سید زادے کی تازہ دھمکی

 
سید زادے کی تازہ دھمکی...نقش خیال…عرفان صدیقی 
 
 
 
دل تھام کے سنئے کہ وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کیا فرماتے ہیں، ارشاد ہوا ۔ ” جج انتظامی حکم سے بحال ہوئے اور پارلیمینٹ سے اس کی توثیق باقی ہے۔ ”سلیس زبان میں اس کا ترجمہ یہ ہے کہ ”جج صاحبان اپنی حدوں میں رہیں۔ ان کی جان ہماری مٹھی میں ہے۔ ان کے آشیانے شاخ نازک پہ بنے ہیں اور تیز دندانوں والی آری ہمارے ہاتھ میں ہے۔ زیادہ شوخیاں دکھائی گئیں تو ہم کسی وقت پارلیمینٹ کا اجلاس بلا کر ایک قرارداد کے ذریعے 16مارچ 2009ء کے انتظامی حکم کو منسوخ کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ اور چاروں ہائی کورٹس کے جج صاحبان فارغ ہو کر گھروں کو چلے جائیں گے۔ اور مشرف کے دست آمریت پر بیعت کرنے والے پی ۔ سی ۔ او جج صاحبان کا پورا کاروان کمال جاہ وجلال کے ساتھ عدل گاہوں میں آ بیٹھے گا اور بے لاگ انصاف کی کار فرمائی کا سورج ایک بار پھر پوری آب و تاب کے ساتھ چمکنے لگے گا ۔ “
کیا جمہوریت، آئین، قانون اور ریاستی اداروں کے احترام ومقام پر یقین رکھنے والی کسی حکومت کا چیف ایگزیکٹو اس طرح کی بات سوچ سکتا ہے اور اپنے لب لعلیں پہ سجا سکتا ہے ؟ فکری انتشار،ذہنی الجھاؤ، نفسیاتی ہیجان اور پرلے درجے کی پراگندگی کا شکار حکومت بے رحمی اور بے دردی کے ساتھ اداروں سے کھیل رہی ہے اور جمہوری عمل ہراساں کھڑا ہے۔ یہ ہو بہو وہی صورتحال ہے جو مشرف کو درپیش تھی۔ وہ وردی سمیت صدارتی الیکشن لڑنا چاہتا تھا اور عدالت رکاوٹ بنتی جا رہی تھی۔ آئین میں خود سر عدلیہ سے نجات کا کوئی راستہ نہ تھا تو اس نے وردی پہنی، چھڑی بغل میں دی اور ایمرجنسی کے لبادے میں مارشل لاء جاری کر دیا۔ معتوب جج گھر چلے گئے۔ محبوب عدلیہ وجود میں آ گئی اور مطلوب فیصلے ابر بہاری کی طرح برسنے لگے۔ صدر زرداری اور وزیر اعظم گیلانی دونوں کے پاس نہ خاکی وردی ہے نہ جادو کی چھڑی ۔ ہزار پیچ و تاب کھانے اور انگاروں پر لوٹنے کے باوجود انہیں آئینی حدوں کے اندر رہنا ہے لیکن 3نومبر کی بد روح مسلسل منڈلا اور جمہوری حکمرانوں کے دلوں میں بھی آمرانہ ضرب لگانے کی آگ سلگا رہی ہے۔ وہ این۔ آر۔ او پر صدارتی فیصلے کو غیر موثر بنانا چاہتے ہیں لیکن کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔ بے چینی اور بے کلی کی اس کیفیت میں وہ ہاتھ پاؤں ما رہے ہیں، کرتب آزما رہے ہیں، چالاکیاں دکھا رہے ہیں،دھمکیاں دے رہے ہیں لیکن بات بن نہیں رہی۔
آہستہ آہستہ سوالوں کے جواب ملنے لگے ہیں، راز کھلنے لگے ہیں، بھید آشکارا ہونے لگے ہیں، کچھ آتش مزاج ٹی وی میزبان اور بے لاگ منطقی جائزوں کا دعویٰ کرنے والے دانشور گلا پھاڑ پھاڑ کر دہائی دے رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کو ایسی جلدی بھی کیا تھی! رات کو عدالت لگانا اور فیصلہ صادر کرنا کیوں ضروری ٹھہرا؟ ! پیپلز پارٹی ہی کے ایک سابقہ وزیر قانون و انصاف جناب اقبال حیدر نے سازش کے سارے بخئے ادھیڑ دیئے ہیں۔
پلان کیا بنا؟ یہ کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سفارشات کے برعکس جسٹس خواجہ محمد شریف کو عدالت عظمٰی بھیج دیا جائے اور ان کی مسند پر جسٹس ثاقب نثار کو بٹھا دیا جائے۔ یہ کہ نوٹیفکیشن ایسے وقت جاری کئے جائیں جب عدالتیں بند ہو چکی ہوں یہ کہ اگلے دن تعطیل ہو اور کسی عدالتی کارروائی کا امکان نہ ہو۔ یہ کہ تعطیل والے دن جسٹس ثاقب نثار کو گورنر ہاؤس لاہور میں حلف دلوا دیا جائے۔ یوں پیر کے دن عدالتیں کھلنے سے پہلے پہلے منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ جائے۔
ایوان صدر کے مشیران عالی مقام کے سامنے دونوں امکانات موجود تھے۔ پہلا یہ کہ ثاقب نثار حلف اٹھا لیں اور مجبوراً خواجہ محمد شریف فارغ ہو کر سپریم کورٹ کا رخ کریں۔ دوسرا امکان یہ کہ وہ حلف نہ اٹھائیں چونکہ اس امر کا امکان کم تھا کہ چیف جسٹس پاکستان فوری طور پر خواجہ شریف سے سپریم کورٹ کے جج کا حلف لے لیں گے۔ اس صورت میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا منصب خالی نہ ہوتا اورر جسٹس ثاقب نثار حلف نہ لے سکتے۔ لہٰذا ٹیلے کے ٹولے نے تجویز کیا کہ ثاقب نثار کو قائم مقام چیف جسٹس بنایا جائے تاکہ جسٹس خواجہ شریف کی موجودگی میں بھی گورنر، قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھوا دیں۔یہ منصوبہ انہی خطوط پر پروان چڑھ جاتا تو یہ حکومت کی بڑی فتح ہوتی۔ یہ اصول ہمیشہ کیلئے طے پا جاتا کہ ججوں کی تقرری کا حتمی اختیار صدر کے پاس ہے۔ اور پھر چل سو چل ۔ دوسرے امکان کے مطابق اگر یہ جج صاحبان بالخصوص خواجہ صاحب سپریم کورٹ آنے سے انکار کر دیتے تو آئین کے آرٹیکل206(2)کے تحت فارغ ہو کر گھر چلے جاتے۔ یہ بھی حکومت کی فتح عظیم ہوتی۔ آٰرٹیکل 206(2)کہتا ہے۔
"A judge of high court who does not accept appointment as a judge of the supreme court shall be deemed to have retired from his office..."
یوں شاطرانہ چال چلتے ہوئے ایک ایسا جال بنا گیا جس میں حکومت کے لئے فتح ہی فتح تھی۔ شکست کا سرے سے کوئی امکان ہی نہ تھا۔ جج حلف اٹھا لیں تو بھی کامرانی، نہ اٹھائیں تو اس سے بھی بڑی فتح ، نوٹیفکیشنر کے اجراء کے ساتھ ہی لاہورکے لاٹ صاحب کو خبردار کر دیا گیا۔ اتوار کی صبح گورنر ہاؤس کے دربار ہال میں تقریب حلف برداری کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئیں۔
یہ تھی وہ ہنگامی صورتحال جس میں سپریم کورٹ کا فوری طور پر متحرک ہونا ناگزیر ٹھہرا۔ پیر تک انتظار کرنے کا مطلب یہ ہوتا کہ حکومت اپنے سازشی منصوبے میں کامیاب ہو جاتی کیونکہ اتوار کا دن نوٹیفکیشنز پر عملدرآمد کا دن تھا۔ ججوں کو فیصلے ماننے تھے یا انکار کرنا تھا۔ دونوں راستے ایک ہی منزل کو جاتے تھے۔ انتہائی مہارت سے تیار کئے گئے اس شاطرانہ منصوبے کو ناکام بنانے کی واحد صورت یہ تھی کہ عدالت عظمیٰ بلاتاخیر متحرک ہو اور حکمرانوں کی من مانی کا راستہ روک کر آئین کی حرمت و تقدیس کا تحفظ کرے۔
3نومبر کو بھی ،عدالتی اوقات کے بعد عدالت عظمیٰ کے سات رکنی بنچ کو بیٹھنا پڑا تھا۔ اس بینچ کے عالی مرتبت جج صاحبان نے مشرف کی ایمرجنسی کے خلاف فیصلہ دے کر ایک تاریخ رقم کی تھی۔ اس تاریخ کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔13فروری کو عدالتی اوقات کے بعد جسٹس شاکر اللہ جان کی سربراہی میں قائم بنچ نے ایک تاریخ رقم کی ہے اس تاریخ کا جادو سر چڑھ کر بولتا رہے گا ۔ مشرف مطلق العنان آمر تھا۔ موجودہ حکمران مطلق العنانی کی امنگ اور آمرانہ فیصلوں کی ترنگ رکھنے کے باوجود آئین و قانون کے بندھنوں میں جکڑے ہوئے ہیں یہی فرق 13فروری کو 3نومبر سے ممتازکرتا ہے۔
ملتان کے سید زادے کی تازہ دھمکی میں مشرف کی رعونت کلبلا رہی ہے۔ لیکن، اگر عدلیہ اور عوام سے ٹکرانے والا مادر پدر آزاد ڈکٹیٹر لندن کی گلیوں کی خس و خاشاک ہوگیا تو ریت کے گھروندوں میں بیٹھے ، این ۔ آر۔ او کے خوف سے کانپتے یہ ناتواں سے لوگ کامران ٹھہریں گے ؟ لیکن سماعتیں اور بصارتیں چھین لی جائیں تو عبرتوں کے ایسے ہی مرقعے تخلیق ہوتے ہیں۔


    Powered by Control Oye