ریل اور ریل پیل

وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ اگر ریلوے کی نجکاری کی گئی تو میں وزارت سے استعفیٰ دے دوں گا اور کوئی دوسری وزارت قبول نہیں کروں گا۔ ایک چیلنج کے طور پر یہ محکمہ مجھے دیا گیا ہے میں اسے بحال کروں گا، ایک عزم اور دردمندی خواجہ صاحب کے لہجے میں تھی۔ ان کی باڈی لنگوئج بھی ان کی باتوں کا ساتھ دے رہی تھی۔ ریل کی پٹڑی کے ساتھ سڑک بھی جا رہی تھی تو خواجہ صاحب کا دھیان اس طرف بھی گیا یہ تو ریلوے کی جگہ ہے۔
 شاید خواجہ صاحب ابھی پوری طرح نہیں جانتے کہ ریلوے مافیا کب سے اور کہاں کہاں متحرک ہے۔ پچھلے کئی برسوں سے جو ریلوے کا حال ہوا ہے وہی حال پاکستان کا ہوا ہے اور یہ حکمرانوں سیاستدانوں اور ?افسرانوں? نے کیا ہے جو افسر ہر حکمران کا چہتا ہوتا ہے اس کے لئے افسران بالا کا لفظ مناسب نہیں ہے۔ اسے افسران تہہ و بالا کہنا چاہیے۔ شریف برادران ایسے ہی افسروں بلکہ افسرانوں پر انحصار کرتے ہیں جو سیاستدانوں سے زیادہ سیاستدان ہوتے ہیں، بہرحال ریلوے کا حال بہتر ہوا ہے ورنہ پاکستان میں لوگ بے چارے بدحال بھی ہیں اور بے حال بھی ہیں۔
 ریلوے افسران افسروں کی انوکھی مخلوق ہیں۔ ریلوے کی زمین پر قبضہ کرنے والے بہت طاقتور ہیں۔ ان کے ساتھ افسران بھی ملے ہوتے ہیں بلکہ ملے جلے ہوتے ہیں کوئی وزیر شذیر ان کا مقابلہ نہیں کر سکا۔ ریلوے میں ہزاروں ملازمین اور سینکڑوں افسران ضرورت سے زیادہ ہیں۔ صرف پی آئی اے اس حوالے سے ریلوے کا مقابلہ کر سکتی ہے جہاں ایک آدمی کی ضرورت ہے وہاں تین چار سو آدمی کام کر رہے ہیں نجانے کیا کام کر رہے ہیں۔
اب دیکھیں خواجہ صاحب ان سے کیا کام لیتے ہیں ہم تو خواجہ صاحب کے مداح ہیں اُمید تو بہت ہے کہ وہ پوری طرح کامیاب ہوں گے وہ ٹھیک کہتے ہیں کہ جب کوئی محکمہ بالکل خسارے میں چلا جاتا ہے تو اس کی نجکاری کا سوچا جاتا ہے اسے خسارے سے نکالنے کے لئے خواجہ صاحب ڈٹ گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اپنی ناکامی کا اعتراف کروں گا اور چلا جاو?ں گا۔ خواجہ صاحب کو معلوم ہے کہ یہ اللہ نے فیصلہ کر دیا ہے قسم ہے زمانے کی انسان خسارے میں ہے مگر وہ لوگ جو ایمان لائے، اور نیک عمل کئے ایک دوسرے کو حق کا پابند کیا اور صبر کو اپنایا ۔ کیا حکمران اور افسران جانتے ہیں کہ آج کل انہوں نے کرپشن نہ کی تو انہوں نے بہت بڑی نیکی کی۔ نیکی کیا ہے ہمیں اب تک پتہ نہیں چلا۔ میرے بابا جی بابا عرفان الحق فرماتے ہیں کہ ?کسی محفل میں خوشبو لگا کے جانا بھی نیکی ہے? اس طرح لوگ اچھا محسوس کرتے ہیں میرے خیال میں سجنا سنورنا بھی نیکی ہے، کون ہے جس کے پاس دولت اور حکومت ہو اور وہ حق کا پابند ہو، رہا صبر تو یہ صرف مجبوروں اور کمزوروں کے لئے رہ گیا ہے۔ ہم صبر کرنا بھول بیٹھے ہیں، اس لئے تو صبر کا اجر چھپا لیا گیا ہے۔ ہمارے ہاں دو قسم کے لوگ ہیں جابر اور صابر دونوں کو اپنا اپنا کام نہیں آتا، دونوں کی اپنی اپنی مجبوریاں ہیں۔
پی آئی اے، سٹیل مل، پاکستان ریلوے کے علاوہ اور بھی کئی محکمے ہیں یہ تو معلوم کیا جائے کہ کس نے کس کس محکمے کو خسارے میں پہنچایا۔ وہ خود تو فائدے میں ہیں وہ جانتے ہی نہیں کہ فائدہ کیا ہے، تو خواجہ صاحب سے میری گزارش ہے کہ پہلے ان لوگوں کو تلاش کریں اور انہیں کیفر کردار تک پہنچائیں جنہوں نے ریلوے کو خسارے میں پہنچایا۔ آج تک کسی مجرم کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جا سکا ہمارے لئے کرپٹ آدمی تو مجرم ہوتا ہی نہیں ہے کوئی ہے جو پچھلے وزیر ریلوے غلام احمد بلور پر ہاتھ ڈالے ہم نے کئی کالم ان کی ?شان? میں لکھے
سُن وے بلوری اکھ والیا
وہ ہار گئے تھے کہ وہ ریلوے کے وزیر تھے، وہ جیت گئے کہ وزیر نہ تھے۔ ہم تو یہ امید بھی رکھتے ہیں اور خواہش بھی رکھتے ہیں کہ خواجہ صاحب وزیر ریلوے کے طور پر جیت جائیں گے۔ مجھے معلوم نہیں کہ یہ حوصلے اور جذبے سے بھری ہوئی باتیں خواجہ سعد رفیق نے کہاں کیں۔ بہرحال یہ میڈیا کے سامنے نہیں کی گئی ہوں گی۔ دوستوں کے ساتھ ایسی باتیں ہو سکتی ہیں۔ مجھے یہ باتیں کولیگ کالم نگار عزیز ظفر آزاد نے بتائی ہیں۔ وہ خواجہ صاحب کے لئے اچھا سوچتا ہے۔ درویش وزیراعلیٰ غلام حیدر وائیں کی برسی میں خواجہ صاحب گئے حیرت ہے کہ انہوں نے وائیں صاحب کو یاد رکھا ورنہ مسلم لیگ (ن) والے تو انہیں بھلا چکے ہیں وہ ٹرین کے ذریعے لاہور سے ساہیوال پہنچے تھے اور یہ گاڑی مقررہ وقت سے دس منٹ پہلے سٹیشن پر پہنچی تھی۔ خواجہ صاحب نے بے ساختہ کہا کون کہتا ہے کہ ریل گاڑیاں وقت پر نہیں آتیں۔ ایک چھوٹی سی آواز کہیں سے آئی تھی۔ نوازشریف؟ انہوں نے کابینہ میٹنگ میں کہا تھا کہ خواجہ صاحب بھی ریل گاڑیوں کی طرح سُست ہوگئے ہیں نوازشریف بتائیں کہ انہوں نے کتنے برس سے ریل کا سفر نہیں کیا۔ پہلے سیاستدان تھے ان سے پوچھا گیا کہ زندگی کیسے گزری؟ انہوں نے کہا آدھی جیل میں آدھی ریل میں گزری۔ مگر اب سیاستدانوں کی زندگی صرف ریل پیل میں گزرتی ہے۔ ایک ہندو لیڈر مسٹر گاندھی ریل کے تھرڈ کلاس میں سفر کرتا تھا، ریلوے کے افسران کہتے تھے گاندھی جی کے تھرڈ کلاس پر ہزاروں روپے خرچ ہوتے ہیں یہ ہزاروں روپے تقسیم ہندوستان سے پہلے کے تھے۔
بہرحال ریل گاڑی کا سفر مجھے بہت پسند ہے مگر اب یہ بھی ہماری دسترس میں نہیں۔ باہر کے مناظر اور مظاہر فطرت ویرانیاں اور حیرانیاں مگر اب پریشانیاں ہی پریشانیاں ۔ نجانے مجھے کیوں لگتا ہے کہ وسعت اور ویرانی میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ ریل کا سفر غریبوں کا سفر تھا ہم غریب نہیں رہے یعنی زیادہ غریب ہو گئے ہیں۔ اب تو ریل کی کوک سنے ہوئے زمانہ ہو گیا ہے اب یہ کوک ہوک کی طرح لگتی ہے
گڈی کوک مرہندی اے

    Powered by Control Oye