درگئی اور امریکہ۔۔۔خوزنود علی خاں

کل پنجاب رجمنٹ کے تربیتی کیمپ (یہ درگئی قلعے میں قائم ہے )میں بم دھماکہ ہوا اور تادم تحریر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 35جبکہ قاضی حسین احمد کے مطابق 80فوجی اس خود کش حملے میں شہید ہوئے قاضی حسین احمد نے لاہور ہائی کورٹ بار کی ایک تقریب میں بتا یا کہ تقریباًساڑھے نو بجے صبح انہیں یہ اطلاع ملی کہ پا ک فوج کی پنجاب رجمنٹ کے تربیتی سنٹر میں خود کش دھماکہ ہوا اور تقریباً80فوجی شہید ہوگئے ،تاہم افواج پاکستان کے ترجمان نے بعد ازاں 35شہادتوں اور 10ایسے افراد زخمی ہونے کی تصدیق کی جنکا بچ جا نا معجزہ نظر آتاہے،تاہم قاضی حسین احمد کی طرف سے بتائی گئی تعداد کو لیاجائے تو یہ بالکل وہی تعداد ہے جو باجوڑ میں شہید ہو ئے ،وہاں پہلی اطلاع 83شہادتوں کی تھی جوبعد میں 80کنفرم ہوئیں ،اس وقت باجوڑ کے بعض لیڈروں نے بدلہ لینے کی بات بھی کی تھی، ظاہرہے اگر یہ تعداد بھی 80ہے تو بدلہ ہوگیا ویسے وزیر داخلہ کے مطابق انہیں پہلے سے اس طرح کی اطلاع تھی کہ با جوڑ کے واقعے کا رد عمل بھی ہوگا لیکن کسی کو یہ خیال نہ تھا کہ فوج کی کسی چھا ﺅنی یا یونٹ میں یہ واقعہ ہوسکتاہے
قارئین!میں چونکہ فوجی علاقے سے ہوں اور فوجی کا بیٹا ہوں لہٰذا مجھے یہ معلوم ہے کہ کوئی شخص گاڑی کےساتھ یا گاڑی کے بغیر کسی یونٹ ،سنٹر یا کسی شعبے میں داخل نہیں ہو سکتا ،جب تک اس کی مکمل شناخت نہ ہو جائے اور اندر سے ملاقات کرنے والا شخص اس کے ساتھ تعلق کی تصدیق نہ کر دے
قارئین!حکومت جو بھی کہہ رہی ہے یا فوج جوبھی کہہ رہی ہے اس کی حقیقیت ایک ہی ہے کہ یہ واقعہ اندر ہی سے ہوا ہے
قارئین!یہ واقعہ اس روز ہوا جب صدر جنرل پرویزمشرف نے 8نومبر کی صبح مردان میں پنجاب سنٹر(پنجاب رجمنٹ کے سنٹر )میں دربار سے خطاب کرناتھا ،یہ درگئی میں پنجاب رجمنٹ ہی کا ٹریننگ سنٹر ہے مردان چونکہ افواج پاکستان کی پنجاب رجمنٹ کاسنٹر ہے لہٰذا اس کے قریب ہی درگئی میں نئے بھرتی ہونیوالوں کی تربیت کا مرکز بھی قائم کردیا گیا ہے یہ سنٹر میری اطلاع کے مطابق درگئی قلعے میں ہے ،لیکن یہ تربیتی یونٹ کمپنی یا سنٹر اگر کھلے میدان میں بھی ہو تو بھی کسی یونٹ یا کمپنی میں کوئی اس طرح سے باہر سے براہ راست گاڑی پر چڑھ کر عین جوانوں کے اندر نہیں جاسکتا،لہٰذا مجھے تو اس واقعہ کی سمجھ ہی نہیں آرہی کہ کوئی چادر میں لپٹا شخص گاڑی میں سوار ہوکر جوانوں کے درمیان جا پہنچا اگرایسا ہے توپھر فوج کا وہاں کوئی سیکورٹی سسٹم نہ تھا باجوڑ کے واقعہ کے بعد تو افواج کو اس طرح کے تمام حفاظتی اقدامات لے لینے چاہیں تھے
قارئین!ایک اور نکتہ بڑا اہم ہے اور وہ یہ کہ خود کش حملے کےلئے جس یونٹ یا رجمنٹ کو منتخب کیا گیا وہ قبائلی علاقہ میں نہیں بلکہ سیٹلڈ ایریا میں ہے اور اسکا نام پنجاب رجمنٹ ہے
قارئین!یہ بڑی عجیب بات ہے کہ اس واقعے کے حوالے سے ایک دوسرے شخص کا ذکر بھی کیا جارہاہے جس کے ہا تھ میں گرنیڈ تھا اور جو خٹک گاﺅں کے گنے کے کھیتوں میں گھس گیا ،اور ابھی تک نہیں مل سکا ،
قارئین!یہ جوخود کش سلسلہ شروع ہوا ہے اس کے نتائج بہت خوفناک ہونگے ،اور یہ سلسلہ کہیں تک بھی جا سکتاہے
قارئین!امریکہ میں جوکچھ صدر بش کی ری پبلکن پارٹی کےساتھ کانگریس اورسینٹ میں ہوا ہے اس کے نتیجے میں صدر بش نے تو جانا ہی ہے لیکن ان سے بہت پہلے رمز فیلڈ چلے جائینگے ،اور پاکستان کی سیا ست پر ان نتائج کے دور رس نتائج مرتب ہو نگے ،اس سے موجودہ حکمران کمزور ہوسکتے ہیں
قارئین!آج اتناکافی ہے باقی باتیں کل



    Powered by Control Oye