صدارتی پروٹوکول ۔ اسداللہ غالب

 بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانے کے ایک کمرے میں غلام اسحاق خان کی تصویر رکھی ہوئی ہے۔ سامنے چینی نائب وزیرخارجہ سرجھکائے تعزیتی کتاب پر اپنے تاثرات قلم بند کرنے میں مصروف ہے۔ اس کے قلم سے بے ساختہ یہ جملہ نکل گیا ہے : ”چین ایک عظیم دوست سے محروم ہوگیا ۔“اس ایک فقرے کے پیچھے نجانے کتنی کہانیاں ہیں،کتنی سچائیاں ہیں۔ یہ فقرہ پاک چین دوستی کے لازوال ہونے کا مظہرہے اور اس ایک فقرے سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگر ہم اپنے کسی مرنے والے کو عزت دیں تو دنیابھی اس کی عزت و تکریم کے اظہار میں بخل سے کام نہیں لیتی۔
 غلام اسحاق خان نے بلا شبہ، پاکستان اور چین کے روابط کو مضبوط مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہوگا،لیکن یہ کردار پاکستان کے کسی ایک حکمران سے مخصوص نہیں،پاکستان کی ھیئتِ مقتدرہ میں شامل ہر شخص نے ہمیشہ چین کی قدرومنزلت کا احساس کیا ہے ۔ چین ،یحییٰ خان کے اس احسان کو کس طرح فراموش کرسکتا ہے جو اس نے ہنری کسنجر کے خفیہ دورہِ چین کی شکل میں ادا کیا تھا۔یہ امریکہ اور چین کا پہلا یا ضابطہ رابطہ تھااور اس کے لئے یحییٰ خان کے ذہنِِ رساءکی داد دی جانی چاہئے۔ میں یہاں پوری کہانی تو نہیں بیان کرسکتا،ایک بار پھر سابق آئی جی پولیس سردار محمد چودھری کی خودنوشت”جہانِِ حیرت“ کا حوالہ دوں گا جس میں اس سفارتی مہم جوئی کی داستان پڑھتے ہوئے باربار سانس رکنے لگتا ہے۔نوجوان سردار محمد چودھری راولپنڈی کے ایس ایس پی کی حیثیت سے کسنجر کی سیکورٹی پر مامور تھا۔ بتایا تو یہ گیا تھا کہ ہنری کسنجر علیل ہوگئے ہیں اور آرام کیلئے مری چلے گئے ہیں لیکن مری کے ریسٹ ہاﺅس میں ہنری کسنجر کو موجود نہ پاکر نوجوان ایس ایس پی کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے تھے۔ اس نے تھوڑی سی جستجو کی تو سربستہ راز کھلتے چلے گئے،لیکن اسے منہ بند رکھنے کی ہدایت کی گئی تھی کیونکہ ہنری کسنجر چک لالہ ائرپورٹ ہی سے دوسرے جہاز میں سوار ہوکر چین جاچکے تھے اور ان کی واپسی تک اس راز کی حفاظت کو یقینی بنانا چودھری سردار محمد کی ذمے داری تھی۔
 چین کے ساتھ قربت کے اظہار میں جناب بھٹو نے اس قدر جوش و خروش کا مظاہرہ کیا کہ ماﺅکیپ اور ماﺅکوٹ زیب تن کرلیا اور سوشلزم کو اپنے منشور میں شامل کرلیا۔ مسئلہ پاکستان اور چین کے روابط کا نہیں، بلکہ بات یہ ہے کہ اگر ہم اپنے ماضی کے حکمرانوںکی عزت کریں گے تو دنیا بھی ان کی عزت کرے گی اور اگر ہم اپنے زندہ اور مردہ حکمرانوں کو بے توقیر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑےں گے تو دنیا کو بھی ان کی عزت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
 چند روز پہلے مجھے چند احباب کے ہمراہ صدر محمد رفیق تارڑ کے گھر جانے کا اتفاق ہوا۔ وہ اپنے لان میں تشریف فرما تھے۔ہمارے لئے بھی وہیں کرسیاں منگوالی گئیں ۔جیسے جیسے سورج بلند ہوتا رہا، ہم کرسیاں سائے کی طرف کھینچتے رہے،حتیٰ کہ دھوپ نے پورے لان کا احاطہ کرلیا اور ہم ان کے ڈرائنگ روم میں جابیٹھے۔ میں نے کئی گھنٹوں کی اس ملاقات میں محسوس کیا کہ وہ میری موجودگی کی وجہ سے کھل کر اظہارِ خیال نہیں کررہے۔میرا خیال ہے کہ انہیں میری آمد بھی ناگوار گذری تھی،لیکن میں ایک تجربے سے گذرنا چاہتا تھا کہ ایک ایسا شخص جس کے خلاف لکھتا رہاہوں،اس سے ملاقات کرتے ہوئے کیسا لگتا ہے۔جناب تارڑ نے مجھے احساس دلانے کے لئے کسی اخبار نویس کا تذکرہ کیا جو ہمیشہ ان کیخلاف مغزماری کرتا رہتا تھا،ایک روز انہوں نے اس کے بیٹے کی علالت کی خبر پڑھی تو جھٹ سے فون اٹھایا اور ہرقسم کی امداد کی پیشکش کردی۔یہ تارڑ صاحب کا بڑا پن تھا۔
 اس مرحلہ پر میں نے ضروری سمجھا کہ میں اپنی پوزیشن کی وضاحت کردوں۔میں نے کہا کہ آپ کےخلاف میں نے ضرور لکھا ہے، آپ کو بہادرشاہ ظفر بھی قرارددیاہے ، لیکن اس میں میرا نہیں،آپ کے چاہنے والوں کا قصور ہے جو آپ کو آج تک آئینی صدرقرار دیتے چلے آرہے ہیں۔ میرے نزدیک آپ کی عزت ایک سابق صدر کے لحاظ سے کبھی ختم نہیں ہوسکتی۔ اس لئے کہ پوری دنیا میں یہ پروٹوکول ہے کہ آئینی عہدوں پر فائز ہونے والے اصحاب کو بعد از مرگ بھی تکریم دی جاتی ہے ۔ میں نے انہیں ذاتی تجربوںکے حوالے سے بتایا کہ مجھے چار مرتبہ امریکہ جانے کا اتفاق ہوا ہے اور اس دوران میں اگر کسی سابق گورنر سے ملاقات ہوئی ہے تو میں نے ان کا وہی پروٹوکول دیکھا جو ایک حاضر سروس گورنر کا ہوتاہے ۔ ھیوسٹن کی ایک تقریب میں گورنر ولسن سے ملاقات ہوئی۔جوصدر کینیڈی پر قاتلانہ حملے کے وقت ان کے ساتھ بیٹھے تھے۔ ان کو آج بھی گورنر ولسن کہا جاتا ہے۔ سان فرانسسکو میں ایک سابق گورنر براﺅن کو گورنر براﺅن کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ وہ اپنی پارٹی کی کیلی فورنیا شاخ کے ریاستی سربراہ بھی تھے۔
  سونامی کی تباہی ہویا امریکہ میں سمندری طوفانوں کی قیامت خیزی،امریکہ نے بحالی کے اقدامات اور فنڈ ریزنگ کے لئے جو بھی سرکاری ادارے قائم کئے،ان میں تمام سابق امریکی صدور کو شامل کیا گیا۔پاکستان میں زلزلے کے متاثرین کی آبادکاری کیلئے سابق امریکی صدر بش اور بل کلنٹن نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔ سابق صدر بش تو پہلے ہی پاکستان کا دورہ کرچکے ہیں اور اب بل کلنٹن پاکستان کے مہمان ہیں۔
 چند ماہ قبل میں نے لاہور کے انگریزی اخبار میں ایک خبرپڑھی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ پنجاب میں اس وقت پانچ ریٹائر چیف سیکرٹری موجود ہیں اورانہوں نے ایکاکرکے اپنے لئے حکومت سے وہ مراعات لے لی ہیں جو انہیں منصب پر ہوتے ہوئے حاصل تھیں۔ میں بیوروکریسی کا دشمن نہیں، اس کے مثبت کردار کا مداح ہوں لیکن اگر ہماری حکومت ریٹائرڈ بیوروکریٹس کا پروٹوکول بحال کرسکتی ہے تو کسی سابق صدر،سابق گورنر کو پروٹوکول مہیا کرنے میں کیا رکاوٹ ہے۔چند روز پہلے صوبہ سرحد کے سابق گورنر جنرل (ر)کے ایم اظہر اللہ کو پیارے ہوگئے۔اگر انہیں بھی سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن کردیا جاتا تو اس سے ہمارے ملکی وقارمیں اضافہ ہوتا۔ پاکستان میں صدر اور گورنر کا منصب آئینی ہے۔ صدارت کے منصب پر یحیٍیٰ خان فائز ہو یا محمد رفیق تارڑ اور گورنر کے منصب پر کے ایم اظہر کام کرچکے ہوں یا میاں محمد اظہر،ہمیں ان کے پروٹوکول کو ہمیشہ قائم رکھنا چاہئے۔میں ذاتی طور پر جناب تارڑ کو صدر تارڑ کہنے کیلئے تیار ہوں اور میاں اظہر کو آج بھی گورنر اظہر ہی کہتا ہوں۔ہوسکتا ہے باقی لوگ بھی ایسے ہی جذبات رکھتے ہوں،لیکن سیاسی تعصبات ان کی راہ میں حائل ہوں ، تو میری گذارش ہوگی کہ اگر آئینی عہدوں پر فائزرہنے والے اصحاب اپنے آپ کو متنازع نہ بنائیں تو وہ ہر پاکستانی کے دل میں زندہ وپائندہ رہیں گے۔
 پاکستانی فوج کے اندر ایک اچھی روایت ہے کہ اپنے ریٹائرڈ جوانوں اور افسروں کے پروٹوکول کو قائم رکھتی ہے۔ہمیں فوج بری لگتی ہے لیکن اس کی اچھائیوں کی تقلید کرنے میں کیا ممانعت ہے۔
 اپنے آپ سے یہ سوال پوچھئے کہ کیا آپ آج سے اپنے سابق آئینی حکمرانوں کو عزت و احترام دینے کیلئے تیار ہیں....؟؟؟ اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو مجھے یقین ہے کہ آپ اپنے ہر پیش رو کی عزت میں بھی کبھی فرق روا نہیں رکھیں گے۔
٭٭



    Powered by Control Oye