جھوٹی خبریں ، جعلی دانشور!(

ہفتہ مئی 31, 2008

غالبnull چھُٹی شراب پر اَب بھی کبھی کبھی
پیتا ہوں روزِ اَبر و شب ماہتاب میں
غالب کے منہ سے تو شراب چھُٹ گئی لیکن جن جرنیلوں کو وردی کے دوران سیاست کا چَسکا لگتا ہے کسی صورت نہیں چھُٹتا۔ وردی میں ہوں تو عقل کی ضرورت نہیں پڑتی ہر کام ڈنڈے سے ہو جاتا ہے لیکن وردی اترنے کے بعد بھی خواہش وہی رہتی ہے کہ یہ جو کچھ کہیں جواباً لوگ آمنّا و صدقنا عرض کریں۔ لیکن اب چونکہ بندوق ہاتھ میں نہیں ہوتی بات منوانے کے لئے علم بھی چاہئے ہوتا ہے اور دلیل بھی سو ہمارے اکثر ریٹائرڈ جرنیل اِس بارے میں عموماً بودے ہی ثابت ہوتے ہیں۔ ۔ ۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے طبقے کو بھی معاف نہیں کیا اور فوجی افسروں کے روبرو یہ حرفِ حق کہہ دیا کہ کچھ سیاستدانوں، جرنیلوں،دھوکے باز ججوں، بیورو کریسی اور نام نہاد سول سوسائٹی کا ’’ناپاک گٹھ جوڑ‘‘(Unholy Alliance) ملک کے تمام مسائل کی جڑ ہے۔ انہوں نے جو بات کہی ہے اُسی جیسی کسی بات کے متعلق پروین شاکر نے کہا تھا۔ بات تو سچ ے مگر بات ہے رسوائی کی۔ ۔ ۔ پھربھی خوشی کی بات ہے کہ اس ملک میں اب بھی کچھ لوگ سچ بولنے کی ہمت رکھتے ہیں۔
فارسی کے ایک شعر کا ترجمہ ہے ’’کسی بے شرم کی پُشت پر درخت اُگ آیا۔ کہنے لگا کوئی بات نہیں چھاؤں میں بیٹھا کرینگے‘‘۔ شعر ریٹائرڈ آرمی چیف مرزا اسلم بیگ کے اِس دعوے پر یاد آیا کہ ریٹائرڈ آرمی چیف صدر جنرل پرویز مشرف کو فوج نے حفاظتی تحویل میں لے لیا ہے۔ اسلم بیگ آرمی چیف بنے تو پتا چلا کہ میڈیا میں رہنے کے بڑے شوقین ہیں۔ اُن سے پہلی اور آخری ملاقات اِسی سلسلے میں ’’ضربِ مومن‘‘ کی ایک بریفنگ کے دوران ہوئی۔ اہل زبان ہیں سو زبان کا استعمال خوب کرتے ہیں تا ہم اچھی طرح یاد ہے کہ بریفنگ سے باہر نکلے تو ایک ساتھی ایڈیٹر نے کہا جب یہ صاحب اردو بولتے تھے تو نہ جانے کیوں لگتا تھا کہ جھوٹ بول رہے ہیں؟بعد میں تجربہ نے ثابت کیا وہ اردو نہ بھی بولیں تو سچ کم ہی بولتے ہیں گویا کہ انہوں نے سچ نہ بولنے کی قسم اٹھا رکھی ہے۔ بے نظیر بھٹو نے انہیں ’’تمغۂِ جمہوریت‘‘دیا لیکن اِنہوں نے اُن کی حکومت کو ہی اُلٹا دیا۔ جنرل حمید گل کو آلۂ کار بنا کر آئی جے آئی بنائی مہران بنک کے ذریعے دولت ریوڑیوں کی طرح بانٹی اور نواز شریف کو برسراقتدار لے آئے لیکن عراق اور کویت کی جنگ کے دوران میاں صاحب کی سرکاری پالیسی کے بالکل برعکس صدام حسین کے حق میں بیان بازی شروع کر دی۔ نواز شریف ان سے اس درجہ برہم تھے کہ ان کو ہٹانے کا فیصلہ کر لیا۔ اِس سلسلے میں خبر خاکسار اور ’’نوائے وقت‘‘ و ’’نیشن‘‘ کے ایڈیٹر جناب عارف نظامی کو Leakبھی کر دی گئی۔ عارف صاحب نے تو یہ خبر اپنے موقر اخبارات میں چھاپ بھی دی لیکن ہم نے گریز کیا اگلے دن خبر نہ چھاپنے کی وجہ پوچھی گئی تو گزارش کی کہ فی الحال وہ ایسا نہیں کر سکیں گے لہٰذا پرانی تنخواہ پر ہی کام کرتے رہیں۔ ۔ ۔ میاں صاحبان کو عقل کی بات ہمیشہ دیر سے ہی سمجھ میں آتی ہے سو انہوں نے بات نہ مانی۔ تاہم نتیجہ وہی نکلا جو عرض کیا تھا۔
اسلم بیگ واضح سیاسی رجحانات رکھتے ہیں اور اپنے خیالات کو ثابت کرنے کے لئے جھوٹ سچ میں تمیز بھی نہیں رکھتے۔ اسی وجہ سے ہمیشہ عزت سے دور رہے۔ ان کی بدنامی کی دوسری اور بنیادی وجہ یہ تھی کہ یہ صرف سنی سنائی باتوں کو پھیلانے پر یقین رکھتے ہیں ہم ان پر یہ حدیث نبوی تو شاید لاگو نہیں کر سکتے کہ کَفٰی لِلمَرئِ کَذِباً اَنْ یُّحدِّثَ بِکُلِّ مَاسَمِعَ۔ ۔ ۔ کہ انسان کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی بات کافی ہے کہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کر دے۔ تا ہم آپ ان کے تمام سیاسی و عسکری تجزیے اٹھا کر دیکھ لیں مجال ہے کوئی درست نکلا ہو۔ ۔ ۔ پھر بھی ان کے سارے تجزیے بے شک جھوٹے ثابت ہو جائیں یہ ثابت قدم رہیں گے اور اگلا تجزیہ ’’عرض‘‘ کر دیں گے۔ ۔ ۔ اور ان کا یہ اگلا تجزیہ بھی گپ شپ اور ذاتی خواہشات پر ہی مبنی ہوگا۔۔ ۔ ۔ اقبال نے کہا تھا
اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
تا ہم مرزا اسلم بیگ نے اس ’’کبھی کبھی‘‘ کو ’’ہمیشہ‘‘ میں بدل دیا ہے۔ لہٰذا ان کے دل کو عقل کا پاسبان کبھی بھی نصیب نہیں ہوتا۔ سو خواہشات تو اچھی ہوتی ہیں لیکن ساری کی ساری بے بنیاد اور بے وقوفانہ، ان کی حالت بالکل اُن اَن پڑھ مولویوں والی ہے جن کا کہنا ہوتا ہے کہ ہمارا عمل نہ دیکھو جو کہہ رہے ہیں اُس پر عمل کرو۔ لہٰذا جنرل اسلم بیگ اور اُن جیسے نام نہاد دانشور جب جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو تُف کہنے کو جی کرتا ہے کہ خود تو ہمیشہ جمہوریت کے خلاف سازشیں کیں خود پوری طرح سیاست میں ملوث رہے لیکن جنرل مشرف کو سیاست میں حصہ نہ لینے کا وعظ کرتے رہے سو ’’سیّد بچہ‘‘ بھی اپنے بزرگ کی تقریر سنتا یا اس کے عمل کو دیکھتا۔ ۔ ۔ یوں بھی شراب تو شاید چھوٹ جائے اقتدار کا شوربہ جس کے منہ کو لگ جائے کم ہی چھُٹتا ہے۔بیگ صاحب کو دیکھ کر اکثر اوقات حیرت ہوتی تھی اس مبلغِ علم کے لوگ بھی آرمی چیف بن سکتے ہیں لیکن بعد ازیں جنرل مشرف کو دیکھ کر پتا چلا کہ مغز سے خالی کھوپڑی کو لاہور میں دھرم پورے کے قصاب کیوں ’’فوجی سِری‘‘ بولتے ہیں۔ ۔ ۔ بہر حال مقصد کسی فرد یا ادارے کی توہین نہیں۔ مقصد صرف اتنا بتانا ہے کہ تجزیے صرف اُسی صورت میں درست ہو سکتے ہیں جب اُن کے اجزاء یعنی بنیادی معلومات سچ ہوں پھر اُن کا ایمانداری کی بنیاد پر حساب نکالا جائے۔ جھوٹ، گپ شپ اور سنی سنائی باتوں پر مستقبل بینی کا دعویٰ کرنا ایسے ہی ہے جیسے کسی اجڈ دیہاتی سے سوڈیم بائی کاربونیٹ کے عناصر پوچھے جائیں۔ وہ اِسے میٹھا سوڈا تو ضرور قرار دے دے گا لیکن اِس میں سوڈیم اور کاربن کے عناصر اور اجزائے ترکیبی کی تعداد یا کیمیائی ماہیت بالکل بھی بیان نہیں کر سکے گا۔
قوم آج کل ایسے ہی جعلی دانشوروں کی فکری جولانیوں کی زد میں ہے رو رہی ہے اور دھو رہی ہے۔ اجزائے ترکیبی یعنی خبریں بھی جھوٹیں۔ خبریں دینے والے بھی جھوٹے اور ان جھوٹے معاملات کی رائی پر پہاڑ کھڑا کرنے والے اُن سے بھی بڑے جھوٹے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تازہ معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا ہے کہ ایک سابق جنرل نے ایک سابق میجر کی نیم سچی نیم جھوٹی خبر کو بنیاد بنا کر دانشوری جھاڑ ڈالی۔ ۔ ۔ جنرل مشرف کے دور کے سب سے بُرے اور گندے کارناموں میں سے بدترین اِسی قسم کے بے علم خبر نگاروں اور جعلی تجزیہ کاروں کو قوم پر مسلط کرنا ہے۔ ۔ ۔ دعا کریں کہ اللہ جنرل مشرف کے ساتھ ساتھ ان جیسے جھوٹے جمہوریت پسند دانش دشمنوں سے بھی قوم کی جان چھڑا دے۔ ۔ ۔ کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ بے شک خبر جھوٹی نکلے بے شک تجزیہ جعلی اور بے بنیاد ثابت ہو یہ چھاؤں میں بیٹھے رہیں گے۔
آخر میں غالب کے چند شعر سن لیں جو اگرچہ غیر متعلق ہیں لیکن پھر بھی آپ چاہیں تو تعلق ڈھونڈسکتے ہیں۔
مِری ہستی، فضائے حیرت آبادِ تمنّا ہے
جسے کہتے ہیں نالہ وہ اِسی عالم کا عَنقا ہے
خزاں کیا؟ فصل گُل کہتے ہیں کس کو؟ کوئی موسم ہو
وہی ہم ہیں، قفس ہے، اور ماتم بال و پر کا ہے
وفائے دلبراں ہے اتفاقی، ورنہ اے ہمدم
اثر فریادِدل ہائے حزیں کا، کس نے دیکھا ہے؟
نہ لائی شوخی اندیشہ، تابِرنجِ نَو مِیدی
کفِ افسوس مَلنا، عہدِ تجدیدِ تَمنّا ہے



    Powered by Control Oye