میڈیا کوتحفظ اور اتحاد کی ضرورت

جمعہ جولائی 25, 2008

nullپہلے پہل فرائی ڈے ٹائمز پھر ڈیلی ٹائمز اور اب روزنامہ آج کل کو دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔بنیاد پرست مذہبی انتہا پسند قوتیں تینوں اخبارات و جرائد کو قابل یقین دھمکیاں دے رہی ہیں کہ اپنی ادارتی پالیسی تبدیل کر لیںجس کے ذریعے آزادی ، ترقی پسندی،جمہوری اور انسانی قدروں کا پرچار کیا جاتا ہے۔طالبان نے فاٹا میں روزنامہ آج کل کی فروخت بزور قوت بند کرا دی ہے جبکہ پشاور میں اخبار کی انتظامیہ کو سنگین دھمکیاں دینے کاسلسلہ جاری ہے ۔تازہ ترین دھمکیاں اور تشدد آمیز بیانات لال مسجد کے ملاؤں کا تحفہ ہیں جن کا نیٹ ورک اسلام آباد اور پنجاب میں پھیلا ہوا ہے۔
دھمکیوں کا جواز لال مسجد کے سابق مہتمم مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ ام حسان کے ایک کارٹون کو بنایا گیا جسے روزنامہ آج کل نے شائع کیا۔اس کارٹون میں انہیںجہاد کی فضیلت اور اغوا کے اجر کے بارے میں اپنے طالب علموں کو درس دیتے دکھایا گیا ہے۔یہ کارٹون گذشتہ سال لال مسجد کے جنگجوؤں کی جانب سے جہاد کی ضرورت اور پانچ چینی با شندوں کے اغوا پر ان کے بیانات کے حوالے سے شائع کیا گیا تھا۔اُم حسان کا دعویٰ ہے کہ ان کے متعلق کارٹون کی اشاعت ڈنمارک کے اخبارات میں شائع ہونے والے توہین رسالت پر مبنی کارٹونوں کے مترادف ایک کافرانہ حرکت ہے اور یوں وہ اپنے آپ کو وہی درجہ اور مرتبہ دینے کی کوشش کر رہی ہیں جو نبی اکرمﷺ کا ہے۔ اس طرح کفر کا ارتکاب درحقیقت ان کی طرف سے کیا جا رہا ہے۔اصل میں ان کیلئے یہ برداشت کرنا مشکل ہے کہ ان کی ذات کو کسی طنز اور تنقید کا نشانہ بنایا جائے حالانکہ جس قسم کی بنیاد پرستی کی سیاست وہ کر رہی ہیں،ہمارے دو رخے سیاستدانوں کے مقابلہ میں کہیں زیادہ قابل اعتراض ہے جنہیں میڈیا پر روزانہ لتاڑا جاتا ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ سیاستدان کارٹون اور دوسرے تیر و نشتر ہضم کر لیتے ہیں جو کہ جمہوری کھیل کے اصولوں کے مطابق انہیں ایسا کرنا پڑتا ہے۔ان کے برعکس ہمارے خود ساختہ حق پرست انتہا ء پسند علماء کسی ناگوار تبصرے یا اختلاف کو تشدد سے کچلنے کے عادی ہو چکے ہیں۔1990ء کے عشرے میں الجزائر اور مصر میں یہی کچھ ہوا تھا جہاں سینکڑوں صحافی صرف اس بناء پر قتل کر دیئے گئے کہ انہوں نے ملاؤں کی انتہاء پسندی کی سیاست کی مخالفت کی تھی ۔
آج کی دنیا میں جہاں کیبل اور سیٹلائٹ کے ذریعے کوئی بھی خبر لمحہ بھر میں ہر گھر میں پہنچ جاتی ہے ہر کوئی چاہتا ہے کہ میڈیا اس کی تعریف کرے اور اسے حق بجانب قرار دے۔اس حوالے سے دو مسائل سر اٹھا رہے ہیں۔ اول ،میڈیا کی آزادی کی حدو غائت !اور دوسرامیڈیا کی ذمہ داری سے اس کا باہم تعلق ! اس معاملے میں کوئی سخت اصول ضابطے موجود نہیں ہیں، سوائے یہ کہ میڈیا کی آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے کسی دوسرے کی آزادی میں خلل پڑتا ہے۔میڈیا کی اس آزادی کی تعریف ہتک عزت اور توہین عدالت جیسے قوانین میںصراحت سے موجود ہے ۔ آخری فیصلے کا حق آزاد عدلیہ کو حاصل ہے کہ دیکھے ، کون درست اور کون غلط ہے!کسی بحث یا اختلاف کو دھمکیوں یا تشدد سے دبانے کی اجازت ہر گز نہیں دی جاسکتی۔
حالیہ دور میں میڈیا کا قافیہ تنگ کرنے کی کوشش کی دو بڑی مثالیں ہمارے ہاں موجود ہیں۔1999ء میں نواز شریف جنگ گروپ اور دی فرائی ڈے ٹائمز پر غضب ناک ہوئے اور ان اداروں کو پا بہ سلاسل کرنے کی کو شش کی۔2007ء میں جنرل مشرف نے بہت سے ٹی وی چینلوں کی نشریات بند کر دیں جس سے جیو اور جنگ گروپ سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔نواز شریف اور جنرل مشرف خود اس امر کے گواہ ہیں کہ انہیں میڈیا کے متذکرہ اداروں کو دبانے میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔
یہ بات اہم اور قابل ذکر ہے کہ غیر سرکاری کردار جو ہتھیاروں اور جذباتی نعروں سے مسلح ہیں ،پاکستانی میڈیا کواپنے مقاصد کیلئے بے دریغ استعمال کر رہے ہیں اور اپنے مفادات اور نظریات کی تبلیغ کا ذریعہ بنا رہے ہیں۔ تاہم مسائل اس وقت زیادہ سنگینی اور پیچیدگی اختیار کرتے ہیں جب میڈیا کا کوئی ادارہ ان کی پالیسیوں سے اتفاق کرنے سے انکار کر دیتا ہے یا ان کے گھٹیا مفادات اور ملک دشمن خیالات کو طشت از بام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔جمہوری معاشروں میں تنازعات اور اختلاف رائے طے کرنے کیلئے قانون کا راستہ اپنایا جاتا ہے لیکن پاکستان جیسی غیر جمہوری سماجی ثقافتوں میںاس قسم کے کردار عام طور پر دھمکیوں یا تشدد کا سہارا لیتے ہیں تاکہ میڈیا پر ناقدین کو خاموش کرا سکیں اور اداروں کی پالیسیوں کو اپنے مقاصد کے ہم آہنگ بنا سکیں۔
پاکستان میں دھونس دھمکیوں اور تشدد کے ذریعے میڈیا کو ہمنوا بنانے اور راہ راست پر لانے کی ایک اہم مثال کراچی میں ایم کیو ایم ہے۔ ایم کیو ایم بظاہر خود کو سیکولر قرار دیتی ہے لیکن یہ ایک نسل پرست جماعت ہے جس کا ریکارڈ فاشسٹ اور مجرمانہ سرگرمیوں سے سیاہ ہے۔تاہم اس کی تشدد آمیز دھمکیوں اور کاروائیوں کے باوجود میڈیا کراچی میںکسی طور زندہ رہا۔
میڈیا پراب ایک تازہ عذاب بنیاد پرست انتہاء پسند ،مذہبی عقائد کی شکل میں اترا ہے جسے’’ سیاسی اسلام‘‘ سے موسوم کیا جاتا ہے، لیکن اصل میں یہ خود ساختہ حق پرستی ،ظلم اور زیادتی کا دوسرا نام ہے۔جہاد اور طالبان ازم کا پرچار کرنے والے مختلف مسلح گروپ اب آزاد میڈیا کے تصور کو ختم کر کے اسے عالمی حالات و واقعات کے متعلق اپنے نکتہ نظر اور رائے کے اظہار کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں۔اپنے اس مقصد کے حصول کیلئے وہ خوف اور دباؤ کی فضاء پیدا کرتے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ میڈیا اپنی ساکھ ،آزادی اور وقار کیلئے اس نئے خطرے کا کیونکر مقابلہ کرتا ہے؟
میڈیا کے تحفظ کی بنیادی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے لیکن جہاں ریاست اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کیلئے تیار نہ ہو خواہ اس کی وجہ ریاست کے مذہبی گروپوں سے مشکوک تعلقات یا اسکی اپنی داخلی کمزوریاں ہیں جن کے سبب وہ میڈیا کا دفاع کر سکتی ہے نہ اپنی عملداری برقرار رکھ سکتی ہے(پاکستان میں یہ دونوں معاملے ہیں) ایسے حالات میں میڈیا کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرے اور داخلی چشمک، شخصی رقابت ،اناء اور مالی مفادات ایک طرف رکھ کر متحد ہو جائے اور نئے خطرات کا مل جل کر مقابلہ کرے۔اگر میڈیا کے کسی ادارے پر حملہ ہوتا ہے تو سب اداروں کو چاہئے کہ اس کی اعلانیہ مزمت کریں ۔ اس قسم کے غیر سیاسی کرداروں کی پروپیگنڈہ سرگرمیوں کا بائیکاٹ کر دینا ہی کافی نہیں، سب کو یک زبان ہو کر ان کی بھرپور مخالفت کرنی چاہئے۔اگر صحافیوں کیلئے سیاستدانوں اور پارلیمانی کاروائی کے بائیکاٹ کی دھمکیاں اور مطالبے منظور نہ ہونے کی صورت میں احتجاج معمول کی بات ہے تو پھر جب یہ مذہب کے ٹھیکیدار ہم میں کسی کو دھمکی دیتے ہیں ہم اسی طرح متحد ہوکر اپنا ردعمل ظاہر کیوں نہیں کرتے؟



    Powered by Control Oye