دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے اقدامات

دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے اقدامات............     تحریر: سبط علی
اہل وطن کو اس حقیقت کا بخوبی علم ہے کہ قومی ترقی اور عوام کی خوشحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ دہشت گردی کا وہ سلسلہ ہے جس نے 18کروڑ عوام کو حیران و ششدر کر رکھا ہے لیکن جس کے مستقل حل کی خاطر موجودہ حکومت انتہائی متحرک اور سرگرم ہے ۔ اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ پہلے تو ایک آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی ) کا انعقاد کیا گیا جس میں سیاسی اور عسکری قیادت نے اس امر پر اتفاق رائے کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں۔ اس سلسلہ میں یہ عندیہ بھی برملا اور دو ٹوک الفاظ میں دیا گیا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا راستہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے ۔ اگرچہ اس باب میں فوری طور پر کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی لیکن یہ فائدہ ضرور ہوا ہے کہ رائے عامہ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی اہمیت اور افادیت کا ادراک کیا اور دوسری طرف طالبان کی طرف سے مسلسل دہشت گردی کے واقعات نے یہ احساس اجاگر کیا کہ طالبان مذاکرات کے بارے میں سنجیدگی اور متانت کا خاطر خواہ مظاہرہ نہیں کر رہے ۔ اس عنوان سے غور و فکر کرنے والے مبصرین اور تجزیہ کار یہ مشاہدہ کرتے ہوئے اپنی حیرت کا اظہار ضرور کرتے ہیں کہ ایک طرف تو طالبان اور دہشت گرد عناصر غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کے لئے آمادہ دکھائی دیتے ہیں لیکن دوسری طرف وہ پاکستان کے ساتھ ناقابل فہم حد تک غیر حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں ۔
دہشتگردی کے خلاف حکومت نے حقیقت پسندانہ اور انتہائی با اصول مو?قف اختیار کر رکھا ہے ۔ ایک طرف تو وہ ان عناصر کے خلاف برسر پیکار ہے جو اسلام کے مقدس نام کو استعمال کرتے ہوئے بے گناہ اور بے قصو رعوام کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ رہے ہیں اور دوسری طرف وہ ان عناصر کے ساتھ بات چیت کے لئے تیار ہے جو ہتھیار پھینک کر مسئلہ کا قابل عمل حل تلاش کرنا چاہتے ہیں۔ حکومت نے آل پارٹیز کانفرنس کے موقع پر واضح کیا تھا کہ وہ امن و امان کی صورت حال کو خراب کرنے اور قانون کو اپنے ہاتھوں میں لینے والے عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹے گی ۔ اسی حکمت عملی کے تحت کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن شروع کیا گیا جس کے نتائج تیزی سے سامنے آ رہے ہیں ۔ اسی ہفتے کے دوران (جمعرات کے روز ) صدر مملکت نے انسداد دہشتگردی ترمیمی آرڈیننس پر دستخط کر دیئے ہیں۔ ترمیمی آرڈیننس کے تحت جیلوں میں موبائل فون الیکٹرانک آلات کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ الیکٹرانک ڈیوائس کے شواہد بطور شہادت قبول ہوں گے۔ کراچی آپریشن کا نیا مرحلہ شروع ہو گیاہے۔ رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید اختیارات دے دیئے گئے ہیں۔ کراچی کی مخصوص صورتحال کے تحت سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے انسداد دہشت گردی کا نیا قانون لایا گیا جس کی گزشتہ ہفتے وفاقی کابینہ نے منظوری دی تھی۔ نئے قانون کے ذریعے اور سول انتظامیہ کی مدد کیلئے رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مجرموں کے خلاف موثر کارروائی کے لئے مزید اختیارات دے دیئے گئے ہیں۔ نئے قانون کے تحت اب رینجرز کو کراچی میں ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور دہشت گردی میں ملوث افراد کو نظر بند کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ پہلے نظر بندی کا اختیار صرف وفاقی حکومت کے پاس تھا لیکن اب جرائم پیشہ افراد کو رینجرز تین ماہ کیلئے نظر بند کر سکیں گے۔ کراچی آپریشن کے دوران پکڑے گئے افراد سے تحقیقات کے لئے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (JIT) تشکیل دی جائے گی۔ کراچی کے ہر ضلع میں ایک سپیشل پولیس سٹیشن بنے گا جہاں کراچی آپریشن میں پکڑے گئے افراد کو رکھا جائے گا اورجہاں پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ان افراد سے تحقیقات کرے گی۔ سپیشل پولیس سٹیشن رینجرز اور پولیس کے مشترکہ کنٹرول میں کام کریں گے۔ کراچی آپریشن میں پکڑے گئے ملزموں کے خلاف مقدمہ کی کارروائی 7 روز میں مکمل کی جائے گی اور اگر مقدمے کی کارروائی سات روز میں مکمل نہ ہوئی تو چیف جسٹس کو کارروائی میں تاخیر کی وجوہات سے آگاہ کرنا لازمی ہو گا۔ نئے قانون کے ذریعے کراچی آپریشن کے ملزموں کے خلاف مقدمہ کی سماعت کے دوران سپیشل پراسکیوٹر، ججز اور گواہوں کو پردے میں رکھنے کیلئے سکرین استعمال کی جائے گی۔ گواہوں کے تحفظ کا نیا نظام قائم ہو گا الیکٹرانک شواہد بھی قابل قبول ہوں گے۔ قانون کے تحت دہشت گردوں، بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز کے خلاف تحقیقات اور مقدمے صرف کراچی میں نہیں چلائے جائیں گے بلکہ ملک میں کسی بھی دوسرے مقام پر تحقیقات اور مقدمے منتقل ہو سکیں گے۔ ویڈیو لنک کے ذریعے مقدمہ کی کارروائی چلائی جا سکے گی۔
دریں اثناءگورنر ہاﺅس پشاور میں پشاور چرچ اور قصہ خوانی دھماکوں کے متاثرین اور لواحقین کے نمائندہ وفود سے ملاقات کے دوران گفتگو اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ہم طالبان سے خلوص نیت کے ساتھ مذاکرات چاہتے ہیں۔ دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے ، کراچی میںحالات ایسے ہیں کہ جج بھی فیصلہ کرنے سے ڈرتے ہیں۔ دہشت گردی اور بد امنی پر قابو پانے کے لئے نہ صرف عملی اقدامات شروع کئے بلکہ ضروری قانون سازی بھی کی جا رہی ہے ۔ امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، مسیحی برادری اور ان کی عبادت گاہوں کے تحفظ کے لئے تمام اقدامات کئے جائیں گے۔ وزیراعظم نے پشاور چرچ دھماکے کے متاثرین کیلئے 20 کروڑ روپے سے ٹرسٹ کے قیام اور قصہ خوانی دھماکے کے متاثرین کیلئے 5 کروڑ روپے امداد کا اعلان بھی کیا ۔انہوں نے وفد کو یقین دلایا کہ پاکستان میں غیر مسلموں کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں ہو گا اور انہیںوہ تمام حقوق حاصل ہو ں گے جو ملک میں آباد مسلمانوں کو حاصل ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہے، وہ ہر مذہب اور قوم کے معصوم افراد کو دہشت گردی کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔ حکومت سیکورٹی کے اقدامات سے غافل نہیں ہے۔ شرپسند عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے تمام تر ریاستی وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف مقدمات چلانے کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں اور مجرموں کی ضمانت نہیں ہو سکے گی ۔
 وزیراعظم نے کہا کہ کراچی کے حالات پر قابو پانے کے لئے آپریشن شروع کر دیا گیا ہے جس کے مثبت نتائج ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں ۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے قوانین بھی بنائے جا رہے ہیں ، قانون سازی کا عمل مکمل ہوتے ہی یہ قوانین نافذ کر دئےے جائیں گے ۔ غیر معمولی حالات سے نمٹنے کے لئے غیر معمولی اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امن و امان کے حوالے سے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے انسداد دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے انسداد دہشت گردی فورس قائم کی جائے گی جس کو نہ صرف خصوصی تربیت دی جائے گی بلکہ انہیں دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے جدید ہتھیار بھی فراہم کئے جائیں گے ۔ دس سال سے جاری دہشت گردی کی لہر پر قابو پانا اتنا آسان کام نہیں لیکن اس کے باوجود حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہر ممکنہ اقدامات کر رہی ہے جس سے ملک میں امن قائم ہو گا اور ترقی کا دور شروع ہو گا ۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ڈرون حملے ملک کی خود مختاری، سا لمیت اور آزادی کے منافی ہیں اور یہ فوری بند ہونے چاہئیں۔ موجودہ حکومت نے معیشت کے استحکام کے لئے ہنگامی طو رپر اقدامات کئے ہیں۔ ملک کے لئے ایک انرجی پالیسی اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات کو خوش اسلوبی سے طے کیا گیا ہے، حکومت نے نوجوانوں کے لئے خصوصی سکیموں کا اجراءکیا ہے اور اب 20 لاکھ روپے تک کے قرضوں کے ذریعے نوجوان باعزت روزگار حاصل کر سکیں گے۔ حکومت نے اس کے علاوہ بھی نوجوانوں کے لئے کئی منصوبے شروع کئے ہیں جن کی تکمیل سے ملک اقتصادی طور پر مضبوط ہو جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ سخت ترین مالی بحران اور حکومت کا خزانہ خالی ہونے کے باوجودموجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی پانچ سو ارب روپے کے گردشی قرضوں کی ادائیگی کی جومعمولی قدم نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لئے خصوصی اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور پالیسیاں بنائی گئی ہیں جن کے نتیجہ میں آئندہ پانچ سال کے دوران لوڈشیڈنگ ختم کر دیا جائے گا۔
وزیراعظم نواز شریف نے جن خیالات کا اظہار کیا ان سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ حقیقی معنوں میں عوام کے احساسات کی ترجمانی کے مترادف ہے ۔ امن و امان کو بحال کئے بغیر ترقی کے پہیہ کو گردش میں نہیں رکھا جا سکتا ۔ جب تک شہریوں کو اپنے جان و مال کے تحفظ کا یقین نہیں ہو گا وہ اپنا سماجی اور معاشی کردار بھرپور انداز میں ادا نہیں کر سکتے ۔ کراچی کے احوال پر ہر محب وطن کو بجا طور پر ملال اور رنج ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ نہایت حوصلہ افزاءواقعہ ہے کہ اہل وطن نے اپنے رنج اور ملال کو اپنی طاقت میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے ۔حکومت نے بھی یہ طے کر لیا ہے کہ وہ دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے سامنے کبھی سرنگوں نہیں ہو گی بلکہ وہ ان عناصر کو کیفر کردار تک پہنچا کر ہی دم لے گی ۔ صدر مملکت کی طرف سے انسداد دہشت گردی ترمیمی آرڈیننس کی منظوری اور پشاور میں وزیراعظم کی گفتگو اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔
٭٭٭



    Powered by Control Oye