باجوڑ کے آنسو۔۔اسداللہ غالب

 کمزور قو م کا قلم کار باجوڑ کے سانحے پر صرف آنسو بہا سکتا ہے۔اس کا نوحہ لکھ سکتا ہے یا اپنے حکمرانوں کے خلاف دشنام طرازی کر سکتا ہے جبکہ طاقتور اقوام کے قلم کار شاہنامے تخلیق کرتے ہیں۔باجوڑ کی کربلا پر میرا قلم خونچکاں ہے۔قلم کے اعصاب شل ہو گئے ہیں۔قلم کا یہی حال"قانا"کے معصوم بچوں کے جسموں کے لوتھڑے اُڑنے پر ہوا تھا اور جب ڈھاکہ میں16دسمبر1971ءکو پاکستان کے اقتدار اعلیٰ کا آدھا حصہ سرنڈر کیا گیا تو میرا قلم جیسے مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔
 باجوڑ پر بمباری کا 'کھرا"امریکی افواج کی طرف جاتا ہے۔یہ ڈوما ڈولا کا ایکشن ری پلے ہے۔امریکہ جانتا ہے ہم پاکستانی چند روز تک بیان بازی کریں گے۔ اس کو گالیاں دیں گے یا اپنی ہی حکومت کے لتے لیں گے اور پھر ہماری چمکتی دمکتی کاریں لبرٹی،ڈیفنس،جناح سپر اور طارق روڈ کی بھیڑ میں پھنسنا شروع ہو جائیں گی۔ہمارے فائیو سٹار ہوٹلوں میں کھوے سے کھوا چھلتا رہے گا۔ہمارے سیاستدان باہمی آویزش کی دلدل میں دھنسیںرہیں گے ۔ یہ بے حسی کی کیفیت ہے۔اسی کیفیت کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے سپین کی مسلم سلطنت کا وجود ہمیشہ کے لئے مٹا دیا گیا تھا۔بغداد میں ہمارے دانشور منطق بگھارنے میں مصروف تھے کہ چنگیز اور ہلاکو خاں نے دجلہ وفرات کو خون مسلم سے رنگین کر دیا۔ ہمارے کتب خانے جلا دیے گئے۔چنگیز اور ہلاکو خاں کی آمد کے وقت ہمارے دانشوروں کے نزدیک اہم ترین بحث یہ تھی کہ کوے کی چونچ حلال ہے یا حرام۔اس سے پہلے کہ یہ بحث کسی نتیجے پر پہنچتی وسط ایشیا کے جنگجووںنے ان دانشوروں سمیت لاکھوں مسلمانوں کے گلے پر چھریاں پھیردیں اور ان کی کھوپڑیوں کے ڈھیر پر اقتدار کا تخت سجایا۔
 ±±±±±± ±±ققنس اپنی آگ میں جل مرتا ہے اور پھر اپنی ہی راکھ کے ڈھیر سے دوبارہ زندہ ہو جاتا ہے لیکن ہر پرندہ تکہ شاپ کے کوئلوں میں دہکنے کے بعد زندہ ہونے پر قادر نہیں۔ملٹن نے بھی پیرا ڈائز لاسٹ یا جنت گم گشتہ کا نوحہ لکھا۔ا س کی قوم نے انگڑائی لی اور اس جنت گُم گشتہ کو پانے کی کامیاب کوشش کی۔ ہم مسلمان اپنے ماضی کے خوابوں میں مخمور رہتے ہیں۔مستقبل کے خواب بھی دیکھتے ہیں لیکن ہمارے مفکروں اور رہنماﺅں پر خود واضح نہیں کہ ہم کیا ہیں۔ کبھی کہتے ہیں:ھندی ہیں ہم ،وطن ہے سارا جہاں ہمارا،اور پھر دوسرے سانس میں کہتے ہیں:۔مسلم ہیں ہم،وطن ہے سارا جہاں ہمارا۔کبھی وہ ہندو مسلم بھائی بھائی کے لکھنو پیکٹ پر دستخط کرتے ہیں اور کبھی وہ دو قومی نظریے پر ا ڑجاتے ہیں۔ میں پھر بھی کہتا ہوں کہ محمد علی جناح کا وجود ہمارے لئے غنیمت تھا۔ سرنگا پٹم کی فصیل کے قدموں میں ٹیپو سلطان کی لاش گری تو قائد اعظم ؒ نے اُس کے خون کی حرارت سے ہندوستانی مسلمانوں کے منجمد جذبات کو گرمایا اور پاکستان کی شکل میں ایک آزاد خطہ حاصل کیا۔
 آج ایک نہیں سینکڑوں قائد اعظموں کی ضرورت ہے۔انڈونیشیا سے مراکش تک ، چاڈ سے ترکی تک ہر مسلمان ملک کو قائد اعظم کی رہنمائی درکار ہے۔میں پھر بتا دوں ایسے قائد اعظم کی ضرورت ہے جس نے ایجی ٹیشن کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ جس نے سیاسی،جمہوری،آئینی جدوجہد سے انگریز سامراج کے چنگل سے نجات دلوائی۔ایسا قائد اعظم جو جلاﺅ گھیراﺅ ،قید و بنداور دھرنوں کی سیاست سے بیزار تھا۔جو اس قدر روشن خیال ،معاملہ فہم ، مدبر اور لبرل تھا کہ اس نے اعلان کیا کہ پاکستان بن گیاہے،اب کوئی ہندو ،ہندو نہیں اور کوئی عیسائی،عیسائی نہیں،قانون اور آئین کی رُو سے سب برابر کے شہری اور مساوی حقوق کے مالک ہیں۔
 ہمیں آج یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمارے زوا ل اور ہمارے ادبارکی وجہ صرف ہماری پسماندگی اور جہالت ہے۔ ہم ٹیکنالوجی سے عاری ہیں۔ ہم دُنیا کی سپر پاور اُس وقت تھے جب ہم علوم و فنون میں پیش پیش تھے۔ ٹیکنالوجی پر ہمارا عبور تھا۔سائنس اورانجینرنگ میں ہمیں کمال حاصل تھا۔ جب دشمن ہاتھیوںاور گھوڑوں تک محدود تھا لیکن ہم توپ کا گولہ ایجاد کر چکے تھے ۔ جب ہمارا حریف کشتی کے تصور سے نا آشنا تھا اور ہم بحری بیڑوں کے مالک تھے اور دنیا کے سمندروں پر ہمارا پھریرا لہراتا تھا۔
 نجانے کیوں ہم خواب غفلت میں مدہوش ہو گئے۔ ہم نے کبھی انگرائی لی تو حکمرانوں کی ساحری نے ہمیں تھپکی دے کر پھر سے سلا دیا۔اس اثناءمیں ہمارے ابن رشد،ابن سینا، ابن خلدون کی خوشہ چینی کر کے اہل مغرب نے اپنے اندھیروں کو اُجالنے میں کامیابی حاصل کی۔ آج ہم سائنس،حکمت،میڈیسن،ٹیکنالوجی، سافٹ ویئر، انجینئرنگ غرضیکہ ہر شعبے میں اہل مغرب اور امریکہ سے جغرافیائی مسافت کی دوری پر واقع ہیں۔
 میں نہیں کہتا کہ ہمیں اس زبوں حالی کا شکار رہنا چاہیے اور سراُٹھانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے لیکن اس کے لئے یہ اسٹریٹیجی میری نظر میں شاید کارگر ثابت نہیں ہو سکتی کہ ہم میدان جنگ میں ان کو زیر کریں اور ان کو اپنی کالونیوں میں شامل کرنے کی کوشش کریں۔اہل مغرب نے ہمیں کالونیوں میں تبدیل کر لیا تھا لیکن یہ قبضہ برقرار نہ رکھا جا سکا۔ دارا و سکندر نے ساری دنیا فتح کر ڈالی لیکن سرحد یںروندنے سے کوئی ایمپائر لازوال ثابت نہیں ہو سکی۔پائیداری،ثبات اور استحکام کے لئے عقل و شعور کی ترقی ضروری ہے۔
 کیا باجوڑ اور ڈما ڈولا جیسے سانحوں کی صورت میں ہمیں آنکھیں بند کر کے امریکہ سے ٹکرا جانا چاہیے۔ کیا ہمیں چیچنیا، عراق،افغانستان،فلسطین اور کشمیر کی طرح ایک خون کے سمندر میں کود جانا چاہیے۔ کیا ہم جسموںسے بند باندھ لیں۔کیا فاسٹ فوڈ ریستورانوں ،شراب خانوں ،ساحلی تفریح گاہوں اور بلند و بالا عمارتوں سے ٹکرا کر ہمیں اپنے آپ کو اور سینکڑوں بے گناہوں کو بھک سے اُڑا دینا چاہیے۔
 ریگستانوں میں جب بگولے آسمان کی بلندی کو چھونے لگتے ہیں۔ سر بفک چوٹیوں پر جب مسلسل برفباری شروع ہو جاتی ہے ۔راہ چلتے جب تیز آندھیاں اور طوفان غرانے لگتے ہیں۔ جب دریاﺅں کے بند ٹوٹ جاتے ہیں تو عقل کا راستہ کیا ہے۔ بلا شبہ طوفان گزر جانے کاانتظار انسانی جبلت میںشامل ہے۔
 باجوڑ،ڈما ڈولا میں جو کچھ ہوا ،اس پر ہمیں بھرپور احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے۔پورے کرہ ارض کے کروڑوں انسان عراق میں امریکی افواج کے ہاتھوں قتل عام پر ہر روز احتجاج کرتے ہیںجس سے امریکی رائے عامہ اس قد رتقسیم ہو گئی ہے کہ صدر بش کو دو روز پہلے یہ کہنا پڑا ہے کہ ڈیموکریٹس کی جیت در اصل دہشت گردوں کی جیت کے مترادف ہے۔اب امریکہ گھر کی آگ میں بھسم ہونے کو ہے،یہ سانپ زخم خوردہ ہے،کیا اس کیفیت میں ہمیں اس سے چھیڑ چھاڑ کرنی چاہیے یا اس کے خلاف بھرپور احتجاج کرکے اس کو احساس دلانا چاہیے کہ وہ پاکستانی اور پوری مسلم دُنیا کے ساتھ انصاف نہیں کر رہا۔
 اور اگر ہم اس کے خلاف لڑنا چاہتے ہیں تو بسم اللہ! اپنی طاقت کا جائزہ لے لیجئے۔ کرنل قذافی،حسنی مبارک ،شاہ عبداللہ،بشار الاسد،عبداللہ بداوی ، احمدی ننژاداور جنرل مشرف کو کسی ایک جگہ پر سر جوڑ کر سوچنا چاہیے وہ قاضی حسین احمد، اسامہ بن لادن ، ملا عمر ، ایمن الزواہری،جنرل حمید گل کو بھی کہیں سے ڈھونڈھ لیں اور مشاورت میں شریک کر لیں اور پھر مسلم دنیا کو اس اعتماد میں لیںکہ امریکہ اور مغرب کے مقابل ان کی حیثیت کیا ہے۔اگر وہ شاہباز کی طرح جھپٹنے کے قابل ہیں تو بزن کا حکم دیں ورنہ ممولے کو بچانے کی فکر کریں۔



 ±±±±±± ±±ققنس اپنی آگ میں جل مرتا ہے اور پھر اپنی ہی راکھ کے ڈھیر سے دوبارہ زندہ ہو جاتا ہے لیکن ہر پرندہ تکہ شاپ کے کوئلوں میں دہکنے کے بعد زندہ ہونے پر قادر نہیں۔ملٹن نے بھی پیرا ڈائز لاسٹ یا جنت گم گشتہ کا نوحہ لکھا۔ا س کی قوم نے انگڑائی لی اور اس جنت گُم گشتہ کو پانے کی کامیاب کوشش کی۔ ہم مسلمان اپنے ماضی کے خوابوں میں مخمور رہتے ہیں۔مستقبل کے خواب بھی دیکھتے ہیں لیکن ہمارے مفکروں اور رہنماﺅں پر خود واضح نہیں کہ ہم کیا ہیں۔ کبھی کہتے ہیں:ھندی ہیں ہم ،وطن ہے سارا جہاں ہمارا،اور پھر دوسرے سانس میں کہتے ہیں:۔مسلم ہیں ہم،وطن ہے سارا جہاں ہمارا۔کبھی وہ ہندو مسلم بھائی بھائی کے لکھنو پیکٹ پر دستخط کرتے ہیں اور کبھی وہ دو قومی نظریے پر ا ڑجاتے ہیں۔ میں پھر بھی کہتا ہوں کہ محمد علی جناح کا وجود ہمارے لئے غنیمت تھا۔ سرنگا پٹم کی فصیل کے قدموں میں ٹیپو سلطان کی لاش گری تو قائد اعظم ؒ نے اُس کے خون کی حرارت سے ہندوستانی مسلمانوں کے منجمد جذبات کو گرمایا اور پاکستان کی شکل میں ایک آزاد خطہ حاصل کیا۔
 آج ایک نہیں سینکڑوں قائد اعظموں کی ضرورت ہے۔انڈونیشیا سے مراکش تک ، چاڈ سے ترکی تک ہر مسلمان ملک کو قائد اعظم کی رہنمائی درکار ہے۔میں پھر بتا دوں ایسے قائد اعظم کی ضرورت ہے جس نے ایجی ٹیشن کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ جس نے سیاسی،جمہوری،آئینی جدوجہد سے انگریز سامراج کے چنگل سے نجات دلوائی۔ایسا قائد اعظم جو جلاﺅ گھیراﺅ ،قید و بنداور دھرنوں کی سیاست سے بیزار تھا۔جو اس قدر روشن خیال ،معاملہ فہم ، مدبر اور لبرل تھا کہ اس نے اعلان کیا کہ پاکستان بن گیاہے،اب کوئی ہندو ،ہندو نہیں اور کوئی عیسائی،عیسائی نہیں،قانون اور آئین کی رُو سے سب برابر کے شہری اور مساوی حقوق کے مالک ہیں۔
 ہمیں آج یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمارے زوا ل اور ہمارے ادبارکی وجہ صرف ہماری پسماندگی اور جہالت ہے۔ ہم ٹیکنالوجی سے عاری ہیں۔ ہم دُنیا کی سپر پاور اُس وقت تھے جب ہم علوم و فنون میں پیش پیش تھے۔ ٹیکنالوجی پر ہمارا عبور تھا۔سائنس اورانجینرنگ میں ہمیں کمال حاصل تھا۔ جب دشمن ہاتھیوںاور گھوڑوں تک محدود تھا لیکن ہم توپ کا گولہ ایجاد کر چکے تھے ۔ جب ہمارا حریف کشتی کے تصور سے نا آشنا تھا اور ہم بحری بیڑوں کے مالک تھے اور دنیا کے سمندروں پر ہمارا پھریرا لہراتا تھا۔
 نجانے کیوں ہم خواب غفلت میں مدہوش ہو گئے۔ ہم نے کبھی انگرائی لی تو حکمرانوں کی ساحری نے ہمیں تھپکی دے کر پھر سے سلا دیا۔اس اثناءمیں ہمارے ابن رشد،ابن سینا، ابن خلدون کی خوشہ چینی کر کے اہل مغرب نے اپنے اندھیروں کو اُجالنے میں کامیابی حاصل کی۔ آج ہم سائنس،حکمت،میڈیسن،ٹیکنالوجی، سافٹ ویئر، انجینئرنگ غرضیکہ ہر شعبے میں اہل مغرب اور امریکہ سے جغرافیائی مسافت کی دوری پر واقع ہیں۔
 میں نہیں کہتا کہ ہمیں اس زبوں حالی کا شکار رہنا چاہیے اور سراُٹھانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے لیکن اس کے لئے یہ اسٹریٹیجی میری نظر میں شاید کارگر ثابت نہیں ہو سکتی کہ ہم میدان جنگ میں ان کو زیر کریں اور ان کو اپنی کالونیوں میں شامل کرنے کی کوشش کریں۔اہل مغرب نے ہمیں کالونیوں میں تبدیل کر لیا تھا لیکن یہ قبضہ برقرار نہ رکھا جا سکا۔ دارا و سکندر نے ساری دنیا فتح کر ڈالی لیکن سرحد یںروندنے سے کوئی ایمپائر لازوال ثابت نہیں ہو سکی۔پائیداری،ثبات اور استحکام کے لئے عقل و شعور کی ترقی ضروری ہے۔
 کیا باجوڑ اور ڈما ڈولا جیسے سانحوں کی صورت میں ہمیں آنکھیں بند کر کے امریکہ سے ٹکرا جانا چاہیے۔ کیا ہمیں چیچنیا، عراق،افغانستان،فلسطین اور کشمیر کی طرح ایک خون کے سمندر میں کود جانا چاہیے۔ کیا ہم جسموںسے بند باندھ لیں۔کیا فاسٹ فوڈ ریستورانوں ،شراب خانوں ،ساحلی تفریح گاہوں اور بلند و بالا عمارتوں سے ٹکرا کر ہمیں اپنے آپ کو اور سینکڑوں بے گناہوں کو بھک سے اُڑا دینا چاہیے۔
 ریگستانوں میں جب بگولے آسمان کی بلندی کو چھونے لگتے ہیں۔ سر بفک چوٹیوں پر جب مسلسل برفباری شروع ہو جاتی ہے ۔راہ چلتے جب تیز آندھیاں اور طوفان غرانے لگتے ہیں۔ جب دریاﺅں کے بند ٹوٹ جاتے ہیں تو عقل کا راستہ کیا ہے۔ بلا شبہ طوفان گزر جانے کاانتظار انسانی جبلت میںشامل ہے۔
 باجوڑ،ڈما ڈولا میں جو کچھ ہوا ،اس پر ہمیں بھرپور احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے۔پورے کرہ ارض کے کروڑوں انسان عراق میں امریکی افواج کے ہاتھوں قتل عام پر ہر روز احتجاج کرتے ہیںجس سے امریکی رائے عامہ اس قد رتقسیم ہو گئی ہے کہ صدر بش کو دو روز پہلے یہ کہنا پڑا ہے کہ ڈیموکریٹس کی جیت در اصل دہشت گردوں کی جیت کے مترادف ہے۔اب امریکہ گھر کی آگ میں بھسم ہونے کو ہے،یہ سانپ زخم خوردہ ہے،کیا اس کیفیت میں ہمیں اس سے چھیڑ چھاڑ کرنی چاہیے یا اس کے خلاف بھرپور احتجاج کرکے اس کو احساس دلانا چاہیے کہ وہ پاکستانی اور پوری مسلم دُنیا کے ساتھ انصاف نہیں کر رہا۔
 اور اگر ہم اس کے خلاف لڑنا چاہتے ہیں تو بسم اللہ! اپنی طاقت کا جائزہ لے لیجئے۔ کرنل قذافی،حسنی مبارک ،شاہ عبداللہ،بشار الاسد،عبداللہ بداوی ، احمدی ننژاداور جنرل مشرف کو کسی ایک جگہ پر سر جوڑ کر سوچنا چاہیے وہ قاضی حسین احمد، اسامہ بن لادن ، ملا عمر ، ایمن الزواہری،جنرل حمید گل کو بھی کہیں سے ڈھونڈھ لیں اور مشاورت میں شریک کر لیں اور پھر مسلم دنیا کو اس اعتماد میں لیںکہ امریکہ اور مغرب کے مقابل ان کی حیثیت کیا ہے۔اگر وہ شاہباز کی طرح جھپٹنے کے قابل ہیں تو بزن کا حکم دیں ورنہ ممولے کو بچانے کی فکر کریں۔

'>
    Powered by Control Oye