گڑھی خدا بخش کی قبروں کا ٹرائل

انداز جہاں۔۔۔اسداللہ غالب
گڑھی خدا بخش کی قبروں کا ٹرائل

لاہور میںمیاں نواز شریف کے جلسے کو بقعہ نور بنانے کے لئے بجلی چوری کے مقدمے سے جس طرح جان چھڑائی گئی ہے، اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ن لیگ کو کرپشن اور بد دیانتی کے سد باب سے کس حد تک دلچسپی ہے، ویسے قوم کو ایسے لایعنی قسم کے مقدموں میں الجھانے سے بھی کیا حاصل۔بجلی ایک ضرورت ہے بلکہ بنیادی ضررورت ہے اور جہاں میاں نواز شریف موجود ہوں وہاں سرکاری وسائل کا ستعمال ایک بنیادی حق بھی قرار پاتا ہے۔لیسکو چیف نے بہتر سمجھا کہ لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے نچلی سطح پر چند بندوں کو سزا دے دی جائے، انہیں اچھی طرح پتہ ہے کہ دریا میں رہنا ہے تو مگر مچھ سے بیر نہیں کمایا جا سکتا۔اسی لیسکو چیف کی یہ کرامت ہے کہ چارج لیتے ہی ہدایت فرمائی کہ آیندہ اوور بلنگ نہیں کی جائے گی، مگر چند ماہ کے اندر پتہ چلا کہ آمدنی برداشت سے زیادہ کم ہو گئی ہے، حکام بالا نے باز پرس کی تو لیسکو چیف زیادہ چالاک نکلے، انہوں نے اپنے چند اعلی اور ادنی اہلکاروں کو شو کاز نوٹس جاری کر دیئے اور لائن حاضر کر دیا تا کہ اگلے مرحلے میں انہیں گھر کی راہ دکھائی جائے۔
لیسکو چیف کی طرح مجھے آئینی کمیٹی بھی بڑی عقل مند نظر آتی ہے ۔ یہ کمیٹی اس نکتے پر غورکررہی تھی کہ آئندہ سے ججوں کی تقرری کا کیا فارمولہ اپنایاجائے۔ ہرشخص توقع لگائے بیٹھا تھا کہ اس کے لئے تو میثاق لندن سے راہ نمائی لی جائے گی اور ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے گا جس کی سربراہی ایسے چیف جسٹس آف پاکستان کو سونپی جائے گی جس نے کبھی پی سی او کے تحت حلف نہ لیا ہو۔ اور کمیشن کے ذریعے کسی ایسے جج کی ترقی بھی نہیں کی جائے گی جس نے کبھی پی سی او کے تحت حلف اٹھانے کا گناہ کیا ہو مگر گزشتہ شام اس آئینی کمیٹی کی سفارشات کا خاکہ میڈیا کے ذریعے لوگوں کے سامنے آیا تو ہرشخص دانتوں تلے انگلیاں داب کر رہ گیا کیونکہ پی سی او والی شرط ختم ہو کر رہ گئی تھی گویا یہ شرط بھی این آراو کی طرح وائڈ بنیشو(void bonitio) قراردے دی گئی تھی۔ اسی طرح این آر او کا وجود عدم وجود برابر کردیا گیا تھا اور اب پی سی او کے خلاف بھی سارا غم و غصہ تھوک گیا ۔ کیا طرفہ تماشہ ہے کہ عدلیہ تحریک کے دوران سارازور اس بات پر تھا کہ عدلیہ کو پی سی او سے آزاد کرادیاجائے گا۔ پی سی او ججوں کو برے دن دیکھنے نصیب ہوئے ۔اللہ کسی کو ایسے دن نہ دکھائے ۔ اگر آئینی کمیٹی کو پی سی او پر کوئی اعتراض نہ تھا تو پی سی او اور عدلیہ کا بُراحال کیو ں کیاگیا۔ اور ڈوگر کورٹ کو بھی میڈیا میں کس بنا پر لتاڑا گیا۔ میرا خیال ہے کہ آئینی کمیٹی بھی لیسکو چیف کی طرف سیانی ہے کہ دریا میں رہنا ہے تو مگرمچھ سے بیر نہیں رکھا جاسکتا ۔ ویسے ہی ججوں کی تقرری کوئی بڑا مسئلہ تو ہے نہیں۔ اب تو یہ چلن ٹھہراکہ جو فہرست عدلیہ کی طرف سے آجائے، صدر اور وزیراعظم، گورنر اور وزائے اعلیٰ اس پر مہر تصدیق ثبت کردیں ۔ اس طرح ایک ٹیڑھے اور پیچیدہ مسئلے کا آسان تریں حل نکال لیا گیاہے۔ اس جھنجھٹ میں نہ پڑنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ قوم کو اپنی توانائیاں لایعنی معاملات پر ضائع کرنے کی بجائے حقیقی سنگین مسائل سے نپٹنے کے لئے بچا کررکھنی چاہییں۔
ان حقیقی اور سنگین مسائل میں سے بڑا مسئلہ گڑھی خدا بخش کی قبروں کا ٹرائل ہے۔ ایک قبر میں محو خواب ذوالفقار علی بھٹو کو تو پھانسی دے دی گئی لیکن ان کا ٹرائل ابھی تک جاری ہے اور بھٹو دشمن اور عوام دشمن قوتیں لگاتار بھٹو کو کٹہرے میں کھڑا رکھتی ہیں ۔بھٹو نے سب سے بڑا گنا ہ یہ کیا تھا کہ ایک شکست خوردہ پاکستان کو ایٹمی طاقت کے حصول کے راستے پر لگا یا گویا انہوں نے ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاو¿ کے عالمی قوانین کی دھجیاں اڑائیں ۔ چنانچہ کسی روز کوئی شخص جنیوا کی عدالت میں درخواست دائر کرسکتا ہے کہ ڈاکٹر قدیر خان کے خلاف جو کاروائی ہوئی سو ہوئی، اصل اور بڑے مجرم ذوالفقار علی بھٹو کا بھی این پی ٹی معاہدے کی دھجیاں اڑانے میں ٹرائل کیا جائے ۔ بھٹوکا ایک گناہ یہ تھا کہ انہوں نے بھارت سے ہزار سال تک جنگ لڑنے کی بات کی تھی۔ جبکہ نواز شریف اور ان کے پیروکار جو واجپائی کی یاترا پر سر فخر سے بلند کرتے ہیں ، وہ بھٹو کو پاک بھارت تعلقات میں رخنہ اندازی کا مجرام ٹھہرا کرکٹہرے میں کھڑا کرسکتے ہیں۔ ۔ ہزار سال تک جنگ لڑنے کی کی بات تو عین دہشت گردی کے مترادف ہے اس پر بھٹو کی قبر کو تو گوانتاموبے جیلرز کی تحویل میں دیا جاسکتا ہے ۔ گوانتاموبے دور ہے تو چلئے بگرام کے جیلرز کو بھٹو کے ٹرائل کا مشن سونپا جاسکتا ہے۔
محترمہ بے نظیر بھی گڑھی خدا بخش کی قبروں میں سے ایک میں محو استراحت ہیں ۔ان کی روح کوچین نصیب نہیں۔ ان کے ساتھ میثاق لندن ہوا مگر رات گئی بات گئی۔ ان کی شہادت ایک افسوسناک سانحہ تھا۔ سو راولپنڈی کے جنرل ہسپتال میں ان کی میت پر آنسو بہائے گئے۔ اور اگر کوئی ان کی میت کو کندھا نہیں دے سکا تو اس نے زرداری صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر دعائے مغفرت کے لئے ہاتھ اٹھالئے۔ مرنے والے کے ساتھ بس یہی کچھ ہوتا ہے۔ باقی رہ گئی بے نظیر کی سیاست تو اس کو ختم کرنا ان کے مخالفین کی اول و آخر خواہش ہے۔ بے نظیر کاسیاپا ہے کہ کبھی ختم ہونے میں نہیں آتا۔ ۔ اورصدرزرداری کوبھی گوئیبلز کے پراپیگنڈے کا کا نشانہ اس بنا پر بننا پڑتاہے کہ ان کا بے نظیر بھٹو سے تعلق ہے۔
قانون کے طالب علم جانتے ہونگے کہ کیا کسی مجرم یا ملزم کی موت کی ساتھ اس کے جرائم بھی ختم ہوجاتے ہیں۔ ۔ ہوسکتا ہے عدالتوں میں ایسے مقدمات کو نبٹا دیا جاتا ہو۔ لیکن میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ قانونی پوزیشن کیا ہے ۔لیکن جہاں تک سوسائٹی کا تعلق ہے اس کے نزدیک بے نظیر بھٹو شہید کے جرائم کا ٹرائل جاری رہنا چاہیے۔ اور ان کے جرائم میں سرفہرست ان کے سوئس اکاو¿نٹس، ان کے گرانقدر ہار اور قیمتی محلات شامل ہیں ،جو وہ اپنے ترکے میں چھوڑ گئی ہیں ۔سول سوسائٹی دن رات ایک کئے ہوئے کہ اس ترکے کو قوم کی امانت ثابت کیا جائے۔ اور اس دولت کو واپس قومی خزانے میں جمع کرادیا جائے۔ ہمارے ہاں ایک طبقہ دن رات شور مچارہا ہے کہ سوئس مقدمات کو کھولنا چاہیے۔ ان مقدمات کی اصل ملزم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید ہیں جو اس جہان فانی میں موجود نہیں۔ اس کی شریک ملزم محترمہ نصرت بھٹو جو ہونے اور نہ ہونے کی کیفیت کے درمیان ہیں، کئی برسوں سے ہوش و حواس میں نہیں اور ویسے بھی وہ پاکستان میں موجود نہیں۔ اس مقدمے کے ایک شریک ملزم آصف علی زرداری ہیں جن پر بار ہ تیرہ برس انہی الزامات میں مقدمات چلتے رہے ہیں لیکن بالآخر اس مرد حر کے سامنے پراسیکوٹروں کو گھٹنے ٹیکنے پڑے ۔ اس شخص نے صدارت کا الیکشن لڑا۔ ان کے مقابلے میں ن لیگ کے امیدوار ایک ریٹائرڈ چیف جسٹس تھے ۔ مسلم لیگ ق یعنی علی بابا چالیس چوروں کے امیدوار سینٹر مشاہد حسین تھے ۔ یہ الیکشن دن کی روشنی میں ہوا۔ سب کی آنکھوں کے سامنے ہوا۔ نہ کسی نے آصف علی زرداری کی اہلیت کو چیلنج کیا ،نہ کسی عدالت نے ان کے خلاف کوئی حکم امتناعی جاری کیا۔ نہ وکلا ء،میڈیا اور سول سوسائٹی میں سے کسی نے ان کے سوئس اکاﺅنٹس کا اعتراض لگایا۔ مگر اب ہر کوئی برسات کے مینڈکوں کی طرح ٹرا رہا ہے کہ زرداری پر سوئس مقدمات کھولے جائیں ۔ ٹاک شو ز میں کان کھائے جارہے ہیں ۔ کالموں میں دور کی کوڑیاں لائی جارہی ہےں۔ اور تجزیوں سے ثابت کیا جارہا ہے کہ ایک لوٹ مار کرنے والا منصب صدارت پر براجمان ہے ۔ میاں نواز شریف ہوں ۔چوہدری نثار ہوں ،میاں شہباز شریف ہوں یا خواجہ آصف ہوں ۔ان سب کوایک ہی فکر لاحق ہے کہ لوٹی ہوئی دولت واپس لائی جائے ۔یہ سارے وہ لوگ ہیں جنہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ بیٹھ کر میثاق لندن پر دستخط کئے تھے۔ اور اس دستاویز میں اقرارکیا تھا کہ وہ ماضی کی طرح آئندہ ایک دوسرے پر کیچڑ نہیں اچھالیں گے ، انتقامی مقدمے نہیں بنائیں گے۔ مگر زرداری کو وعدہ خلافی کا طعنہ دینے والے خود میثاق لندن پر دو حرف بھیج چکے ہیں۔ اور گڑھی خدابخش کی قبروں میں محو خواب محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف ان کی زبان سے ہرروز نت نئے الزامات سننے کو مل رہے ہیں ۔ سب کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ قبروں کو عدالتوں میں گھسیٹو۔ وہ ہر صورت گڑھی خدابخش کی قبر کا ٹرائل کروانا چاہتے ہیں لیکن ان میں سے کسی ایک میں یہ جرات نہیں کہ جسٹس منیر سے لے کر مولوی مشتاق حسین اور جسٹس انوارالحق تک اورجنرل ایوب، جنرل یحی اور جنرل ضیا تک سب کی قبروں کو کٹہرے میں لایا جائے۔اسے کہتے ہیں انصاف کا نیا دور!


 



    Powered by Control Oye