صدر کے خطاب میں وزیر داخلہ کی ستائش

صدر کے خطاب میں وزیر داخلہ کی ستائش
انداز جہاں .... اسد اللہ غالب
پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران صدر آصف علی زرداری نے کابینہ میں شامل دو وزراءکا نام لے کر ستائش کی ہے۔ ایک بابر اعوان اور دوسرے رحمن ملک۔ دونوں اصحاب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی کابینہ کے ارکان ہیں۔ تاہم میڈیا رپورٹوں کے مطابق دونوں کا تعلق صدراتی ٹیم سے ہے اور اگر اس میں ذرا بھی حقیقت ہے تو صدر نے اپنی ٹیم کے نمایاں اورسرگرم ارکان کے کردار کی تعریف وستائش میں کسی بخل سے کام نہیں لیا۔ وزیر قانون کی رہنمائی میں آج پاکستان اس قابل ہوا ہے کہ دستور میں سے فوجی ڈکٹیٹروں کا گند صاف کیا جا سکے اور وزیر داخلہ کی رہنمائی میں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جرا¿ت مندانہ کردار ادا کیا ہے۔
صدر نے تقریر کے آخری حصے میں کہا ہے کہ ”دہشت گردی اور انتہا پسندی حالیہ دنوں میں ہماری قومی سلامتی کیلئے سب سے بڑا خطرہ ثابت ہوئی ہیں‘ لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم دہشت گردی کو ختم کر کے دم لیں گے۔ شہید محترمہ بینطیر بھٹو نے کہا تھا کہ ”ہم اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں‘ لیکن اس عظیم قوم کو دہشت گردوں کے سامنے سرنڈر کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں“ قوم نے ان کی پکار پر لبیک کہا ہے‘ جو لوگ ہتھیار ڈال دیں گے ہم ان کے ساتھ امن قائم کر سکتے ہیں مگر جو لوگ ریاست کی رٹ کیلئے چیلنج ثابت ہوں گے ان کا پوری طاقت سے مقابلہ کریں گے۔ ہم کسی کو اپنے اقتدار اعلیٰ کو روندنے کی بھی اجازت نہیں دیں گے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم نے پاکستان کے اقتدار اعلیٰ کی حفاظت کی ہے اور میں اس عزم کا اظہار کرتا کرتا ہوں کہ ہم آئندہ بھی اس کا تحفظ ہر قیمت پر کریں گے۔ قوم کو اپنی مسلح افواج کے افسروں اور جوانوں‘ پیراملٹری فورسز کے اہلکاروں‘ پولیس اور شہریوں کی قربانیوں پر فخر ہے۔ ان کی قربانی رائیگاں نہیں جانے دی جائے گی۔ میں وزیر داخلہ رحمن ملک کی جرا¿ت اور دلیری کی ستائش کرتا ہوں جس کا مظاہرہ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کیا“۔
 میںنے اب تک وفاقی کابینہ کے ارکان میں سے صرف اور صرف رحمن ملک کے کردار کو سراہا ہے۔ میں بابر اعوان کی دانش کا بھی قائل ہوں مگر وہ میرے دوست ہیں‘ میں ان کو اس وقت سے جانتا ہوں جب وہ وزیر اعظم نواز شریف اور احتساب بیورو کے فرشتے سیف الرحمن کے دور سے محترمہ نصرت بھٹو‘ محترمہ بینظیر بھٹو شہید اور آصف علی زرداری کے مقدموں کیلئے آئے روز لاہور کے چکر پر چکر کاٹتے تھے ۔وزیر داخلہ رحمن ملک کو میں ذاتی طور پر بالکل نہیں جانتا‘ میں نے کئی مرتبہ یہ فرمائش کی ہے کہ کم از کم وہ مجھے چائے پر ہی بلائیں‘ لگتا ہے کہ رحمن ملک روایتی سیاستدان نہیں۔ وہ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا۔ ان کے سر پر ایک ہی دھن سوار ہے کہ وہ اس عظیم فریضے سے کیسے عہدہ برا ٓہوں جو تاریخ نے ان کے کندھوں پر ڈال دیا ہے۔
 محترمہ بینظیر اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی جان پر کھیل گئیں‘ لیکن انہوں نے اس قوم کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں یکسو کر دیا ۔ محترمہ کی شہادت سے پہلے قوم اس جنگ کواپنی جنگ نہیں، امریکہ کی جنگ سمجھتی تھی‘ لیکن محترمہ نے اپنا خون دے کر قوم کو اپنی بقاءکی جنگ لڑنے کیلئے متحد کردیا اور اگر رحمن ملک آج سرخرو نظر آتے ہیں تو اس کی اصل وجہ محترمہ بینظیر بھٹو کی عظیم قربانی ہے۔ رحمن ملک کو اس نکتے کی تہہ تک پہنچنے میں زیادہ کاوش نہیںکرنا پڑی۔ صوفی محمد‘ مولوی فضل الرحمن‘ مولوی نیک محمد جیسے انتہا پسندوں نے اسلام‘ پاکستان‘ جمہوریت‘ پارلیمنٹ اور ملکی عدلیہ کے خلاف بیانات دے کر رحمن ملک کا کام آسان بنا دیا۔ سوات اور فاٹا میں بچوں کے سکولوں کو نذر آتش کرنے‘ تھانوں‘ کچہریوں اور دیگر سرکاری عمارتوں کو کھنڈر بنانے‘ سی ڈی اور حجاموںکی دکانوں کو بموں سے اڑانے‘ رحمن بابا کے مزار کو زمین بوس کرنے‘ خواتین کی ننگی پیٹھ پر کوڑے برسانے‘ پاک فوج کا ساتھ دینے کی پاداش میں گردنیں اڑانے والے دشمن کو پہچاننا آسان ہو گیا۔ ڈر اور خوف کبھی رحمن ملک کے قریب تک نہیں پھٹکا۔ وہ راتوں کے آخری پہر سڑکوں پر ناکے چیک کرنے نکل جاتے ہیں اور جہاں کہیں خودکش دھماکے ہو ں‘ وہاں سب سے پہلے پہنچتے ہیں۔ رحمن ملک کی حوصلہ شکنی کرنے میں میڈیا کا ایک حصہ ہر وقت سرگرم عمل رہتا ہے مگر رحمن ملک نے کبھی ان رپورٹوں کا اثر قبول نہیں کیا۔ میرا تجزیہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں رحمن ملک نے قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ وزیر داخلہ کے طور پر پاکستان کی سرحدوں کے اندر بدامنی کی کسی لہر پر قابو پانا رحمن ملک کی ہی ذمے داری تھی اور گزشتہ دو سال کی تاریخ گواہ ہے کہ رحمن ملک نے اپنی اس ذمہ داری کو بطریق احسن نبھانے کی کوشش کی ہے۔ رحمن ملک کو بے حد دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا ہو گا‘ کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ تو مسلح افواج نے لڑنی تھی جن کی کمان وزیر داخلہ کے ہاتھ میں نہیں ۔ دہشت گردی کا مسئلہ چونکہ محض پاکستان تک محدود نہیں رہا ،یہ ایک عالمی ” فنومینا“ ہے،مگروزارت خارجہ پر بھی رحمن ملک کو کوئی کنٹرول حاصل نہ تھا‘ رحمن ملک کو داد دینی چاہئے کہ انہوںنے غیر محسوس طور پر بتدریج وزارت دفاع اور وزارت خارجہ کا ضروری کنٹرول بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ انہوں نے سعودی عرب میں خادم حرمین شریفین سے ملاقات کی۔ ترکی‘ برطانیہ‘ امریکہ‘ سپین‘ فرانس اور دنیا کے دیگر ممالک کے وزرائے داخلہ سے بار بار ملاقاتیں کیں اور ایک ایسا اشتراک عمل وضع کیا جس نے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے میں مدد دی۔
رحمن ملک پرانے جیالے نہیں ہیں، اس لئے پارٹی کے اندار بھی ان کے خلاف باتیں ضرور ہوتی ہوں گی لیکن انہیں محترمہ بینظیر بھٹو شہید کا اعتماد حاصل تھا اور جناب زرداری نے بھی ان کو وہی اعتماد بخشا ہے۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اگر پرانا جیالا نہ ہونے کے باوجود رحمن ملک، پیپلز پارٹی کے لئے فائدہ مند ثابت ہوئے ہیں تو پھر نئے اور پرانے کی بحث فضول اور لایعنی ہے۔ دوسری طرف اگر یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ صدارتی ٹیم کے ممبر ہیں یعنی صدر کے چہیتے ہیں تو یہ ان کی برائی نہیں خوبی ہے‘ کیونکہ جس صدر سے ان کا ناطہ جوڑ اجاتا ہے، وہ پیپلز پارٹی کے شریک سربراہ اور پیپلز پارٹی کے وارث ہیں۔ صدارتی ٹیم کی اصطلاح اصل میں وزیر اعظم کو بد ظن کرنے کیلئے کی گھڑی گئی ہے‘ لیکن وزیر اعظم کوئی طفل مکتب نہیں کہ اس شر انگیزی کو سمجھ نہ پائیں
 رحمن ملک کی بڑی کامیابی یہ ہے کہ انہوںنے اپنے آپ کو متنازعہ ہونے سے بچائے رکھا اور یوں تمام سٹیک ہولڈرز کا انہیں اعتماد حاصل رہا۔ رحمن ملک کی یہ کامیابی دراصل پاکستان کی کامیابی ہے۔ آج ملک میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں مکمل اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ کیری لوگر بل پر فوج کی طرف سے احتجاج ضرور سامنے آیا تھا لیکن حکومت نے فوج کے جذبات کا لحاظ کیا اور اب امریکہ سے سٹریٹجک مذاکرات ہوئے ہیں تو آرمی چیف اس ایکسرسائز میں مدار المہام نظر آئے۔ امریکہ کو بھی پاک فوج کے جذبات کا لحاظ کرنا پڑا۔یہ پاک فوج ہی تو ہے جس کے جوان اور افسر جام شہادت نوش کر رہے ہیں۔ امریکی یا ناٹو فورسز نے تو اس قدر قربانیاں نہیں دیں۔ صوبہ سرحد کے عوام کو دہشت گردی کا نشانہ بننا پڑا ہے۔ پنجاب بھی دہشت گردی کے نشانے پر ہے۔ سندھ وبلوچستان بھی لہو لہان ہیں لیکن قوم کو اعتماد ہے کہ اس کی قیادت اس چیلنج سے نبرد آزما ہونے کا عزم بھی رکھتی ہے اور صلاحیت سے بھی بہرہ مند ہے۔صدر کا ہم نوا بن کر میں بھی رحمن ملک کو شاباش دینے میں پیش پیش ہوں۔


    Powered by Control Oye