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے، اس سلسلے میں افغان فوج اور پولیس کی معاونت اور انسداد منشیات کے ادارے کو تربیت دی جائے گی۔افغانستان میں صدارتی انتخابات کے انعقاد کے سلسلے میں دونوں ممالک عالمی کمیونٹی کی معاونت کریں گے، افغانستان اور پاکستان کو لاحق مشترکہ خطرات انتہاپسندی ، دہشتگردی اور منشیات کے سمگلنگ سے نمٹنے میں دونوں ریاستوں کی معاونت کی جائے گی‘‘۔
دوسرا یہ کہ ہلمند کے علاقے میں فوجی قوت بڑھا کر اور وزیرستان میں طالبا ن کی پوزیشنوں پر بڑھتے ڈرون حملے ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان اور امریکہ کو ایک ہی دشمن کا سامنا ہے۔
تیسرا یہ کہ صدر زرداری واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ افغان صدر حامد کرزئی ایک ایسے دوست ہیں جن کے ساتھ حکومت پاکستان دیرپا روابط کیلئے تیار ہے۔صدر کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کوئی ایسی کوشش نہیں کرے گا جس سے آئندہ افغان صدارتی انتخاب عدم استحکام کا شکار ہو جس میں حامد کرزئی کے اگلے مدت کیلئے منتخب ہونے کا امکان روشن ہے۔صدر زرداری کا بیان فوجی اسٹیبلشمنٹ کے نقطہ نظر سے قطعی مختلف ہے جو صدر کرزئی کو ہمیشہ بھارت کا اثاثہ قرار دیتی آئی ہے۔
یہ نئی پیش رفت اس خطے کیلئے خوش آئند ہے۔اس صورت حال کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بھارت اب پاکستانیوں حتیٰ کہ امریکیوں کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حل کے ذکر پر خاص ردعمل کا مظاہر ہ نہیں کرتا۔اس سلسلے میں امریکی و برطانوی سفارت کاروں کی کوششوں کے علاوہ بھارت کی طرف سے اس بات کا ادراک بھی ہے کہ یہ طاقتیں اور پاکستان مسئلہ کشمیر کا جو حل چاہتے ہیں وہ بھارت کیلئے غیر مناسب بھی نہیں ، یعنی علیحدگی کے بغیر زیادہ سے زیادہ خودمختاری ۔

صدر زرداری کئی خوبیوں کے مالک ہیں۔ حال ہی میں انہوںنے ماضی کی ان سنگین غلطیوں کا اعتراف کیا جو آج ریاست و حکومت پاکستان کیلئے وبال جان چکی ہیں۔ ایک غیر ملکی اخبار سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سابق سٹریٹجک اثاثے’’ جہادی ، طالبان اور مجاہدین‘‘ آج ایک ایسا بوجھ بن گئے ہیں کہ ا ن کا وجود ریاست کی بقاء کیلئے خطرہ بن چکا ہے۔ اسلام آباد میں ریٹائرڈ بیوروکریٹس کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اپنے اسی پیغام کو دہرایا اور کہا ’’ آج کے دہشتگرد کچھ سال قبل ہمارے ہیرو تھے، انتہاپسندی اور عسکریت پسندی نے ملکی سول بیوروکریسی کو کمزور اور بددل پاکر ریاست کو چیلنج نہیں کیابلکہ عسکریت پسندی کو دانستہ تخلیق کر کے ایک پالیسی کے تحت اس کی نشوونما کی گئی تاکہ مختصر مدت میں کچھ ٹیکنیکل مقاصد کو حاصل کیا جا سکے‘‘۔
واضح الفاظ میں ماضی کی پالیسی کی یہ نئی تعریف ہے۔ گزشتہ ماہ مالاکنڈ پھر وزیر ستان میں طالبان کے خلاف اس نئی پالیسی کے تحت محاذ آرائی کے آغاز کے ساتھ ہی اس نئی تعریف کا پیش کیا جانا بھی ضروری تھا۔ اس سلسلے میں مثبت پیش رفت یہ ہے کہ حالیہ چند دنوں میں صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف پرمشتمل ٹرائیکا کے درمیان 2 مرتبہ ملاقات ہوئی تاکہ اندورنی اور بیرونی عناصر کو مثبت سگنل مل سکے۔
کچھ واقعات صدر زرداری کے اس جرات مندانہ بیان کی تائید کرتے ہیں۔گوانتاناموبے کے قیدی اور القاعدہ کمانڈر قاری الیاس زین جو اسلام آباد کے ایک ریسٹورنٹ میں 2008 ء کے دوران ہونے والے بم دھماکے کا ذمہ دار بھی ہے ، کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔اسی طرح ریسکیو 15 ، آئی ایس آئی آفس لاہور ، مناواں پولیس ٹریننگ سنٹر اور سری لنکن کرکٹ ٹیم پر اور اسے اغواء کرنے کی کوشش میں ملوث دہشتگردوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔مالاکنڈ میں فوج طالبان کا شکار کر رہی ہے، جنوبی وزیر ستان میں ڈرون حملے اپنا کام کر رہے ہیں۔بدھ کے ڈرون حملے میں بیت اللہ محسود کا اہم گڑھ نہ صرف تباہ ہوا بلکہ دو کمانڈروں اور غیر ملکی دہشتگردوں سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے ۔ وزیرستان میں بیت اللہ محسود کی طالبان ’’امارت ‘‘ سخت بدحالی کا شکار ہے۔ اس کے اہم کمانڈر بغاوت پر اتر آئے ہیں، فوجی آپریشن کے نفسیاتی اثرات کا نتیجہ ہے کہ انہیں یقین ہو چکا ہے کہ بیت اللہ محسود نیٹ ورک کے دن گنے جا چکے ہیں۔اہم پیش رفت یہ ہے ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ’’عبداللہ ‘‘ اور ’’ ترکستان‘‘ کی سربراہی میں مزاحمتی گروپ بن گئے ہیں جو طالبان کے خلاف لڑنے کیلئے تیار ہیں۔
صدر زرداری نے بھارت کے ساتھ غیر مشروط پر امن روابط کے فروغ کی بات بھی کی ۔دوسرے الفاظ میں زرداری امن مذاکرات کے اس عمل کو جاری رکھنا چاہتے ہیں جس کا آغاز 2004 ء میں کشمیر کے مستقبل اور بھارت سے لاحق خطرات کے بارے میں پائی جانے والی سوچ میں بنیادی تبدیلی سے ہوا ، مگر 2007 ء کے داخلی عدم استحکام کے باعث جنرل مشرف اسے جار ی نہ رکھ سکے۔صدر زرداری اور جنرل (ر) مشرف کی سوچ میں ایک واضح فرق ہے۔ اگرچہ دونوں بھارت کی نسبت طالبان کو پاکستان کیلئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں تاہم صدر زرداری بھارت کے بارے میں پالیسی میں واضح تبدیلی کے حق میں ہیں جبکہ جنرل (ر) مشرف دبے الفاظ میں بھارت کے خلاف ڈیٹرنس برقرار رکھنے کی بات کرتے ہیں،اس کی وجہ ملٹری میں کئی دہائیوں سے پیدا کئے گئے’’ بھارت مخالف احساسات ‘‘ ہو سکتے ہیں۔
3 اہم عوامل کے باعث فوجی اسٹیبلشمنٹ مجبور ہو گی کہ افغانستان میں طالبان کو اپنا سٹریٹجک اثاثہ بنانے کی پالیسی پر از سرنو غور کرے۔ اول یہ کہ امریکہ افغانستان میں اپنے طویل قیام کے انتظامات کر چکا ہے۔ کرغزستان کے ساتھ امریکہ کا معاہد ہ ہو چکا ہے جس کے تحت افغانستان میں آپریشن کیلئے وہ کرغزستان کے ایئر بیس استعمال میں لا سکے گا۔کریملن میں صدر اوبامہ اور روسی صدر کے درمیان سمٹ کے دوران معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت سالانہ 4500 ملٹری فلائیٹس کے ذریعے نیٹو و امریکی فورسز اپنی فوج اور ہتھیار روسی سرزمین کے ذریعے افغانستان لے جا سکیںگے۔ اس معاہدے سے امریکہ کو نیا اور اہم ٹرانسپورٹیشن روٹ مل گیا ہے جس سے افغانستان میں موجود عالمی فورس کی بہترمعاونت ہو گی۔سمٹ کے بعد دونوں رہنماؤں کا مشترکہ اعلامیہ انتہائی اہمیت رکھتا ہے’ جس میں انہوں نے کہا’ دونوں ممالک ( روس اور امریکہ) افغانستان کے استحکام کے لئے ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے، اس سلسلے میں افغان فوج اور پولیس کی معاونت اور انسداد منشیات کے ادارے کو تربیت دی جائے گی۔افغانستان میں صدارتی انتخابات کے انعقاد کے سلسلے میں دونوں ممالک عالمی کمیونٹی کی معاونت کریں گے، افغانستان اور پاکستان کو لاحق مشترکہ خطرات انتہاپسندی ، دہشتگردی اور منشیات کے سمگلنگ سے نمٹنے میں دونوں ریاستوں کی معاونت کی جائے گی‘‘۔
دوسرا یہ کہ ہلمند کے علاقے میں فوجی قوت بڑھا کر اور وزیرستان میں طالبا ن کی پوزیشنوں پر بڑھتے ڈرون حملے ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان اور امریکہ کو ایک ہی دشمن کا سامنا ہے۔
تیسرا یہ کہ صدر زرداری واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ افغان صدر حامد کرزئی ایک ایسے دوست ہیں جن کے ساتھ حکومت پاکستان دیرپا روابط کیلئے تیار ہے۔صدر کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کوئی ایسی کوشش نہیں کرے گا جس سے آئندہ افغان صدارتی انتخاب عدم استحکام کا شکار ہو جس میں حامد کرزئی کے اگلے مدت کیلئے منتخب ہونے کا امکان روشن ہے۔صدر زرداری کا بیان فوجی اسٹیبلشمنٹ کے نقطہ نظر سے قطعی مختلف ہے جو صدر کرزئی کو ہمیشہ بھارت کا اثاثہ قرار دیتی آئی ہے۔
یہ نئی پیش رفت اس خطے کیلئے خوش آئند ہے۔اس صورت حال کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بھارت اب پاکستانیوں حتیٰ کہ امریکیوں کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حل کے ذکر پر خاص ردعمل کا مظاہر ہ نہیں کرتا۔اس سلسلے میں امریکی و برطانوی سفارت کاروں کی کوششوں کے علاوہ بھارت کی طرف سے اس بات کا ادراک بھی ہے کہ یہ طاقتیں اور پاکستان مسئلہ کشمیر کا جو حل چاہتے ہیں وہ بھارت کیلئے غیر مناسب بھی نہیں ، یعنی علیحدگی کے بغیر زیادہ سے زیادہ خودمختاری ۔


 



    Powered by Control Oye