عبرت سرائے دہر

 
عبرت سرائے دہر!...نقش خیال…عرفان صدیقی 
 
 
 
وقت کس تیزی کے ساتھ گزرتا اور عبرتوں کے کتنے گہرے نقوش چھوڑجاتا ہے۔
میر نے کہا تھا
چشم ہو تو آئینہ خانہ ہے دہر
منہ نظر آتے ہیں دیواروں کے بیچ
لیکن ستم یہ ہے کہ کوئی آئینہ خانہ دہر کی دیواروں میں اپنا منہ دیکھنے کی کوشش نہیں کرتا۔ یہ جاننے کے باوجود کہ خدائی کے دعویدار نمرود کو انجام سے دوچار کرنے کا حکم ایک مچھر کو جاری ہوا تھا اور فرعون کو اوقات یاد دلانے کے لئے دریائے نیل کی ایک چھوٹی سی موج آب کافی خیال کی گئی تھی۔ ہر نمرود وقت اور ہر فرعون عصر اپنے آپ کو ناقابل تسخیر خیال کرتا ‘ خلق خدا کو ڈھور ڈنگروں کا ریوڑ سمجھتا اور گمان کرتاہے کہ اس کی مطلق العنان بادشاہی کا سورج کبھی غروب نہ ہوگا۔ لیکن الله کے ضابطے اٹل ہیں۔ فرعونوں کی رسی دراز ہوتی رہتی ہے ‘ اُن کی رعونت دوآتشہ ہوتی رہتی ہے یہاں تک کہ اچانک کوئی گرہ پڑتے ہی اور دراز ہوتی رسی گلے کا پھندا بن جاتی ہے۔
تین سال گزرگئے۔ یہ 9 مارچ 2007ء کی صبح خوش جمال کا ذکر ہے‘ سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔صدر مملکت کے منصب پہ قابض چیف آرمی اسٹاف کی سرکاری رہائش گاہ پہ خاصی ہلچل تھی۔ تین مرکزی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہ تشریف لاچکے تھے۔ چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری کو طلب کیا جاچکا تھا‘ منصوبے کی نوک پلک سنواری جاچکی تھی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نظیر کو سامنے رکھتے ہوئے نتائج اخذ کئے جاچکے تھے۔عدلیہ کے متعلقہ کرداروں کو پابہ رکاب رہنے کا پیغام دیا جاچکا تھا۔مشیران خاص کی رائے تھی کہ کسی بڑے آپریشن کی نوبت نہیں آئے گی۔ افتخار محمد چوہدری کو ”ریفرنس“ کا مواد دکھا یا جائے گا ‘ کہا جائے گا کہ وہ مستعفی ہوکر کسی من پسند ملک کی سفارت سنبھال لیں اور سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے منظر بدل جائے گا۔
ڈرامہ ‘اسکرپٹ کے عین مطابق شروع ہوا۔ خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں اور فائلوں کے پلندوں سے ہراساں کرنے کے بعد چیف جسٹس کو بپھرے ہوئے کمانڈر کے سامنے پیش کیا گیا جو کلف لگی وردی پہنے ہوئے تھا۔ رگ وپے میں سنسنی دوڑانے والے چند آتشیں جملوں کے بعد حکم جاری ہوا ” آپ استعفیٰ دے کر کسی بھی ملک کی سفارت سنبھال لیں ورنہ سنگین الزامات پر مشتمل ریفرنس دائر کردیا جائے گا“۔ تاریخ دم سادھے کھڑی تھی۔ افتخار محمد چوہدری کے لبوں کی جنبش پاکستان کے مستقبل کا رخ متعین کرنے جارہی تھی۔ یہ وہ ساعت ہوتی ہے جب رب رحیم وکریم کی عنایت کسی کوسرخرو اور کامران کردیتی ہے۔ افتخار محمد چوہدری نے کسی تذبذب کے بغیر کہا۔ ” میں استعفیٰ نہیں دوں گا‘ الزامات کا سامنا کروں گا“۔ اور پھر تاریخ کا وہ باب فضیلت کھل گیا جس نے حالات کا رخ موڑ دیا۔
گزشتہ تین سالوں کی کہانی دہرانا مقصود نہیں۔ وکلاء سول سوسائٹی ‘ سیاسی کارکنوں اور پاکستان کے جواں سال میڈیا نے جو کردار ادا کیا اُسے ایک دنیا نے دیکھا ‘ ایک زمانے نے سراہا‘یہ کردار ہمارے بچوں کے لئے بھی تفاخر کی میراث بنا رہے گا۔امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک کے وکلاء بھی حسرت سے کہتے ہیں کہ کاش ہمارے ہاں بھی حکومتوں کے جابرانہ اقدامات کے خلاف وکلاء کی ایسی پرعزم تحریک کی کوئی مثال ہوتی۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری کو عدل کے اعلیٰ ترین عالمی اعزازات سے نوازا گیا ۔ سب سے بڑی بات یہ کہ انہیں پاکستانی عوام کی بے پناہ محبت ملی۔ اُن کا حرف انکار ‘ ایک ایسی للکار بن گیا جس نے آمریت کے درو دیوار ہلادیئے۔ یہ سوچ آج بھی دلوں کو چھید دیتی ہے کہ بحالی جمہوریت کے بعد‘ اعلان بھوربن کے باوجود پیپلزپارٹی کی قیادت ‘ مشرف کی تلوار سونت کر عدلیہ بحالی تحریک کے مدمقابل کھڑی ہوگئی۔ جو صبح مارچ 2008ء میں طلوع ہونا چاہئے تھی‘ وہ ایک سال مزید کرتبوں اور چالبازیوں کے اندھیروں میں بھٹکتی رہی ۔
گزشتہ روزوکلاء نے 9 مارچ کی یادوں کو ”یوم عدلیہ“ کے عنوان سے منایا۔ میری آرزو ہے کہ سپریم کورٹ کے احاطے میں ایک ”یادگار افتخار“تعمیر کی جائے جو آنے والی صدیوں تک یہ درس دیتی رہے کہ نہتی قوموں کاعزم ‘ ہتھیاروں سے لیس ڈکٹیٹروں کی رعونت سے کہیں قوی ہوتا ہے۔
عدلیہ کی بحالی اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا ایک بار پھر منصف اعلیٰ کے منصب پر فائز ہوجانا‘ حرف آخر نہیں۔ یہ ایک بڑے مقصد کے حصول کی جہد مسلسل کا ایک سنگ میل ہے۔ پاکستان صحیح معنوں میں اس وقت ایک مہذب ریاست بنے گا جس دن عدلیہ پوری قوت کے ساتھ آئین اور جمہوریت کی پاسبان بن کر کھڑی ہوجائے گی۔ جس دن شب خون مارنے والوں کو اندازہ ہوجائے گا کہ انہیں عدلیہ کی فولادی دیواروں سے سرپھوڑنا ہوگا۔ جس دن کرپٹ حکمران کسی پناہ میں چھپ نہ پائیں گے جس دن عہدہ‘ مقام‘ منصب‘ مرتبہ او رحیثیت سے قطع نظر ہر بدعنوان اپنے کئے کی سزا پا ئے گا‘جس دن غریب ‘ نادار‘ پسے ہوئے ‘ مظلوم اور لاچار طبقے سراٹھا کے کہہ سکیں گے کہ اب کوئی ہمارے حقوق پامال نہیں کرسکتا۔ جس دن سستے ‘ فوری اور بے لاگ انصاف کا یقین ‘ قوم کے دلوں میں چراغاں کررہا ہوگا۔ جس دن افتخار چوہدری ہو نہ ہو‘ عدلیہ پورے جلال و جمال کے ساتھ موجود ہوگی او رآئین وقانون سے کھیلنے کا تصور خواب و خیال کی حدوں سے بھی بہت دور جاچکا ہوگا۔
اچھی توقعات اور نیک خواہشات کے ساتھ ساتھ‘ ادب واحترام کے تمام ترتقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے چند معروضات پیش کرنے کی جسارت کررہا ہوں۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری کو جو محبت و عقیدت ملی جس طرح اُن کی خاطر لوگوں نے اپنا لہو دیا اورجس طرح ڈکٹیٹرکی معتوب اور موجودہ حکمرانوں کی نامطلوب عدلیہ بحال ہوئی ‘ اس نے عوام کی توقعات کو بہت بڑھادیا ہے۔ ان توقعات پر پورا اترنا ایک کڑا امتحان ہے۔ یہ تصور ہر آن عدلیہ کے پیش نظر رہنا چاہئے ۔ بہتر ہوگا کہ جناب چیف جسٹس اور اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان اب میڈیا کی چکاچوند سے دور رہنے کا اصولی اور شعوری فیصلہ کرلیں۔ کسی تقریب کی غیر رسمی اور لمحاتی عکس بندی بجا لیکن پوری پوری تقاریر کی براہ راست ٹیلی کاسٹ کا سلسلہ اب بند ہوجانا چاہئے۔ دیکھا گیا ہے کہ وکلاء کے وفود سے ملاقات کے دوران بھی ٹی وی کیمرے آن رہتے ہیں اور اُن سے جج صاحبان کی غیر رسمی ‘ ہلکی پھلکی گفتگو بھی نشر ہورہی ہوتی ہے۔ بار ایسوسی ایشن کی دعوتوں اور خطابات کا سلسلہ بھی محدود کردینا چاہئے اور ان کی لائیو کوریج نہیں ہونی چاہئے۔ مقدمات کی سماعت کے دوران‘ جج صاحبان کے ریمارکس کی روایت ساری دنیا میں ہے۔ ججوں کے سوالات ‘ استفسار‘ جملے اور ریمارکس معاملے کی کریدکے لئے اہم خیال کئے جاتے ہیں لیکن ہمارے ہاں میڈیا ان ریمارکس کو اس طرح اجالتا او راچھالتا ہے کہ فیصلے سے پہلے ہی فیصلہ سنادیا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ بند تو ہو نہیں سکتا لیکن پاکستان کے مخصوص حالات کے تناظر میں شائد کچھ احتیاط ضرور ہے۔ ایک پہلو یہ بھی تو جہ طلب ہے کہ اگر عدالت ‘ کھلی منڈی کے میکانزم پر کوئی گرفت نہیں رکھتی او رافراط زر کے گوناگوں محرکات اس کے قابو میں نہیں تو اُسے قیمتوں کے تعین سے بھی گریز کرنا چاہئے۔ چینی کا معاملہ ہمارے سامنے ہے۔ پٹرولیم کی قیمتوں کے حوالے سے بھی عدالتی حساسیت کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں دے سکی۔
اور ایک گذارش اس سیاہ پوش قبیلے کے لئے بھی جس نے سیاہ کار ڈکٹیٹر کی رعونت پر کاری ضرب لگائی ۔ کچھ عرصے سے وکلاء کی جانب سے ایسی تجاوزات سامنے آئے جو اُن کے وقار کو مجروح کرگئے۔ انہیں تین سال کے دوران کی کمائی‘ اتنے سستے داموں نہیں لٹانی چاہئے۔ اپنا اپنا سیاسی نظریہ رکھنا بجا لیکن آزاد اور بے لاگ عدلیہ کے تحفظ کے لئے اُن کا متحدو یکجان رہنا ہی اُن کے پیشہ ورانہ تقدس کا امین ہے۔
وقت کس تیزی کے ساتھ گزرتا اورعبرتوں کے گہرے نقوش چھوڑ جاتا ہے۔ کوئی دیکھے کہ 9 مارچ 2007ء کی شام والا افتخار محمد چوہدر آج کہاں ہے او رکلف لگی وردی پہن کر ”خدا“ کے لہجے میں بولنے والا کمانڈو عبرت سرائے دہر کی کون سی بستی میں بیٹھا اپنے زخم چاٹ رہا ہے۔لیکن کوئی آئینہ خانہ ہستی کی دیواروں میں اپنا منہ دیکھنے والی چشم تو رکھے!!


    Powered by Control Oye