صدام کارڈ ۔۔اسداللہ غالب

امریکہ میں آج مڈٹرم الیکشن ہورہے ہیں۔حکمران ری پبلکن اور اپوزیشن ڈیمو کریٹس پارٹیاں ہمیشہ ایک دوسرے کی مخالف رہی ہیں۔ ان کی انتخابی مہم کے دوران شاذونادرہی اندرونی مسائل کا ذکر آتا ہے، زیادہ تر زور عالمی صورتحال پر رہتا ہے۔ ویسے ایک انتہائی ترقی یافتہ ملک کے اندرونی مسائل ہو بھی کیا ہوسکتے ہیں، فیشن کیلئے بعض مسائل ضرور گھڑ لئے جاتے ہیں ، در اصل امریکہ کو چلانے والے اپنے ووٹروں پر ثابت کرتے ہیں کہ وہ اپنے مخالفین سے زیادہ بہتر انداز سے عالمی صورتحال کو کنٹرول کرسکتے ہیں ۔
مڈٹرم الیکشن سے دو روز پہلے عراق میں صدام حسین کو پھانسی کی سزا سنادی گئی۔اس مقدمے میں یہی ہونا تھا، بعض ڈرامے انتہائی سٹیریو ٹائپ ہوتے ہیں، آپ خود بھی اگلے سین کے مکالمے پیشگی بول سکتے ہیںاور کلائمیکس کا بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں۔ صدام حسین کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے ، وہ سکرپٹ کے عین مطابق ہے۔ صدر جارج ڈبلیو بش جونیئر کو انتخابات جیتنے کیلئے یہ سوانگ رچانا پڑا۔گذشتہ عام صدارتی انتخابات سے چند روز قبل اسامہ بن لادن کی ایک ٹیپ منظرِ عام پر آگئی تھی، جس نے بش کو امریکہ کی ضرورت بنادیا تھااور وہ دوسری ٹرم کیلئے جیت گئے تھے۔اُنکے والد نے بھی دوسری ٹرم لینے کےلئے عراق کارڈ ہی کھیلا تھا، لیکن کویت پر عراق کا قبضہ اور اس قبضے کو واگزار کرانے کیلئے امریکی افواج کی کارروائی نے امریکی ووٹروں کو چنداں متاثر نہ کیا۔ شاید یہ ڈرامہ کسی سسپنس سے عاری تھا، لیکن جونیئر بش نے اپنے والد کی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے اور وہ ڈرامے میں رنگ بھرنے بلکہ اسے خون رنگ بنانے کے فن میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں ۔ وہ یکے بعد دیگرے امریکی عوام کو فتوحات کی نویدسنارہے ہیں، کبھی افغانستان کو تاراج کرتے ہیں، کبھی عراق پر غاصبانہ قبضہ جمالیتے ہیں، کبھی ایران پر چڑھائی کیلئے آنکھیں دکھاتے ہیں،کبھی شام ، پاکستان اور سعودی عرب کو کھلی یا مخفی دھمکیوں پر اترآتے ہیں۔
لیکن میرا خیال ہے کہ امریکی ووٹراب کے، کسی جھانسے میں آنے کیلئے تیار نہیں ، اس لئے کہ افغانستان پر لشکر کشی کیلئے صدر بش کو امریکی عوام کی سوفیصد حمایت حاصل تھی،لیکن عراق کیخلاف جارحیت کے ارتکاب کے وقت امریکی رائے عامہ بٹی ہوئی تھی۔ امریکیوں کے موڈ کو دیکھ کر دنیا نے بھی امریکی حکومت کو غیر مشروط حمایت دینے سے انکار کردیا تھا۔ صدر بش نے برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے ساتھ مل کر ایک افسانہ تراشا کہ صدام حسین کے پاس کیمیاوی،حیاتیاتی اورجوہری ہتھیار موجود ہیں جن کی مدد سے وہ آدھ گھنٹہ کے اندر دنیا میں بڑے پیمانے پر دہشت گردی کا ارتکاب کرسکتا ہے۔ یہ رپورٹ برطانوی انٹیلی جنس ایم آئی فائیو کے ذہن کی پیداوارتھی۔ اس رپورٹ کا ہوّا کھڑا کرکے امریکہ ،برطانیہ اور ان کے اتحادیوں نے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجادی ،پاکستان اس ظلم میں شریک نہیں ہوا۔ امریکہ نے بڑی آسانی سے بغداد پر آتش و آہن کی موسلادھاربارش برساکر قبضہ جمالیا لیکن دنیا نے دیکھا کہ صدام حسین اور اس کے انقلابی گارڈز نے نہ اپنے دفاع میں کیمیاوی ،حیاتیاتی اور جوہری ہتھیار استعمال کئے، نہ ہی امریکی قبضے کے بعد مزاحمتی تحریک میں ایسے کسی اسلحے کو استعمال کرلیا گیا ۔بلکہ 13 دسمبر 2003ءکو صدام حسین چوہے کی طرح ایک غار سے اس حال میں پکڑاگیاکہ اس کے پاس صرف ایک پستول تھا جس کا ٹریگر دبانے کی اس میں ہمت نہیں تھی، اس نے دانتوں کے معائنے کیلئے کسی بچے کی طرح ڈاکٹر کے سامنے اپنا منہ کھول دیا تھا۔
برطانوی ایم آئی فائیو کی رپورٹ کا سکینڈل افشاءہونے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ کولن پاول کو اعتراف کرنا پڑا کہ اس رپورٹ پر اعتبار کرنا ان کی زندگی کی سب سے بڑی حماقت تھی۔ امریکی افواج کے درجنوں سابق جرنیل بھی عراق کے خلاف جارحیت کی مذمت میں پیش پیش ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ امریکی رائے عامہ جو پہلے ہی امریکی فوجیوں کے تابوت دیکھ کر دہشت زدہ ہوگئی تھی،اب وہ اپنی حکومت کے کسی نعرے پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہے۔لیکن صدر بش کو بہرحال الیکشن لڑنا ہے اور اپنی کامیابی کو یقینی بنانا ہے، اس لئے صدام حسین کو سزائے موت سنانا ضروری تھا۔ ابھی امریکی صدر کے پاس کئی کارڈ موجود ہیں۔ ملاعمرسے لے کر ایمن الظواہری اور اسامہ بن لادن تک کئی کردار اس کی دسترس میں ہیں۔ صدر بش ان کو کہاں اور کس طرح استعمال کرتے ہیں، اس کا اندازہ کرنے کیلئے ذہن پر زیادہ زور ڈالنے کی ضرورت نہیں۔بش کے پاس دو سال مزید ہیں، اس دوران میں اسے ایران کے ساتھ بھی پنجہ آزمائی کرنی ہے اور خدانخواستہ پاکستان کو بھی ڈاکٹرقدیرنیٹ ورک کے بہانے ”اِن دی لائن آف فائر “ میں لانا ہے۔
میری توجہ اس وقت ایک ای میل پر مبذول ہے، جس میں ابنِ خلدون کے ’قوموں کے عروج وزوال کا اصول ‘بیان کیا گیاہے۔ ابنِ خلدون کا کہنا ہے کہ ایک انسان کی اوسط عمر 120 سال(پانچ سال کم یازیادہ)ہوتی ہے۔کسی سلطنت کی عمر اس سے تین گنا زیادہ ہوتی ہے۔ میں یہاں اس حسابی چکر میں تو نہیں پڑناچاہتاکہ کس سلطنت کی عمر کتنی تھی،تاہم ای میل بھیجنے والے کا اندازہ ہے کہ امریکی سلطنت اپنے عروج اورکمال کو پہنچنے کے بعد زوال پذیر ہے۔ امریکی حکمرانوں کو بھی اس امر کا احساس ہے اور وہ اپنے زوال کو روکنے کیلئے ایک نیا حربہ استعمال کررہے ہیں۔ یہ حربہ آج سے پہلے کسی ایمپائر نے استعمال نہیں کیا۔ امریکہ کی کوشش یہ ہے کہ وہ طاقت کے ان مراکز کو کمزور یا ختم کردے جو اس کےلئے چیلنج بن سکتے ہیں۔ سردجنگ کے ذریعے اس نے اپنی حریف سپر پاور سوویت یونین کا خاتمہ کیا، اب وہ عالمِ اسلام کی طاقت کو کچلنے کے درپے ہے۔ ای میل بھیجنے والے نے یہ سوال کھڑا کیا ہے کہ کیا ابن ِ خلدون کا نظریہ غلط ثابت ہوجائے گا، اور امریکہ اپنے زوال پر قابوپانے میں کامیاب ہوجائے گا۔
اس بحث کے تناظر میں یہ سوال سطحی سا رہ جاتا ہے کہ صدر بش الیکشن جیتنے کےلئے کیا حربے استعمال کررہے ہیں یا کریں گے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ امریکہ سنگل عالمی سپرطاقت کے طورپر اپنے عزائم کی تکمیل میں کس حد تک کامیاب ثابت ہوگا۔ میری رائے یہ ہے کہ امریکہ کے خلاف صرف امریکہ کے اندر ہی نہیں،عالمی سطح پر مزاحمت کی سوچ پروان چڑھ رہی ہے۔ عبداللہ بداوی، مہاتیرمحمد ،احمدی نژاد،شاہ عبداللہ، بشارالاسد اور صدر پرویز مشرف جب یہ کہتے ہیں کہ امریکہ کو دہشت گردی کے خاتمے کیلئے طاقت کے استعمال کے بجائے دہشت گردی کے اسباب کو ختم کرنے پر توجہ دینی چاہئے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ امریکی اقدامات کو عالم ِ اسلام کی حد تک قبولیت کی سند حاصل نہیں ہے اور اگر کبھی آزمائش کا وقت آیا تو عالمِ اسلام کو چین اور دیگر اقوام کی طرف سے بھی حمایت اورتقوویت حاصل ہوجائے گی اور پھر دنیا میں دو بدوایک مقابلہ ہوگا، آئیے اس مقابلے کے لئے اپنے آپ کو تیار کریں۔#



    Powered by Control Oye