|
| بجلی کا بحران ذمہ دار کون؟(جبار خٹک) |
غیر نمائندہ حکومتیں عوام کو جوب دہ نہیں ہو تیں۔ اقتدار کے جواز کیلئے جو سیاسی لوگ غیر نمائندہ حکومتوں میں شامل ہو تے ہےں۔ وہ عوام کے بنیادی مسائل کے حل کی بجائے اپنے آقا کو خوش رکھنے کو ترجیح دیتے ہےں۔ پچھلے ساڑھے آٹھ سال کے دوران پاکستان کو جہاں غربت ، بے روز گاری، مہنگائی، خود کش حملوں اور بے یقینی کے گہرے بادلوں مےں دھکیل دیا گیا وہاں ملک پانی بجلی اور گیس جیسی سہولتوں سے بھی محروم ہو گیا۔ جس اقتصادی ماہر کو ملکی معیشت سنوارنے کیلئے باہر سے درآمد کیا گیا تھااس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ مےں ملنے والے اربوںڈالر اپنے دوستوں ، بااثر مافیاز اور اجارہ دار گروپوں کو نوازنے مےں ضائع کر دئےے ۔ جو بروکر سٹاک مارکیٹ مےں سٹہ کھیلتے تھے۔ ان کی تو قسمت ہی بدل گئی۔ وہ صنعت کار اور بینکوں کے مالک بن گئے۔ اقتصادی جادو گر ملک کے مستقبل کو خوف ناک بحرانوں مےں مبتلا کر کے جہاں سے درآمد کیا گیا تھا وہاں اپنے بریف کیس سمیت برآمد کر دیا گیا۔ ان ساڑھے آٹھ سالوں کے دوران ملک مےں آنے والے اربوں ڈالر سے پانی ذخیرہ کر نے اور بجلی پیدا کر نے کیلئے سینکڑوں چھوٹے بڑے ڈیم تعمیر کئے جا سکتے تھے۔ جس سے نہ صرف زرعی پیداوار مےں اضافہ ہوجاتا بلکہ عوام کو آٹے کے حصول کیلئے قطاروں میں بھی نہ لگنا پڑتا۔ جبکہ لوگوں کو میٹھا پانی بھی میسر آجاتا۔ لیکن مجرمانہ ذہنیت سے اس بنیادی ضرورت کو نظر انداز کر دیا گیا۔ چنانچہ آج ملک مےں نہ پانی ہے اور نہ بجلی۔ نہ گیس ہے نہ گندم۔ ملکی معیشت پر اندرونی اور بیرونی قرضوں کے بوجھ مےں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔ نئی سیاسی حکومت ملک کی ابتر اقتصادی ، سیاسی اور سماجی صورتحال پر مضطرب ہے۔ڈور اس قدر الجھی ہوئی ہے کہ کو ئی سرا ہاتھ آتا دکھائی نہیں دیتا۔ عوام کو براہ راست جس بڑے بحران کا سامنا ہے وہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہے۔صنعتوں اور زرعی شعبے کو بجلی فراہم کی جائے تو عام لوگ اورتجارتی مراکز اس سے محروم ہو جاتے ہےں۔انہیں ترجیح دیں تو صنعتوں اور زراعت کیلئے کچھ نہیں بچتا۔ اس وقت پانچ ہزار میگا واٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے۔ اور آئندہ سال تک طلب اور رسد کا یہ عدم توازن چھ ہزار میگا واٹ تک پہنچ جائے گا۔پاکستان کو اس خوف ناک بحران سے نکالنے کی ذمہ داری ایک مرتبہ پھر پاکستان پیپلز پارٹی پر ہی آن پڑی ہے۔ پہلے محترمہ بینظیر بھٹو نے ملک کو اندھیروں سے نجات دلائی تھی۔اب آصف علی زرداری اور وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے یہ بھاری پتھر اٹھایا ہے۔ آصف علی زردای جب یہ شکوہ کرتے ہےں کہ سابقہ دور مےں ملک کو لوڈ شیڈنگ سے نجات دلانے پر پیپلز پارٹی کو بے رحمانہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ تو حق بجانب نظر آتے ہےں۔ حکومت نے اپنی اولین ترجیحات مےں پاکستان کو لوڈشیڈنگ سے نجات دلانے کا حدف مقرر کیا ہے۔ اور قو م سے صرف ایک سال کی مہلت طلب کی ہے۔ پیپلز پارٹی نے وعدہ کیا ہے کہ آئندہ سال اگست تک ملک کو ہمیشہ کیلئے لوڈ شیڈنگ سے نجات دلا دی جائے گی۔ اس مقصد کیلئے ایک جامع حکمت عملی وضع کی گئی ہے۔ تین جہتی حکمت عملی کے تحت تین ماہ کا لوڈ مینجمنٹ کا پروگرام تشکیل دیا گیا ہے۔ دوسری جہت کے تحت تین سالوں مےں بجلی کی پیداروا کے چھوٹی اور درمیانی مدت کے منصوبے مکمل کئے جائےں گے۔ جبکہ اس حکمت عملی کی تیسری پرت کے تحت پانچ سال کے دوران تمام بڑے منصوبے مکمل کر لئے جائےں گے اور پاکستان اندھیروں سے نجات پا کر فاضل بجلی برآمد کر نے پوزیشن مےں ہو گا۔ تین ماہ کی لوڈ مینجمنٹ پالیسی کے علاوہ حکومت کے پاس اور کو ئی راستہ نہیں تھا۔ اس پالیسی کے تحت دن کی روشنی کے زیادہ سے زیادہ استعما ل کیلئے گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کر دی گئی ہےں۔اس سے دن کاآغاز ایک گھنٹہ پہلے ہو جائے گااور بجلی کی کافی بچت ہو گی۔ تمام سرکاری دفاتر مےں دن آٹھ بجے سے گیارہ بجے تک تین گھنٹے ائیر کنڈیشنر بند رہیں گے۔ وزیر اعظم ہاﺅس ، وزیر اعظم سیکرٹریٹ ، چاروں صوبوں کے گورنر اور وزراءاعلیٰ ہاﺅس پر بھی اس پابندی کااطلاق ہو گا۔ حکومت امیر اور غریب تاجر مےں کو ئی فرق نہیں رکھناچاہتی۔اس لئے رات نو بجے مارکیٹیں بند ہو نے کے بعد کسی کوجرنیٹر چلانے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔ ہو رڈنگز اور نیون سائن پر بھی لوڈ مینجمنٹ پہ اس پروگرام کا اطلاق ہو گا۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی مےں جب اپنی اولین تقریر مےں بجلی کی بچت کیلئے انرجی سیور بلب استعمال کرنے کا اعلان کیا تو مارکیٹ مےں دو تین سے لیکر چار نمبر تک کے انرجی سیور بلب آگئے ۔ اصل انرجی سیور بلب سے بجلی کے استعمال مےں 25%بچت ہو تی ہے۔ حکومت عالمی بینک کے تعاون سے عالمی سطح پر تصدیق شدہ انرجی سیور بلب حاصل کر رہی ہے۔ جس سے نہ صرف حقیقتاً بجلی کی بچت ہو گی بلکہ اقوام متحدہ کے پروگرام کے تحت بھی لاکھوں ڈالر کے پوائنٹ حاصل ہوں گی۔ وفاقی وزیر پانی و بجلی نے بجلی کی پیداوار کے تمام منصوبوں کی نگرانی کیلئے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی ہے۔ جو اس بات کڑی نگرانی کر ے گی کہ منصوبے بروقت مکمل ہوں۔ چنانچہ سیاسی حکومت کے پہلے دو ماہ مےں مال کنڈ ڈویژن کے 27 میگا واٹ بجلی پیدا کر نے منصوبے نے پیداوار شروع کر دی ہے۔ حکومت کی جامع حکمت عملی پر عمل درآمد سے آئندہ سال اگست تک6000میگا واٹ اضافی بجلی سسٹم مےں شامل ہو جائے گی۔جبکہ تین ماہ کے لوڈ مینجمنٹ پروگرام سے حاصل کر دہ اضافی بجلی صنعتوں اور زرعی شعبے کو فراہم کی جائے گی۔ ٭٭٭
| Powered by Control Oye
|