سفینہ جبکہ کنارے پہ

 
سفینہ جبکہ کنارے پہ آ لگا غالب .....ناتمام…ہارون الرشید 
 
 
 
ایک بار پھر آشکار ہوا کہ اگر نیت نیک ہو اور اکثریت کی نیت بالعموم نیک ہی ہوا کرتی ہے تو بدترین حالات میں بھی مقاصد کا حصول ممکن ہو جاتا ہے۔
کوئی بتائے کہ خیبر پختون خوا کا مطلب کیا ہے؟ خیبر، جو پختونوں کا وطن ہے؟ پھر پختون خوا ہی کیوں نہیں۔ تمام تر دلائل اور تمام تر زورِ بیان کا ہدف یہ ہے کہ سابق صوبہ سرحد میں پشتونوں کے ایک خاص دھڑے کو آسودہ کیا جائے۔ ان کا مطالبہ مان لیا جائے۔ ا س مطالبے سے اختلاف کس کو ہے؟ گزارش تو فقط یہ تھی کہ سرائیکی بولنے والوں اور ہزارہ کے مکینوں کو بھی ملحوظ رکھا جائے۔ کیا یہ ایک ناروا بات تھی اور اگر مان لی جاتی تو کیا کوئی مسئلہ پیدا ہوتا۔ جمہوریت نام ہے حقوق طلبی کا ؛ لہٰذا اگر پشتون آبادی کے ایک حصے نے پختون خوا کا تقاضا کیا تو دوسرے کیوں نہ کریں۔ اب جو نام تجویز ہوا اور جس پر آئینی کمیٹی نے اتفاق کر لیا ہے، وہ کچھ لوگوں کو مطمئن کر دے گا اور کچھ دوسرے نامطمئن رہیں گے۔ کیا یہ حقیقی کامیابی ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو سرائیکی اور ہندکو بولنے والوں سے صبر کی اپیل نہ کی جاتی ۔ صبر نہیں عدل اجتماعی زندگی کی بنیادیں اورکسی بھی عمرانی معاہدے کی تعمیر انصاف پر ہوتی ہے، آبادی کے کسی طبقے سے قربانی کی اساس پر نہیں۔ کوئی ایک گروہ، کسی دوسرے کے لئے مستقل طور پر اپنے حقوق سے دستبردار کیوں ہو۔ سبھی جانتے ہیں کہ پشتو بولنے والوں کا بھی کوئی مشترکہ اور متفقہ پلیٹ فارم موجود نہیں۔ اے این پی صرف ان کے ایک حصے کی نمائندگی کرتی ہے اور اگر اس میں ہندکو بولنے والے کچھ لوگ شامل ہیں تو اصلاً وہ افغان ہیں۔ پشاور اور اس کا نواح چونکہ صدیوں سے ایک تجارتی گزرگاہ ہے؛ لہٰذا وادیٴ پشاور میں اکثریت کی زبان کبھی پشتو نہیں رہی۔ خود نجیب الطرفین پشتونوں میں ایسے لوگ شامل ہیں جن کے گھروں میں ہندکو بولی جاتی ہے۔ ان کے نسلی تعلق پر جس سے کچھ فرق واقع نہیں ہوتا زبان بدلنے سے جینز نہیں بدل جاتے۔ قبائلی خصوصیات تبدیل نہیں ہوتیں۔ مثال کے طور پر عمران خاں پشتو کیا، میانوالی کی سرائیکی بھی بول نہیں سکتے۔ صدیوں سے ان کا خاندان پنجاب میں آباد ہے لیکن وہ ایک پشتون ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ انہیں اپنی پشتون شخصیت پر اصرار بھی بہت ہے۔ جوانی میں جب وہ شکار کھیلا کرتے ہمیشہ قبائلی علاقوں کو ترجیح دیتے۔ زندگی کے کئی برس ، اس علاقے میں انہوں نیگزارے۔ اپنے مشاہدات اور یادوں پر مشتمل ایک کتاب ”غیرت مند مسلمان“ بھی انہوں نے لکھی تھی جس کا اردو ورژن جنگ پبلشرز نے شائع کیا تھا۔
آئینی کمیٹی نے جو فیصلہ کیا، اسے قبول کیا جانا چاہئے کہ ملک کو قرار اور استحکام کی ضرورت ہے۔ قوموں کو امن درکار ہوتا ہے۔ اسی سے استحکام پیدا ہوتا ہے اور نہ صرف معاشی ارتقا اور خوش حالی بلکہ ہر طرح کی ترقی اور فروغ کے لئے استحکام ہی اہم ترین ہے۔ علمی بحث مگر جاری رہے گی۔ ہمارا نقطہ نظر یہ تھا کہ ”اباسین“ بہترین نام ہوتا۔ دلیل آشکار ہے کہ یہ ایک دریا کا نام ہے، جو کوہستانی، پشتو، سرائیکی اور ہندکو بولنے والے علاقوں کو سیراب کرتا ہوا پنجاب اور پھر سندھ میں داخل ہوتا ہے۔ الفاظ کا معاملہ اتنا سادہ بھی نہیں، جتنا کہ بعض اوقات سمجھ لیا جاتا ہے۔ الفاظ کے رشتے، تعلقات اور خاندان ہوتے ہیں۔ وہ پس منظر اور مضمرات رکھتے ہیں۔ وہ تاثر پیدا کرتے اور مثبت یا منفی احساسات جگاتے ہیں۔ اباسین، ایک جوڑنے والا نام ہوتا، یہ خصوصیت خیبر پشتون خوا کو حاصل نہیں۔ پختون خوا کے ساتھ اباسین لگا دیا تو بھی مقصد پوری طرح حاصل نہ ہوتالیکن ”خیبر“ سے تو ہرگز نہیں۔ پشتون خوا کے ساتھ وہ سرے سے بے معنی ہے۔ اندازہ یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ متروک ہو تا جائے گا اور صوبے کو پختون خوا کہا جانے لگے گا۔ اے این پی اور اس کے حامیوں کو مطلوب بھی یہی تھا۔ اب اگر کوہستانی، ہندکو اور سرائیکی بولنے والوں کے لئے یہ قابل قبول ہو، جیسا کہ بعض لکھنے والوں نے تاثر دیا ہے تو کسی اور کو کیا اعتراض۔ میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی ؟لیکن اگر ایسا نہیں اور مجھے اندیشہ ہے کہ ایسا نہیں تو مستقبل کے کسی سیاسی مدوجذر میں ایک بار پھر صوبے کا نام بدلنے کا مطالبہ اٹھ کھڑا ہو گا اور یہ ملکی سلامتی کو سازگار نہ ہو گا۔ مکان بنانے میں سب سے زیادہ احتیاط اس وقت درکار ہوتی ہے جب بنیادیں اٹھائی جا رہی ہوں۔ در و دیوار میں آپ جب چاہیں تبدیلی لا سکتے ہیں مگر بنیادوں میں نہیں۔ نام کی اس تبدیلی، اور مکرر عرض ہے کہ مجھ ناچیز کی رائے میں اب اسے قبول کر لینا چاہئے، جشن کس نے منایا؟ کیا سرائیکی، ہندکو اور کوہستانی بولنے والوں نے بھی ؟ کیا سوات کے گوجروں نے بھی جو یوسف زئی پشتونوں کا 75 فیصد ہیں۔ یوسف زئی سوات کا 40فیصد ، گوجر 30 فیصد، سادات 10 فیصد اور کوہستانی 10 فیصد۔ ناراض ہونے کی بجائے غور کرنا چاہئے تھا۔ اے این پی سے کوئی شکایت نہیں کہ ان کی سیاست ہی پختون جذبات کے استحصال پر استوار ہے۔ شکایت تو جماعت اسلامی، تحریک انصاف، جمعیت علماء اسلام ، قاف اور نون لیگ سے ہے۔ اے این پی کے جارحانہ رویے کے سامنے، انہوں نے سپر ڈال دی اور خوف کی وجہ سے ڈال دی۔ خوف ایک بنیادی انسانی جبلت ہے، ایسی جبلت جس سے نجات حاصل کر کے ہی صحت مند اور پروقار زندگی کی ضمانت حاصل کی جا سکتی ہے مگر افسوس کہ کم ہی لوگ اس پر غور کرتے ہیں۔ احتیاط بجا اور حکمت بجا مگر احتیاط کی حدود خوف سے نہیں جا ملنی چاہئیں۔ رواداری اور شائستگی کی تلقین بہت ہے اور بجا ہے مگر سوال یہ ہے کہ اپنی پسند کے نام پر اصرار کرنے والوں نے اس رواداری کا مظاہرہ کیوں نہ کیا، دوسروں سے، جس کا مطالبہ ہے۔ ان سے جو صرف دلائل پیش کرنے کے مرتکب ہوئے۔
غداری ؟ کسی نے غداری کا طعنہ نہیں دیا۔ صرف مسلمہ تاریخی حوالیپیش کئے گئے اور اس پر کسی کو اعتراض نہ ہونا چاہئے لیکن غداری اور حب الوطنی کا فیصلہ عوام کرتے ہیں یا ضرورت پڑے تو عدالت۔ ایسی عدالت، جس پر سبھی کو اعتماد ہو۔ یوں بھی تاریخ کا سبق یہ ہے کہ شاذ و نادر ہی کوئی پوری جماعت غداروں پر مشتمل ہوتی ہے۔ چند افراد ہو سکتے ہیں اور وہ بھی اکثر غدار نہیں ، بلکہ متعصب اور مفاد پرست ہوا کرتے ہیں۔ ادنیٰ آرزوؤں کی تکمیل کے لئے جو عصبیتوں کو ہوا دیا کرتے ہیں اور اللہ کے آخری رسول کا فرمان یہ ہے ” جو تعصب پر آواز دے، وہ ہم میں سے نہیں“۔ جس طرح کسی خاص نسلی، لسانی یا علاقائی گروہ سے ناپسندیدگی اور ہر حال میں اس کی مخالفت، جہالت پر مبنی ہو گی اور منفی نتائج پیدا کرے گی۔ اسی طرح ان بنیادوں پر صف آرائی کی حمایت بھی نہیں کی جا سکتی۔ صحافی دوستوں کی خدمت میں ایک اور موٴدبانہ گزارش یہ ہے کہ اخبار نویس اور سیاستدان کی دوستی سے بڑا جھوٹ کوئی نہیں۔

کہاں کا رشتہ ٴ جاں اور کیسی دوستی پیارے
مبالغہ بھی کریں تو نباہنے تک ہے
آئینی کمیٹی خراج تحسین کی مستحق ہے۔
بہت مشکل حالات میں ایسا کارنامہ اس نے انجام دیا ہے کہ قوم کو اس کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ سبھی کا اور پوری خوش دلی کے ساتھ۔ سینیٹر رضا ربانی خاص طور پر داد کے مستحق ہیں۔ اکثر نے اعتدال سے کام لیا لیکن سینیٹر صاحب کی شائستگی اور احتیاط نے جو خودداری میں گندھی ہے اور پارٹی سے اوپر اٹھ کر دیکھ سکتی ہے ، فیصلہ سازی میں اہم ترین کردار ادا کیا وگرنہ زرداری صاحب کی چال تو ایسی تھی کہ الجھا ہوا دھاگہ اور بھی الجھ جاتا۔ ایک بار پھر آشکار ہوا کہ اگر نیت نیک ہو اور اکثریت کی نیت بالعموم نیک ہی ہوا کرتی ہے تو بدترین حالات میں مقاصد کا حصول ممکن ہو جاتا ہے۔یوں بھی
سفینہ جب کنارے پہ آ لگا غالب#
خدا سے کیا ستم و جورِ ناخدا کہئے



    Powered by Control Oye