شیر پاﺅ سے شیر پاﺅ تک۔۔اسداللہ غالب

 

کوئی مماثلت نہیں تاہم ریکارڈ کی خاطر کہا جا سکتا ہے کہ 1975ءمیں حیات شیر پاﺅ کو دہشت گردی میں شہید کیا گیا، اب ان کے بھائی آفتاب شیر پاﺅ پر خود کش حملہ کیا گیا، خوش قسمتی سے وہ بچ گئے تاہم درجنوں بے گناہ موت کی آغوش میں چلے گئے، چارسدہ اور اس کے نواحی علاقوں میں جنازے اٹھے اور ایک کہرام مچ گیا۔ آفتاب شیر پاﺅ بہادر آدمی ہیں۔ انہیں بھی دھماکے کے بعد ہسپتال لے جایا گیا تاہم مرہم پٹی کے بعد وہ مختلف ہسپتالوں میں گئے، زخمیوں کو دلاسا دیا۔ اگلے روز جنازوں میں شرکت کی اور دھاڑیں مار کر رونے والوں کو گلے لگایا۔ وہ شہداءکے گھروں میں گئے اور ان کے پس ماندگان سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
میں پھر کہتا ہوں کہ شیر پاﺅ سے شیرپاﺅ تک میں کوئی مماثلت تلاش نہیں کی جا سکتی۔ حیات شیر پاﺅ کے قتل کا الزام صوبے کی ایک بڑی جماعت نیپ پر عائد کیا گیا اور اس کی قیادت کو جیلوں کی ہوا کھانا پڑی۔ آفتاب شیر پاﺅ کے جلسے میں خود کش دھماکے کا الزام صوبے کی بڑی جماعت ایم ایم اے پر عائد نہیں کیا گیا۔ تاہم محسوس یہ ہوتا ہے کہ شیر پاﺅ گروپ اور ایم ایم اے کی حکومت میں قابل رشک تعلقات کار قائم نہیں ہیں۔ وزیر اعلیٰ سرحد اکرم خاں درانی نے کہا ہے کہ آفتاب شیر پاﺅ کے جلسے کی اطلاع صوبائی حکومت کو نہیں دی گئی۔ اگر یہ اطلاع مل بھی جاتی تو صوبائی حکومت انہونی کو کیسے روک سکتی تھی۔ خاص طور پر جب وزیر اعلیٰ سرحد اکرم خاں درانی یہ تلخ حقیقت بیان کر رہے ہوں کہ صوبائی حکومت کو اپنے طور پر حفاظتی آلات کی خریداری کا اختیار حاصل نہیں ہے اور یہ اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے۔ ہو سکتا ہے اس دھماکے کے بعد وفاقی وزارت داخلہ نہ صرف صوبہ سرحد کے اس اختیار کو بحال کردے گی بلکہ اگر باقی صوبوں کو بھی ایسے اختیارات میسر نہیں ہیں تو ان کو بھی یہ اختیار تفویض کیے جائیں۔ لاءاینڈ آرڈر کا کنٹرول کرنے کی ذمہ داری آئین کے تحت صوبوں پر عائد ہوتی ہے اور اگر وفاق نے صوبوں کے راستے میں رکاوٹ بننا ہے تو پھر وہی کچھ ہو گا جو ہو رہا ہے۔ وفاق کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ اکرم خاں درانی نے تو یہاں تک کہا ہے کہ ان کی پولیس ،فرنٹیئر کانسٹیبلری کا بڑا حصہ بھی وفاق اور پنجاب کے کنٹرول میں ہے، اس لیے ان کے ہاتھ پاﺅں بندھے ہوئے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب صوبہ سرحد دہشت گردی کا سب سے بڑا نشانہ بنا ہوا ہے، اس کی سیکیورٹی فورسز صوبے کے ہاتھ میں نہ ہوں تو صوبہ کیا خاک امن قائم کر سکے گا۔
چارسدہ بم دھماکے کے ٹارگٹ بنیادی طور پر خود وفاقی وزیر داخلہ تھے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ جب وزیر داخلہ ہی محفوظ نہیں ہونگے تو وہ دوسروں کی حفاظت کا بندوبست کیا کریں گے۔ باتیں کرنا بہت آسان ہے اور کسی سانحے کا سامنا کرنا بہت مشکل ۔ حملہ تو صدر پر بھی ہوا جو آرمی چیف بھی ہیں ۔ حملہ وزیراعظم پر بھی ہوا جب وہ قومی اسمبلی کارکن بننے کے لیے انتخابی مہم میں مصروف تھے۔ حملہ تو کراچی کے کور کمانڈر پر بھی ہوا جو اب وائس آرمی چیف ہیں اور حملہ صوبہ سرحد ہی کی بڑی جماعت جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے گھر پر بھی راکٹ حملہ کی صورت میںہوا۔ وہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بھی ہیں۔ وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ ابھی مزید حملے ہو سکتے ہیں۔ یہ کہنے کے لیے وزیر داخلہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ عام آدمی بھی جانتا ہے کہ خود کش حملے ہوتے رہیں گے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کا اعلان کیا کیا کہ خود دہشت گردی کا نشانہ بن گیا۔ پاکستان میں ایک بڑا طبقہ خود کش حملہ آوروں کے قصیدے لکھتا ہے اور ان کے شاہنامے لکھتا ہے۔ خود کش حملہ آوروں کو جنت میں داخلے کی نوید دی جاتی ہے جبکہ خود کش حملوں کا نشانہ بننے والوں کے ورثاءکو ایک ایک لاکھ تھما کر صبر کی تلقین کی جاتی ہے۔ زخمیوں کے حصے میں صرف 50 ہزار آتے ہیں۔ مارنے کی قیمت جنت اور مرنے کی قیمت زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ۔ تو اس کھیل کے نتائج کا اندازہ لگانے میں مشکل پیش نہیں آنی چاہیے۔
چار سدہ کے دھماکہ نے ایک موقع فراہم کیا تھا کہ ہم بحیثیت قوم یک جہتی کا ثبوت دیتے ۔ ہر ایک نے یہی فرض کر لیا ہے کہ اس میں شیر پاﺅ گروپ کے جلسے کو نشانہ بنایا گیا ہے اور یہ گروپ اگرچہ اقتدار میں ہے لیکن اس نے مسلم لیگ (ق) میں ضم ہونے سے انکار کردیا ہے۔گروپ کا یہ قصور بہت بڑا ہے جس کی وجہ سے مسلم لیگ (ق) کے صوبائی یا مرکزی عہدیداروں نے شیر پاﺅ سے ہمدردی اور یک جہتی کے اظہار کے لیے ملاقات ضروری نہیں سمجھی۔ انجینئر امیرمقام کا مقام و مرتبہ میری اور سب کی نظر میں بلند ہو جاتا اگر وہ بھی چارسدہ کے شہیدوں کے جنازے میں شریک ہو جاتے ۔ محمد علی درانی وہاں ضرور پہنچے مگر وہ مسلم لیگ (ق) کا حصہ محض اس میں ضم ہونے کی وجہ سے ہیں۔ وہ مسلم لیگ (ق) کی نمائندگی نہیں کر سکتے۔ ایم ایم اے کے سربراہ قاضی حسین احمد کا تعلق صوبہ سرحد سے ہے ۔سیاسی طور پر شیر پاﺅ گروپ ان کا حریف ہے لیکن حادثے کی صورت میں تو سب انسان کے طور پر مساوی حیثیت رکھتے ہیں،میری خواہش تھی کہ قاضی حسین احمد چارسدہ کے جنازے میں پیش پیش نظر آتے۔اگر ان محترم قائدین کے راستے میں سیکیورٹی کے مسائل حائل تھے تو اور بات ہے ورنہ ”دشمن مرے تے خوشی نہ کرئیے،سجناں وی مر جاناں!“ کو حرزِ جاں بنایا جاتا تو بہتر ہوتا۔
چارسدہ میں دھماکہ کس نے کیا، روسی جیکٹ پر ساری توجہ مرکوز کر دی گئی ہے۔ خود کش بمبار روسی جیکٹ دھوکہ دینے کے لیے بھی تو پہن سکتا تھا۔کسی کا خیال ہے کہ یہ دھماکہ قبائلی علاقوں میں غیر ملکیوں کا صفایا کرنے کی حالیہ کارروائی کا نتیجہ ہے۔ بعض لوگ قیافے سے کہتے ہیں کہ دھماکے میں کوئی افغانی ملوث نہیں،اس لیے کہ چارسدہ کے گردونواح میں کوئی افغان بستی موجود نہیں۔محترمہ بینظیر دور کی کوڑی لائی ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ اس لیے حاصل ہوا کہ یہاں مذہبی انتہا پسند حکومت میں آ گئے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ روشن خیال اگلا الیکشن جیت گئے تو دہشت گردی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ محترمہ بینظیر ضرور روشن خیال ہیں لیکن صدر مشرف بھی کوئی کم روشن خیال نہیں ہیں۔ اگر روشن خیالی ہی دہشت گردی کا علاج ہوتی تو پاکستان کو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا ۔ محترمہ بھول گئی ہیں کہ جب ان کی اپنی مستند روشن خیال حکومت تھی تو کراچی کی سڑک پر دن دیہاڑے ان کے بھائی مرتضیٰ بھٹو کا لاشہ گرایا گیا تھا۔ محترمہ نے جن مذہبی قوتوں کو دہشت گردی کے فروغ کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے، ان کا خود کہنا ہے کہ ان کا مذہب خود کش حملوں کی اجازت نہیں دیتا۔ دنیا بھر کے علماءکا اس پر اجماع ہے کہ اسلام خودکش حملہ کو حرام تصور کرتا ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ محترمہ اس مسئلے پر خلط مبحث سے کام نہ لیں، اس مسئلے پر سیاست نہ کریں ۔ سیاست کے لیے اور ایشوز کم نہیں ہیں۔ وہ پہلے خود میدان میں تو اتریں۔ ڈیل کے گھن چکر سے نکلیں اور بقول شجاعت اور پرویز الیکشن میں ان کا مقابلہ کریں۔
موت کے کھیل پر آپ کسی سے ہمدردی کا اظہار نہیں کر سکتے تو کم از کم اس پر سیاست کی دکان تو نہ چمکائیں۔ دہشت گردی کا جو بھی حامی ہے اس کےخلاف تن کر کھڑے ہو جائیں۔ شیر پاﺅ بہادر آدمی ہیں جن کا عزم ہے کہ وہ دہشت گردوں کے چیلنج سے پسپا نہیں ہونگے۔ ہمارے تمام سیاستدانوں کو اسی بہادری کا مظاہرہ کرنا چاہیے!!#
٭٭٭



    Powered by Control Oye