جمہوریت کی مہکار

جمہوریت کی مہکار
تحریر : سحر صدیقی
ملک و قوم کے احوال بارے غور و فکر کرنے والے حلقوں کے نزدیک یہ امر بلاشبہ حوصلہ افزاءاور اطمینان بخش ہے کہ گوناگوں مسائل اور مشکلات کے باوجود قومی ترقی کا سفر جاری ہے۔ گاہے اس سفر میں کئی ایسی رکاوٹیں آ جاتی ہیں جن کو آسان اور سادہ الفاظ میں حوصلہ شکن اور مایوس کن قرار دیا جا سکتا ہے لیکن اس کے باوجود عوام کا عزم اور عوام کی منتخب حکومت کی دوراندیشی ہی کارگر اورنتیجہ خیز مشاہدہ کی جاتی ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے عرصے میں موجودہ منتخب اتحادی حکومت نے پرآزمائش حالات کا مقابلہ کیا اور کسی مرحلے پر عوام کو مایوس نہیں ہونے دیا۔ عوام کو بخوبی احساس ہے کہ قوم کو مہنگائی، بیروزگاری، لوڈشیڈنگ، دہشت گردی اور اسی نوعیت کے جو دیگر مسائل د رپیش ہیں، ان کی ذمہ دار موجودہ حکومت نہیں بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ یہ سنگین مسائل موجودہ حکومت کو ورثے میں ملے تھے اور ان مسائل کو حل کرنے کے لئے میسر (محدود) قومی وسائل کو بروئے کار لایا گیا جس کے نتائج تیزی سے سامنے آ رہے ہیں۔ اس ضمن میں یہ ایک مثال ہی نہایت فکر انگیز اور قابل غور ہے کہ 1996ءتا 2008ءکے عرصے میں بجلی کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہوا لیکن بجلی کی پیداوار اور رسد کی طرف کوئی توجہ نہ دی گئی۔ جب 1996ءمیں محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو دوسری مرتبہ ختم کیا گیا تو اس وقت بجلی کی پیداوار کے شعبے میں حوصلہ افزاءغیر ملکی سرمایہ کاری کا سلسلہ جاری تھا جوبعدازاںمیاں محمد نواز شریف اور جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میںختم ہوگیا۔ ماہرین ہی نہیں بلکہ عام شہری بھی بخوبی جانتا ہے کہ مذکورہ عرصے میں ایک میگاواٹ بجلی بھی نیشنل گرڈ میں شامل نہیں کی گئی۔ اس کے مقابلہ میں موجودہ اتحادی حکومت نے اب تک 4 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کی ہے۔
یہ صورتحال اس حقیقت کو بخوبی اجاگر کرتی ہے کہ موجودہ اتحادی حکومت وطن عزیز کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن رکھے ہوئے ہیں اور اس کا پختہ یقین ہے کہ اس سفر کی کامیابی کا راز جمہوریت کا تسلسل ہے۔ گزشتہ 5 برس کے عرصے میں حکومت نے مفاہمت اور مشاورت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے کامیابی کے کئی اہم سنگ میل عبور کئے ہیں۔ اس وقت حکومت اپنی آئینی مدت مکمل کرنے کے قریب ہے اور وہ آئندہ حکومت کو پرامن انتقال اقتدار کے لئے نہایت تسلی بخش انتظامات کرنے میں سرگرم عمل ہے۔اپوزیشن کی مشاورت سے چیف الیکشن کمشنر کی متفقہ تقرری کی جا چکی ہے اور قابل اعتبار انتخابی فہرستوں کی تیاری اور توثیق کا کام جاری ہے۔ اسی طرح نگران حکومت کے قیام کے لئے بھی آئینی تقاضوں کے مطابق مشاورت ہو رہی ہے۔حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ جمہوریت کے تسلسل کو یقینی بنایا جائے اور اس حقیقت کو قومی طرز احساس میں شامل کیا جائے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہی ہیں۔ یہ تاثر صدر مملکت آصف علی زرداری کے ان خیالات سے بھی اجاگر ہوتا ہے جن کا اظہار انہوں نے حال ہی میں کراچی میں صدارتی کیمپ آفس بلاول ہاﺅس میں پیپلزپارٹی قمبر، شہداد کوٹ اور مٹیاری سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی اور پارٹی رہنماﺅں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ عوام کے تعاون سے جمہوریت کو ڈیل ریل کرنے کی تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا گیاہے، نگران حکومتیں آئین کے مطابق تمام اتحادی، اپوزیشن اور سیاسی قوتوں کی مشاورت سے تشکیل دی جائیں گی۔ عام انتخابات قریب ہیں، پیپلزپارٹی سمیت تمام سیاسی قوتیں انتخابات کی تیاری کریں۔ ہم جمہوری لوگ ہیں اور جمہوریت کی مضبوطی اور اس کے تسلسل پر یقین رکھتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی حکومت عوام کے ووٹوں سے برسراقتدار آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کی مضبوطی محترمہ بے نظیر بھٹو کی مفاہمتی پالیسی کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے اور جمہوریت کے استحکام کے لئے بے نظیر بھٹو کی مفاہمتی پالیسی جاری رکھی جائے گی۔ موجودہ حکومت کی مدت پوری ہونے کے بعد آئین کے مطابق سیاسی قوتوں سے مشاورت کے بعد نگران حکومتیں تشکیل دی جائیں گی اور آئندہ انتخابات شفاف طریقے سے منعقد کرائے جائیں گے۔ جمہوریت کی مضبوطی کے لئے آئندہ انتخابات ضروری ہیں۔ عوام جس جماعت کو اپنے ووٹ کے ذریعے کامیابی دلائیں گے اس جماعت کو آئینی طریقے سے ا قتدار منتقل کر دیا جائے گا ۔
صدر مملکت نے کہا کہ پیپلزپارٹی وفاق کی علامت جماعت ہے۔ پارٹی میں آئندہ انتخابات کے لئے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کے لئے ٹکٹ پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی جاری کرے گی اورپارٹی ٹکٹ کارکردگی کی بنیاد پر جاری کئے جائیں گے۔ ملک میں سیاسی اور جمہوری عمل کی مضبوطی کے لئے تمام سیاسی قوتوں کا متحد ہونا خوش آئند اور جمہوریت کے استحکام کی علامت ہے۔ تمام سیاسی قوتیں چاہتی ہیں کہ ملک میں جمہوریت کا تسلسل جاری رہے۔ صدر نے کہا کہ آئندہ انتخابات قریب ہیں، پیپلزپارٹی اور تمام سیاسی قوتیں ان انتخابات کی تیاری شروع کر دیں۔حکومت اپنے وعدے کے مطابق انتخابات مقررہ وقت پر کرائے گی اور یہ انتخابات تاریخ کے شفاف ترین انتخابات ہوں گے۔ انہوں نے تمام اراکین اسمبلی کو ہدایت کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ وقت اپنے حلقوں میں گزاریں، عوام سے رابطے میں رہیں اور ان کے مسائل کو بھرپور طریقے سے حل کرنے کیلئے اقدامات کریں۔ صدر نے بلوچستان میں پیپلزپارٹی کے تنظیمی امور، آئندہ انتخابات کی تیاری اور دیگرجماعتوں سے مشاورت کے لئے وفاقی وزیر خورشید شاہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کر دی ہے جس میںسینیٹر صابر بلوچ اور صادق عمرانی شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی مشاورت سے قائم کی گئی ہے۔
 اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلزپارٹی آئندہ انتخابات میں اتحادی جماعتوں اور عوام کے ووٹوں سے بھرپور طریقے سے کامیابی حاصل کرے گی۔پیپلزپارٹی کی انتخابی مہم میں خود چلاﺅں گا اور پورے ملک میں پارٹی کے انتخابی جلسوں سے خطاب کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی ہارس ٹریڈنگ پر یقین نہیں رکھتی۔ پیپلزپارٹی میں جو لوگ شامل ہو رہے ہیں وہ ہماری کارکردگی اور اپنی مرضی سے پارٹی میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ آئندہ انتخابات سے قبل کئی بڑی سیاسی شخصیات اپنی مرضی سے پیپلزپارٹی میں شامل ہوں گی۔ انہوں نے پارٹی کے تمام رہنماﺅں اور کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ انتخابات کے لئے تیاریوں کا آغاز شروع کر دیں اور عوام سے رابطوں میں مزید تیزی لائی جائے۔
دریں اثناءاسلام آباد میں قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ قربانیاں دیں۔جنوبی پنجاب کے لوگ تخت لاہور سے نجات چاہتے ہیں۔ ضمنی انتخابات میں جنوبی پنجاب نے مسلم لیگ (ن) کو مسترد کر دیا ہے۔ صوبوں کا کمیشن اپوزیشن کے مطالبے پر بنایا گیا مگر خود(ن) لیگ نے نام نہ دیئے۔ ہم پر الزام لگانے والے یہ بتائیں کہ کن حالات میں ہم نے ملک کو سنبھالا تھا؟۔ ہم نے دہشتگردی کو بڑی حد تک ختم کرایا۔ کبھی خاموش انقلاب بھی رنگ لاتا ہے اور سانحہ کوئٹہ کا احتجاج اس کی مثال ہے۔ طاہرالقادری سے مذاکرات سیاسی مفاہمت کا نتیجہ ہے۔ پنجاب کے صوبائی و زراءآج بھی دہشتگردوں کو گاڑیوں میں ساتھ بٹھا کر گھومتے ہیں۔ صدر زرداری نے اپنے تمام اختیارات پارلیمنٹ کو دے دیئے ہیں۔ ہم نے 5 سالوں کے دوران 4 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کی۔
وفاقی و زیر نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام حوالے سے قائد حزب اختلاف کا نقطہ نظر درست نہیں۔گورنر پنجاب اس لئے صوبے کی بات کرتے ہیں کہ خود ان کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے۔ نئے صوبوں کے قیام کا کمیشن قومی اسمبلی سے عمل میں لایا گیا ہے۔ اپوزیشن سے کمیشن میں شمولیت کے لئے نام مانگے گئے تھے لیکن انہوں نے نام نہیں دیئے۔ اگر کسی جماعت نے جنوبی پنجاب صوبے کی مخالفت کرنی ہے تو وہ کھل کر سامنے آئے۔ پنجاب حکومت نے بھی کمیشن کے لئے نام دینے سے انکار کر دیا ہے۔جو لوگ محرومیوں کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کو چھوڑ رہے ہیں ان کو گالیاں نہ دی جائیں۔ وزیراطلاعات نے کہا کہ نگران حکومتوں کی تشکیل کیلئے طریقہ کار طے کر دیا گیا ہے۔ اب کسی کی مرضی سے نگران وزیراعظم یا وزیراعلیٰ نہیں بنے گا بلکہ حکومت اور اپوزیشن کی مشاورت سے نگران سیٹ اپ تشکیل پائے گا۔ اب کوئی جج یا جرنیل نگران وزیراعظم نہیں بنے گا، انہوں نے کہا کہ مک مکا کے الفاظ استعمال نہ کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ الفاظ گولی اور تھپڑ سے سخت ہوتے ہیں، گولی اتنا نقصان نہیں کرتی جتنا الفاظ کر جاتے ہیں۔
قمر زمان کائرہ نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے کا معاملہ نیا نہیں۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے 2010ءمیں جنوبی پنجاب صوبے پر کام شروع کیا تھا جو آج تک جاری ہے۔نئے صوبوں کا کمیشن اپوزیشن کے مطالبے پر بنایاگیا تھا، جنوبی پنجاب کے حتمی انتخابات میں لوگوں نے مسلم لیگ(ن) کے امیدواروں کو مسترد کر دیا ہے، جنوبی پنجاب ا لگ صوبہ بنے گا تو پنجاب کے وسائل تقسیم ہو کر نئے صوبے کو حصہ ملے گا، انہوں نے مزید کہا کہ جب عمران خان آیا تو الزام لگا کہ یہ صدر زرداری کی (ن) لیگ کے خلاف سازش ہے اور اب طاہرالقادری آئے تو پھر کہا جا رہا ہے کہ یہ بھی آصف زرداری کی سازش ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ طاہرالقادری کے ساتھ کوئی غیر آئینی سمجھوتہ نہیں کیاگیا۔ماضی میں ایوان صدر سازشوں کا گڑھ تھالیکن آج ایوان صدر پرامن ہے، صدر زرداری نے اپنے اختیارات پارلیمنٹ کے حوالے کئے۔ آج جمہوری نظام صدر آصف علی زرداری کی وجہ سے چل رہا ہے۔ 2008ءمیں معاشی طور پر کمزور پاکستان پیپلزپارٹی کے حوالے کیا گیا تھا۔موجودہ حکومت کی کارکردگی پر اعتراض کیا جاتا ہے مگر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ اگرچہ موجودہ حکومت مشکلات سے گزری ہے لیکن اس کے باوجود 5 برسوں کے دوران چار ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کی گئی۔ 2008ءکی نسبت آج ملک دہشت گردوں سے آزاد ہے تاہم پنجاب کے صوبائی وزراءآج بھی بعض دہشت گردوں کو گاڑیوں میں ساتھ بٹھا کر گھومتے ہیں۔موجودہ حکومت کے دور میں زراعت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں ترقی ہوئی ہے۔ سندھ اور پنجاب میں سیلاب کے دوران وفاقی حکومت نے بھرپور کام کیا اورموجودہ پارلیمنٹ کے تحلیل ہونے کے آخری دن تک حکومت اپنا کام کرتی رہے گی۔
وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ اتحادی حکومت جمہوریت کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے متحرک اور فعال کردار ادا کر رہی ہے اور اس کی بھرپور کوشش ہے کہ ملک کے ہر کونے اور قریہ تک جمہوریت کی مہکار پہنچ جائے تاکہ عوام کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یہ یقین ہو جائے کہ انہوںنے جس جمہوریت کی خاطر بے پناہ قربانیاں دی تھیں اس جمہوریت کا پودا نہ صرف
توانا ہو رہا ہے بلکہ اس پر پھول اور پھل بھی اپنی بہار دکھا رہے ہیں۔



    Powered by Control Oye