متنازع سیکورٹی آپریشن

جمعرات جولائی 3, 2008

nullپاکستان میں آج تک جتنے فوجی آپریشن ہوئے ہیں‘ ان کے نتائج خطرناک ہی نکلے ہیں۔ مشرقی پاکستان میں جو ہولناک آپریشن 25مارچ1971ء کو شروع ہوا تھا‘ وہ افواج پاکستان کی شکست اور پاکستان کی تقسیم پر منتج ہوا۔ آغاز میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان کو ختم ہونے سے بچا لیا گیا ہے اور ریاست کی رٹ چیلنج کرنے والوں کو کیفرکردار تک پہنچا دیا جائے گا‘ مگر نو ماہ کے اندر اندر ایسے انسانیت سوز مناظر دیکھنے میں آئے کہ پاکستان دنیا کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہا اور اس کا اپنا وجود بھی دولخت ہو گیا۔ لاکھوں انسانوں کی ہڈیوں پر بنگلہ دیش وجود میں آیا۔ اس قیامت خیز سانحے کی تحقیقات کے لیے حمودالرحمن کمیشن بنایا گیا جس نے ان سول اور فوجی افسروں کی واضح نشان دہی کی جو سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے قومی مجرم تھے‘ مگر اُن کے خلاف مقدمات قائم ہوئے نہ کسی کو عبرت ناک سزا دی گئی اور جو مرکزی کردار تھے انہیں فوجی اعزازات کے ساتھ دفنایا گیا۔ اے کے نیازی جنہوں نے بھارتی جرنیل کے سامنے ہتھیار ڈالے تھے اور افواج پاکستان کی بدنامی کا باعث بنے تھے‘ انہوں نے تاریخ کی آنکھوں میں دھول ڈالتے ہوئے اپنے آپ کو بہت بڑا ہیرو ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ وہ ایک سیاسی جماعت میں بھی اس عزم کے ساتھ شامل ہوئے کہ وہ پاکستان میں نظام مصطفی نافذ کریں گے جبکہ ان کی فحش گوئی کے قصے زبان زدِ عام تھے۔
دوسرا فوجی آپریشن وزیراعظم بھٹو کے عہد میں سردار عطاء اللہ مینگل کی سیاسی سرکشی کے خلاف کئی سال تک جاری رہا۔ جب نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت غیرآئینی طریقے سے ختم کی گئی‘ تو بعض قبائلی حکومت کے مدمقابل آئے اور ان کی سرکوبی کے لیے فوج بڑے پیمانے پر استعمال ہوئی۔ لوگ پہاڑوں پر چلے گئے اور گوریلا جنگ لڑتے رہے۔ بلوچستان جو پہلے ہی بہت پس ماندہ تھا‘ اس کا جسم زخموں سے چور چور ہو گیا‘ ان دنوں جو زخم لگے‘ وہ آج تک مندمل نہیں ہو پائے۔ وہ تو اس لیے اور زیادہ گہرے ہوئے‘ کہ جنرل پرویز مشرف نے بگٹی قبائل پر ظلم کی انتہا کر دی تھی اور فوجی آپریشن کا دائرہ بہت وسیع ہو گیا تھا۔ اسی فوجی آپریشن میں نواب اکبر خاں بگٹی بڑی بے سروسامانی میں شہید کر دیے گئے اور خفیہ ایجنسیوں نے سردار اختر مینگل کو کمرے میں بند رکھا اور ان کو اور ان کے ساتھیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان فوجی کارروائیوں پر بلوچستان کے عوام حکومت سے بہت ناراض ہیں اور وہ ملکی خودمختاری کی بات کر رہے ہیں۔ جناب محمود خاں اچکزئی اور سردار اختر مینگل بلوچستان کے بہت بڑے ہیرو بن کے اُبھرے ہیں۔ ان کے جلسوں میں لوگ جوق در جوق آ رہے ہیں جو فوجی آپریشن کا بدلہ چکانا چاہتے ہیں۔ ان کے تیور کو دیکھتے ہوئے جناب آصف زرداری نے ان سے معافی مانگی ہے‘ اور ان کے ساتھ ماضی میں ہونے والی بے انصافیوں کا مداوا کرنے کی پیش کش کی ہے۔ سیاسی تجزیہ نگار بلوچستان کو ایک دوراہے کی طرف بڑھتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ فوجی آپریشن کی ’’فتوحات‘‘ یہ ہیں کہ بلوچستان میں رہنے والے پاکستان سے لاتعلق ہوتے جا رہے ہیں جبکہ غیرملکی طاقتیں ان کے خطے کی طرف للچائی ہوئی نظر سے دیکھ رہی ہیں۔ سیاسی ادارے جو فوجی حکومت کے زمانے میں بہت کمزور ہو چکے ہیں‘ ان کے اندر عوام کے اضطراب کو جذب کرنے کی صلاحیت نہیں رہی۔
تیسرا بڑا آپریشن فاٹا میں نائن الیون سے جاری ہے جس میں ہمارے ہزاروں فوجی افسر اور جوان کام آ چکے ہیں‘ جبکہ امریکی طیاروں کی طرف سے بموں اور میزائلوں کی بارش سے بستیوں کی بستیاں صفحہ ہستی سے مٹ گئی ہیں۔ اس علاقے میں جو تھوڑا بہت انفراسٹرکچر تعمیر ہوا تھا‘ وہ دہشت گردی کے خلاف سات سالہ جنگ میں ڈھیر ہو گیا ہے۔ وہ مجاہدین جن کی سرفروشی اور جاں نثاری سے افغانستان سے روسی فوجیں نکلنے پر مجبور ہوئی تھیں‘ وہ امریکی مفادات میں تبدیلی آنے سے دہشت گرد قرار پائے اور ان کے قلع قمع کے لیے پاکستان کی نوے ہزار فوج قبائلی علاقوں میں تعینات کر دی گئی۔ مقامی مزاحمت کاروں کے خلاف جوں جوں طاقت کے استعمال میں اضافہ ہوتا گیا‘ ان کے اندر شدت پسند گروہ پیدا ہوتے گئے اور انہوں نے ظلم کا انتقام لینے کے لیے خودکش حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا اور پاکستان کے حساس ادارے بھی ان کی زد میں آتے گئے۔ خود کش حملوں نے اسلام آباد اور لاہور کو بھی غیرمحفوظ بنا دیا اور فوجی چھاؤنیوں کے اندر بھی بم دھماکے ہونے لگے۔
انتخابات کے بعد جو مخلوط حکومتیں قائم ہوئیں‘ انہوں نے سیاسی مذاکرات کے ذریعے عسکریت پسندوں سے امن کے معاہدے کرنے کی حکمت عملی اپنائی۔ صوبہ سرحد میں اے این پی کی حکومت نے طالبان سے مذاکرات کیے اور ان کے جائز مطالبات تسلیم کرتے ہوئے امن معاہدوں پر دستخط کیے۔ اس مذاکراتی عمل کے حیرت انگیز نتائج برآمد ہوئے اور خودکش حملے یک لخت بند ہو گئے۔ پورے ملک میں اطمینان کی لہر دوڑ گئی‘ مگر امریکہ اور نیٹو افواج کے کمانڈر امن معاہدوں کے خلاف بیانات دیتے اور افواج پاکستان پر عسکریت پسندوں کا صفایا کرنے پر دباؤ ڈالا جانے لگا۔ پھر یکایک اس نوع کی خبریں گردش کرنے لگیں کہ ایک دو ہفتوں میں طالبان پشاور میں داخل ہو جائیں گے اور پورا صوبہ سرحد ہاتھ سے نکل جائے گا۔ فاٹا سے تعلق رکھنے والے ارکانِ اسمبلی نے بھی حالات پر گہری تشویش کا اظہار کیا جب ۷۲! جون کی صبح وزیراعظم کی صدارت میں سکیورٹی معاملات پر غور کرنے کے لیے ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں آرمی چیف جنرل کیانی کے علاوہ وزیراعلیٰ سرحد بھی شریک ہوئے اور وزیراعظم کے دو غیرمنتخب مشیر بھی وزیراعظم کی طرف سے اعلان ہوا کہ فاٹا میں فوجی آپریشن کی ذمے داری آرمی چیف کو سونپ دی گئی ہے۔ فوجی ترجمان نے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ فوج کے سربراہ حکومت کے فیصلوں کے پابند ہوں گے۔ پھر اعلان ہوا کہ صوبائی حکومت کی اجازت سے سیکورٹی آپریشن شروع ہوا ہے اور مخلوط حکومت کے تمام پارٹنرز کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام کی طرف سے بیان آیا کہ ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ فاٹا کے آٹھ اراکین اسمبلی اور وفاقی وزیر آفریدی صاحب نے وضاحت کی ہے کہ ہمیں بالکل بے خبر رکھا گیا ہے اور مذاکرات کے عمل کو سبوتاژ کیا گیا ہے۔ بیشتر سیاسی جماعتیں فوجی آپریشن کے فوری خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہیں اگرچہ امریکہ نے اس کی حمایت میں بیان داغ دیا ہے اور جناب رچرڈباؤچر بنفسِ نفیس پاکستان تشریف لائے ہیں۔ آزاد ذرائع اس امر کی تصدیق کر رہے ہیں کہ بے گناہ لوگ مارے جا رہے ہیں اور ان تنظیموں کے مراکز تباہ کیے جا رہے ہیں جو جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جہاد کر رہے ہیں۔ عمومی تاثر یہی ہے کہ ماضی کی طرح اس کے بھی خطرناک نتائج برآمد ہوں گے اور پاکستان ایک نئی دلدل میں پھنستا چلا جائے گا۔



    Powered by Control Oye