بھٹو کا نصیب

بھٹو کا نصیب
انداز جہاں .... اسد اللہ غالب
بھٹو کتنے نصیبوں والا شخص تھا یا اس کے نصیب بہت برے تھے، اس سوال کا جواب ہر شخص اپنے ذہن اور اپنی سوچ کے مطابق ہی دے سکتا ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کی یاد اکتیس سال بعد بھی پورے جوش و خروش سے منائی گئی۔آج پیپلز پارٹی اقتدار میں ہے‘ لیکن برسی کی تقریب کے انتظامات سرکاری سطح پر کرنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ بھٹو کے جیالے بپھرے ہوئے جذبات کے ساتھ ملک کے کونے کونے سے گڑھی خدا بخش امڈے چلے آئے۔ اڈیالہ جیل میں قید شیخ ریاض نے بھی برسی کی تقریب کا اہتمام کیا اور سینکڑوں قیدی اس تقریب میں شریک ہوئے۔ شیخ ریاض کا کہنا ہے کہ انہیں زرداری کا ساتھی ہونے کی سزاد ی گئی اور زرداری صاحب کا کہنا ہے کہ انہیں بھٹو خاندان سے قربت داری کی سزا دینے کی کوشش ہو رہی ہے۔ مگر انہوں نے پھرللکارا ہے کہ وہ قلم اور سازش سے نہیں ڈرتے۔ موت کا دقت معین ہے اور جو رات قبر میں آنی ہے وہ ٹل نہیں سکتی۔ زرداری صاحب یہ بات کئی بار دہرا چکے ہیں۔ بینظیر بھی شہادت سے قبل بار بار موت کا ذکر کر رہی تھیں۔ ان کے پاس یقینی طور پر کوئی معلومات ہوں گی جو تحقیقات کے نتیجے میں سب کے سامنے آ جائیں گی،لیکن زرداری صاحب کے درپے قوتیں کسی سے مخفی نہیں ہیں۔ ہمارے ہاںایک مخصوص گروپ کے لوگ سرگرم عمل ہیں جو زرداری کو ایوان صدر سے ایمبولینس میں باہر نکالنے پر تلے ہوئے ہیں۔ بھٹو کو بھی جیل میں ڈالا گیا‘ پھر پھانسی کی کوٹھڑی میں منتقل کیا گیا‘ پھر ان کی لاش رات کے اندھیرے میں گڑھی خدا بخش لے جا کر دفن کر دی گئی۔ بھٹو منوں مٹی کے نیچے ہے مگر اس کا نام گلی گلی گونجتا ہے۔ بھٹو کو مارنے والے تو قعر گمنامی میں چلے گئے۔
ہماری قوم محسن کش واقع ہوئی ہے۔ قائد اعظمؒ نے پاکستان دیا‘ ہم نے انہیں کراچی کی سڑکوں پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر موت کی دہلیز تک پہنچایا۔ قائد ملت خان لیاقت علی خان نے بھارت کے خلاف مکا لہرایا اور لاہور کے دفاع کے لئے میلوں لمبی بی آر بی نہر کھدوائی۔ اسی نہر نے 1965 میں لاہور کو بھارت کے قبضے میں جانے سے روکالیکن ہم نے لیاقت علی خان کو اس احسان کا بدلہ یوں دیا کہ راولپنڈی کے ایک باغ میں پستول کی گولی سے شہید کر دیا۔ بھٹو کے احسانات بے شمار ہیں‘ انہوں نے ایک نئے پاکستان کی تعمیر کی۔ بھارت سے نوے ہزار قیدی رہا کروائے‘ سینکڑوں مربع میل کا علاقہ واگزار کروایا۔ پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانے کیلئے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی۔ جمہوریت کو مستحکم کرنے کیلئے آزادی کے پچیس برس بعد متفقہ دستور دیا۔ اسلامی کانفرنس کا ایک تاریخی اجلاس شہر لاہور میں منعقد کیا‘ شاہ فیصل کو عالمگیری مسجد میں آنسو بہاتے پوری دنیا نے دیکھا‘ بھٹو نے سارے اقدامات ایک شکست خوردہ پاکستان کو احساس تفاخر عطا کرنے کیلئے اٹھائے لیکن ہمارے جرنیلوں نے اپنے حامی ججوں‘ جرنلسٹوں اور جغادری سیاستدانوں کے گٹھ جوڑ سے بھٹو کو اقتدار سے ہٹایا اور پھر پھانسی پر چڑھا دیا اور اس کا تابوت سیل بند کر کے گڑھی خدا بخش پہنچا دیا گیا۔ مگر جرنیل‘ جج‘ جرنلسٹ اور سیاستدان بھٹو کا نام ونشان مٹانے میں ناکام رہے ہیں۔ واہ کیا نصیب ہیں شہید بھٹو کے!
بھٹو کی بیٹی نے باپ کی سیاست اور وراثت کو آگے بڑھانا چاہا تو جج‘ جرنیل‘ جرنلسٹ اور جغادری سیاستدانوں نے ان کے خلاف بھی ایکا کرلیا‘ ان کو ناکوں چنے چبوانے کیلئے اسلامی جمہوری اتحاد کا بھوت بوتل سے نکالا گیا۔ بھٹو کی بیٹی زخم پہ زخم کھانے کے باوجود بار بار عوامی مینڈیٹ لے کر اقتدار میں آتی رہی اور بار بار اسے بھٹو کے انجام سے دوچار کرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ بالآخر اسے طویل جلاوطنی قبول کرنا پڑی‘ لیکن جب فوجی آمر اور اس کے ساتھی تھک گئے تو این آر او کا دھوکہ دے کر بھٹو کی بیٹی کو وطن واپس بلا کر شہید کر دیا گیا‘ مگر آزمائش کی اس کٹھن گھڑی میں آصف علی زرداری آگے بڑھے۔ وہ طویل عرصہ تک جیلوں میں گلتے سڑتے رہے‘ چھوٹی بڑی عدالتوں میں دھکے کھاتے رہے‘ لیکن کوئی تفتیش کار‘ کوئی جج ان کے خلاف تیرہ برس کی طویل مقدمہ بازی میں کوئی ایک جرم بھی ثابت نہ کر سکا‘ مگر جب وہ صدر بن چکے ہیں‘ ان کی پارٹی مرکز اور چاروں صوبوں میں برسراقتدار ہے اور ملک اورعوام کو مارشل لا کی نحوست سے نکالنے کیلئے تگ ودو کر رہی ہے تو جناب زرداری کے ہاتھ پاﺅں جکڑنے کیلئے جتن جاری ہیں۔ یہ خدشہ حقیقت بنتا نظر آتا ہے کہ حکومت اور عدلیہ کے مابین پھر سے محاذ آرائی شروع ہو جائے گی۔ پہلے یہ محاذ آرائی سابق صدر مشرف کے ساتھ تھی‘ اب موجودہ صدر زرداری کے ساتھ ہے۔ سابق صد رمشرف نے تو خودپنگا لیا تھا ،مگر اسے منہ کی کھانا پڑی ، اس لئے کہ قوم عدلیہ کے حقوق کے تحفظ کے لئے سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔موجودہ حکمران پارٹی بھی عدلیہ بحالی تحریک میں پیش پیش رہی ہے۔ بابر اعوان‘ یوسف رضا گیلانی‘ شیری رحمن‘ لطیف کھوسہ‘ زمرد خان‘ اعتزاز احسن پیپلز پارٹی سے ہی تعلق رکھتے ہیں اور وہ کڑی دھوپ میں احتجاجی جلوسوں کے آگے آگے نظر آتے تھے۔ انہوں نے لاٹھیاں کھائیں، سختیاں برداشت کیں، محترمہ بینظیر نے جسٹس کالونی کے باہر آہنی تاروں کے سامنے کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ معزول چیف جسٹس تو ان کے بھی چیف جسٹس ہیں تو پھر موجودہ محاذ آرائی کے پس پردہ سازشی ٹولے کے عزائم کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ لوگ پیپلز پارٹی اور عدلیہ کے خلاف تو ہیں ہی مگر در اصل ملک کے خلاف سازش میں مصروف ہیں۔ وہ پاکستان کو کمزور کر کے اسے امریکہ اور بھارت کا ترنوالہ بنانے کے خواہاں ہیں۔ ان کی آشا سب کو نظر آ رہی ہے یہ آشا خدا نخواستہ پاکستان کی سلامتی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ یہ آشا ہے یا سازش اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ویسے پاکستان پیپلز پارٹی وہی گناہ کر رہی ہے جو بھٹو سے سر زد ہوئے تھے۔ اس پارٹی نے موجودہ عرصہ اقتدار میں بلوچستان کی محرومیوں کے ازالے کیلئے صوبے کو حقوق دیئے‘ پانی کی تقسیم کا فارمولہ اتفاق رائے سے طے کر دیا۔ مالیاتی ایوارڈ پر بھی سبھی صوبوں کے دستخط خوشنودی سے کئے۔ اب آئین میں سے فوجی جرنیلوں کا گند صاف کرانے کیلئے قومی اتفاق رائے سے پارلیمنٹ میں ترمیم لائی جا رہی ہے۔ صدر زرداری نے صاف کہا ہے کہ پیپلز پارٹی بے وفا نہیں ، وعدے پورے کرنے میں دیر ضرورہو ئی، وہ بھی قومی اتفاق رائے کے حصول کی خاطر، اکیلی پیپلز پارٹی آئین میں ترمیم نہیں کر سکتی ، اس کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ، دوسروں پر انحصار کرنا اس کی مجبوری ہے۔ اگر یہ سب کچھ گناہ ہے تو پیپلز پارٹی کو ضرور سزا ملنی چاہئے‘ کیونکہ یہی بھٹو کا نصیب تھا۔لیکن میاں شہباز شریف کے بیان سے پتہ چلتا ہے کہ انہیں پیپلز پارٹی اور صدر زرداری کی مشکلات کا اندازہ ہے، انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے دل میں صدر کے خلاف کوئی میل نہیں۔اگر یہی سپرٹ عام ہو جائے، تو ملک میں جمہوریت کا ننھا منا پودا تناور درخت بن سکتا ہے، اس سوچ کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔


    Powered by Control Oye