شیخ الاسلام کا جادو

بسم اللہ
شیخ الاسلام کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے!
انداز جہاں۔۔اسداللہ غالب
لوگوں کو ان سے چڑ ہے، میڈیا نے بڑھ چڑھ کر ان کی تضحیک کی، رہی سہی کسر عدلیہ نے نکال دی، ان کی پٹیشن پر دلائل نہیں ہوئے ،صرف وفاداری کا سوال اٹھایا گیا۔ سیاستدان ان کو جتنا برا بھلا کہہ سکتے تھے، سارا زور لگا لیا۔لیکن سچ سچ ہوتا ہے، اس کا کوئی توڑ نہیں ۔جھوٹ کا کاروبار نہیں چل سکتا ، گوئبلز لوگوں کو بیوقوف بنا سکتے ہیں لیکن سچ کا قتل عام نہیں کر سکتے، اب ہر کوئی شیخ الا سلام کے دلائل کا وزن اور ان کی سچائی کو تسلیم کر رہا ہے۔ڈاکٹر صاحب نے چاند تو نہیں مانگ لیا تھا، بس یہی کہا تھا نا کہ الیکشن صاف ستھرا، شفاف، کھرا، منصفانہ، غیر جانبدارانہ ہونا چاہئے ، اسٹیٹس کو ،نہیں چلنا چاہئے، مک مکا کے تحت بار ی کا کھیل ختم ہونا چاہئے۔آئین کے آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ پر عمل ہونا چاہئے، چور اچکے الیکشن دوڑ سے باہر کر دیئے جائیں، قرضے خور،خائن، قبضہ مافیا، ہیروئن مافیا، کلاشنکوف مافیا کا راج ختم ہونا چاہئے، انہوں نے الیکشن کمیشن کی تشکیل آئین کے تحت کرنے کی مانگ کی تھی تاکہ یہ اداراہ تگڑا ہو کر الیکشن کروائے، کسی کے سامنے جھکنے پر مجبور نہ ہو۔ابھی تو انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ ہمارا الیکشن کمیشن ویسا ہی با اختیار ہونا چاہئے جیسا بھارت کا ہے، وہاں الیکشن کے دوران نہ حکومت کا حکم چلتا ہے ، نہ عدالتیں رٹ پٹیشن سن سکتی ہیں جس سے کسی کو ایسا سٹے نہیں ملتا کہ اگلی پارلیمنٹ کی مدت ختم ہو جاتی ہے اور سٹے خارج نہیں ہوتا۔یہ کام بھارت میں نہیں ہو سکتا، پاکستان میں بھی نہیں ہونا چاہئے۔مہذب دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا، الیکشن کے دوران صرف الیکشن کمیشن کی چلتی ہے، بہر حال، نیا الیکشن کمیشن تو نہیں بنا مگر پہلے والے الیکشن کمیشن نے جرات رندانہ کا مظاہرہ کیا ہے، سب کو بتا دیا ہے کہ کمیشن صرف آئین کے تابع ہے، اس نے ایسا فارم چھپنے کے لئے دے دیا ہے جس کی چھلنی سے چور اچکے الیکشن سے باہر ہو جانے چاہئیں اور اس ایک اقدام سے چوروں اور لٹیروں کی چیخیں نکل گئی ہیں ، وہی دانش ور جو فخرو بھائی، فخرو بھائی کہتے نہیں تھکتے تھے، اب بلبلا اٹھے ہیں اور وہ کوثرو تسنیم میں دھلی ہوئی زبان میں فخرو بھائی کو بے نقط سنا رہے ہیں ، ان کا واویلا ہے کہ فخرو بھائی نہ تو نیب ہیں ،نہ ایف آئی اے ہیں ، نہ ایف بی آر ہیں،نہ عدالت ہیں، نہ ٹیکس محتسب ہیں ، نہ پولیس یا رینجرز ہیں کہ چوروں اچکوں اور لٹیروں کا احتساب کریں ، ان کا بس ایک ہی فریضہ ہے کہ جو بھی الیکشن لڑنا چاہے، اسے الیکشن لڑنے دے۔ کیایہ ہے وہ صاف ، شفاف، منصفانہ الیکشن جس کی قوم مانگ کر رہی ہے۔ یہ تو ہر قیمت پر باری لینے کی بھڑکیں ہیں۔راستے کی ہر رکاوٹ کو پاﺅں کی ٹھوکر پر رکھنے کے ارادے ہیں۔ فخرو بھائی نے ان دانشوروں کے بھائی بند اور سرپرست الیکشن سے باہر دھکیل دیئے تو وہ واویلا مچے گا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے گی، مگر سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو تسلی دی ہے کہ وہ اپنے کام میں مگن رہے،عدلیہ اس کی سرپرستی کرے گی۔یہی وہ مطالبہ تھا جو شیخ الاسلام نے کیا تھا، نہ اس سے کم، نہ اس سے زیادہ اور یہ مطالبہ مان لیا گیا، چلئے تضحیک کی قیمت ادا کرنا پڑی، لیکن دنیا میں تضحیک اور تحقیر کس کی نہیں کی گئی، کیا امام ابن تیمیہ کی امت نے عزت افزائی فرمائی تھی، کیا امام احمد بن حنبل کی ننگی پیٹھ پر کوڑے برسا کر ان کی جلیل القدر خدمات کا اعتراف کیا گیا تھا، کیا سقراط کو زہر کا پیالہ پلانا ان کی علمیت اور ان کے کردار کے شایان شان تھا۔اور دور کیوں جائیں، کیا نئے پاکستان کی تعمیر کرنے والے، کشمیر کے لئے ہزار سال تک جنگ کاعہدکرنے و الے، عام آدمی کو اس کے حقوق کا شعور عطا کرنے والے اور ایک شکست خوردہ قوم کوایٹم بم کا تحفہ دے کر ناقابل تسخیر بنانے والے ذوالفقار علی بھٹو کا صلہ پھانسی بنتا تھا۔شیخ الا سلام کے ساتھ اس قوم نے جو کیا، وہ تاریخ میں ہر صاحب عظمت کے ساتھ ہوا مگر شیخ الاسلام جو چاہتے تھے ، وہ تو ہو رہا ہے،مطالبات تو مان لئے گئے ہیں، سینے پر مونگ دلی جا رہی ہے۔ہتھیلی پر جمی ہوئی سرسوں صاف دیکھی جا سکتی ہے۔الیکشن ہو گا تو باسٹھ تریسٹھ کے تحت ہو گا، ورنہ نہیں ہو گا، اور ہو گا تو کوئی اس کو نہیں مانے گا، اس پر قوم کا اتفاق رائے ہے، عدلیہ اس اصول کی حمائت کرتی ہے، فوج نے اسی کے حق میں آواز بلند کی ہے،الیکشن کمیشن سختی سے اس پر کاربند ہے۔نادرا کے دفتر میں الیکشن کمشنر اور آرمی چیف کی ملاقات کے بارے میں من گھڑت قصے سننے کو ملے کہ آرمی چیف کو تو فخرو بھائی نے پہچاناہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ملاقات طے شدہ تھی،اس کا ایجنڈہ جاری کیا گیا تھا۔آرمی چیف کا روٹ لگا۔اور اس ملاقات میں ایک ہی اصول طے ہوا کہ الیکشن ہو گا ، بر وقت ہوگا، شفاف اور منصفانہ ہو گا، غیر جانبدارانہ ہو گا اور میں اس کا مطلب یہ لیتا ہوں کہ مک مکا کے تحت نہیں ہو گا، فیصلہ وہ ہوگا جو قوم کرے گی،کسی کمپیوٹر کا نتیجہ نہیں مانا جائے گا ، فیصلہ بر سر زمین ہو گا۔آرمی چیف اور الیکشن کمیشن کے سربراہ، چوروں ، لٹیروں، ٹھگوں، اٹھائی گیروں، قبضہ مافیا ، ٹیکس چوروں اور قرض خوروں کو الیکشن میں کامیاب کرانے کی حمائت تو کسی قیمت پر نہیں کر سکتے۔اور نہ انہوں نے ایسا کوئی فیصلہ کیا۔عدلیہ بھی بدنام زمانہ لوگوں کو پارلیمنٹ تک نہیں پہنچنے دے گی، اس نے تو جعلی ڈگری والوں کو نکال باہر پھینکا تھا اور میڈیا کی آنکھیں بھی کھل گئی ہیں ، اسے بھی سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنا آہی گئی ہے۔میڈیا والے جو تنخواہ دار ہیں، اب وہ منہ چھپائے پھرتے ہیں اور زیادہ تر اینکر اور تجزیہ کار عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہیں،رہے کچھ کالم نویس تو وہ بھونپو بننے کی کوشش کرتے ہیں، ایسی اوچھی حرکتوں سے وہ بے نقاب ہورہے ہیں ، ان کی غیر جانبداری کا بھرم کھلتا جارہا ہے۔مرصع اور مقفع ،اردوئے معلی سے وہ علمیت کا رعب تو جما سکتے ہیں لیکن دلیل سے کسی کو قائل نہیں کر سکتے ۔الیکشن کمیشن نے اگر شفاف ، غیر جانبدارانہ الیکشن نہیں کروانا تو کیا وہ الیکشن میں حلوے مانڈے کی دیگیں پکا کر تقسیم کرے گا۔حلوہ ضرور پکے گا جیسے ہر حکومت کے گرنے پر پکتا رہا ہے، مٹھائیاں بھی ضرور بانٹی جائیں گی جیسے ہر موروثی حاکم کا دھڑن تختہ ہونے پر بانٹی جاتی رہی ہیں ، اب آتش بازی تبدیلی کی خوشی میں ہو گی اور اسے دنیا دیکھے گی۔ مک مکا کا ڈرامہ فلاپ ہونے پر بھنگڑے ضرور ڈالے جائیں گے اور چور لٹیرے ٹھاہ کے نعرے بھی لگیں گے جب دیانتدار اور اہل قیادت کا انتخاب عمل میں آئے گا۔لوگ سب کا احتساب کریں گے، میرے لکھے کا بھی ہر روز احتساب ہوتا ہے، ایک صاحب نے ایک گھنٹے کی کال کی، صرف یہ جاننے کے لئے کہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی تعریف کیوں کرتا ہوں ، انہوں نے شیخ الاسلام کا خطاب کہاں سے لیا۔میں نے کہا کہ اگر ساڑھے پانچ سو کتابیں لکھنے ولا شیخ لاسلام نہیں ہو گا تو کیا شیخ الجہالت ہو گا۔سوال ہوا، انہوں ے یہ کتابیں لکھنے کے لئے اسٹاف رکھا ہو اہے۔ میں نے کہا کیا شیر شاہ سوری نے جرنیلی سڑک اپنے ہاتھوں سے تعمیر کی تھی، کیا لاہورموٹر بس سروس کا منصوبہ پروان چڑھانے پر لاکھوںمزدوروں نے کام نہیں کیا۔اور رہ گیا، کنیڈا کی شہریت کا مسئلہ۔ تو اس پر پاکستان کے آئین کو کوئی اعتراض نہیں۔اور اگر کسی نے اعتراض کیا ہے تو ستر لاکھ پاکستانیوں کا غضب مول لیا ہے۔میں ڈاکٹر طاہر القادری کو ایک بار پھر واپس آنے پر خوش آمدید کہتا ہوں ویسے ہی جیسے ن لیگ کی ٹکٹوں کا فیصلہ کرنے والے سابق برٹش پارلیمنٹیرین اور گلاسگو اور گوجرہ کے شہری محمد سرور کو چند روز پہلے میں نے خوش آمدید کہا تھا۔اوورسیز پاکستانی ہمارے وطن کا سنگھار ہیں۔وہ امت کے لئے باعث فخر ہیں۔


    Powered by Control Oye