ادا کر رسم شبیریؓ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

03-03-2010
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیریؓ

انداز جہاں .... اسد اللہ غالب

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا تعلق ایک خانقاہ سے ہے، انہوں نے دیگر خانقاہوں والوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے کردار ادا کریں۔ عام طور پر وزیر اعظم کے بیانات پر ہمارے تجزیہ کار ایک ہی بات کرتے تھے کہ مستند ہے آپ کا فرمایا ہوا‘ لیکن جب سے وزیر اعظم نے اپنا جھکاﺅ صدر کی طرف زیادہ کر دیا ہے وہ بھی ”ان دی لائن آف فائر“ میں کھڑے کر دیئے گئے ہیں اور وہ لوگ جن کی اپنے گھر میں کوئی قدر ومنزلت نہیں‘ وہ وزیر اعظم پر تابڑ توڑ حملے کر رہے ہیں۔
میں ابتداءہی میں یہ اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ موضوع سے انصاف نہیں کر سکوں گا اس لئے کہ میں وہابی النسل، اہل حدیث ہوں اور خانقاہوں‘ مزاروں اور قبروں کے خلاف ہی وعظ سنے ہیں یا لٹریچر پڑھا ہے‘ لیکن میں ذاتی طور پر کٹھ ملا ہرگز واقع نہیں ہوا اور مجھے اولیاءاور بزرگوں کے احترام کا سبق ضرور ملا ہے‘ اہل حدیث ہونے کے باوجود ہمارے گاﺅں فتوحی والا میں ایک خدا رسیدہ بزرگ صوفی ولی محمد نے پڑاﺅ ڈالا‘ میرے والد مرحوم کو ان کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا‘ صوفی ولی محمد کا تعلق تحریک مجاہدین سے تھا اور ایک لحاظ سے وہ اس دم توڑتی تحریک کے درمیان رابطے کے فرائض ادا کر رہے تھے۔ خورشید قصوری نہیں جانتے ہوں گے لیکن مجھے گاﺅں کے بزرگوں سے پتہ چلا تھا کہ قصوری خاندان کے بزرگ صوفی ولی محمد کی بیعت میں تھے اور باقاعدگی سے ہمارے گاﺅںجایاکرتے تھے۔ انگریز سرکار کو سی آئی ڈی سے اطلاع ہو گئی کہ فیروز پور ہیڈ ورکس کے شمالی سرے پر سڑک کے کنارے واقع اس گاﺅں میں ایک ”باغی“ موجود ہے۔ میں نے یہ بات پھر اپنے بزرگوں سے ہی سنی ہے کہ انگریز ایس پی نے بھاری پولیس نفری کے ساتھ گاﺅں کا محاصرہ کر لیا۔ صوفی ولی محمد اس وقت نماز عصر کی امامت کروا رہے تھے۔ انگریز ایس پی نے مسجد کا دروازہ سنبھال لیا‘ لیکن خدارسیدہ صوفی ولی محمد نماز سے فارغ ہوئے اور انگریز ایس پی کی آنکھوں کے سامنے سے نکل کر ایسے غائب ہوئے کہ پھر ان کی خبر جنوبی پنجاب میں کہیں آباد ہونے کی ملی۔ میں نے یہ ساری تفصیل اس لئے بیان کی ہے کہ میں یہ ثابت کر سکوں کہ میری وہابیت کسی لحاظ سے کرامت کی منکر نہیں۔ میں ایک بار کو الالم پور میں تھا‘ نوبل انعام یافتہ پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام نے وہاں لیکچر دیا‘ سامعین میں ہندو بھی تھے‘ چینی بھی اور ملائی نسل کے مسلمان بھی۔ لیکچر ختم ہوا تو ایک چینی نے پہلا سوال داغا کہ آپ ایک ماہر طبیعات ہوتے ہوئے خدا کے وجود کے کیسے قائل ہیں۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ میرا طبیعات کا علم یہ بھی ثابت کرنے سے قاصر ہے کہ خدا کا کوئی وجود نہیں۔ چنانچہ وہ جو کہا گیا ہے کہ شبانی سے کلیمی دو قدم ہے تو انسان نے ذہن کے دریچے کھول رکھے ہوں تو ہر معقول بات اس کی عقل میں آ جاتی ہے۔
 تحریک پاکستان کی کامیابی میں خانقاہی نظام نے جو کارنامہ انجام دیا‘ اس کی تفصیل سے ہر کوئی آگاہ ہے۔ برصغیر کے سواد اعظم سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد بابائے قوم کے ادنیٰ سپاہی تھے‘ جبکہ کانگریس کا ساتھ نبھانے والے علماءکے بارے میں اقبال نے فرمایا تھا کہ ”زدیوبند حسین احمد ایں چہ بوالعجبی ست!“ قائد اعظم اور ان علماءکے مابین قوم اور وطن کے نظرےے پر اختلاف تھا۔ حسین احمد مدنی کی رائے تھی کہ قومیں وطن سے بنتی ہیں‘ جبکہ قائد اعظم اور اقبال کا فرمان تھا کہ مذہب ہی قوم کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ وطن کا نظریہ رکھنے والے کانگرس سے جا ملے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے روحانی بزرگوں کی قیادت میں آل انڈیا مسلم لیگ کا ساتھ دیا۔ ان کے لئے حضرت مجدد الف ثانیؒ کے روشن مثال تھی کہ ”گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے“۔ ظل الٰہی شہنشاہ عالم پناہ کا اقتدار ان کی آنکھوں کو خیرہ نہ کر سکا۔ گو برصغیر کی تاریخ مسلمان فاتحین کے تذکروں سے اٹی پڑی ہے لیکن ان فاتحین نے جس ”دین الٰہی“ کا پرچار کیا اس کا اسلام سے دور کا واسطہ بھی نہ تھا۔ برصغیر میں اسلام کی روشنی حضرت سید ہجویری کے دم قدم سے پھیلی‘ شاہ بھٹائی، خواجہ فریدالدین گنج شکر، قطب الدین بختیار کاکیؒ اور شاہ حسینؒ کے درس محبت اور اخوت نے بڑی تعداد میں غیر مسلموں کو اسلام کی طرف مائل کیا۔ میں یہاں کس کا نام لوں اور کس کا تذکرہ نہ کروں‘ یہ ایک بہت مشکل مرحلہ ہے۔ ان میں سے ہر ایک آفتاب ماہتاب کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے ہاتھ میں گو شمشیر نہ تھی‘ ان کے اسلحہ خانے میں گو کوئی ایٹم بم نہ تھا‘ گووہ میزائلوں سے مسلح نہ تھے‘ ٹینکوں پر سوار نہ تھے اور گھوڑے اور ہاتھی ان کے کاروان کا حصہ نہ تھے‘ لیکن وہ مسیحا نفس تھے۔ آج برصغیر میں اگر نصف ارب کے قریب مسلمان موجود ہیں تو یہ ان بزرگوں کا فیض ہے جو خانقاہوں میں دھونی رما کر نہیں بیٹھے تھے ۔ میں 1976ءکے سیلاب کی کوریج کیلئے اوچ شریف پہنچا‘ میں نے زندگی میں پہلی بار نور سے اٹا ہوا قبرستان دیکھا تھا۔ میں وہاں مبہوت ہو کر رہ گیا ۔یہی کیفیت مکة المکرمہ کے پرانے قبرستان میں مجھ پر طاری ہوئی جہاں میں برادرم حسین پراچہ کی معیت میں گیا تھا۔ سعودی حکومت نے اس قبرستان کو نقصان نہیں پہنچایا۔ جنت البقیع کی جو بھی حالت ہے اس کے باوجود انسان وہاں اپنے آپ کو نور کے ہالے میں گھرا ہوا پاتا ہے اور سامنے حضور کا روضہ مبارک کہ ۔۔ سرخم کردہ می آیند جنید وبایزید ایں جا!“
وزیر اعظم گیلانی نے اپنی کئی تقاریر میں کہا ہے کہ ان کے والد گرامی 23 مارچ 1940ءمیں منٹو پارک کے اس جلسے میں شریک ہوئے تھے جہاں قیام پاکستان کیلئے قرارداد منظور کی گئی۔ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ان کے والد نے اس قرارداد پر دستخط کرنے کا شرف حاصل کیا تھا۔ میرے ذہن میں بھی اپنے بچپن کی ایک تصویر نقش ہے۔ میرے والد مرحوم مسلم لیگ گارڈز کے مقامی دستے کے سالار تھے اور گاﺅں کی خالی”شاملات“ میں لکڑی کی بندوقیں تھامے۔۔ چپ راست! چپ راست!۔۔ کرتے نظر آتے تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مسلم لیگ میں ان کی شمولیت صوفی ولی محمد کی تعلیمات کا نتیجہ تھی۔ صوفی صاحب انگریز استعمار کی غلامی سے نجات کیلئے سیداحمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ کی پیروی میں عملی جدوجہد کے قائل تھے۔ حصول آزادی کے لئے اس عظیم جدو جہدنے برصغیر کے مسلمانوں کو خوابِ غفلت سے جگایا اور ایک آزاد‘ خودمختار پاکستان کیلئے وہ قائد اعظم کے ادنیٰ سپاہی بن گئے۔
میں نے ایک مرتبہ نارووال کا سفر کیا‘ مجھے پیر جماعت علی شاہؒ کے آستانے پر حاضری دینا تھی۔ عام لوگوں کا خیال ہے کہ پیر فقیر تارک الدنیا ہوتے ہیں‘ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ پیر جماعت علی شاہ کی لوح مزار پرکندہ عبارت ایک اور ہی حقیقت کی گواہی دے رہی تھی۔ سر سید احمد خاںنے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے قیام کی تحریک شروع کی تو پیر جماعت علی شاہ نے اس زمانے میں اس تحریک کیلئے لاکھوں روپے کا چندہ دیا۔ یہی پیر جماعت علی شاہؒ لاہور میں تحریک مسجد شہید گنج کے اس جلوس کی قیادت بھی کر رہے تھے جس کے شرکاءمیں ایک حضرت علامہ اقبالؒ بھی تھے۔ کون ہے جو ان بزرگوں کے مقام ومرتبہ تک پہنچ سکتا ہے۔
وزیر اعظم نے اگر خانقاہی نظام کے علم برداروں کو آج ملک کے سنگین ترین چیلنج سے نبرد آزما ہونے کیلئے پکارا ہے تو ان کی آواز صدا بصحرا ثابت نہیںہونی چاہئے نہ اسے مذاق اور تمسخر کا نشانہ بننا چاہئے۔ آج جو لوگ جہاد کے نام پر دہشت گردی میں ملوث ہیں، وہ ہماری پارلیمنٹ کو ،ہمارے جمہوری سسٹم کو‘ ہماری عدالتوں اور ہمارے قومی پرچم کے خلاف ہیں۔ ان لوگوں کا مقابلہ میدان جنگ میں تو ہماری مسلح افواج‘ ہماری ایف سی‘ ہمارے رینجرز‘ ہماری ایف آئی اے اور ہماری پولیس بڑی بہادری سے کر رہی ہے‘ لیکن اس خطرے کا سدباب کرنے کیلئے ضروری ہے کہ عام آدمی کے ذہن میں اسلام اور جہاد کا صحیح تصور واضح کیا جائے۔ اس کیلئے ہمیں اپنے بزرگوں کی تعلیمات سے رجوع کرنا ہو گا۔ خانقاہوں‘ مقبروں‘ مزاروں میں محو خواب ہستیوں کی طرف سے دیا جانے والا امن کا پیغام عام کرنا چا ہو گا۔ اسلام تو نام ہی سلامتی کا ہے۔ اور یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ اگر یہ اولیا، یہ بزرگ ، یہ پیر ، فقیر نہ ہوتے تو منکہ مسمی اسداللہ غالب کہیں اکھنڈ بھارت میں شودروں کی طرح جھاڑو دے رہا ہوتا، اور یہ جو ہمارے صدر، وزیر اعظم، وزیر ،جج ،جرنیل اور بڑے بڑے جغادری افسرہیں ، وہ دلی کی گلیوں میں خاک چھان رہے ہوتے، اور ہمارے لاہور، لائل پور ، اورلالہ موسی کا نام بدل کر سچیت گڑھ، بستی کھٹیکاں،لالہ دھونی رام رکھا جا چکا ہوتا۔دعائیں دو ان بزرگوں کو جو ہمیں ہدایت کی راہ پر لگا گئے۔



    Powered by Control Oye