ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اور ہمنوا!!

nullتُحفتہ العراقین کے مصنف خاقانی کا کہنا ہے
خود بوئے چُنیں جہاں تواں بُرد
کابلیس بماندو بوالبشر مُرد
پنجابی میں کہتے ہیں’’ اِک سَپ اُتّوں اُڈنا‘‘ یعنی ایک سانپ اوپر سے اڑنے والا۔ لیکن یہ مثال کافی نہیں کہ اب کے واسطہ اُن سے ہے جو ایک تو جنرل مشرف کے سابق وزیر دوسرے تعلق ایم کیو ایم سے ،ایک تو مولوی اوپر سے اہل قلم، ایک تو آن لائن عالم دوسرے مکمل ذاکر، ایک تو دین کے داعی دوسرے رنگ برنگے کپڑے پہننے کے شوقین اورنامور اداکار۔ قرآن اور حدیث سے اقتباسات اس طرح سنائیں گے گویا سارے جنرل پرویز مشرف اور جسٹس افتخار چودھری کے لئے ہی ارشاد ہوئے تھے۔
خود تو خیر تھے ہی اپنے ساتھ مولویوں کا ایک گروہ بھی لے لیا۔ فتویٰ سب کا یہ ہے کہ افتخار چودھری صاحب کا ماضی بھلادیا جائے کیونکہ وہ پرانے اعمال سے لاتعلق ہوچکے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان کی بات اس حد تک تو درست ہے کہ جب کوئی شخص ماضی سے رجوع کرلے، پرانے گناہوں سے توبہ کرلے تو اس کو پرانی باتوں کا طعنہ نہیں دیا جانا چاہئے۔ انسان عاصی بھی ہے اور خاطی بھی، غلطی کرنا، گناہ کا سرزد ہونا، بھُول چوک ہو جانااس کی فطرت میں شامل ہے پھر یہ بھی طے ہے کہ اگر انسان اپنے گناہوں کا اعتراف کرکے تائب ہو جائے تو نہ صرف اس کے تمام پرانے گناہ معاف ہو جاتے بلکہ حدیث کے الفاظ میں اس کی مثال گناہوں سے پاک نوزائیدہ بچے یا داغوں سے صاف سفید کپڑے جیسی ہو جاتی ہے۔ لیکن یہ تمام جیّد یا نیم علماء اس مسئلہ میں جس بنیادی چیز کو نظر انداز کررہے تھے وہ توبہ کی شرط ہے۔ توبہ کے متعلق اجماع ہے کہ اگر تو حقوق اللہ کا معاملہ ہے تو معافی بھی اللہ سے ہی طلب کرنا ہوگی، اور اعتراف گناہ بھی اسی کے سامنے کرنا ہوگا۔لیکن اگر معاملہ حقوق العباد کا ہو تو اعترافِ جرم عوام کے سامنے کرکے اُن سے معافی مانگنا ہوگی اور کیا جناب افتخار چودھری نے تادمِ تحریر کبھی اپنے ماضی سے لاتعلقی ظاہر کی اور لوگوں کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ وہ ماضی میں نہ صرف ڈکٹیٹر کے ساتھی رہے ہیں بلکہ اس کے غیر قانونی اور غیر آئینی مارشل لاء کو جائز قرار دینے والوں میںبھی، ان کا نام سر فہرست تھا، انہوں نے ہی جنرل مشرف کو اجازت دی تھی کہ نہ صرف آئین میں ترمیم بلکہ آئین کی من مانی تشریح بھی کرسکتے ہیں، وہی تھے جنہوں نے کہا تھا کہ جنرل مشرف اپنی مرضی سے ججوں کو رکھ بھی سکتے ہیں اور نکال باہر بھی کرسکتے ہیں۔ وہی ہیں جن کا ارشاد تھا کہ جن ججوں نے جنرل مشرف کے آمرانہ حکم کے تحت حلف نہیں اٹھایا وہ جج نہیں رہے بلکہ بھولی بسری داستان بن چکے ہیں۔تازہ ترین معاملہ میں بھی یہ نہیں ہوا کہ انہیں حلف کے لئے بلایا گیا تو انہوں نے انکار کر دیا اصل بات تو یہ ہے کہ ان کو حلف کی دعوت ہی نہیں دی گئی اور اب وہ ’’بِن بلائے‘‘سوموٹو انکاری ہیں۔
کوئی مسئلہ نہیں ہر انسان سے غلطیاں ہوتی ہیں اور افتخار چودھری صاحب سے بھی ہوئیں، لیکن کیا ان کی ساری غلطیاں اللہ کے ساتھ ان کے تعلق کا معاملہ ہیں، یا ان کے فیصلوں کی وجہ سے مخلوق خدا کو ایک آمر کے بوٹوں تلے 9سال گزارنا پڑے؟ کیا افتخار چودھری کی ’’انصاف پسندی‘‘ سے اللہ تعالیٰ کے حقوق مجروح ہوئے؟ یا ان سے حقوق العباد کی بے حرمتی ہوئی؟ سوال کا جواب ڈھونڈنے کیلئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں۔ افتخار چودھری جج تھے ،اللہ کی زمین پر اللہ کے بندوں کے حقوق کے محافظ ۔ انہوں نے مخلوق خدا سے انصاف کی قسم اٹھا رکھی تھی ، انہوں نے آئین پاکستان پر عملدرآمد کا حلف اٹھا رکھا تھا لیکن کیا وہ اللہ سے کئے گئے وعدے کو پورا کرسکے یا مخلوق خدا سے اپنا عہد نبھا سکے ؟؟ کیا وہ آئین کی پاسداری کے پشتیبان رہ سکے؟اگر نہیں اور یقینا نہیں تو انہیں توبہ کِس فورم پر کرنی چاہئے؟ غلطیوں کا اعتراف کس کے سامنے کرنا چاہئے؟ کس سے معافی کی درخواست کرنی چاہئے؟ کس کی چوکھٹ پر جُبہّ سائی کرنی چاہئے؟؟۔ ۔ ۔ کچھ لوگوں کے عقیدے میں کالے بکروں کے صدقے سے مصیبتیں ٹل جاتی ہیں لیکن یہ دعویٰ تو آج تک شایدکسی نے بھی نہیں کیا کہ ان بکروں کے خون سے کسی جج کے دامن پر حقوق العباد کی خلاف ورزی کے دھبے بھی دُھل جاتے ہیں۔
حقوق اللہ اور حقوق العباد کے معاملہ پر کوئی لیکچر دینے کا ارادہ نہیں کہ نہ ہم خود کو اس کا اہل سمجھتے ہیں نہ ہماری ایسی وقعت ہے۔ البتہ ایک سیدھی اور سادی بات جو ہمارے جیسے کم علم کے سامنے ہے وہ یہ کہ حقوق اللہ کی معافی اللہ سے اور حقوق العباد کی معافی عوام سے مانگنا پڑتی ہے اللہ تو غفور الرحیم ہے جسے چاہے معاف کردے لیکن بندوں کا معاملہ بالکل الگ ہے کہ جب تک ہر شخص سے فرداً فرداً معافی نہ مل جائے، اللہ تعالیٰ بھی اس معاملہ میں مداخلت نہیں فرماتے بلکہ قرآن و حدیث کی واضح نصوص کے مطابق جب اللہ کے ہاں حاضری ہوگی تو حساب کتاب اس طرح ہوگا کہ نیک لوگوں کے نامۂ اعمال سے نیکیاں کٹ کر ان لوگوں کو مل جائیں گی جن کے حقوق انہوں نے دینے ہوں گے اور بد اعمال لوگوں کے گناہ کٹ کر ان نیکو کاروں کے نامۂ اعمال میں درج ہوں گے جن کے ساتھ ان کا کچھ لین دین ہوگا۔
ہم خود کو دنیا کا گنہہ گار ترین فرد جانتے اور مانتے ہیں۔نبی اکرمﷺ کی پسندیدہ دعا کے لفظوں میں گنہہ گارہیںبھی اور اپنے گناہوںکے معترف بھی ۔ اس امید پر یقین ہے کہ ربِّ کریم کے دربار سے معافی مل جائے گی لیکن کیا خدا کے کسی بندے سے ہمارے ہاتھوں ہونے والی زیادتی کہیں سے بھی معاف ہو سکے گی؟؟۔ ہمارے عقیدے کے مطابق اگر معاملہ ایساہے تو اس کی معافی کیلئے صرف ایک عدالت ہے اور ایک ہی بار گاہ،وہ بارگاہ ہے عوام کی بارگاہ ، وہ عدالت ہے مخلوقِ خدا کی عدالت، اب اگر ہم مخلوق خدا کے سامنے اسی طرح پھنےّ خاں بنے کھڑے رہیں اور عوام کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں کو ماننا تو درکنار ان پر سرعام شرمندگی سے بھی شرمسار ہوں تو پھرہم جانیں اور ہمارا خدا۔
قرآن و حدیث کے معانی و مطالب بالکل صاف اور واضح ہیں ، قرآن کا تو دعویٰ ہے کہ بہت آسان ہے اور قرآن کے ہی مطابق اس کے دُور اَز کار معانی نکالا اور تاویلیں ڈھونڈھنا گناہ ہی نہیں جرم ہے، سمجھ نہیں آتی کہ جو اقرارِ جرم افتخار چودھری نے کیا ہی نہیں ، جو اعتراف گناہ کسی نے سنا ہی نہیں اس پر چند مولویوں کی طرف سے ملنے والی ازخود (SUO MOTO PARDON)معافی کا کیا شرعی جواز ہے؟ اور کیا دینی حیثیت؟جن الزامات سے جسٹس افتخار نے خود بھی برات ظاہر نہیں کی ان کو وائٹ واش کرنے کا ٹھیکہ ہمارے کچھ مولویوں نے کس مقصد اور کس اشارے کے تحت لیا ہے؟
افتخار چودھری تو خیر سے اب سیاستدانوں والا لہجہ بھی اپنا چکے ہیں وہ اپنی گفتگو اور چال ڈھال سے بھی جج کم سیاستدان زیادہ لگتے ہیں اگر تواپنے معتوب سیاستدانوں کی طرح انہوں نے بھی اللہ تعالیٰ سے کوئی خصوصی این آر او Issue کرالیا ہے تو ہم کچھ نہیں کہہ سکتے ورنہ ہمارے علم کے مطابق ایسا کوئی خصوصی حکم تو اللہ نے اپنے محبوب ترین نبی کے لئے بھی جاری نہیں کیاتھا اور ساری دنیا جانتی ہے کہ کائنات کے اس عظیم ترین انسان نے بھی اپنی رحلت سے پہلے اپنے آپ کو قصاص کیلئے پیش کیا۔
جناب ڈاکٹر عامر لیاقت سے صرف اتنی گذارش ہے کہ جو چاہیں مسئلے بیان کریں، جو چاہیں فتوے جاری کریں لیکن خدا کے واسطے سچ اور جھوٹ کو آپس میں نہ ملائیں، کہ قرآن میں وَلَا تَلْبِسُو الْحَقَّ بِالبَاطِلِ وَ تَکتُمُواْلْحَقَّ وَ اَنْتُمَْتَعلمُون‘۔ کے ذریعے حق کو باطل کے ساتھ Mixکرنے اور جان بوجھ کر سچ چھپانے والوں کیلئے سخت وعید کا اعلان ہے ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر صاحب اور ان کے ساتھی علماء نے اچھا کیا کہ توبہ اور معافی کی فضیلت بیان کی لیکن کیا ہی بہتر ہوتا کہ وہ یہ بھی ارشاد فرما دیتے کہ افتخار چودھری صاحب نے کب توبہ کی ؟اور کب قوم سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی؟ہاں اگر ان کی جگہ ان کے کسی ’’سرفروش ‘‘کی معافی سے کام بن جاتا ہو ، یا ڈاکٹر عامر لیاقت اور ان کے ہمنواؤں کے دارالافتاء سے حقوق العباد معاف ہو جاتے ہوں تو بات دوسری ہے!! اقبال نے ٹھیک ہی کہا تھا
عقل عیار ہے سو بھیس بدل لیتی ہے
عشق بے چارا نہ ُملاّ ہے نہ زاہد نہ حکیم
مَردِ درویش کا سرمایہ ہے آزادی و مرگ
ہے کسی اور کی خاطر یہ نصابِ زر و سیم



    Powered by Control Oye