مجاہد اوّل کی شرمندگی۔۔۔اسداللہ غالب

 

سردار عبدالقیوم خاں مجاہد اوّل ہیں۔ انہوں نے جہاد کشمیر (یعنی آج کے دور کی دہشت گردی) کے آغاز کے لیے پہلی گولی چلانے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس جہاد کی تفصیلات کسی جز داں میں لپیٹ کر طاق نسیاں کی نذر کر دی گئی ہیں۔ پھر ایک طویل وقفہ نظر آتا ہے جس میں بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں کسی مداخلت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ”امن“ کے اس طویل دور میں مشہور ہو گیا تھا کہ کشمیری لڑنا بھی نہیں جانتے اور ان کا نظریہ ہے کہ ”بندوق کو دھوپ میں رکھ دو،گرم ہو کر خود گولی فائر کر دے گی۔“
نومبر 1989ءمیں مشرق یورپ میں تبدیلی کی تیز تر ہوائیں چلیں تو طوفان بن کر کرہ¿ ارض پر حاوی ہوتی چلی گئیں۔ دیوار برلن ٹوٹی اور غلامی کی زنجیریں بھی ایک ایک کر کے ٹوٹنے لگیں۔ یہی وہ وقت تھا جب کشمیریوں کا خون بھی کھولا اور وہ غاصب بھارتی فوج سے ٹکرا گئے۔ ان دنوں کشمیر میں بھارتی افواج کی تعداد صرف 50 ہزار تھی۔ آج یہ سات لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس وقت سے لے کر آج تک کشمیر کے قبرستانوں میں ایک لاکھ قبروں کا اضافہ ہو چکا ہے۔ ان قبروں پر شہداءکے ناموں کی تختیاں نصب ہیں۔ ان میں اگر کوئی وادی جموں کشمیر سے باہر کا ہوتا تو سب سے پہلے بھارتی حکومت اس کی نشاندہی کرتی بلکہ عالمی ٹی وی چینلز پر ان کےخلاف پراپیگنڈہ کرتی۔ بھارت کہتا ضرور رہتا ہے کہ سرحد پار سے دراندازی (یعنی دہشت گردی) ہو رہی ہے۔ لیکن وہ لاہور، کراچی، کوئٹہ، پشاور، ملتان، حیدر آباد یا قصور تو کجا راولا کوٹ ، میر پور اور مظفر آباد کے کسی شہید کی لاش کو بھی ٹی وی کے سامنے پیش نہیں کر سکا۔ پاکستان سے بعض پر جوش نوجوان کشمیر میں ضرور داخل ہوئے اور وہ شہادت کے مرتبے پر سرفراز بھی ہوئے۔ تاہم مجموعی طور پر پاکستانی قوم نے مولانا مودودی کے اس قول کی لاج رکھی ہے کہ کشمیر میں جہاد صرف حکومت پاکستان اور اس کی مسلح افواج ہی کر سکتی ہیں۔ کوئی سویلین نہ تو جہاد کشمیر کا اعلان کر سکتا ہے ، نہ اس میں شرکت کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ مولانا مودودی نے جب یہ فتویٰ دیا تھا تو ان پر تابڑ توڑ حملے کیے گئے اور انہیں جہاد کشمیر کا دشمن نمبر ایک قرار دیا گیا، لیکن یاد رکھیے مولانا مودودی نے اسلام کی واضح تعلیمات کی روشنی میں اپنی بات کی تھی۔ اس وقت نہ تو نائن الیون ہوا تھا، نہ امریکہ نے ہمیں پتھرکے دور میں دھکیلنے کی دھمکی دے رکھی تھی، نہ بھارت میں ہی اتنی سکت تھی کہ وہ خدا نخواستہ پاکستان کو روند ڈالے۔
جہاد کے بارے میں اسلام میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ جب کسی ملک پر استعمار غالب آ جائے تو پھر جہاد کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ ہندوستان میں بھی تحریک مجاہدین کا آغازہوا اور مجھے فخر ہے کہ میرا گاﺅں فتوحی والا اس تحریک کا آخر تک مرکز رہا اور صوفی ولی محمد نے ارد گرد کے علاقے میں مجاہدین کو کمک فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ خدا ان کی قبر کو نور سے بھرے جنہوں نے انگریز استعمار کے خلاف بھی اپنی تحریک جاری رکھی ۔ تاہم پاکستان کی تحلیق ایک جمہوری جدوجہد کے نتیجے میں عمل میں آئی اور اس کا سہرا بابائے قوم حضرت قائداعظم کو جاتا ہے کہ انہوں نے ایک گولی چلائے بغیر صرف اور صرف عوام کی سیاسی قوت سے پاکستان کی تشکیل کا معجزہ سر انجام دیا۔
فلسطین اور کشمیر کے بارے میں امت مسلمہ میں کوئی دو آرا نہیں پائی جاتیں۔ سب کا اس نظریے پر اجماع ہے کہ ان ممالک پر استعمار کا غلبہ ہے اور پھر ان عناصر نے فوجی طاقت کے بل بوتے پر کشمیریوں اور فلسطینیوں کو غلام بنا رکھا ہے۔ بھارتی اور اسرائیلی فوج ہر قسم کے جدید اور مہلک اسلحہ سے لیس ہے۔ ان کے مقابلے میں فلسطینی اور کشمیری بالکل نہتے ہیں اور ساری دنیا نے دیکھا کہ اسرائیلی ٹینکوں کا فلسطینی بچوں نے غلیلوں اور کنکروں سے مقابلہ کیا اور جب اسرائیل میزائل اور گن شپ ہیلی کاپٹر مقابلے میں لے آیا تو پھر فلسطینیوں کے پاس اور کوئی چارہ کار نہ تھا کہ وہ جان ہتھیلی پر رکھ لیتے اور اپنے جسموں کو بم میں تبدیل کر دیتے۔ امریکہ اور مغربی دنیا نے اس اقدام کو دہشت گردی قرار دیا۔ یاسر عرفات اور ان کی الفتح دہشت گرد قرار پائے لیکن وقت بدلا تو اسی یاسر عرفات کا جنرل اسمبلی میں تالیوں کی گونج سے استقبال کیا گیا۔ یاسر عرفات نے وہاں بھی حق گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ میرے ایک ہاتھ میں کلاشنکوف ہے اور دوسرے ہاتھ میں زیتون کی شاخ جو امن کی علامت ہے۔ دنیا کی مرضی ہے کہ وہ آگے بڑھ کر میرے کس ہاتھ کو تھامتی ہے۔
یہ تاریخ قدرے پرانی ہے اور ہمارے حافظوں سے محو ہو رہی ہے لیکن حماس اور حزب اللہ تو ابھی کل کی بات ہے جب انہیں دہشت گرد قرار دیا جاتا تھا ۔ پھر حزب اللہ نے الیکشن جیت کر لبنان میں حکومت بنائی اور حماس نے عوامی لیڈر شپ کے بعد فلسطین میں اقتدار سنبھالا۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کے حق حکومت کو چیلنج کیا جا رہا ہے ۔ الجزائر میں بھی شدت پسند (یعنی دہشت گرد) الیکشن کے ذریعے بھاری منڈیٹ لے گئے تھے لیکن امریکہ نے براہ راست مداخلت کر کے ان کی حکومت ہی نہ بننے دی۔ الجزائر نے فرانس کے استعمار کےخلاف ایک طویل جنگ لڑی۔ بڑے بڑے انقلابیوں نے اس تحریک آزادی کی حمایت کی لیکن آج کی انقلابی لیڈر محترمہ بینظیر بھٹو اور غیر انقلابی لیڈر سردار عبدالقیوم خاں دہلی میں جا کر کہتے ہیں کہ تحریک آزادی کشمیر، دہشت گردی ہے۔ سردار قیوم کی زبان میں اس وقت لکنت کیوں نہ آئی جب انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ اگر امریکہ اور اس کے اتحادی عراق اور افغانستان کےخلاف تشدد کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔ اگر اسرائیلی اور بھارتی افواج فلسطینیوں اور کشمیریوں کےخلاف تشدد کا بازار گرم کر سکتی ہیں تو پھر فلسطینیوں، کشمیریوں ، عراقیوں اور افغانیوں کو تشدد ، دہشت گردی یا جہاد کے راستے سے کون روک سکتا ہے۔ مجاہد اوّل کو اپنی پہلی گولی چلانے پر اتنی ہی شرمندگی اور خفت ہے تو وہ اس اعزاز کو ترک کر دیں اور سری نگر کے قبرستان میں شہداءکی قبروں پر یہ خطاب کندہ کروا دیں ۔ان کی روحوں کو توجہاد یا تشدد پر کوئی شرمندگی نہیں۔ وہ اپنے کشمیریوں بھائیوںکے سامنے بھی اور اپنے خدا کے سامنے بھی سرخرو ٹھہرے، سردار عبدالقیوم خاں کو کشمیر ی شہدا کا ٹھٹھہ اڑانے سے گریز کرنا چاہیے۔ لوگوں کے دلوں میں ان کے لیے جو عزت ہے۔ اس کو ٹھیس تو نہ پہنچائیں!!۔



    Powered by Control Oye