مشرف کی کتاب،،خوشنود علی خاں

قارئین محترم! جنرل پرویز مشرف کی کتاب کا اردو ترجمہ مارکیٹ میں ہے ، کل کراچی ایئرپورٹ سے میں نے یہ کتاب جس کا اردو ٹائٹل سب سے پہلے پاکستان ہے ،خریدی اور پڑھنا شروع کی ، میں اس کے پہلے 86صفحات اب تک بغور پڑھ چکا ہوں ، میں اس کتاب تسلسل سے لکھوں ۔۔ مثلاً اپنی کتاب کے پیش لفظ کی چوتھی لائن میں ہی جنرل پرویز مشرف نے لکھا ہے ، ”کبھی کبھی مجھے اپنی صاف گوئی اورلگی لپٹی باتیں نہ کرنے کے باعث سزائیں بھی ملیں ، بظاہر ان کی یہ صفت یا اچھائی بعض لوگوں کی نظر میں ان کی خامی ہے ، لیکن سچ کی بھی اپنی قوت ہوتی ہے ، اور اللہ بھی ہمیشہ سچ بولنے والوںکے ساتھ ہوتا ہے ۔۔۔لہذا انہیں اپنی خوبی کے نتیجے میں پہنچنے والے چھوٹے چھوٹے نقصانات پر ملال نہیں ہونا چاہئے ، ان کی اس خوبی نے انہیں فائدہ زیادہ اورنقصان کم دیا ہے ۔ بلکہ میں سمجھتاہوں کہ صاف گوئی اورلگی لپٹی نہ رکھنا ان کی بہت بڑی خوبی ہے ، اوراس نے ہمیشہ انہیں فائدہ دیا ہے ۔۔ کتاب میں پیش لفظ میںلکھا ہے ”پاکستان مختلف الاقسام افراد کا ملک ہے ۔ یہی بات زیادہ بہتر الفاظ میں لکھی جاسکتی تھی ، یقیناً یہ خامی ترجمہ کرنے والوں کی ہے اس طرح کتاب کے پیش لفظ میں صفحہ 12پر جنرل صاحب نے جو یہ لکھا کہ ہمارے ملک کا اکیسویں صدی کی آنے والی کہانی میں ایک خصوصی کردار ہے ، اور اس کے نتائج کے طور پر انہوں نے جو یہ لکھا کہ اس مدت میں مغرب اوراسلام دونوں کی مستقل ہیت بھی طے ہوگی ، اس میں 21ویں صدی میں پاکستان کے خصوصی کردار والی بات بہت اہم ہے اوراس کے صدر مملکت کے Visionکا انداز ہوتا ہے ، اوروہ ایک ایسے لیڈر کے طور پر ابھرتے ہیں جس کا پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے ایک Visionاورسوچ ہے ۔
قارئین محترم! صدر مملکت نے اپنی زندگی میں پیش آنے والے واقعات کے حوالے سے لکھا ہے کہ میںنے کئی بار موت کا سامنا کیا ، لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل میرے شامل حال رہا اورہر بار میں بچ نکلا ، میری دعا یہی ہے کہ میری زندگی ضرب المثل والی بلی کی نوزندگیوں سے زیادہ ہو پہلی بار 1961میں جب آم کے پیڑ کی ایک شاخ سے الٹا لٹکا ہوا تھا اورزمین پر گرا تو موت سے بچا ، میرے دوستوں نے سوچا تھا کہ میں ہلاک ہوچکا ہوں ۔۔
قارئین ! ایک ہوتا ہے موت سے بچنا ۔۔اورایک ہوتا ہے موت اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنا اورپھر بچ جانا جنرل پرویزمشرف کی زندگی میں ایسے کتنے ہی واقعات ہیں کہ موت انہیں چھو کر گزر گئی ، آگے چل کر ایسے بے شمار واقعات ہیں جنکا میں تذکرہ کروں گا۔۔ لیکن صدر مملکت جنرل پرویز مشرف نے جتنے واقعات بیان کیے ہیں ان سے مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے کوئی بڑا کام لینا ہے ۔۔ مثلاً کرنل اسلم چیمہ انہیں جس ہیلی کاپٹر سے منگلا کے قریب سے واپس لے جانا چاہتے تھے ۔۔وہ ہیلی کاپٹر راستے میں حادثے کا شکار ہوا۔۔ اوروہ محض اس وجہ سے بچ گئے کہ وہ ایک دوست سے برج کھیلنے لگ گئے تھے ۔۔ اسی طرح ہر بار اللہ تعالیٰ انہیں بچاتا رہا ۔۔۔انہوں نے چکلالہ میںبم دھماکوں سے بچ جانے کے جومناظر بیان کئے ہیں ان میں تیسرے حملہ آور کا ذکر کرتے ہوئے آخری فقرے میں لکھتے ہیں کہ وہ قتل وغارت کے کسی اورموقع کےلئے اپنے آپ کو بچا کر بھاگ گیا۔ اگر وہ اپنا کام چھوڑ کر نہ بھاگ گیا ہوتا تویقیناً مجھے ہلاک کرنے میں کامیاب ہوجاتا ، کیونکہ اس وقت میری گاڑی انتہائی بری حالت میں تھی اورمیں سکیورٹی کے بغیر تھا۔۔ اللہ کے راز اللہ ہی جانتا ہے ۔۔ یہی اللہ پر توکل ہے ۔ اورمیں سمجھتا ہوں کہ جنرل مشرف کی یہی بات اللہ کو پسند ہے ۔ دوسری اہم بات پاکستان سے محبت کی ہے ، جنرل پرویز مشرف نے اس کتاب کے باب ”پاکستان“میںاپنے خاندان کے پاکستان آنے کے جو واقعات اور صورت حال بیان کی ہے اس میں کسی بھی ایسے شخص کی جو خون کے اس دریا کو پار کرکے آیا ہو ۔ پاکستان سے محبت اوروفاداری پر ذرا برابر بھی شک نہیں کیا جاسکتا ۔۔ کہ اس خاندان نے پاکستان کا بائی چوائس انتخاب کیا جو خاندان ان حالات میں اپنی جان کے ساتھ پاکستان کی وزارت خارجہ کے سات لاکھ اس طرح بچا کرلایا کہ جہاں اپنی جان کے لالے پڑے ہوں ، وہان اپنی جان کے ساتھ حکومت کے سات لاکھ کی حفاظت کرنا ۔۔بھی جان جوکھوں کا اورکسی انتہائی ایماندار آدمی اورخاندان ہی کاکام ہے ، ان حالات میں یہ سات لاکھ پہنچانا کسی انتہائی ایماندار اورکمیٹیڈ آدمی کا کام ہوسکتا ہے ۔۔ جس سفر میں ہر لمحے اورہرسٹیشن پر حملے ہورہے ہوں ہرطرف لاشیں بکھری پڑی ہوں ۔ خون کے دریا میں سے گزر کرآنا پڑ رہا ہو، وہاں ہر لمحے ایک ایسا صندوق بچا کراورسنبھال کر رکھنا جس میں حکومت کے سات لاکھ ہوں ۔۔ایمانداری کی آخری حد پر پہنچا ہوا کوئی شخص ہی ایسا کرسکتا ہے ۔۔۔ اس سے اندازہ لگانا بہت آسان ہے کہ سید مشرف الدین انہیں بے مثال انسانوں میں سے ایک تھے ۔جن کی ملک اورنظریے سے کمٹمنٹ انتہا پر تھی۔۔
قارئین محترم ! جنرل پرویز مشرف خاندانی اعتبار سے بھی خاصے متمول خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔۔ لیکن انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ان کے والد سید مشرف الدین کی سرکاری نوکری اورکم آمدنی کی وجہ سے ان کی فیملی کو کن مشکلات کا سامنا تھا ۔۔اوران کی والدہ زرین کو یہ مالی کمی پوری کرنے کےلئے ملازمت کرنا پڑی تھی ۔۔ جنرل مشرف نے اپنی کتاب میں کچھ بھی خفیہ نہیں رکھا ۔۔لیکن ان کے خاندان کی خوبصورتی یہ ہے کہ انتہائی پڑھا لکھا خاندان جس نے اس روایت کو اب بھی برقرار رکھا ہوا ہے ۔۔ علم دوستی اس خاندان کی میراث ہے اس کا ذکر انہوں نے اپنے الفاظ میں ایک جگہ یوں کیا ہے کہ ”اپنے بچوں کو اچھی تعلیم وتربیت کی خواہش ہمارے خاندان کی سوچ کا مرکز رہی ہے ۔۔ یہ وہ اقدار ہیں جو ہمارے ہاں نسل درنسل چلی آرہی ہیں ۔ اور ہمارے والدین نے اپنے والدین کی طرح ہمارے ذہن نشین کردی ہیں۔
قارئین ! جنرل پرویز مشرف کا Credit یہ ہے کہ انہوں نے اپنی آزاد اورلااُبالی زندگی کا کوئی پہلو خفیہ نہیں رکھا ۔۔ان کی اس کتاب میں میرے لئے سب سے دلچسپی ان کے ایف سی کالج میں گزرے دوسالوں کے واقعات ہیں، انہوں نے ایف ایس سی ایف سی کالج سے کی ہے اورمیں نے گریجویشن ۔ میں جب ان کے ایف سی کالج میں گزرے دوسالوں کا تذکرہ پڑھ رہا تھا تو مجھے یوں لگا جیسے میں اپنی ہی کہانی پڑھ رہا ہوں، آشیانے سے پرواز “نامی باب میں ایف سی کالج اورمسٹر ڈتہ کا ذکر ۔پھر کینڈی ہال کا ذکر ، پھر مسٹر دتہ کی رات کو طلبہ کو بروقت ہاسٹل میں واپس آنے بروقت کمروں میں سوجانے کےلئے بطور وارڈن کوششیں ، پھر رات کو ریگل سینما فلم دیکھنے جانا اوربروقت ہاسٹل واپس نہ پہنچنے کی وجہ سے باہر مسجد میں سونا ۔۔مسٹر دتہ کے ڈسپلن اورسختی کی وجہ سے ”ٹائم بم “بنا کر انہیںڈرانے کا منصوبہ بنانا ۔۔اورپھر ان دھماکوں پر طلبہ سے تحقیق اورجنرل پرویزمشرف کا ازخود جا کر اس شرارت کاذمہ دار ہونے کا اقرار لینا اوربجائے کالج سے جنرل پرویز مشرف کو نکالنے کے مسٹر دتہ کا صرف یہ کہہ کرجانے دینا کہ آئندہ ایسانہیں کرنا ۔۔ میرے لئے یہ سارا باب اس لئے دلچسپ ہے کہ سالہا سال کے بعد اس باب نے ایف سی کالج کا پورا نقشہ آنکھوں کے سامنے گھما دیا ہے ، اورسب سے بڑھ کر یہ کہ انہوں نے جو یہ بیان کیا کہ لاہور میںکنیرڈ کالج کے (لڑکوں کا کالج )بیسیوں لڑکے چکر لگاتے تھے ۔۔ یہ ہمارے دورمیں بھی ایسے ہی تھا۔۔ کنیئرڈ کالج کو ایف سی کالج والے اپنا کزن کالج قرار دیتے تھے ۔جبکہ گورنمنٹ کالج والے لاہور کالج فارویمن کو ہمارے دورمیں کزن کالج قرار دیتے تھے ۔۔ اس باب کو پڑھ کر یوں لگا جیسے پرویز مشرف کے زمانہ طالب علمی سے ہمارے زمانہ طالب علمی تک کچھ بھی نہیں بدلا تھا ۔۔۔مجھے جو فرق نظر آیا وہ یہ کہ جنرل پرویز مشرف کی زیادہ توجہ کھیل کود میں تھی ۔۔ اورمیری ساری توجہ اس وقت بھی تحریر پر تھی ۔۔۔جنرل پرویز مشرف نے وہاں باڈی بلڈنگ کے مقابلوں میںسب سے زیادہ اسناد حاصل کیں ، اورمیں ایف سی کالج میں موجودگی کے دوران اس سال کا بہترین شاعر قرارپایا اورساتھ میں ایف سی کالج کے مجلے فولیو کا ایڈیٹر بنا ۔۔۔ میں بہت باتوں میں جنرل پرویز مشرف سے اپنی مماثلت دیکھتا تھا۔۔۔ ایف سی کالج میں ان کے گزرے دنوں کی کہانی پڑھ کر اندازہ ہوا کہ ایف سی کالج کے طلبہ کا ایک خاص مزاج بھی وہاں کے ماحول کی وجہ سے بن جاتا ہے ۔یہ کالج ان کی شخصیت سازی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے ،جنرل پرویز مشرف نے ایف سی کالج کے علاوہ میرے دوسرے کالج (اسلامیہ کالج سول لائنز ) کا ذکر بھی کیا ہے۔ میں نے وہاں سے ایم اے انگلش (زبان وادب ) کیا ۔ وہاں بھی فاران کا ایڈیٹر رہا ۔۔ میں نے جماعت اسلامی کے (اس وقت اسلامی جمعیت طلبہ) طیب گلزار کے مقابلے میں اسی کالج سے الیکشن بھی لڑا ۔ حالانکہ ہم خود بنیادی جماعتیے تھے ۔۔ مجھے یہ کالج بھی کبھی نہیں بھولا اوراس سے پہلے گورنمنٹ کالج وحدت روڈ جسے بعدمیں سپریئیر سانس کالج سے ملا کر سائنس کالج بنانے میں بھی ہماری بے پناہ ذاتی خدمات ہیں بھی ہمیں کبھی نہیں بھولا ۔
قارئین کرام ! جنرل پرویز مشرف کی کتاب بطور کتاب بہت زبردست ہے ۔ ۔۔میں انشاءاللہ جوں اسے پڑھتا رہوں گا۔۔ اس پر لکھتارہوں گا۔۔
قارئین ! اب کچھ دوسرے موضوعات دوروز قبل ان سطور میں محترمہ بےنظیر بھٹو اورمحترمہ کلثوم نواز کی واپسی کی باتیں خواجہ احمد طارق رحیم سے منسوب ہوگئیں۔ اصل میں وہ ان کی نہیں ، میری ذاتی معلومات تھیں۔۔ یہ وضاحت اس لئے ضروری سمجھی کہ یہ تو حقیقت ہے کہ خواجہ احمد طارق رحیم ملک کے چند باخبر لوگوں میں سے ایک ہیں لیکن یہ وہ گپ شپ ہے جو میری ذاتی معلومات اورتجزیہ پر منحصر تھیں۔ ان کا خواجہ احمد طارق رحیم سے کوئی تعلق نہ تھا۔۔ 
قارئین ! پی آئی اے ایک ادارہ ہے لیکن اس کے سابقہ اورموجودہ سربراہوں نے اس کی تباہی میں کوئی کسرنہیں رکھی ، پی آئی اے ایک بار پھر تباہی کے دہانے پر ہے ، اگر حکومت نے ایک بار پھر اس میں اربوں نہ ڈالا تو پی آئی اے دیوالیہ ہوسکتا ہے ، بہرحال ا س کی تباہی کے ذمہ داروں میں ایک موجودہ سربراہ جناب طارق کرمانی ہیں۔
قارئین ! گزشتہ شام جناب طارق کرمانی کراچی سے لاہور آئے اورانہوں نے رات کو وزیراعظم کے امریکہ جانے والے طیارے میں سوار ہونے کے پورے جتن کئے لیکن انہیں وزیراعظم کے طیارے میں سوار ہونے کی اجازت نہیں ملی کہنے والے کہتے ہیں کہ طارق کرمانی کا خیال تھا کہ وہ اگر وزیراعظم کے طیارے میں سوار ہونے میں کامیاب ہوجاتے تو کم از کم جتنے دن امریکہ میںرہیں گے ، اتنے دن کی توسیع انہیں مل جائے گی ، اور اس قیام کے دوران وہ وزیراعظم کو بھی اپنے عہدے پر برقرار رہنے کےلئے راضی کرلیں گے ۔۔ لیکن وزیراعظم کے طیارے میں سوار ہونے کےلئے حتمی فیصلے پی آئی اے کے عملے وزیراعظم اوران کے سکیورٹی حکام نے کرنا ہوتا ہے ۔ لہذا فیصلہ طارق کرمانی کے حق میں نہیں ہوسکا ، خیال ہے کہ اب کسی بھی وقت طارق کرمانی کی فراغت کافیصلہ ہوسکتاہے ، ان کی جگہ غالباً کوئی ریٹائرڈ جرنیل لے گا۔۔
قارئین محترم ! پی آئی اے کو جہاں تک ایک طرف دیوالیہ پن کا خطرہ ہے ، وہاں ہی پی آئی اے کے جہازوں کی حالت زار کے بارے میں یورپ کی طرف سے پابندی لگائے جانے کے بعد پاکستانی سول ایوی ایشن نے بھی ان جہازوں کی حالت کا پتہ چلانے کےلئے انسپکشن شروع کردی ہے ، میں 6نومبر کی شام کراچی سے اسلام آباد کےلئے اڑا تو اس پرواز کو سول ایویشن کی انسپکشن کی وجہ سے 25منٹ لیٹ کیا گیا، جب احمد سعید پی آئی اے کے چیئرمین تھے تو سول ایوی ایشن نے پی آئی اے کا کروڑوں معاف کیا تھا۔۔ اوراحمد سعید کی انسپکشن کے بغیر پی آئی اے کے قریب سول ایوی ایشن کا کوئی پرندہ پرنہیں مارسکتا تھا،وہ تھی پی آئی اے کی ترقی یہ ہے پی آئی اے کی پستی ورنہ پائلٹ اورکراچی میں پی آئی اے کا اسٹیشن منیجر دونوں سول ایویشن حکام سے یہ سوال کرتے کہ پرواز کی تیاری سے پہلے جب طیارہ ایئرپورٹ پرتھا تو اس وقت انسپکشن کیوں نہیں کی گئی ، اگرطارق کرمانی کو اپنی نوکری کے لالے نہ پڑے ہوتے تو طارق کرمانی اس پر سول ایوی ایشن کو ضرورسزا دلواتے لیکن اب اس پر میں کورٹ جاﺅں گا، اورفیصلہ کراﺅں گا کہ پی آئی اے غلط تھا یا سول ایوی ایشن۔
قارئین! خبریں توبڑی بڑی ہیں، لیکن آپ فی الحال دونام یاد رکھیں کہ جب بھی ملک میں کوئی اہم تبدیلی ہوگی توان دونوں ناموں میں کوئی ایک ضرور اہم ہوگا، دوناموں میں ایک صاحبزادہ یقعوب علی خان اورچیئرمین سی بی آر عبداللہ یوسف شامل ہیں۔



    Powered by Control Oye