ایک اور بارہ اکتوبر۔۔خوشنود علی خاں

 قارئین!چیف جسٹس آف پاکستان اور ان کے ساتھی وکلاءکی متحدہ فورس کا اصرار یہ ہے کہ وہ 5مئی کو جی ٹی روڈ سے لاہور جائیں گے اور ان کی روانگی صبح ساڑھے چار بجے ہوگی ۔۔۔قارئین اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ملک بھر میں وکلاءکی ایک متحدہ فورس پید ا ہوچکی ہے جو چیف جسٹس آف پاکستان کے ساتھ ہے اور اس ساری جدو جہد میں میں بیرسٹر اعتزاز احسن وکلاءکے ایک اہم لیڈر کی طور پر ابھرے ہیں ۔جہاں تک چیف جسٹس آف پاکستان کے لاہور جانے کا معاملہ ہے عام خیال یہ ہے کہ ان کا ریکارڈ توڑ استقبال ہو گا ۔خاص طور پر گجرات میں چوہدری احمد مختار نے 20ہزارافراد کا کھانا رکھا ہے ۔لہٰذا چوہدری برادران قطعاً یہ نہیں چاہیں گے کہ ان سارے معاملات کا اثر ان کے حلقے پر پڑے۔
 قارئین!تمام سیاسی و غیر سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے کہ وکلاءاور سیاستدانوں کی یہ تحریک جو دن بدن زور پکڑتی جا رہی ہے بالاخرکہاں جا کر منتج ہو گی ؟ صاحب الرائے لوگوں کا کہنا ہے کہ اب ایک بار پھر 12اکتوبرکرنے کے علاوہ کوئی آپشن باقی نہیں رہا لیکن بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اگر صدر جنرل پرویز مشرف اپنے موجودہ اتحادیوں سے ہٹ کر سوچیں تو آج بھی ان کے پاس آپشنز موجود ہیں ۔
 قارئین!سپریم کورٹ آف پا کستان میں کل چیف جسٹس کی پیشی کے موقع پر عمران خان اور ان کی جماعت غائب تھی ،پیپلز پارٹی کی تعداد کم ہوگئی تھی البتہ ایم ایم اے اور مسلم لیگ(ن) ایکٹو رہی۔
 قارئین محترم!اس سارے منظر میں اب تک کی صورتحال تو یہ ہے کہ حکومت ان احتجاجی مظاہروں اور تحریک سے خوفزدہ نہیں ہے۔۔۔اور حکومت کا کہنا یہ ہے کہ کچھ ہونے والا نہیں ہے۔۔۔لیکن یہ تو وقت بتائے گا کہ حکومت کامیاب ہوتی ہے یا اپوزیشن؟
 اور قارئین! یہ بھی بتاتا چلوں کہ 5مئی کی شام یقینا5,4بجے انکل نسیم انور بیگ کی اہلیہ اختر جنت نصیب کی برسی کی تقریب ہے۔تمام دوستوں کو شرکت کی دعوت ہے۔
 قارئین!بھارت نے پاکستان کی سرحد کے ساتھ جنگی مشقیں کر کے ایک بار پھر جنگ کا خطرہ پیدا کر دیا ہے ہو سکتا ہے دفاعی ماہرین کے تجزیے ذرا مختلف ہوں لیکن میرا تجزیہ یہ ہے کہ بھارت ایک بار پھر ان جنگی مشقوں سے ہمیں ڈرا رہا ہے۔
 قارئین محترم!کل دنیا بھر میں آزادی صحافت کے حوالے سے منائے گئے دن کے موقع پر پاکستان بھر سے الیکٹرانک میڈیا کے دوستوں نے "الیکٹرانک میڈیا جرنلسٹس ایسو سی ایشن آف پاکستان"کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد رکھی ہے اور مجھے اس کا کنوینئر مقرر کیا گیا ہے۔مسٹر بہزاد سلیمی اس کے کوآرڈینیشن سیکرٹری ہوں گے۔تنظیم کا کام مکمل ہونے کے بعد اس کے انتخابات کروائے جائیں گے الیکٹرانک میڈیا سے متعلق نمائندوں ،رپورٹروں ،کمپئرز اور صحافتی شعبے سے متعلق تمام ادارتی عملے کو دعوت ہے کہ وہ اس تنظیم کا حصہ بنیں بلکہ اسے لیڈ کریں ۔
 قارئین !کل آزادی صحافت کا دن تھا ۔میں جا کر دفتر میں بیٹھا تو مجھے استقبالیہ سے واپڈا کا ایک نوٹس لا کر دیا گیا جس کا عکس آپ پڑھ سکتے ہیں "بجائے اس کے کہ صحافت کسی اور دن تعطیل کرے۔آپ کو اطلاع دی جاتی ہے کہ ہر جمعرات کو تعطیل کیا کریں اس امر کا مشاہدہ گرڈ اسٹیشن پر کیا جائیگا کہ تعطیل پر صحیح معنیٰ پر عمل ہو رہا ہے ۔عدتعمیل کی صورت میں ادارہ کی بجلی منقطع ہو جائے گی
       دستخط
       ایس ڈی ای (ای)آئی نائن سب ڈویژن اسلام آباد
اس نوٹس پر میں نے چیف ایگزیکٹو آئیسکو کو ایک خط لکھا ہے جس کی کاپیاں وزیر اطلاعات جناب محمد علی درانی ، وزیر مملکت برائے اطلاعات جناب طارق عظیم،سیکرٹری اطلاعات سید انور محمد اور برادرم طارق حمید چیئر مین واپڈا کو بھجوائیں۔۔۔زیادہ سے زیادہ دس منٹ میں برادرم طارق حمید کا فون آگیا وہ ہنس رہے تھے اور کہنے لگے سنجیدگی سے نہ لینا میری چیئر مین ایریا الیکٹرسٹی بورڈ آف اسلام آباد سے بات ہو ئی ہے اور میں نے ان سے کہا ہے کہ آپ کے علاوہ اسلام آباد میں انہوں نے اگر کسی بھی اخبار کو ایسا کوئی نوٹس دیا ہے تو فوراً واپس لیں ۔اخبارات ہر روز چھپتے ہیں اور چھپیں گے وہ مجھے کہہ رہے تھے یہ کسی SDOکی سطح کی کاروائی ہے اسے بھو ل جائیں اور اخبارات چھاپیں۔۔۔طارق حمید میرے گذشتہ22,20سال سے دوست ہیں میرے لیے ان کی بات آخری بات ہے لیکن اس نوٹس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ باریک کام دکھانے والے کم نہیں ۔
قارئےن! آپ مجھےkhushnoodalikhan@yahoo.com پر مےل کر سکتے ہیں اور www.sahafat.tvاور millat.comپر مےرا کالم بھی ملاحظہ کر سکتے ہیں۔اور مجھ سے موبائل فون نمبر 0333-5117769پر بات کر سکتے ہیں‘اور مےرا اےڈرس ہے۔پلاٹ نمبر126بی سٹرےٹ نمبر15آئی نائن ٹو انڈسٹرےل اےرےا اسلام آباد۔



    Powered by Control Oye