محرم کے بعد بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں

سپریم کورٹ نے محرم الحرام کے بعد بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس نے کہا ہے کہ اگر محرم الحرام کے بعد بلدیاتی الیکشن نہ ہوئے تو پرانا بلدیاتی نظام بحال کردیں گے پھر اس پرانے نظام کے تحت الیکشن کرانا پڑیں گے

سپریم کورٹ میں بلدیاتی انتخابات کیس کی سماعت شروع ہونے پر بلوچستان اور پنجاب نے دسمبر میں بلدیاتی انتخابات کرانے کی تاریخ عدالت کو دی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ریمارکس دیئے کہ محرم الحرام کے فوری بعد بلدیاتی الیکشن کرائے جائیں ورنہ پرانا بلدیاتی نظام بحال کرنے کے احکامات جاری کردیں گے۔ اس پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب مصطفی رمدے نے کہا کہ صوبائی حکومت 7 دسمبر کو بلدیاتی الیکشن کرانے کیلئے تیار ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ بلدیاتی انتخابات کیلئے ہر کوئی اپنی مرضی کی تاریخ دے رہا ہے آپ بہت آگے کی تاریخ دے رہے ہیں ایسا نہیں ہو سکتا صوبائی حکومتوں نے بلدیاتی انتخابات کیلئے آئینی دفعات پر عمل نہیں کرنا تو نتائج بھگتنے کیلئے تیار ہو جائیں چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ سیاسی جماعتیں آئین کے نام پر الیکشن لڑتی ہیں اور حکومت بناتی ہیں بعد میں عمل کرنا ہوتا ہے تو کسی کو آئین یاد نہیں رہتا۔ اس پر ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے کہا کہ آئین سے انحراف کی جرا?ت نہیں کر سکتے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ صرف سندھ حکومت بلدیاتی الیکشن کرانے کیلئے سب سے آگے ہے۔

عدالت نے بلدیاتی انتخابات کے بارے میں وفاق اور سندھ کا جواب آنے تک کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔ دریں اثناءثنا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے مقدمہ کی سماعت کے دوران وفاق اور صوبوں کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹوں پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرلز کو ہدایت کی ہے آئندہ سماعت تک بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے متبادل آپشنز پر غور کریں جبکہ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ کسی صورت میں آئین و قانون کی خلاف ورزی نہیں کرنے دینگے ہمیں فخر ہونا چاہیے کہ ہمارے پاس آئین و قانون موجود ہے بلدیاتی انتخابات ہر صورت میں یقینی بنانا ہونگے ملک میں جمہوریت ہے لوگوں کو پتہ کرنا چاہیے کہ معاملات کس طرح چلائے جا رہے ہیں عدالت اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے امکانات پر غور کر سکتی ہے انتخابات ہونے تک پرانا نظام بحال کرنے پر بھی غور کیا جاسکتا ہے عدالت کا کہنا تھا کہ اگر قانون سازی میں کوئی مشکلات کا سامنا ہے تو آرڈیننس سے کام چلایا جاسکتا ہے اور اسلام آباد میں انتخابات کیلئے 2002ءکا قانون موجود ہے جبکہ وفاق کی طرف سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل شاہ خاور نے موقف اختیار کیا کہ کنٹونمنٹ بورڈز میں بھی انتخابات کی حتمی تاریخ نہیں دی جاسکتی قریب ترین تاریخ بتائی جاسکتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ حکومت کو ہر صورت بلدیاتی انتخابات کی حتمی تاریخ بتانا ہوگی۔ مقدمہ کی سماعت تین اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ قبل ازیں دوران سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر محرم کے بعد بلدیاتی انتخابات نہ کرائے گئے تو پرانا بلدیاتی نظام بحال کردیا جائیگا، یہ بات حیران کن ہے کہ عدالت بلدیاتی انتخابات کرانے پر مجبور کر رہی ہے لیکن حکمران آئین پر عملدرآمد کیلئے لیت و لعل سے کام لے رہے ہیں۔ جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ رکاوٹ ڈالنے والے ذمہ داروں کے نام بتائیں۔ ذمہ داروں کا تعین ہو جائے تو پھر عدالت جانے اور آئین پر عملدرآمد نہ کرنے والے جانیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ہم نے پرانا ضلعی حکومتوں کا نظام بحال کر دیا تو پھر ٹھیک رہے گا سیاسی جماعتیں آئین کے نام پر ووٹ لیتی ہیں اور حکومتیں بناتی ہیں اور اس کے بعد آئین پر عمل کرنا بھول جاتی ہیں آئین پر عملدرآمد کے لئے عوام کو عدالتوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن کہنا ہے کہ جب چاہیں الیکشن کروا لئے جائیں دسمبر کی تاریخ آپس میں مک مکا کر کے دی گئی ہے کے پی کے کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہم نے وہ وجوہات بتا دی ہیں جس کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات میں تاخیر ہوئی ہے اس پر جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آئین پر عمل نہ کرنے کی وجوہات بھی ہوتی ہیں چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ الیکشن لڑنا ہو تو سب کو آئین یاد آ جاتا ہے جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ تحریک انصاف نے خیبر پی کے میں 100 روز کے اندر بلدیاتی انتخابات کروانے کا وعدہ کیا تھا آج 101 دن ہو گئے ان کا کہنا تھا کہ وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو جائے۔

    Powered by Control Oye