افلاطونی فیصلے(الطاف حسن

جمعرات جولائی 24, 2008

nullہمارے مقتدر اربابِ اختیار جن کو بے پناہ دولت سے قدرت نے نوازا ہے وہ اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھنے لگے ہیں۔ جناب سلمان تاثیر جو اربوں میں کھیل رہے ہیں وہ پنجاب کی گورنری کا منصب سنبھالنے کے بعد اس گمان میں مبتلا ہو گئے ہیں کہ ان کے پاس دولت عقل کی فراوانی سے آئی ہے اور وہ جو قدم بھی اٹھائیں گے اور جو فیصلہ بھی صادر کریں گےٗ وہ بالکل درست ہو گا۔ غالباً ہمارے حکمران دولت کے بل بوتے پر اپنے آپ کو سب سے بڑا دانش ور اور نہایت اعلیٰ منتظم خیال کرنے لگے ہیں اور ان کی طرف سے جو احکام جاری ہو رہے ہیں وہ ان کے تئیں وہ بے مثال ذہانت اور فہم و فراست کے آئینہ دار ہیں۔ چنانچہ وہ اربوں ڈالر کے مالک بن چکے ہیں اور ان کے مالی وسائل میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے انہیں افلاطون کا مقام حاصل ہو چکا ہے اور وہ حسب منشاء حکومت کے اندر جو تقرریاں فرما چکے ہیں ان کی ’جلوہ گری ‘پورے ماحول کومنور کیے دے رہی ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی جن کو دولت کی بہتات وراثت میں ملی ہے وہ اسی نسبت سے عقل و دانش کے اعلیٰ درجے پر فائز ہیں جس کا بھرپور اظہار قوم سے ان کے پہلے خطاب کے وقت ہو چکا ہے۔ دولت کی طاقت نے ہمارے حکمرانوں کے اندر یہ احساس پیدا کر دیا ہے کہ وہ مافوق الفطرت انسان ہیں اس لیے ان سے کوئی غلطی سرزد نہیںہو سکتی اور ان سے باز پرس بھی نہیں کی جا سکتی۔ وہ جس زعم کا شکار ہو گئے ہیں اس نے انہیں افلاطون بنا دیا ہے جبکہ میدانِ سیاست میں ان کی حیثیت پر بڑے بڑے سوالیہ نشان لگے ہوئے ہیں اور ان کے اقدامات اور اعمال سے مسائل میں جکڑی قوم کی بدنصیبی میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے۔
آصف زرداری یہ اعلان کرتے ہوئے نہیں تھکتے کہ مخلوط حکومت قائم رہے گی اور اسے استحکام بخشنے کے لیے ہم نواز شریف کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلتے رہیں گے اور پنجاب میں ان کی حکومت پر آنچ نہیں آنے دیں گےٗ مگر جناب سلمان تاثیر نے گورنری کا حلف اُٹھاتے ہی اعلان فرمایا کہ ہم لاہور کو لاڑکانہ بنا دیں گے اور بلاول کو لاہور سے منتخب کرائیں گے۔ اس کے بعد انہوں نے گورنر ہاؤس میں کھلی کچہری لگانا شروع کر دی اور ایک متوازن حکومت قائم کرنے کا تاثر دیا جس نے بہت ساری انتظامی پیچیدگیوں اور تضادات کو جنم دیا اور وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے لیے مسائل پیدا کیے۔ اسی دوران انہوں نے ایک اور افلاطونی فیصلہ یہ کر ڈالا کہ جناب فرخ شاہ کو اپنا میڈیا ایڈوائزر مقرر کر لیا ۔ اس ایک فیصلے سے مسلم لیگ (ن) کے علاوہ پیپلز پارٹی کے اندر شدید ردعمل پیدا ہوا ہے۔ پیپلز پارٹی کے کارکن اور عہدے دار اس لیے خفا ہیں کہ انتخابات سے پہلے حکومت نے پیپلز پارٹی کی کردار کشی کے لیے جو اشتہاری مہم چلائی تھیٗ اس کے انچارج جناب فرخ شاہ تھے جو ان دنوں ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز تھے۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت اس لیے برہم ہے کہ جس شخص کو مختلف وجوہ سے عہدے سے فارغ کیا گیا اسے گورنر صاحب نے اپنی آغوش میں بٹھا لیا ہے اور حکومت پنجاب کا منہ چڑانے کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ اس سے پہلے حکومت پنجاب نے جناب سکھیرا کی خدمات وفاقی حکومت کے سپرد کر دی تھیں مگر گورنر صاحب انہیں اپنا پرنسپل سیکرٹری بنا کر لاہور لے آئے۔ ان اقدامات سے سیاسی اعتماد کا شیرازہ مضبوط ہونے کے بجائے بکھرتا جا رہا ہے اور یہ ثابت ہو رہا ہے کہ ہر دولت مند شخص عقل مند نہیں ہوتا۔
جناب آصف زرداری نے وفاقی حکومت میں اہم تقرریاں اپنے اتحادیوں کو اعتماد میں لیے بغیر کی ہیں جن کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ حال ہی میں اس راز کا انکشاف ہوا ہے کہ وزیر اطلاعات و نشریات محترمہ شیری رحمان سے مشورہ کیے بغیر جناب ڈاکٹر شاہد مسعود کوپی ٹی وی کا چیئرمین اور مینیجنگ ڈائریکٹر تعینات کر دیا گیا اس کے بعد جب وزیر اعظم قوم سے خطاب کرنے پی ٹی وی سٹیشن میں تشریف لائے اور ان کی تقریر بد انتظامی کے باعث کامیڈی میں تبدیل ہو گئی اور حکومت کا امیج بری طرح متاثر ہوا۔ ایک دنیا کو پیغام یہ ملا کہ جمہوری حکومت میں وزیر اعظم کی نشری تقریر کے انتظامات کرنے کی بھی صلاحیت نہیں۔
اس حادثے سے پہلے ایک اور المیہ جون کو رونما ہو چکا ہے۔ منصب پر اگر اہل افراد تعینات نہ کیے جائیں تو کوئی بھی ناخوشگوار صورتِ حال پیدا ہو سکتی ہے۔ پٹرولیم کے وزیر مخدوم شاہ محمود قریشی نے سی این جی کی قیمتوں میں تیرہ روپے کے اضافے کا پریس کانفرنس میں اعلان کر دیا جبکہ حقیقی اضافہ صرف پانچ روپے کیا جانا تھا۔ اس پر عوام بلبلا اُٹھے اور سی این جی سٹیشن پر زائد نرخ چارج کیے جانے لگے۔ بعد میں حکومت نے غلطی پر معذرت کر لی مگر دو تین روز کے اندر اندر عوام کے جیبوں سے اربوں روپے وصول کیے جا چکے تھے۔ اس تکلیف دہ صورتِ حال کے پیچھے عجیب و غریب عوامل کارفرما ہیں۔ دراصل اوگرا اور وزارتِ پٹرولیم کے مابین کشمکش جاری ہے۔ اوگرا کے چیئرمین جناب منیر احمد کی ملازمت میں کئی بار توسیع کی جا چکی ہے وزارت کے سیکرٹری ظفر محمود پہلے ٹیکسٹائل وزارت میں تھے اور انہیں پٹرولیم کے معاملات پر دسترس نہ ہو سکی۔ انہیں اس عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور ڈائریکٹر جنرل گیس بھی فارغ کر دیے گئے ہیں۔ جناب جی اے صابری عارضی طور پر سیکرٹری مقرر کیے گئے ہیں اور وہ اپنے تجربے اور پیشہ ورانہ اہلیت کے لحاظ سے موزوں ترین شخص معلوم ہوتے ہیں اور وہ اس نازک دوراہے پر حکومت کو صحیح مشورہ دے سکتے ہیں۔ ان عہدوں پر تقرر خالص استحقاق کی بنیاد پر کیا جا نا چاہیے اور افلاطونی فیصلوں سے اجتناب یقینی طور پر بہتر ثابت ہو گا۔



    Powered by Control Oye