جدائی،عارضی یا لمبی!(نجم سیٹھی

جدائی،عارضی یا لمبی!(نجم سیٹھی کاکالم )

جمعہ اگست 29, 2008

پاکستان میں سیاسی لیڈر ہمیشہ سیاسی جماعتوں سے وابستگی کو تر جیح دیتے ہیں اور ان کے سیاسی مفادات شاذ ہی قومی مفادات سے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ سیاستدان جن اصولوں کا مسلسل پرچار کرتے رہتے ہیں، ان کا اپنا عمل ان کے برعکس ہوتا ہے۔ میڈیا بھی اپنے مفادات کے پیش نظر عوام میں انتشار اور الجھاؤ پیدا کرتا ہے اور حالات کو مکدر اور دگر گوں کرتا رہتاہے۔پچھلے چھ ماہ کے واقعات پر نظر ڈالنے سے یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے اور متزکرہ حقیقت میں کوئی شائبہ نہیں رہا!
ایک عام تاثر یہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) اور وکلاء تحریک کا موقف اصولی اور قومی مفاد کے مطابق ہے جبکہ پیپلز پارٹی اور دوسری حلیف جماعتیں خود غرض اور موقع پرست ہیں۔اس تاثر کا انحصار جس بات پر ہے اور جو چیز دونوں’’ بااصول‘‘ دھڑوں کو یکجا کرتی ہے ، ان کا بظاہر آزاد عدلیہ کی خاطر ججوں کی بحالی کا مطالبہ ہے ۔امر واقعہ یہ ہے کہ کوئی شخص بھی بقائمی ہوش و حواس آزاد عدلیہ کی ضرورت سے روگردانی نہیں کر سکتا اور نہ پچھلے سال مارچ میں شروع ہو نے والی وکلاء تحریک کی نیت اور مقاصد پر عذر اعتراض کر سکتا ہے۔ بنا بریںاس پر بھی کسی کو بحث نہیں کہ وکلاء تحریک اور زیادہ تر معزول جج ناقابل قبول حد تک سیاسی طور پر متعصب اور متنازعہ ہو چکے ہیں ۔ اس امر کی تصدیق اس بات سے بھی ہو تی ہے کہ معزول ججوں کے اندر تقسیم کھل کر سامنے آ چکی ہے۔سندھ ہائی کورٹ کے آٹھ معزول ججوں نے نئے حلف کی بنیاد پر اپنے عہدے قبول کر لئے ہیں اور لاہور ہا ئیکورٹ اور دوسری اعلیٰ عدالتوں کے جج بھی ان کی تقلید کرنے والے ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ(ن) کا’’ اصولی‘‘ کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔یہ وہی (ن) لیگ ہے جس نے 1998ء میں سپریم کورٹ پر یلغار کے بعد اس کا دھڑن تختہ کیا اور اسی (ن) لیگ نے عدالتی انقلاب لانے والے ججوں میں شامل جسٹس سعید الزماں صدیقی کو پہلے سپریم کورٹ کا چیف جسٹس اور اب اپنا صدارتی امیدوار بنایا ہے اور یہ بھی وہی (ن) لیگ ہے جس کے ترجمان خواجہ آصف ایک ٹی وی پروگرام میں کہہ چکے ہیں کہ صدر مشرف سے جان چھڑانے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ ہم پارلیمانی مواخذے کی بجائے (سیاست سے آلودہ) عدلیہ کو استعمال کریں۔معزول ججوں خاص طور پر جسٹس افتخار چوہدری کی ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بحالی کے (ن) لیگ کے مطالبے کے پیچھے عدلیہ کی آزادی کی اصولی خواہش نہیں بلکہ اس کے سیاسی مفادات انگڑائیاں لے رہے ہیں۔یہ درست ہے کہ اس قسم کے اقدام سے صدر مشرف غیر آئینی صدر قرار پاتے لیکن اس انتقامی چکی میں اٹھارہ فروری کے عام انتخابات اور زرداری کو ملنے والی صدارتی معافی بھی پس جاتی جس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کو اقتدار ملا۔ مزید براں بحال شدہ جج نظام کو زنجیروں میں جکڑ دیتے اور زرداری حکومت کو فوج کے ساتھ محاذ آرائی کے گڑھے میں دھکیل دیتے جو کہ اپنے سابق سربراہ کو ہر قیمت پر بچانا چاہتی ہے۔ مزید یہ کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو پٹڑی سے اتار دیا جاتا اور پاکستان کو اپنے ایک اہم سٹریٹجک پارٹنر سے الگ ہونا پڑتا جس سے کہ ہمارا قومی مفاد وابستہ ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ نواز شریف نے ہمیشہ اس بات پر اصرار کیا ہے کہ تمام متنازعہ مسئلے سیاسی اور غیر جانبدار طریقے سے طے کرنے کیلئے آئین میں ترمیم لائی جائے۔انتخابات کے بعد زرداری نے بھی غیر متنازعہ ججوں کی بحالی، جنرل ریٹائرڈ مشرف کے غیر معمولی اختیارات میں کمی اور جمہوریت کی مستحکم بحالی کے مفاد میں فوجی قیادت کو معافی دینے کیلئے یہی راستہ اپنانے کی بات کی ۔ تاہم جنرل مشرف کے جانے کے بعد نواز شریف صرف ججوں کی بحالی پر شدومد سے زور دینے لگے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ وہ ججوں کے ذریعے پیپلز پارٹی حکومت کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔
نواز شریف نے ججوں کی بحالی کے تحریری معاہدے سے منحرف ہونے پر زرداری پر طعن کرکے اور اپنے آپ کو حق پر قرار دیتے ہوئے حکمران اتحاد سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اس کے رد عمل میں قاضی حسین احمد نے بڑے تند الفاظ میں نواز شریف کو اے پی ڈی ایم کے ساتھ ان کی کئی وعدہ شکنیاں اور کہہ مکرنیاں یاد دلائیں۔ اصل میں یہ نواز شریف کا ضدی پن ہے جس نے زرداری کو مجبور کیا اور اکسایا کہ وہ صدر کا بااختیار عہدہ خود حاصل کریں تاکہ 1996ء میں صدر فاروق لغاری کے ہاتھوں پارٹی کو جس تلخ تجربے سے گزرنا پڑا اس کا اعادہ نہ ہو۔ زرداری کے پاس اختیارات کا ارتکاز اس دور کے مقابلے میں نسبتاً کم مسائل کن رہے گا جب 1997سے 1999ء تک نواز شریف وزیراعظم اور1999ء سے 2008ء تک مشرف صدر تھے اور اس سے پہلے 1988ء سے 1997ء تک صدر اور وزیراعظم کے درمیان اختیارات منقسم تھے۔اب تک جتنے بھی وزیراعظم اور صدور گزرے ہیں ان کے اعمال کی انہیں معافی ملی۔میںمانتا ہوں کہ گناہگار کیلئے سزا لازم ہے لیکن پہلے اسے کچھ کرنے کا موقع تو دیا جائے!
نواز شریف کی پیپلز پارٹی کے تعاون سے اب بھی پنجاب میں حکومت موجود ہے۔ لہٰذا جب تک وہ صوبائی اسمبلی تحلیل نہیں کرتے اور وفاقی حکومت کی نامزد کردہ عبوری حکومت کی نگرانی میں نئے انتخابات کا خطرہ مول نہیں لیتے ، مستقل علیحدگی کی ساری باتیں قبل از وقت ہیں۔ ان کے سامنے متبادل راستے یہ ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ(ق) کے ناراض فارورڈ بلاک سے ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے اسمبلی میں پیپلز پارٹی کو زچ کر دیں۔ لیکن اس کے جواب میں پیپلز پارٹی بھی ہارس ٹریڈنگ کر سکتی ہے یا اس کا گورنر حفظ ماتقدم کے طور پر حکومت برطرف کر سکتا ہے۔ دونون راستے اچھے نہیں ہیں اور نہ سنجیدگی سے غور کے قابل ہیں۔آصف زرداری نے نواز شریف کو پیشکش کی ہے کہ پنجاب حکومت برقرار رکھنے کیلئے ان سے تعاون جاری رکھیں گے ۔ وہ مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت کی مخالفت کرتے رہیں ،اس پر انہیں اعتراض نہ ہو گا۔ یہ ایک اچھی پیشکش ہے اور قومی مفاد میں آگے بڑھنے کا درست راستہ ہے ۔ملک اب جنرل( ریٹائرڈ )مشرف کا باب بند ہونے کے بعد دو بڑی پارٹیوں کے درمیان عدم استحکام کے نئے مقابلے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ تاہم زرداری نے وقتی طور پر نواز شریف کو مات دے دی ہے کیونکہ میاں صاحب نے اپنے پتے ٹھیک سے نہیں کھیلے!



    Powered by Control Oye