طالبان اور پاکستان،، خوشنود علی خاں

قارئین محترم ! عام لوگوں کے ذہن میں ایک سوال ضرور مو جود ہے کہ امریکہ میں انتخابات کے نتائج نے بش حکومت کو ہلا کر رکھ دیاہے۔ بش حکومت عدم استحکام کا شکارہو گئی اور رمز فیلڈ کوجانا پڑا ہے ان حالات میں پاکستان میں کیا ہو گا ؟
قارئین محترم ! میں جو لکھنے والا ہوں ہو سکتا ہے آپ کو اسکا یقین ہی نہ آئے لیکن ایسا ہی ہے ،پینٹا گان کاریکارڈ گواہ ہے کہ پاکستان نے افغانستان اور طالبان کے حوالے سے امریکی پالیسی کی مسلسل مخالفت کی ،آپ کہیں گے کہ یہ بات کہیں ہمارے عمل میں نظر نہیں آتی تو میرا جواب یہ ہے کہ افواج پاکستان کے کور کمانڈرز کی میٹنگ میں خداجانے کیاکیابات ہوتی ہوگی لیکن جو کچھ باہرآتاہے وہ چیف آف آرمی سٹاف کافیصلہ ہوتاہے ،کیونکہ یہ کمانڈ اینڈ کنٹرول کامعاملہ ہے میری اطلاع یہ ہے کہ امریکہ کے پینٹگان کاریکارڈ اس بات کی گواہی دے گا کہ پا کستان نے امریکہ کی عراق افغانستان اور طالبان بارے پالیسی کی مخالفت کی ،یقیناً آپ کو سوچنا چاہیے کہ یہ مخالفت کہاں کی،کہیں یہ مخالفت نظر تو نہیںآئی ‘لیکن حقیقت یہی ہے کہ مخالفت On Paperہے لہٰذا ڈیمو کریٹس یہ بات جانتے ہیں کہ پاکستان کی حکومت بش حکومت کی عراق افغان پالیسیوں کی حامی نہیں تھی ،بس یہ ہے صورتحال ،اس پر باقی کل لکھوں گا ،لیکن اب تک باجوڑ واقعے کے بارے میں باتیں تمام حلقوں میں جاری ہیں،عام اور خواص کی رائے یہ ہے کہ اگر یہ کارروائی پا کستان کی اپنی ہے اور اگر باجوڑ کے اس مدرسے میں واقعی تربیت بھی ہورہی تھی تو فوج کو اسے گھیر کر شرپسندوں کو گرفتار کرنا چاہیے تھا ،بمباری کر کے Over Doingکی گئی
قارئین ! میری اب تک درگئی کے واقعے پر جتنے بھی سمجھ دار لوگوں سے بات ہوئی ان کا خیال یہ ہے کہ حکومت نے اسے باجوڑ کے واقعے سے جوڑنے کی جلدی کی ہے ،اس کا تعلق اس حوالے سے تو باجوڑ سے بنتا ہے کہ دشمن نے باجوڑ کاسہارا لیا لیکن سوال یہ ہے کہ دشمن کون ہے ،دشمن نے باجوڑ کاسہارا لیاہے ،ورنہ یہ منصوبہ تو کہیں پہلے سے تیارتھا ،صرف اس پر عمل درآمد باجوڑ کے واقعے کے فوراً بعد ہوا ورنہ یہ تو ہونا ہی تھا ،
قارئین! لب لباب یہ ہے کہ بھارت یہ سارا کام افغانستان کے راستے کرارہا ہے ،اس کی خواہش ہے کہ افواج پاکستان اور پاکستان کے عوام کے درمیان محاذ آرائی کی صورت پیداہو ،حالانکہ پاکستان کے عوام اور افواج پاکستان اور قبائلی علاقے کے زعماءایسا نہیں ہونے دینگے ،مگر یہ بات ہماری سمجھ سے با لاتر ہے کہ حکومت اسے بار بار باجوڑ کارد عمل قرار دے کر اسے لوکل عوامل کے ذمہ کیوں ڈال رہی ہے میں تو سمجھتاہوں ،یہ بھارت ہے جس نے موقع سے فائدہ اٹھا یا ہے کیونکہ اس واقعے (درگئی کے واقعے)کے نتیجے میں جوفوجی مارے گئے ان میں سے زیادہ کاتعلق تو خود قبائلی علاقہ اور صوبہ سرحد سے ہے ،لہٰذا اپنے ہی بچوں کو کون مارتاہے ،میں اس تھیوری سے اتفاق نہیں کرتا یہ جو بھی حملہ آور ہے پاکستانی نہیں ہو سکتا ،یہ افغانستان میں پاکستان کےخلاف تیار ہونیوالی سازشوں کا حصہ ہے
قارئین ! پٹارو میں جو ہوا ہے میں اسے بھی باجوڑ اور درگئی کے واقعات کا تسلسل سمجھتاہوں ،بھارتیوں نے ہمارے اندر سے ہی ایسے لوگ تلاش کر نے شروع کر دئیے ہیں جو ان معاملات میں کام آسکیں
قارئین محترم! میر علی میں راکٹوں کا حملہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ،اللہ تعالیٰ ہم پر اور ہمارے حالات پر رحم کرے
قارئین محترم! گزشتہ شام قومی اسمبلی کا چند منٹوں کے لئے اجلاس ہوا، کورم پورا نہیں تھا ، اجلاس شروع ہوا تو تلاوت کے بعد وزیربرائے پارلیمانی امور ڈاکٹر شیرافگن نے کہا کہ تین لوگ جو پارلیمنٹ کا حصہ رہے ۔ جن میں سابق صدرغلام اسحق خان ، رکن قومی اسمبلی عبدالستار افغانی اورسابق رکن پارلیمنٹ کھوسو شامل ہیں، چونکہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں، ان کےلئے دعائے مغفرت کرائی جائے سپیکر قومی اسمبلی چوہدری امیر حسین نے اس پر کیا کہ روائت یہ ہے کہ اگر کوئی موجودہ رکن اسمبلی وفات پاجائے تو فاتحہ کے بعد اسمبلی کے اجلاس کی کاروائی نہیں ہوتی ، لہذا انہوں نے خود دعاکرائی اوراس کے بعد اجلاس سوموار شام پانچ بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
قارئین کرام ! بعدازاں ہم اسمبلی کیفے ٹیریا میں تھے۔ وہاں حافظ حسین احمد ہماری ٹیبل پر تشریف لائے ، وہاں خاصے اہم اورسینئر جرنلسٹ موجود تھے۔ بعد ازاں وہاں ہماری حج کی ساتھی اوروزیرمملکت برائے تعلیم انیسہ زیب طاہر خیلی بھی آگئیں ، بحث اس پر تھی کہ کیا درگئی کے واقعے کا باجوڑ سے کوئی تعلق ہے ، نتیجتاً یہ طے پایا کہ باجوڑ میں کسی اورنے باجوڑ کے کورمیں کام دکھایا ہے۔
قارئین محترم! آخر میں یہ بھی طے پایا کہ ہمیں آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے کی ضرورت ہے ، قوم اکھٹی ہوئی تو کوئی ایسا کام نہ کرسکے گا۔
قارئین محترم! آپ ہفتہ کی رات 10بجے کے بعد اور منگل کو بھی 10سے 11بجے کے درمیان ٹی ون پر میرے پروگرام ”ٹاکرا“میں جنرل فیض علی چشتی کاانٹرویو دو حصوں میں دیکھ سکیں گے ،مجھے یقین ہے آپ کو ان کے انٹرویو میں آپ کے بہت سے سوالوں کے جوابا ت مل جائیں گے ۔
قارئےن! آپ مجھےkhushnoodalikhan@yahoo.com پر مےل کر سکتے ہیں اور www.sahafat.tvاور millat.comپر مےرا کالم بھی ملاحظہ کر سکتے ہیں۔اور مجھ سے موبائل فون نمبر 0333-5117769پر بات کر سکتے ہیں‘اور مےرا اےڈرس ہے۔پلاٹ نمبر126بی سٹرےٹ نمبر15آئی نائن ٹو انڈسٹرےل اےرےا اسلام آباد۔



    Powered by Control Oye