پرویز مشرف لوورز کاامتحان۔۔۔اسداللہ غالب

 لورز کی ایجاد اماں حوا کے بطن سے پیدا ہونے والے دو بیٹوں اور ایک بیٹی سے ہو گئی تھی۔ایک بھائی کی اس کھیل میں جان چلی گئی۔ پھر سیاسی لوورز میدان میں آ گئے۔مذہبی لوورز کی بھی دنیا میں کوئی کمی نہیں۔پاکستان میں پہلے بھٹو لورز میدان میں اترے۔پھر نواز شریف لورز مقابلہ میں آ گئے۔ان کی کمان شاید سہیل ضیاءبٹ کے ہاتھ میں تھی۔وہ مجھے آٹھ سال قبل نیویارک میں ملے۔ان کو کئی فون کر کے ٹریس کیا۔وہ کسی فون کا جواب نہیں دیتے تھے۔ہر بار ایک ہی جواب ملتا کہ واک پر نکلے ہوئے ہیں۔ ایک روز کہیں مڈ بھیڑ ہو گئی تو انہوں نے گلہ کیا کہ”چاچا“ ( وہ مجھے اسی نام سے پکارتے ہیں اور یہ نام میاں اظہر نے دیا ہوا ہے) ”آپ سے کیا ملیں۔ کارگل میں آپ نے تو ہمارا بھرکس نکال دیا تھا“۔
 کئی روز سے پرویز مشرف لورز کے مرکزی چیئرمین خالد امین کا صبح سویرے ،رات گئے، کڑکتی دھوپ میں فون آ جاتا ہے کہ میں میدان میں ہوں اور پرویز مشرف کے خلاف ہر چیلنج کا سامنا کرنے کو تیار ہوں۔ میں نے انہیں لاکھ سمجھایا۔عشق آسان کام نہیں۔جوتے کھانے پڑتے ہیں۔صلواتیں سننی پڑتی ہیں۔اپنا حشر بتایا کہ غالب کی چھت کی طرح بارش تو ایک گھنٹہ برستی ہے مگر چھت کئی دنوں تک ٹپکتی رہتی ہے۔میرے ایک کالم کے جواب میں بے نقط مغلظات سنانے والے ایسے ہیں کہ تھکنے کا نام ہی نہیں لیتے۔ ان کا ایک ہی سوال ہے کہ پرویز مشرف کے قصیدے لکھنے پر نقد کیا ملتا ہے۔ میں اس سے پہلے اپنے قارئین کے سامنے دل کھول کر بیان کر چکا ہوں کہ مجھے اس حکومت سے ملنا کیا تھا۔ میرے پاس تو جو کچھ تھا اس حکومت کے ہاتھوں ہار چکا ہوں۔گھر بڑی مشکل سے بنتا ہے۔ اس پر قرضوں کی چند اقساط ڈیفالٹ ہو گئیں۔ میں امریکہ گیا ۔میرے بیٹے اور میرے بھائی کو پکڑ کو حوالات میں بند کر دیا گیا۔قرض دینے والے بینک بینکنگ کورٹس میں چلے گئے۔آج میں بینکوں کی ڈیفالٹرز لسٹ میں ہوں۔ اگرچہ گھر بیچ کر اصل مع سود ایک ایک پائی ادا کر چکا ہوں ،اور میرے پاس تمام رسیدیں بھی موجود ہیں لیکن ہوں ڈیفالٹر، شاید الیکشن لڑنے کا اہل بھی نہیں۔ گاڑی ، فریج یا سی این جی رکشہ بنک سے ادھارلینے کا اہل بھی نہیں۔ جو ایک بار ڈیفالٹر ہو جائے وہ اس لسٹ سے نام نکلوانے کا گُر،میاں نواز شریف ،فیصل صالح حیات وغیرہ سے سیکھے۔میرے ساتھ اس مشرف حکومت کے دور میں جوہوا، خدا کرے کسی دشمن کے ساتھ بھی ایسا نہ ہو۔ ایک میں بھی اس قدر ڈھیٹ ہوں کہ کارگل سے لے کر 12اکتوبر99اور اس کے بعد تک میں اپنی بہادر افواج اور اس کے دلیر جرنیلوں کے قصیدے پر قصیدے لکھتا رہا۔پاک فوج سے میرا عشق ”لورز“ والا ہے۔یہ آگ ایسی ہے جو لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بجھے۔مجھے پچھلے دنوں کافی لوگوں نے پوچھا ہے کہ جنرل مشرف نے کالم نویسوں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ آپ بھی تو گئے ہوں گے۔میں کیا بتاﺅں کہ گھر کی مرغی دال برابر ہرتی ہے۔صدر پرویز مشرف تو کجا ان کے ایک صوبے کے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی بھی بڑی مشکل سے مجھے پہچانتے ہیں۔پچھلے چار برسو ں میں مجھے دو بھائیوں کی موت کا صدمہ برداشت کرنا پڑا لیکن پرویز الٰہی تعزیت کے لئے وقت نہیں نکال سکے۔، ان سے میرا تعلق ان کے والد چودھری منظور الٰہی اور ان کے چچا چودھری ظہور الٰہی کے دور سے ہے۔جب بے نظیر بھٹو کی حکومت نے مرحوم چودھری منظور الٰہی کی گرفتاری کے لئے چھاپہ مارا تو میں واحد کالم نویس ہوں جس نے اس حرکت کی مذمت میں لکھا۔اس چھاپے میں چودھری منظو ر الٰہی تو پولیس کے ہتھے نہیں چڑھے لیکن چودھری پرویز الٰہی کے سیکرٹری محمد خاں بھٹی اور ان کی بیوی اور ان کے معصوم بچوں پر مظالم ڈھائے گئے۔بچے خوفزدہ ہو کر باپ کی ٹانگوں کو لپٹتے تھے اور پولیس والے ان کو ٹھڈے مار کر پرے پھینک دیتے تھے۔میں نے اس پر بھی بھرپور احتجاج کیا تھا۔آج یہی محمد خاں بھٹی اقتدار کی سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے صوبائی سیکرٹریٹ کے اعلیٰ افسر بن بیٹھے ہیں۔مگر میری کسی کال کا جواب نہیں دیتے۔یہ ان کا طرز عمل ہے اور ایک میں ہوں کہ © ©" مرے بت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو“ ۔میں چودھری برادران کے بھی گن گا رہا ہوں۔ مگرپانچ برس ہو چکے ہیں، میں نے چودھری پرویز الٰہی کی شکل نہیں دیکھی ۔ پروین شاکر کے بقول”بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی“ ۔پرویز الٰہی جب کبھی خدانخواستہ اقتدار میں نہیں ہوں گے۔سدا نام اللہ کا رہنے والا ہے ۔ تو تپتی دوپہروں اورتاریک خنک راتوں میں ان کی تنہائیوں سے میں ہی باتیں کروں گا۔مجھے اس موضوع پر مزید کچھ نہی کہنا اور اگر میرا یہ موقف ادارتی زد میں آ جائے تو میرے ساتھ یہ ناانصافی ہو گی کہ میرے خلاف زبان طعن د راز کرنے والوں کو تو کھلی چھٹی حاصل ہے لیکن میرے اُوپر قدغن عائد کر دی جاتی ہے۔میں فارسی کا وہ محاورہ تو استعمال نہیں کروں گا کہ ”سگ آزاد ہیں اور پتھروں کو باندھ دیا گیا ہے“ میں اپنے قارئین کو خواہ ان کو میری رائے سے کس قدر اختلاف کیوں نہ ہو، شرف انسانیت کا سزاوار سمجھتا ہوں۔
 پرویز مشرف لورزکونسل کے مرکزی چیئرمین خالد امین کا کہنا ہے کہ 5مئی کو صوبائی دارالحکومت میں غیر فعال چیف جسٹس افتخار چودھری کے غیر عدالتی اور غیر سیاسی طرز عمل کے خلاف بھوک ہڑتال کریں گے۔میں نے خالد امین کو با بار سمجھایا ہے کہ کوئی حکومت سوئے ہوئے ہوئے بچے کا منہ چومنے والے کی قدر نہیں کرتی،اُلٹا وہ اپنے ”کھنے“ سنکوا بیٹھیں گے۔اسلام آباد میں ایک ہٹے کٹے وکیل کا بھرکس نکال دیا گیا۔ہر ٹی وی چینل نے کہا کہ یہ شخص ”گجرات“ سے بھیجا گیا تھا مگر اگلے روز ان صاحب نے اپنے وکالت کے سرٹیفیکیٹ دکھا دیئے۔ مگر اس کو کیا ملا۔ وہ ہاتھ جوڑ جوڑ کر معافی نہ مانگتا تو ہجوم ان کی تکا بوٹی بھی کر سکتا تھا۔ خدانخواستہ ان کی جان چلی جاتی تو ان کے ورثاءکو ایک لاکھ روپے شاہی خزانے سے مرحمت فرما کر حاتم طائی کی قبر پر لات مارنے کی کوشش کی جاتی۔ حکومت کے حامی عناصر ماریں کھا رہے ہیں۔خالد رانجھا کی عزت داﺅ پر ہے۔وسیم سجادکی میز سے چائے کی پیالی تک اُٹھا لی گئی۔ایک ایسے وقت میں جب طاقت کے بل پر فیصلے ہونے لگیں اور عدالتوں کے معاملات کو سڑکوں پر گھسیٹا جائے تو پھر لوورز کونسل کی قسمت میں ذلت و خواری کے سوا کیا لکھا ہے۔
 میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ حکومت کی اندھی حمایت نہ کبھی میں نے کی ہے،نہ آئندہ کروں گا۔مجھے اس حکومت سے کچھ لینا دنیا نہیں۔ اس حکومت کے پاس تو اپنے بہی خواہوں کے لئے ہمدردی کے چند بول بھی نہیں ہیں۔میری پالیسی یہی رہی ہے کہ حکومت اچھا کرے گی تو اچھا کہوں گا اور برا کرے گی تو برا کہنے والوں میں پیش پیش ہوں گا۔ میری یہی نصیحت پرویز مشرف لورز کونسل کے چیئرمین خالد امین کے لئے بھی ہے۔ وہ پرویز مشرف کے بجائے اپنے بال بچوں کی فکر کریں۔٭٭


    Powered by Control Oye