کس کی جنگ۔۔خوشنود علی خاں

قارئین محترم! درگئی میں پنجاب رجمنٹ کے جو جوان خود کش بم ددھماکے کے نتیجے میں شہید ہو ئے وہ تو معصوم تھے ،مارنے والوں کو ان سے کیا گلہ ہو سکتا ہے ،وہ سارے بھی پاکستان کے ہر عام شہری کی طرح سوچتے ہوں کہ باجوڑ میں جوہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا ،فوجی رنگروٹ (زیر تربیت سپاہی)کا فوج کے انتہائی اہم فیصلو ںسے کیا تعلق ہو سکتاہے ،لہٰذا باجوڑ کی شہادتوں پر جن لوگوںکو دکھ ہوا ان سب کو درگئی میں ہونےوالی شہادتوں کا بھی اتنا ہی افسوس ہے یہ پا کستانی فوجی بھی تو انہی کے بچے ہیں ،پنجاب رجمنٹ میں تو وزیری بڑی تعداد میں ہیں،
قارئین !میری جنرل حمید گل اور جنرل چشتی سے درگئی کے اس واقعے پر جوگفتگوہوئی ہے وہ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ اس واقعہ سے باجوڑ یا طالبان کا کوئی تعلق ہے ،بلکہ ان کا کہنا یہ ہے کہ حالات کافائدہ اٹھاکر یہ بھارت ایسا کروا رہاہے ،جنرل حمید گل نے کہا کہ فوج اور عوام میں تصادم ختم ہونا چاہیے اور اس کا راستہ نکالنا چاہیے ،اگر حکومت یا صدر پر امریکیوں کا پریشر بہت زیادہ ہے تو بھی مشاورت ہونی چاہیے ،حکومت اگر امریکیوں سے ڈرتی ہے تو چھپ کر مشاورت کر لے ،جنرل حمید گل نے کہاکہ ایک طرف درگئی میں اتنی شہادتیں اور یہ حالات ہیں ،دوسری طرف جمعہ کے روز اسلام آباد میں تحفظ حقوق نسواں بل کے حوالے سے علماءکا جوردعمل ہے وہ دیکھا سنا نہیں جاسکتا ،میں نے تو علماءکو مشورہ دیا ہے کہ وہ کسی بھی طرح جنرل پرویزمشرف کو ملیں اور ان سے پوچھیں کہ آپ ہمیں بتا ئیں آپ کی کیا مجبوری ہے ،جنرل حمید گل کا کہنا یہ تھا کہ پاکستان اب امریکہ کو نہ کرنے کی عادت ڈالے اور کہے کہ دہشتگردی کی جنگ میں ان کاساتھ دینے کی ایک حد تھی ،ہم ساری حدیں کراس کرچکے ،اب آپ کی جنگ ہم نہیں لڑسکتے افغانستان میں آپ کی جنگ اب ہم آپ کو جیت کرنہیں دے سکتے نہ کشمیر میں بھارت کی جنگ جیت کردے سکتے ہیں یہ سب ہمارے قومی مفاد کے خلاف ہے
قارئین !اگر چہ بی بی سی کے مطابق درگئی میں حملہ کرنےوالوں نے کہاہے کہ وہ مقامی طالبان ہیں اوران کے کمانڈر کانام ابوکلیم محمد انصاری ہے ،اور ساتھ ہی ان کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ خود کش بمبار نے اپنا بیان بھی ریکارڈ کروایا ہے اور اس کا ٹیپ بھی جلد جاری کیا جائیگا،فون کرنیوالے نامعلوم شخص نے یہ دعویٰ بھی کیاہے کہ باجوڑ میں اسی افراد کے مارے جانے کے بعد پونے تین سو خود کش بمباروں نے اندراج کرایاہے
قارئین ! میں اس ساری بات پر ایک ہی بات کروں گا کہ باجوڑ والوں کو اپنے بچوں کے مارے جانے کا بہت دکھ ہے لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ حملہ امریکیوں نے کیا تھا لہٰذا وہ زیر تربیت رنگروٹوں کوکیوں مارینگے یہ بھی تو ان کے اپنے ہی بچے ہیں
قارئین!یہ جو بھی ہورہاہے اس کی پلاننگ کوئی پاکستانی نہیں کرسکتا ،کیونکہ ہم نے مشرقی پاکستان میں اس تصادم کا نتیجہ دیکھ لیا
قارئین!پاکستان میں ویسے تو خود کش دھماکوں کی تاریخ کراچی میںآبدوز بنانے کےلئے آنےوالے فرانسیسیوںاورپاکستانیوں پر خود کش بم دھماکے سے شروع ہوئی ہے بعد میں یہ دھماکے راولپنڈی ،کراچی ،سیالکوٹ ،جھل مگسی اور اسلام آباد میں ہوئے علامہ حسن ترابی پر حملہ بھی ایسا ہی ایک خود کش حملہ تھا
قارئین !ان خود کش حملوں میںزیادہ تر حملوں میں فرقہ واریت تھی ،لیکن اس حملے کا تو فرقہ واریت کا کوئی تعلق نہیں ہوسکتا ،مگر میں تو یہ بھی نہیں مانتا یہ واقعہ باجوڑ کا رد عمل ہے ،بلکہ یہ بھارت کی منصوبہ بند ی ہے ،وہ چاہتے ہیں ،عوام اور فوج متصادم ہوں ،لیکن میں سمجھتا ہوں وہ اس میں کا میاب نہیں ہوسکتے ،البتہ ہم اس صورتحال تک اس لیے پہنچے ہیں کہ موجودہ حکومت نے امریکہ پر کچھ زیادہ ہی انحصار کر لیا ہے ،
قارئین!آپ کو یادہو گا امریکی صدر بش نے امریکہ کے حالیہ انتخابات سے پہلے کہا تھا کہ یہ عام انتخابات نہیں بلکہ یہ اس سوا ل پر ریفرنڈ م ہے کہ کیا دہشتگردی کےخلا ف جنگ جاری رہنی چاہیے یا نہیں لہٰذا جارج بش کے مقرر کر دہ معیار کے مطابق امریکہ میں دہشتگردی کےخلاف جنگ پر ریفرنڈم میں عوام کا فیصلہ دہشتگردی کی جنگ کے خلاف ہے اوراس کے آرکیٹیکٹ رمز فیلڈ کو مستعفی ہو ناپڑا ہے ،صدر بش اب دہشتگردی کی جنگ کو سمیٹنے بلکہ ختم کرنے پر مجبور ہوں گے ،لہٰذا پاکستان کی موجودہ حکومت کو کم ازکم اب تو دہشتگردی کےخلاف جنگ کانام لینا بند کر دینا چاہیے ،حقیقت تو یہی ہے کہ پاکستان کے عوام دہشتگردی کےخلاف اس جنگ کو اسلام کےخلاف جنگ سمجھتے ہیں لہٰذا حکومت اگر امریکہ کی دہشتگردی کی اس جنگ سے منہ موڑ لے تو حالات مختلف ہوجائینگے ویسے بھی اگر حکومت امریکی سہارے پر ہے تو امریکی صدر خود سہارے سے محروم ہو گئے ہیں
قارئین! درگئی کے واقعے کے بعد پاکستان سے محبت کرنےوالوں کے ذہن میںسوال یہ ہے کہ درگئی میں فوجی یونٹ میں یاتربیتی کیمپ میں جوہوا،یہ فوج کے ساتھ پیش آنےوالا اس طرح کا پہلا واقعہ ہے لیکن اس طرح کے واقعات سے فوج کا رعب اور دبدبہ کم پڑ سکتاہے ،ہرپاکستانی کے ذہن میں جہاں اس حوالے سے سوال موجود ہے وہیں اسکا جواب یاحل بھی موجود ہے لیکن یہ ایسا ایشو نہیں جس پر ایک عام آدمی حتمی رائے دے سکے ،لہٰذا میں نے اس پر جنرل (ر)فیض علی چشتی سے بات کی انہوں نے بہت لمبی گفتگو کرکے یہ ثابت کیا کہ بھارت نے پہلے دن سے ہی پا کستان کو چونکہ تسلیم نہیں کیا لہٰذا وہ بکاﺅ پاکستانیوں کی خدمات حاصل کرکے اسے نقصان پہنچانے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی سلامتی کےلئے تین چیزیں بہت ضروری ہیں
1۔ڈیفنس یعنی فوج
2۔سیاسی لیڈروں کا کسی ضابطے سے چلنا
3۔معاشرتی حالات (یعنی عوام کے پاس اورحکومت کے پاس کھانے پینے کےلئے ہو)
لیکن بدقسمتی یہ ہوئی کہ آئین کو کسی نے بنایا ہی نہیں فوج اور فوج کےلئے وسائل اور اسلحہ قطرہ قطرہ کرکے جمع کیے گئے 1971ءکی جنگ میں ہمارے قیدیوں کی برین واشنگ کی گئی لیکن جنرل ٹکا خان اور ان کے ساتھ میں نے اور جنرل قریشی نے انہیں واپسی پر ناپا تولا اور فوج کو بچائے رکھا ،لیکن جس فوج کےساتھ عوام نہ ہوں وہ ملک کا دفاع نہیں کر سکتی لہٰذا کئی بار پاکستان کے دشمنوں نے کوشش کی کہ فوج اور عوام کا تصادم اور محاذ آرائی ہو دشمنان پاکستان سمجھتے ہیں کہ اس سے پا کستان کا دفاع مضبوط نہیں رہے گا
قوم اور فوج کی محاذ آرائی بلوچستان میں ہو ،وزیر ستان میں یاباجوڑ میں نقصان ملک کا ہوگا
سیاست میں تو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن )جیسی بڑی جماعتیں پہلے ہی فوج سے محاذ آرائی میں ہیں باجوڑ میں جو ہوا اگر کوئی غلط کام تھا تو کیا اس چھوٹی سی جگہ سے فوج انہیں گرفتار نہیں کر سکتی تھی ؟چاہئے تھا کہ انہیں گرفتار کرتے اور مقدمہ چلاتے فوج کا کام تو اپنے عوام کو بچانا ہے اگر کوئی کام امریکہ کریگا اور فوج اسے اپنے سر لے گی تو اس کا نتیجہ یہی ہو گا ،جس کے بچے مارے گئے اس کامستقبل تاریک کر دیا گیا کیاوہ اس کا بدلہ نہیں لےں گے ،خون کا بدلہ تو خون در خون ہوتا ہے اور اس کاحل مذاکرات ہوتا ہے اگر آپ موجودہ حالات ٹھیک رکھنا چاہتے ہیں اور اقتدار اعلیٰ کو مضبوط رکھنا چاہتے ہیں تو نگران حکومت قائم کریں لوگوں کو انتخابات کے ذریعے اپنی مرضی کی قیادت لانے دیں پھر بھارت کہیں سے بھی ہمارے خلاف کامیاب نہیں ہوگا



    Powered by Control Oye