سیاسی قیادت کا عزم صمیم

سیاسی قیادت کا عزم صمیم
       تحریر: محمد فاروق صدیقی
وطن عزیز کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ آزمائش اور امتحان کی ہر گھڑی کا سامنا کرنے کے لئے اہل وطن ہمیشہ متحد اور یکجان ہو جاتے ہیں ۔ ان دنوں بھی کچھ ایسی ہی صورت حال مشاہدہ کی جا رہی ہے ۔ پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ عوام کی منتخب جمہوری حکومت اپنی پانچ سال کی مقررہ آئینی مدت پوری کر رہی ہے ۔ اس اتحادی حکومت کو جہاں یہ منفرد اعزاز حاصل ہو رہا ہے وہاں اس کے حوالے سے یہ تاریخ ساز واقعہ بھی تشکیل کے مراحل میں ہے کہ اپوزیشن سے مشاورت کے بعد ایک نگران حکومت عام انتخابات کرانے کے بعد کامیاب ہونے والی سیاسی جماعت (یا اتحاد) کو اقتدار سونپ دے گی۔ گویا پہلی مرتبہ ایک سول حکومت سے اقتدار پرامن انداز اور جمہوری طریقے سے دوسری منتخب حکومت کو منتقل ہو جائے گا ۔ بظاہر یہ ایک روایتی اور عمومی پیش رفت ہے لیکن وطن عزیز کے سیاسی پس منظر اور پیش منظر کے تناظر میں اس عمل اور واقعہ کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ اس بارے جب مستقبل کا مورخ احوال رقم کرے گا تو وہ ان عناصر کا بھی تذکرہ ضرور کرے گا جو آج کل جمہوریت کی گاڑی کو پٹڑی سے اتارنے کی کوششوں(بلکہ سازشوں) میں مصروف ہیں۔ ان کے بارے میں یہ سوال نہایت فکر انگیز تصور کیا جاتا ہے کہ مذکورہ عناصر کو جمہوریت دشمنی کے اس روئیے سے کیا حاصل ہو گااور وہ کن مقاصد کے حصول کی خاطر اپنے کردار کو مشکوک بنانے میں مصروف ہیں؟۔ اس سوال کے جواب کے مقابلے میں یہ حقیقت کئی زیادہ اہم اور حوصلہ افزاءہے کہ عوامی حلقوں میں ایسے عناصر کو کوئی پذیرائی میسر نہیں ۔ عوام کا یہ اٹل اور حتمی فیصلہ ہے کہ وطن عزیز میں جمہوریت کے تسلسل کو یقینی بنایا جائے گا ۔ اس باب میں سیاسی قیادت کے پختہ عزائم اور اٹل ارادے بھی اپنی جگہ قابل تحسین ہیں۔
اسلام آباد میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں نیشنل سیکورٹی پالیسی پریزنٹیشن کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ منتخب حکومت چیلنجوں کے باوجود اپنی مدت پوری کر رہی ہے،ہم وقت پر آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کروانے کا تہیہ کر چکے ہیںاور ہم کونظام کو ڈی ریل کرنے والی قوتوں کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ ہمیں بانیان پاکستان کے تصورات کے مطابق ملک کو ایک معتدل، ترقی پسند اور اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا عہد کرنا چاہیے۔ وزیراعظم نے ملک میں جمہوریت کے استحکام کے لئے جمہوری قوتوں، سول سوسائٹی، میڈیا اور ریاستی اداروں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلاشبہ ایک جائز منتخب حکومت جسے عوام کا مینڈیٹ حاصل ہو ملک کو درپیش مسائل کو بہتر طور پر حل کر سکتی ہے۔ عام انتخابات سے قبل موجودہ سیاسی صورت حال میں لائن آف کنٹرول پر حالیہ بھارتی مہم جوئی اور دہشت گردی کی لہر ملک کو درپیش چیلنجوں کی شدت کی نشاندہی کرتی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت صورت حال سے پوری طرح آگاہ ہے اور ملک میں استحکام، قومی ہم آہنگی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے قومی اتفاق رائے موجود ہے۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نہ صرف ہماری قومی سلامتی بلکہ طرز حیات کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ ہم انتہا پسندوںاور دہشت گردوں کو اپنے جذبہ کو زیر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور نہ ہی وہ ہمیں خوفزدہ کر سکتے ہیں۔ دہشت گردی نے ہماری زندگی کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ پاکستان کے عوام، قانون نافذ کرنے والے اداروں بالخصوص مسلح افواج نے دہشت گردی کے خاتمے کےلئے بے مثال جانی و مالی قربانیاں دیں۔ ہمارے پاس ایک آزاد اور ولولہ انگیز میڈیا ہے جسے بڑا اہم کردار ادا کرنا ہے اور اس کی ذمہ داری ہے کہ قومی ہم آہنگی کے لئے اپنی ذمہ داری ادا کرے اور پاکستان کے حقیقی تشخص کو اجاگر کرے۔ ہمیں مخصوص چیلنجوں کا سامنا ہے جن پر ملک کے اپنے تیار کردہ حل کو فروغ دے کر قابو پایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کا مستقبل سیکورٹی کے علاوہ اقتصادی خوشحالی اور ترقی سے وابستہ ہے۔ اقتصادی سفارت کاری ہماری خارجہ پالیسی کا لازمی جزو ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بڑے قدرتی اور انسانی وسائل سے نوازا ہے جن سے استفادہ کی ضرورت ہے تا کہ پاکستان ایٹمی قوت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ترقی یافتہ ملک بن سکے۔ ہم نے بھارت کے ساتھ جموں و کشمیر کے بنیادی مسئلے سمیت تمام مسائل کے حل کے لئے جامع مذاکراتی عمل شروع کیا۔
 افغانستان کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان افغان عوام کے درمیان اتفاق رائے کے حصول کے لئے افغان عوام کی زیر قیادت امن عمل کی حمایت کرتا ہے۔ ایک پرامن، مستحکم اور اقتصادی طور پر ترقی یافتہ افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے۔ پاکستان اپنی جغرافیائی سٹرٹیجک پوزیشن سے کیا کچھ حاصل کر سکتا ہے اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ کس قدر پائیدار اور حقیقی مقاصد وضع کئے گئے ہیں جن کی معاونت قابل عمل پالیسیوں اور درکار وسائل کے ذریعہ ہوتی ہے۔ہماری مستقبل کی سول اور فوجی قیادت ملک کو درپیش چیلنجوں سے آگاہ ہے۔ قوم عام انتخابات کی طرف جا رہی ہے۔ ہم نے ضبط و تحمل اور مفاہمت کی پالیسی اختیار کی تا کہ ملک میں ایک پائیدار اور مستحکم سیاسی نظام کی بنیاد رکھی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مایوسی اور تاریکی کی قوتیں انتشار، بے یقینی اور عدم استحکام کی فضاءمیں ہی فروغ پاتی ہےں۔ ہمیں ایسی تمام قوتوں کا مقابلہ کرنا ہو گا جو سسٹم کو ڈی ریل کرنے کے درپے ہیں، یہ نظام طویل جدوجہد کے بعد حاصل کیا گیا۔ حکومت نے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کا عزم کر رکھا ہے جو آزاد الیکشن کمیشن کی نگرانی میں بروقت ہوں گے۔
صدر آصف علی زرداری نے کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر صدر مملکت نے کہا کہ عوام ملک میں عام انتخابات کا انتخابات کا انعقاد چاہتے ہیں، کوئی قوت انتخابات کا التواءنہیں کر سکتی، عام انتخابات عوام کی امانت ہیں۔ ملک میں عام انتخابات شیڈول کے مطابق ہوں گے اور جو جماعت کامیاب ہو گی آئینی طریقے سے اقتدار اس کے سپرد کر دیا جائے گا۔ نگران حکومتیں اتحادی، اپوزیشن اور سیاسی قوتوں کی مشاورت سے تشکیل دی جائیں گی۔ حکومت ملک کی ترقی اور عوام کی خدمت کے لئے پر عزم ہے۔ ملک میں معاشی استحکام کے لئے جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ملک سے توانائی کے بحران، بیروزگاری اور غربت کے خاتمے کے لئے بھی بھرپور اقدامات کئے جا رے ہیں۔ ہم عوامی لوگ ہیں اور عوام کی خدمت کا سفر جاری رکھیںگے۔
صدر مملکت نے وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ حکومت ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پرعزم ہے۔ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے۔ صدر نے ہدایت کی کہ کراچی میں قیام امن کے لئے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے اور دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے۔ صدر نے وفاقی وزیر داخلہ کو ہدایت کی کہ جشن ولادت رسول اللہ ﷺ 12ربیع الاول کو ملک میں قیام امن اور سیکورٹی انتظامات کے لئے چاروں صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر سیکورٹی کے مربوط اور ٹھوس اقدامات کئے جائیں اور تمام جلوسوں اور ریلیوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔
دریں اثناءبلاول ہاﺅس میں سندھ کے اضلاع کشمور، ٹنڈو اللہ یار خان، جیکب آباد، دادو، لاڑکانہ اور کندھ کوٹ سے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی اور پارٹی رہنماﺅں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کسی سیاسی اتحاد سے گھبرانے والی نہیں۔آئندہ انتخابات میں پورے ملک سے انتخابات میں حصہ لیں گے اور عوام کے ووٹوں سے کامیابی حاصل کریں گے۔ پیپلز پارٹی وفاق کی علامت جماعت ہے ۔ پیپلز پارٹی کے خلاف ماضی میں بھی کئی اتحاد بنے اور اب بھی نئے تحاد بن رہے ہیں لیکن ان سیاسی اتحادوں سے پارٹی کی پوزیشن پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ آئندہ انتخابات قریب ہیں لہذا پارٹی رہنما اور کارکنان انتخابات کی تیاریاں کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوام کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں اور اسی طاقت کے بل بوتے پر انتخابات میں حصہ لیں گے۔ پارٹی منشور اور انتخالی جلسوں کے شیڈول کا اعلان جلد کر دیا جائے گا۔
سیاسی قیادت کی طرف سے جن خیالات اور احساسات کا اظہار کیا جا رہا ہے، وہ نہ صرف رائے عامہ کی حوصلہ افزائی کا سبب بن رہے ہیں بلکہ یہ دنیا کو یہ پیغام بھی پہنچاتے ہیں کہ پاکستان کے عوام جمہوریت کی بقاءاور استحکام کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ اس جمہوریت کے لئے ان عوام نے بلاشبہ بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ آزادی کے 65برسوں میں سے نصف عرصہ اگرچہ چار آمروںکی ذاتی ہٹ دھرمی، شخصی انا پرستی اور غیر جمہوری طرز حکومت کی نذر ہو گیا لیکن عوام نے ہر مرتبہ ان آمروں کو راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور کیا ۔ ایسے وقت میں جب قوم الیکشن 2013ءکے لئے ذہنی طور پر تیار ہے اور جمہوری حلقوں میں اس ضمن میں مثبت طرز فکر و عمل کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے ، سیاسی قیادت کا عزم صمیم نہایت قابل تحسین ہے۔



    Powered by Control Oye