کاسمو کلب باغ جناح میں گھر کی خوشبو

کاسمو پولیٹن کلب جناح باغ ایک گھریلو قسم کا کلب ہے۔ اس کی اہمیت میرے لئے بڑھ گئی کہ ایک دن یہاں مجاہد صحافت ڈاکٹر مجید نظامی تشریف لائے۔ وہ برادرم شاہد رشید کی دعوت پر یہاں کچھ دیر کے لئے آئے تھے۔ اس وقت یہاں منظور حسین خان صدر کلب ملک عبدالحفیظ خواجہ محمد ریاض، شجاعت ہاشمی، ڈاکٹر انعام، ذوالفقار راحت، ڈاکٹر افتخار بخاری، عرفان چودھری کے علاوہ کئی دوست موجود تھے۔ میں اور دوست ایک خوشگوار حیرت میں تھے کہ آج ڈاکٹر مجید نظامی ان کے درمیان ہیں۔ انہیں اعزازی سرپرست کے لئے پیشکش کی گئی جو انہوں نے قبول کر لی۔ جب سے یہاں شاہد رشید آئے ہیں ان کی سرگرم اور مخلوص شخصیت سے کلب کو بڑی رونق ملی ہے۔ منظور خان بھی یہاں کی رونق ہیں۔ ہم شاہراہ مجید نظامی سے گزر کر یہاں پہنچتے ہیں۔ چند دن پہلے یہاں گورنر پنجاب چودھری محمد سرور آئے۔ سب سے پہلے انہوں نے وہ تختی دیکھی جو 3 مارچ 1927ءکو گورنر پنجاب ولیم ہیلے کے نام سے موجود ہے۔ انہوں نے اس کلب کا افتتاح کیا تھا۔ ہیلے کالج آف کامرس بھی انہوں نے ہی بنوایا تھا۔ کلکتہ میں اردو کے فروغ کے لئے فورٹ کالج بھی انگریزوں نے بنوایا تھا۔ آج انہی کے دیس انگلستان سے آئے ہوئے برطانوی پارلیمنٹ کے سابق ممبر چودھری سرور گورنر پنجاب کی حیثیت کے ساتھ آئے تھے۔ انہوں نے پاکستان کے لئے اپنی انگلستانی شہریت چھوڑ دی ہے۔ ان سے بجا طور پر امید کی جا رہی ہے کہ وہ پنجاب کی تعمیر و ترقی اور فلاح و بہبود کے لئے اسی طرح کام کریں گے جس طرح انگریز گورنر کرتے تھے۔ ان کا قصور صرف یہ ہے کہ انہوں نے ہمیں 100 سال تک غلام بنائے رکھا۔ ہم آزاد تو قائداعظم کی قیادت میں ہو گئے مگر ابھی تک آزادی کی اصل کیفیت اور معنویت سے آشنا نہیں ہو سکے۔ ہم ابھی تک نئی غلامی کے احساس زیاں سے بھی بے خبر ہیں۔ ہمارے حکام زیادہ غلام ہیں۔ برطانیہ کی بجائے امریکہ کے اشاروں پر چلتے ہیں۔ برطانوی لوگ حکمران تھے اور حکمرانی کے سارے رازوں سے واقف تھے۔ آج کے حکمران حکمرانی کرنا نہیں جانتے۔
اس کلب کے ساتھ جناح باغ ہے جو کبھی لارنس گارڈن تھا۔ یہ دنیا کا بے مثال باغ ہے۔ یہاں کا بوٹینیکل گارڈن بہت مشہور ہے۔ چار پانچ ایسے درخت ہیں جو پوری دنیا میں نہیں ہیں۔ یہاں بدھا درخت بھی ہے۔ سنا ہے جس پر نہ چھپکلی چڑھتی ہے نہ کوئی کیڑا۔ جاپان اور دوسرے ملکوں سے بدھ مذہب کے لوگ آ کے اس درخت کی پوجا کرتے ہیں۔ کاسمو کلب جناح باغ کے اندر ہے۔ یہاں آنے کے لئے آدمی اس خوبصورت باغ میں سے گزر کر آتا ہے۔ اس طرح سیر بھی ہو جاتی ہے۔ باغ میں گورنر پنجاب عبدالرب نشتر سکیورٹی اور پروٹوکول کے بغیر صبح کی سیر کے لئے آتے تھے۔ خواتین و حضرات کی بہت بڑی تعداد صبح اور شام کے وقت سیر و تفریح کے لئے آتی ہے۔ کوئی کلب ماحول کے حوالے سے کاسمو کلب کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ گورنر پنجاب اس کلب کا سرپرست اعلیٰ ہوتا ہے۔ یہ سیرگاہ گورنر ہاﺅس سے چار گنا بڑی ہے۔
یہاں چودھری سرور کی بہت بڑی تصویر آویزاں کی گئی ہے۔ ایک بہت بڑے ہال کو چودھری سرور لاﺅنج کا نام دیا گیا ہے۔ ایک چھوٹی سی تقریب بھی چودھری صاحب کے اعزاز میں ہوئی۔ مجیب الرحمن شامی خاص طور پر آئے تھے۔ آغا مشہود شورش بھی چودھری صاحب کے ساتھ تھے۔ ذوالفقار راحت نے بہت اچھی طرح کلب کے مسائل اور ضروریات کا ذکر کیا۔ ڈاکٹر افتخار بخاری نے انگریزی میں تقریر کی مگر وہ شاعری اردو میں کرتے ہیں۔ اچھے شاعر ہیں ان کا شعری مجموعہ ?گمان آگہی? کے نام سے شائع ہوا ہے۔ آگہی کا گمان کبھی کبھی یقین سے آگے نکل جاتا ہے۔ یہ شاعری خوش گمانیاں اور حیرانیاں پھیلانے کے کام آ رہی ہے
گمان آگہی یا خود فریبی
بس اک اندھا سفر ہے اور میں ہوں
خود فریبی کو دلفریبی بنانا تخلیقی عمل ہے۔ افتخار بخاری نے اندھے سفر میں بھی کئی ہمسفر بنا لئے ہیں۔
جب اس کی بزم میں دامن دریدہ ہم پہنچے
مزاج یار کی ساری ادا بدل سی گئی
چودھری محمد سرور نے اپنی ذاتی جیب سے تین لاکھ روپے کلب کی لائبریری کے لئے دئیے۔ لائبریری کا افتتاح بھی کیا۔ کچھ تو پڑھنے لکھنے کا ذوق و شوق دوستوں میں پیدا ہو گا۔ کلب میں ایک اور گورنر پنجاب کی تختی بھی نصب ہو گئی ہے۔ حیرت ہے کہ 1927ءکے بعد سے اب تک کلب میں کوئی ایکسٹنشن نہیں ہوئی۔ امید ہے کہ فلاحی اور تعمیری مزاج والے اچھے دل کے گورنر پنجاب چودھری سرور اس طرف بھی توجہ دیں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ میں برطانوی حکومت سے خاص طور پر کہوں گا کہ اپنی قائم کردہ اس بہت اہم عمارت کو قومی ورثہ قرار دے۔ اب یہ پاکستان کا قومی ورثہ ہے۔ چودھری سرور انگلستان کے لئے نرم گوشہ اور رفاقت کا احساس رکھتے ہیں مگر وہ سچے پاکستانی ہیں۔ وہ گورنر پنجاب ہیں اور میرا خیال ہے کہ اب پاکستانی ہونے کے لئے کچھ کچھ پنجابی ہونا ضروری ہے۔ بلوچی? سندھی اور پٹھان کو پاکستان کے قریب تر لانے کے لئے یہی وقت کا تقاضا ہے۔ ملک عبدالحفیظ، خواجہ محمد ریاض، منظور حسین خاں، ڈاکٹر انعام، شاہد رشید، شجاعت ہاشمی، ذوالفقار راحت، عرفان چودھری، ڈاکٹر افتخار بخاری کے علاوہ بہت دوست خوش تھے اور مستعد تھے۔ اب کاسمو کلب کی بہتری کے لئے بہت کام ہوں گے اور یہاں سب گھر والوں کے لئے بہت خوشگوار ماحول اور سہولتیں فراہم ہوں گی۔ لارنس باغ جو اب باغ جناح کی اصلی کلب جم خانہ کلب کا ذکر پھر کبھی نہیں ہوا ۔ اب لائبریری میں تبدیل ہو چکی ہے۔ جہاں 65ءکی جنگ میں بھارتی جنرل لاہور فتح کرکے شراب کا پیگ پینا چاہتا تھا۔

    Powered by Control Oye