گاہے گاہے باز خواں!!

پیر جون 2, 2008

null گاہے گاہے باز خواں ایں قِصّۂ پارینہ را۔ ۔ ۔ ’’ اس پرانے قصے کو کبھی کبھی پھر سے یاد کر لینا چاہئے‘‘ اردو ادب کا کون قاری ہو گا جو جونؔ ایلیا کو نہ جانتا ہو؟ بہت سال بیتے ان کا ایک انشائیہ چھپا تھا یوں ہی کل یادداشت میں در آیا۔ کتابیں کھنگال کر نکالا۔ پھر سے پڑھا تو یوں لگا بالکل آج کے لئے ہی لکھا گیا تھا۔ قارئین’’جناح‘ کے لئے خاصے کی چیز کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اِسے پڑھ لیں اور پھر بتائیں کہ اتنے سال گزرنے کے باوجود کیا ہم نے اپنی حالت بدلی ہے؟ یا پھر وہی ہے چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے۔ ۔ ۔ والا معاملہ ہے!!
’’یہ ایتھنس ہے، یونان کا قابل احترام شہر ایتھنس۔ ہم چوک میں ایک الجھے ہوئے بالوں والے گلیم پوش بوڑھے کو دیکھتے ہیں جسے نہ اپنے لباس کا ہوش ہے اور نہ اپنے برے بھلے کا خیال۔ وہ شہر کے ذہین نوجوانوں کی ایک جماعت کے درمیان بحث و گفتگو میں مصروف ہے، یہ لوگ جانتے ہیں کہ حُسن کیا ہے اور حقیقت کسے کہتے ہیں؟ یہ گفتگو بہت دیر، بہت دنوں سے جاری ہے۔ شہر کے دو ذہین ترین نوجوان زنوفن اور افلاطون سرجھکائے ہوئے زیر بحث مسئلے پر غور کر رہے ہیں۔’’ آؤ! پہلے لفظوں کے معنی طے کر لیں۔ ۔ ۔ سوچنا یہ ہے کہ صداقت سے ہماری کیا مراد ہے؟‘‘
اور یہ شہروں کا شہر بغداد ہے۔ جواں سال دانشور اور نامور وزیر اعظم جعفر برمکی وقت کے سب سے بڑے فلسفی نظام سے ارسطو کے فلسفے پر بحث کر رہا ہے۔نظام کوارسطو کے نظریات سے شدید اختلاف ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میں نے ارسطو کی کتاب پر تنقید کی ہے جو آپ کی نظر سے گزرے گی۔ ۔ ۔ نظام! ’’میرا خیال ہے کہ تم نے ارسطو کی کتاب کو اچھی طرح پڑھا نہیں ہے۔‘‘ نظام کا جواب یہ ہے کہ’’ کہیے تو اس کتاب کو شروع سے سنانا شروع کروں اور کہیے تو آخر سے۔‘‘
ان خاکوں کے ذریعے ہمارے ذہن میں ان سماجوں کی ایک تصویر بنتی ہے، ان کا مزاج سمجھ میں آتا ہے۔ یہی وہ سماج ہیں جن کے لئے قوموں اور قرنوں نے عقیدت و احترام کے سجدوں کی متاع جمع کی ہے۔ ہر سماج اپنے مسئلوں کی نوعیت اور اپنی مصروفیتوں سے پہچانا جاتا ہے۔
اگر ہمارا سماج اپنی طفلانہ سرگرمیوں کے ذریعے پہچانا جائے تو یہ کوئی عجیب بات نہ ہو گی۔ سطحیت اور نمائش پسندی ہمارے سماج کے خمیر میں شامل ہیں۔ ہمارا طبقہ ذہن کی ناکردہ کاری کا شکار ہے۔ افسوس کہ اب قوم میں دانش طلبی عنقا ہوتی جا رہی ہے۔ اب تو صرف بونے نظر آتے ہیں، جو اپنے کاندھوں پر کھڑے ہو کر بھی پستہ قد ہی رہیں گے، بہر حال یہی کیا کم ہے کہ انہیں دیکھ کر تھوڑی دیر کے لئے ہونٹوں پر مسکراہٹ تو آ جاتی ہے۔ انہوں نے تو بڑی دلچسپ مصروفیات اختیار کر رکھی ہیں۔ ۔ ۔ چند حضرات قوم کی ساری دولت کو نگلنے کا عہد کئے ہوئے ہیں۔ ایک طبقہ صرف اظہار دولت کے خبط میں مبتلا ہے۔ ۔ ۔ کچھ بزرگ دوسروں کے جرائم کو صحیح ثابت کرنے کے لئے مقدس کتابوں کے حوالے تلاش کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ایک برگزیدہ گروہ صرف شہرت حاصل کرنے کی فکر میں ہلکان ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس عہد کے ہر مسئلے سے اپنا رشتہ توڑ لیا ہے۔ سب سے زیادہ المناک واقعہ یہی ہے کہ دانشور، دانشوری کے فرائض بھولتے جا رہے ہیں۔ یہ لوگ سماج پر اپنا حق جتاتے ہیں، کاش وہ کبھی یہ بھی سوچیں کہ جس سماج کی انہیں کوئی پروا نہیں اس سے وہ کیا رعایت طلب کر سکتے ہیں؟ کیا کسی بھی عہد کے معقول اور پڑھے لکھے لوگوں کے سامنے یہ مسئلہ رہا ہے کہ شہرت کس طرح حاصل کی جائے؟ ہمارے لوگوں نے بھی عجیب و غریب مسائل کو اپنایا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم لوگ اپنے دور کی سماجی، تہذیبی اور فطری سطح سے بہت نیچے کھڑے ہیں۔ ہمارا سماج نابالغ لڑکوں کے شعور کی سطح پر سانس لے رہا ہے۔ ہم سب کی پیشانیوں پر یہ لکھا ہوا ہے کہ فی الحال کوئی خاص بات قابل ذکر نہیں۔ آئندہ کا خدا بھلا کرے گا!!
ہم سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے یکسر عاری ہو چکے ہیں۔ بات یہ کہ اس قوم کو اپنے ذہن کی تربیت کے لئے درکار سنجیدگی اور متانت کی فضا میسر نہیں ہوئی۔ یہاں بھی کچھ ایسی بات کہنا سخت دشوار ہے۔ جس سے لوگوں کو ٹھیس پہنچتی ہو۔
ہم سب صرف ایسی باتیں کرنے کے عادی ہیں جو سب کو پسند آتی ہوں۔ کسی نے کہا تھا کہ’’ جن کے غم کو اپنا غم سمجھتا ہوں وہ مجھے اپنا دشمن سمجھنے لگتے ہیں‘‘۔ ۔ ۔ یہاں بھی کچھ ایسا ہی نظر آتا ہے۔ لوگوں کو ان کے اصل مسائل کی طرف متوجہ کیا جائے تو انہیں غصہ آ جاتا ہے۔ یہاں صرف ایک ہی معیار اور ایک ہی مثالیے کو اپنایا گیا ہے اور وہ ہے ماضی۔ ۔ ۔ ماضی کا ایک حصہ قابل فخر اور ایک حصہ قابل ملامت۔ ۔ ۔ ان گانٹھ کے پورے آدمیوں نے قابل ملامت ماضی کو اختیار کیا ہے معلوم نہیں یہ لوگ اپنے آباؤ اجداد کی زندگی کب تک بسر کرینگے؟ اگر قومیں اپنے آپ سے خلوص برتنے لگیں تو انہیں معلوم ہو گا کہ تاریخ کتنی مہربان ہے۔
بنیادی بات یہ ہے کہ ہم زندگی کے بارے میں کوئی سنجیدہ نقطۂ نظر رکھتے ہی نہیں۔ یہاں صرف تضاد ہی زندگی کا سب سے مقبول نظریہ ہے۔ ہم عقل ہی نہیں عقیدے کے ساتھ بھی انصاف نہیں کر سکے۔ وجہ یہ ہے کہ ہمیں زندگی کی کسی بھی سنجیدہ قدر سے کوئی خلوص نہیں۔ اس قوم نے بستیاں تو بسا لی ہیں لیکن ذہن و ضمیر کو ویران کر لیا۔ قوموں کی زندگی اُن نظریات سے جنم لیتی ہے جو روز مرہ کی ضرورتوں میں بظاہر کبھی کام نہیں آتے۔ ہمارے یہاں ان نظریات کے ساتھ جو تعلق قائم کیا گیا ہے، وہ ناقابل عمل ہے۔ یہاں پہنچ کر ہمیں بھی ماضی کا خیال آتا ہے لیکن وہ ماضی جس نے شعور و آگہی کے لئے قابل فخر راستہ چھوڑا تھا۔ ۔ ۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہم اس ماضی سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔
ہمارا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ ہم دُنیا دار ہیں لیکن کیاصرف دنیا داری سے کوئی قوم اپنی دنیا بنا سکی؟ ۔ ۔ ۔ قوم کے ذہن کو ایک نیم درویشانہ انداز اپنانا پڑے گا۔ اس کے بغیر بصیرت و دانش کی بخششیں کبھی حاصل نہ ہوں گی اور اس کا قوم کا وجود محض ایک غیر سنجیدہ تماشا بنا رہے گا۔
آخر میں پھر غالب کے تین شعر
کعبے میں جا رہا تو نہ دو طعنہ کیا کہیں
بھُولا ہوں حقِّ صُحبتِ اہلِ کنِشت کو
طاعت میں تا رہے نہ مے و انگبیں کی لاگ
دوزخ میں ڈال دو کوئی لے کے بہشت کو
ہوں منحرف نہ کیوں رہ و رسمِ ثواب سے؟
ٹیڑھا لگا ہے قطِّ قلم ، سرنوشت کو



    Powered by Control Oye