اگلے نائن الیون کا دفاع کون کرے ۔۔۔۔۔۔اسد اللہ غالب

۔۔۔15-07-2008
میں نہیں کہہ سکتا کہ پاکستان کے نئے آرمی چیف جنرل کیانی درپیش خطرات سے کس طرح نبٹنا چاہتے ہیں کیونکہ مجھے ان کی محفل میں شرکت کا اعزاز حاصل نہیں ہوا ۔ میرے ساتھی کالم نگار ہارون الرشید نے اس ملاقات کے بعد ”فوجی یا غیر فوجی ؟“ کے عنوان سے کالم کا آغاز ان سطور سے کیا ہے ”کیا معاملہ اتنا ہی سادہ ہے کہ 16 کروڑ انسان تاریخ کے چوراہے پر سوئے رہیں اور اپنی قسمت کے فیصلے چند بونوں کو سونپ دیں۔ فوجی یا غیر فوجی اس سے کیا فرق ؟“ جنرل کیانی سے ملاقات کرنے والے دوسرے ساتھی قلم کار عباس اطہرنے ہارون الرشید کے مصرع طرح جوپورا ایک مضمون باندھا ہے، اس میں انہوں نے کہاہے کہ ”ہمارے یہ صف شکن پاکستانی فوج کو مشورہ دے رہے ہیں کہ اگر امریکی فضائیہ اور فوج سرحد پار کر کے پاکستانی علاقے میں کارروائی کرے تو ہمیں امریکیوں سے لڑ جانا چاہیے“۔ دونوں کالموں کو پڑھنے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ آرمی چیف نے جو گفتگو کی، وہ تو آف دی ریکارڈ تھی تاہم اس محفل میں کالم نویسوں نے جن خیالات کا اظہار کیا وہ ہر گز آف دی ریکارڈ نہیں ۔
میں پاک فوج کا ترجمان نہیں ؛ تاہم قارئین یہی سمجھتے ہیں کہ میں فوج کا تنخواہ دار بلکہ لفافہ دار ہوں اور وہ پاک فوج کو جو گالیاں دینا چاہتے ہیں، ان کا مستحق مجھے بھی سمجھتے ہیں۔ میری ای میل اور فون کے ایس ایم ایس ان گالیوں سے اٹے ہوئے ہیں۔ میں پاکستان یا پاکستان سے باہر موجود جہادیوں کا بھی ترجمان نہیں تاہم جہاد کے مخالفین میرے ماضی کے پس منظر میں مجھے ”مجلہ“ ہی سمجھتے ہیں اورمجھے ان دونوں تہمتوں سے انکار کرنے کی کوئی ضرورت بھی نہیں ۔ میرے کالم میں آپ میرے خیالات کو میرے اسی اعلان کی روشنی میں ہی پڑھیں۔
پاکستان نے پہلا جہاد، کشمیر میں کیا تھا جس کی مولانا مودودی نے مخالفت کی تھی۔ مودودی کے مخالفین نے آج تک جہاد کشمیر کےخلاف اس فتوے پر مودودی کو معاف نہیں کیا۔ دیکھئے مولانا مودودی نے کیا کہا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ریاست پاکستان میں جہاد کا اعلان صرف ریاست اور اس کی نمائندہ حکومت ہی کر سکتی ہے ،کسی گروہ کو یہ حق حاصل نہیں ہے۔ اب جبکہ پچھلے دس بیس برس سے پاکستان میں ان گنت جہادی گروپ سامنے آ چکے ہیں اور ان میں سے بعض ایک دوسرے کےخلاف جہاد میں مصروف ہیں اور اب بعض گروپوں کے جہاد کا نشانہ خود حکومت پاکستان اور پاکستانی قوم بن چکی ہے تو مولانا مودودی کے فتوے کی اہمیت دو چند ہو گئی ہے۔ تاہم مولانا مودودی اب قصہ پارینہ بن چکے، ان کی کون سکتا ہے۔ ان کی جماعت بھی ان کی ایک سننے کو تیار نہیں اور شمشیر بکف نظر آتی ہے۔
اقبال نے کہا تو یہ تھا کہ ہندی ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا ۔یہ خیال ہندواتا کی عکاسی کرتا نظر آیا تو انہوں نے اپنے مصرع میں ترمیم کی اور یہ کہا کہ مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا۔ کاش ! اقبال ؒ کی عمر لمبی ہوتی اور وہ آنکھوں سے دیکھ لیتے کہ انہوں نے جس مسلم امہ کو لائسنس تسخیرعالم کا لائسنس دیا تھا، وہ کس حشر نشر سے دو چار ہو چکی ہے۔ اغیار نے تو مسلمانوں سے جو سلوک کیا، سو کیا؛خود مسلمان ممالک نے اپنے مسلمان بھائیوں کو جن ذلتوں کا شکار کیا، اس پر اقبال اپنا سر پیٹ لیتے اور شاید اپنے مصرع میں مزید ترمیم کر لیتے کہ ”رہنے کو گھر نہیں ہے اور سارا جہاں ہمارا“ ۔کسی ایک مسلمان ملک میں کسی دوسرے ملک کا مسلمان بغیر پاسپورٹ اور ویزے کے داخل نہیں ہو سکتا۔ اس تلخ حقیقت کے باجود ہم پاکستانیوں نے اپنے ملک کو فری فار آل بنا دیا اور سوویت روس کو اپنے ملک کی سرحدوں سے باہر شکست دینے کے لیے دنیا بھر کے مجاہدین پر اپنی سرحدیں کھول دیں۔ یہ جہاد تو ختم ہو گیا ،سوویت روس کے بھی ٹکڑے ہو گئے، مگر مجاہدین کے لشکروں نے پاکستان میں مستقل چھاﺅنیاں ڈال لیں۔ اب جہاد کی ضرورت فلپائن میں ہو، چیچنیا میں ہو، بوسنیا میں ہو، لبنان میں ہو، سوڈان میں ہو یا انڈونیشیا میں ہو تو پاکستان کے بیس کیمپ سے ان جہادوں کی کمان کی جاتی رہی۔ مسئلہ یہاںتک محدود رہتا تو بھی ہمیں زیادہ متفکر ہونے کی ضرورت نہیں تھی لیکن اس اثناءمیں امریکہ نائن الیون کے حوادث کا شکار ہو گیا۔ امریکہ نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک نئی جنگ کا اعلان کیا اور صرف پاکستان کو ہی نہیں، پوری دنیا کو ایک ہی چوائس دیا کہ وہ امریکہ کا ساتھ دیں ورنہ انہیں دہشت گردوں کا ساتھی سمجھ کر ان سے بھی نمٹا جائے گا۔ افغانستان کے سوا کسی ملک نے امریکہ کا حلیف بننے سے انکار نہیں کیا۔
پاکستان یا جنرل مشرف نے دہشت گردی کےخلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کا جو فیصلہ کیا ، وہ دنیا میں کوئی انوکھا فیصلہ نہیں تھا لیکن پاکستان کے اندر ایک طبقے نے اس فیصلے کو کٹ حجتی کی نذر کر دیا۔ اعتراضات یہ تھے کہ نصف شب کو ایک فون کال پر ایک آدمی کو فیصلے کا اختیار کس نے دیا، دلیل میں تضاد یہ تھا کہ ترکی اور مصر کی طرح مالی مفادات کیوں نہیں اٹھائے گئے۔ اس کج بحثی سے یہ ثابت کرنے کی بھی کوشش کی جا رہی تھی کہ امریکہ کا ساتھ دینے کے بجائے امریکہ کےخلاف صف آراءہونے کی ضرورت تھی، طالبان اور القاعدہ کا کھل کر ساتھ دینا چاہیے تھا۔ یہ حسن اتفاق تھا یا سوئے اتفاق کہ پچھلے پانچ برس میں صدر مشرف ایک ”ڈکٹیٹر“ کی طرح فیصلے کرتے رہے اور انہوں نے کج بحثوں کی ایک نہیں سنی اور ملک کو امریکہ کےخلاف جہاد میں نہیں جھونکا ۔ مگر اب بقول ہارون الرشید فیصلوں کا اختیار کسی ”فوجی یا غیر فوجی بونے“ کو نہیں ہونا چاہیے بلکہ 16 کروڑ عوام کو اپنی تقدیر کا خود فیصلہ کرنا چاہیے۔ میں ”فوجی اور غیر فوجی بونے“ کے الفاظ سے تو اتفاق نہیں کرتا تاہم 16 کروڑ عوام 18 فروری کے مینڈیٹ کے بعد اب نہ تو غیر فوجی صدر مشرف کے کسی فیصلے کے پابند ہیں، بلکہ وہ تو فیصلہ سنانے کا اختیار ہی نہیں رکھتے اور نہ کسی فوجی یعنی نئے آرمی چیف جنرل کیانی نے کبھی اس شوق کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنا ہی فیصلہ مسلط کرنا چاہتے ہیں ، انہوں نے تو ”16کروڑ“ عوام کے موڈ کا اندازہ لگاتے ہوئے فوج کو سول محکموں سے نکال لیا۔ نئی وفاقی اورصوبائی حکومت کو جنگجوﺅں سے امن معاہدے کرنے دئیے اور فوجی آپریشن کرنے یا نہ کرنے کا اختیار بھی حکومت کو سونپ دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ حکومت نے یہ اختیار واپس انہیں تقویض کر دیا جس پر پورے ملک میں ایک دہائی مچ گئی کہ یہ اختیار آرمی چیف کے بجائے پارلیمنٹ کے پاس ہونا چاہیے۔ پتہ نہیں آرمی چیف جنرل کیانی نے یہ اختیار واپس پارلیمنٹ کو دیا ہے یا نہیں اور اگر ان تک میری آواز پہنچ سکتی ہو تو وہ براہ کرم اپنا اختیار ”16کروڑ“ عوام کو بذریعہ پارلیمنٹ واپس کر دیں۔ اب قوم جانے اور امریکہ جانے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی فوج کو امریکہ جیسی سپر پاور اور اس کی اتحادی ناٹو افواج کا مقابلہ کرنے کے لیے کھڑا ہی نہیں کیا گیا ، ویسے بھی امریکی اور ناٹوا فواج کو زمین پر دوبدو لڑائی سے دلچسپی ہی نہیں۔ وہ تو تیس ہزار فٹ کی بلندی سے بی باون کے ذریعے کارپٹ بمباری کرتی ہیں۔ ہزاروں میل دور سے بیلسٹک کروز میزائل داغتی ہیں یا راڈار پر نظر نہ آنے والے بغیر پائلٹ کے جہازوں سے تباہی نازل کرتی ہیں۔ ان تینوں صورتوں میں پاکستانی فوج نہ تو دفاع کر سکتی ہے، نہ جارحانہ حملہ کر سکتی ہے، امریکہ اور ناٹو افواج کےخلاف عراق اور افغانستان میں ایک ہی کارگر ہتھیار سامنے آیا ہے اور وہ ہے خود کش بمباری کا۔۔۔۔ تو ”16 کروڑ“ پاکستانی عوام کو اب یہ فیصلہ کرنے میں کوئی رکاوٹ در پیش نہیں کہ انہیں خود کش راستے پر ہی گامزن ہونا ہے۔
میں یہ سطور لکھ چکا تھا کہ ٹی وی پر پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل سید مشاہد حسین کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ قوم کو فرضی خطرات سے ڈرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔مطلب یہ ہے کہ کسی نئے نائین الیون کا کوئی خطرہ سر پر نہیں منڈلا رہا۔چلئے مشاہد صاحب نے مسئلہ آسان کر دیا، نہ کوئی خطرہ لاحق ہے اور نہ جناب ہارون الرشید کی زبان میںکو ئی فوجی یا غیر فوجی بونا اپنا فیصلہ مسلط کر سکتا ہے۔


    Powered by Control Oye