ہڑتال

جمعہ جون 27, 2008

null قارئین! دو روز قبل میاں محمد نواز شریف کے حلقے کا الیکشن روکنے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست کی سماعت کی تھی۔۔۔ ہمارے بھائی اور دوست جو سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر ترین وکلا میں سے ہیں اور ان کے ایک دوسرے سینئر ساتھی اے کے ڈوگر یہ دونوں تجویز و تائید کنند گان میاں نواز شریف کی نمائندگی کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں موجود تھے۔۔۔ وہاں جسٹس موسیٰ کے لغاری نے ان دونوں سینئر وکلاء سے سوال کیا کہ متاثرہ پارٹی خود کیوں نہیں آتی۔۔۔ وہ تو ہماری حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے۔۔۔ اگر وہ خود آجاتے تو ہم دو منٹ میں اس معاملے کو نمٹا دیتے۔۔۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ سیاست دان بہر حال سیاستدان ہیں اور میاں نواز شریف تو قومی سطح کے لیڈر ہیں وہ بہت کچھ کہتے رہتے ہیں۔۔۔ لہذا ان کے بیانات کو زیادہ سنجیدگی سے نہ لیا جائے۔ تاہم ایسی مثالیں موجود ہیں کہ عاصمہ جیلانی سینئر ایڈووکیٹ بھٹہ خشت مزدوروں کے جبری مشقت کے کئی کیسوں میں پیش ہوئیں اور ان بھٹہ مزدوروں کو عدالت سے ریلیف دلوایا۔ اگر ایسا ہو سکتا ہے تو پھر تجویز و تائید کنندہ اپنے امیدوار کے لئے ریلیف کیوں نہیں مانگ سکتے۔۔۔ اس پر جسٹس موسیٰ کے لغاری نے کہا۔۔۔ جناب ڈوگر صاحب بھٹہ خشت کے مزدور یتیم، لاوارث اور بے زبان ہوتے ہیں اس لئے ہم ان کے ایماء پر سینئر وکیلوں کو سن کر ریلیف دے دیتے ہیں۔ یہ کسی یتیم مزدور کا کیس نہیں۔۔۔ آپ اسے اس سے نہ ملائیں اس موقع پر اکرم شیخ نے عدالت سے استدعا کی کہ پاکستان کے ہر شہری کو اختلاف رائے کا حق ہے حتیٰ کہ ججوں کی حیثیت کے بارے میں بھی ہر شہری اپنی رائے رکھ سکتا ہے اگر کسی کی رائے ججوں کے بارے میں اچھی نہ ہو تو عدالتوں کے دروازے اس پر بند نہیں کئے جا سکتے۔۔۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا۔۔۔
جناب عالیٰ! اللہ پاک نے اس پوری کائنات کو تشکیل دیا ہے۔۔۔ انسانوں سمیت ہر چیز کو رزق دیتا ہے۔۔۔ اور بے شمار لوگ اللہ کے باغی ہیں اور اللہ کو نہیں مانتے۔۔۔ اس کے باوجود کبھی اللہ نے یہ نہیں کہا کہ اس بندے کو دنیا سے نکال دیا جائے یا اس پر رزق بند کر دیا جائے۔۔۔ جب عدالت نے اٹارنی جنرل ملک قیوم سے رائے مانگی تو انہوں نے کہا۔۔۔ اس میں کوئی شک نہیں آپ آئینی جج ہیں۔۔۔ آپ نے آئین کے تحت حلف اٹھایا اور میرے دوست اکرم شیخ کا آپ سے بھیک مانگنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ آئینی جج ہیں اس پر جسٹس موسیٰ کے لغاری نے اپنی عینک اتارتے ہوئے کہا کہ اکرم شیخ صاحب یہاں پر اور بات کرتے ہیں اور ٹی وی چینلز پر اور بات کرتے ہیں۔ اٹانی جنرل نے کہا جناب آپ اس بات کی فکر نہ کریں اس وقت عدالت میں سارا میڈیا موجود ہے۔۔۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا کوئی ایسی مثال موجود ہے کہ متاثرہ پارٹی عدالت میں نہ آئی ہو۔۔ اور اسے ریلیف دیا گیا ہو۔۔۔ اکرم شیخ نے اس کے جواب میں کہا جناب کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ خود بی اے ہیں لیکن انہوں نے بی اے کی شرط کیخلاف درخواست دائر کی اور اسے انسانی حقوق کے خلاف شرط قرار دیا۔۔۔ اور عدالت نے اس درخواست سے اتفاق کرتے ہوئے الیکشن کیلئے بی اے کی شرط کو ختم کر کے پورے ملک کو ریلیف دیا عدالت نے کہا چلیں ہم فوری طور پر الیکشن تو یہاں روک رہے ہیں لیکن متاثرہ فریق کو نوٹس بھی جاری کر رہے ہیں کہ وہ عدالت میں پیش ہو کر اپنا مؤقف بیان کریں۔۔۔
قارئین محترم! محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر کا یہ انکشاف کہ صدر جنرل پرویز مشرف اس امریکی ایجنڈے کیلئے کام کر رہے ہیں۔۔ جس کے تحت 2015ء تک پاکستان کو توڑنا مقصود ہے۔ لیکن ہمارے دوست آغا مرتضیٰ پویا کا کہنا یہ ہے کہ انڈیا۔ امریکہ اور اسرائیل کی جومثلث پاکستان توڑنے کیلئے کام کر رہی ہے۔۔۔ اس میں سے اسرائیل آغا مرتضیٰ پویا کے مطابق 2008ء میں اپنا وجود کھو چکا ہو گا۔۔۔ لیکن اس کے دوسری طرف ایک ڈویلپمنٹ یہ بھی ہے کہ وزیر داخلہ رحمن ملک نے چند دن پہلے جو یہ کہا تھا کہ طالبان پشاور کے قریب تک پہنچ گئے ہیں۔ اب اس میں ڈویلپمنٹ یہ ہے کہ پشاور کے بعض نواحی علاقوں کے گرلز سکولوں کو طالبان نے یہ خطوط بھجوائے ہیں کہ یہ گرلز سکول فحاشی اور بے پردگی کا باعث بن رہے۔۔۔ طالبات اور معلمات پردہ کریں۔۔۔
قارئین! میں چند دن پہلے (جناب رحمن ملک کے بیان کے بعد) پشاور گیا۔ جہاں بلور برادران نے اس صورتحال پر آف دی ریکارڈ بہت سی گفتگو کی۔۔۔۔ اب جب طالبان نے یہ خطوط لکھے ہیں تو ان میں یہ بھی کہا ہے کہ اگر طالبات و معلمات نے پردہ نہ کیا تو یہ طالبان ان تعلیمی اداروں کو بموں سے اڑا دینگے۔
قارئین! میں خواتین کے پردے کے تو حق میں ہوں لیکن وہ ستر ڈھانپنے والا ستر ہے۔۔ اس سے آگے OVERDOING ہو گی۔ قارئین! راولپنڈی کی دونوں سیٹیں مسلم لیگ (ن) نے جیت لی ہیں۔۔۔ کیونکہ ان سیٹوں پر کوئی مقابلہ ہی نہ تھا۔۔۔ لیکن یہاں یہ بھی کہتا چلوں کہ آج لاہور میں پاکستان قومی تاجر اتحاد جبری ہڑتال کا نوٹس دے کر ہڑتال کروانا چاہتا ہے۔۔۔ یہ بظاہر میاں محمد نواز شریف، شہباز شریف کے حق میں ہونے والی ہڑتال ہو گی۔۔۔ لیکن میں مسلم لیگ (ن) کے لیڈروں خاص طور پر میاں محمد نواز شریف اور میاں شہباز شریف کو یہ بتانا چاہوں گا کہ پاکستان قومی اتحاد جو بنا ہی TENDIV کے اندر تھا۔ یہ سارے لیڈر وہاں حاضری دیتے۔۔۔ آپ کے خلاف مخبری کرتے اور لیڈر بنتے تھے اپنے ایسے حامیوں سے محتاط رہیں۔ یہ بالکل آپ سے مخلص نہیں ہیں۔
قارئین کرام! میں اپنے قارئین کو یہ دعوت دے رہا ہوں کہ اگر معاشرے کی کوئی برائی، کوئی اڈہ، کوئی غیر قانونی کاروبار آپ کے علم میں ہو تو مجھے میرے فون پر ضرور بتائیں۔۔۔ کہیں کوئی سرکاری زمین پر قابض ہے۔۔۔ دوسرا میں اپنے قارئین کو یہ دعوت بھی دے رہا ہوں کہ وہ معاشرے سے برائی کے خاتمے کیلئے ہماری ٹیم کا ممبر بنیں اس کیلئے مجھے لکھیں یا میرے فون پر بات کریں۔ اس طرح کا معاملہ پاکستان کے کسی بھی کونے میں ہو گا ہم وہاں ضرور پہنچیں گے۔۔۔



    Powered by Control Oye