Enough is enough

 
Enough is enough Mr Prime Minister, enough is enough...ناتمام…ہارون الرشید 
 
 
 
بہت ہو چکی ، جنابِ وزیر اعظم بہت ہو چکی۔ آپ کے، جنرلوں، ججوں اور جاگیرداروں کے جو بھی جھگڑے ہیں ، جلدی سے وہ نمٹالیجیے ۔ ہم اب انصاف مانگتے ہیں۔خالص، کھرا، سچّا اور مکمل انصاف۔امن ہم چاہتے ہیں اور یہ ہم جانتے ہیں کہ امن انصاف کوکھ سے جنم لیتاہے۔ اس سے کم کچھ نہیں، رتّی برابر بھی نہیں، ہرگز نہیں اور قطعاً نہیں۔ اب ہم مزید صبر نہیں کر سکتے۔ Enough is enough, enough is enough وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کس کو دھمکی دی؟ ججوں کو؟ نون لیگ کو؟ وکیلوں کو؟ شاید پوری پاکستانی قوم کو۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری مخاطب تھے تو اطلاعاً عرض ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد وہ مقبول ترین آدمی ہیں ۔محاذ آرائی برقرار اور باقی رہی تو یہ مقبولیت بھی قائم رہے گی۔ نواز شریف تھے؟ ملک کے بیشتر حصّے میں پیپلز پارٹی کے مقابلے میں نون لیگ کی حمایت کم از کم تیس فیصد زیادہ ہے۔ اگر وکلا کو للکارا تو مودبانہ عرض ہے کہ سنگ سیاہ کے اس متحرک ہمالیہ سے ٹکرا کر فوجی حکمران اور فوجی حکمران کے جانشین کی کشتی پسپا ہو چکی۔ اگر وزیر اعظم کے مخاطب 82فیصد پاکستانی عوام ہیں، جن کی تائید سے افتخار محمد چوہدری اپنے منصب پر براجمان ہوئے تو وہ اپنے سوال کا جواب جلد پالیں گے۔
موقع پا کر بنو اسد نے اپنے سردار حجر کو قتل کر ڈالا۔ شمال کا یہ حکمران عربوں کے سب سے بڑے شاعر امراؤالقیس کا باپ تھا۔ کم سن شاعر کو گھر سے نکالا گیا کہ اپنے جیسوں سے محبت رکھتا اور خاندان کے لیے باعث ننگ و نام ہے۔ دشمنوں نے حجر کا گلا کاٹا مگر اتنی مہلت اسے مل گئی کہ وصیت کر سکتا۔کہا :
اوّل بڑے بیٹے کے پاس جانا لیکن اگر وہ روئے پیٹے اور سر میں خاک ڈالے تو اسے وہیں چھوڑ کر دوسرے کو تلاش کرنا، اگر وہ بھی ایسا ہی کرے تو تیسرے کو۔ آخر کو وہ امراؤ القیس کے پاس پہنچے۔ ایک چشمے کے پاس، صحرا میں بساط بچھائے وہ نرد کھیل رہا تھا۔ دور سے پیامبر نے چلّا کر کہا"حجر کو حریفوں نے قتل کر ڈالا" اٹھے ہوئے ہاتھ، اٹھے رہ جاتے مگر جواں سال شاعر اور جنگجو نے جس کی داستان کو دائم باقی رہنا تھا، حریف باد پیما سے یہ کہا" پانسہ پھینکو" پھینکا جا چکا تو اس نے کہا" میں تمہاری باری خراب نہ کرنا چاہتا تھا۔
"اسلحہ خانے اور خزانے کی چابیاں صحرانورد شہزادے کے حوالے کر دی گئیں اور انتقام کی زندگی بسر کرنے وہ اپنے دیار کو روانہ ہوا۔ بنو اسد اب بہت پچھتائے۔ قبیلے کے سرداروں کا ایک وفد شہزادے کی خدمت میں حاضر ہوا ، مگر اس نے حجاب کیا۔ حسب ِ مرتبہ ان کی خدمت گزاری کا حکم صادر ہوا مگر وفد کے مقابل نہ آیا۔ تین دن کے بعد انہیں طلب کیا اور انہوں نے دیکھا کہ نوجوان نے سفید عمامہ پہن رکھا تھاجو طلب قصاص کی علامت ہے" ہم تو مصالحت کرنے آئے تھے" ان میں سے ایک نے کہا اور قصاص یا دیت کی پیشکش کی۔ "عربوں میں کوئی ایسا نہیں جو حجر کا ہم پلہ ہو" امراؤالقیس نے کہا" یہ تو قصاص کا معاملہ ہے ، رہی دیت تو بادشاہ کے بدلے بھیڑ بکریاں اور اونٹ لے کر میں خود کو رسوا نہیں کرنا چاہتا"تب ایک اورسردار اٹھا اور صورتِ حال کو بھانپ کر اس نے کہا "کم از کم اتنی مہلت دو کہ باردار عورتیں اپنے بوجھ سے نجات پالیں" اس نے مہلت دی اور یہ کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا " اس کے فوراً بعد تم میرے قبیلے کے شمشیر برداروں کو اپنے سامنے پاؤ گے"رنگون کی مٹی اوڑھ کر سونے والے ہندوستان کے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے کہا تھاظفر آدمی اسے نہ جانئے ہو وہ کیسا ہی صاحب فہم و ذکا جسے عیش میں یادِ خدانہ رہی، جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا دمِ تنبیہ وزیر اعظم نے جس مالیت کا سوٹ پہن رکھا تھا، کم از کم دس ووٹر ، اس میں سال بھر اپنی بھوک اور ننگ کو ڈھانپ سکتے ہیں۔اور یہ سوٹ سرکاری خزانے سے خریدا گیا۔ وزیر اعظم کے وارڈروب میں اس طرح کے کتنے سوٹ ہیں؟ ان کے جہاز اور محل کی قیمت کیا ہے اور یہ قیمت کون ادا کرتا ہے؟ اس کے سوا بھی ایک سوال ہے کہ کس لیے؟ یہ قیمت کیوں ادا کی جاتی ہے؟دھمکیاں سننے کے لیے؟ یوسف رضا گیلانی نہیں، بلکہ ظاہر ہے کہ اقبال# نے پامال زمانوں کے کسی قدیم حکمران کی داستاں لکھی تھی۔
میکدے میں کل ایک رند زیرک نے کہا
ہے ہمارے شہر کا والی گدائے بے حیا
تاج پہنایا ہے کس کی بے کلاہی نے اسے
کس کی عریانی نے بخشی ہے اسے رنگیں قبا
اسکے آب لالہ گوں کی خونِ دہقاں سے کشید
ترے میرے کھیت کی مٹی ہے ، اس کی کیمیا
اس کے نعمت خانے کی ہر چیز ہے مانگی ہوئی
دینے والا کون ہے مردِ غریب و بے نوا
مانگنے والا گدا ہے، صدقہ مانگے یا خراج
کوئی مانے یا نہ مانے میر و سلطاں سب گدا
دانشوروں کو اگر بادشاہوں کی مدح سرائی سے فرصت ہوتی۔ اگر وہ فرصت پاتے تو غور کرتے کہ آدمی نے ریاست کیوں بنائی تھی اور حکومت کا ادارہ کیوں تشکیل دیا تھا ۔ظاہر ہے کہ اپنی جان و مال اور عزت و آبروکی حفاظت کے لیے۔
اور یا حسرت! حکمران انہی کے درپے ہوجاتے ہیں۔ رعایا کا وہ خون چوستے ہیں اور اس کے خون پسینے کی کمائی کا ایک ایک دھیلا شیرِ مادر سمجھ کر پی جاتے ہیں۔ لیڈروں اور سرداروں کی تلاش میں نکلی ہوئی آدمیت کو جونکیں ملیں اور طفیلی کیڑے۔ ارے نہیں، کیڑے تو خون پی کر آسودہ ہو جاتے ہیں، بھیڑیے ملے بھیڑیے۔ ایک محمدﷺ کے سوا ، ان کے غلاموں کے سوا۔ سلطان صلاح الدین ، ٹیپو سلطاناور محمد علی جناح۔ باقی بہروپیے، تقریباًسب کے سب بہروپئے۔ بہت ہو چکا، بہت ہو چکا۔ ختم ہونا چاہئے، یہ تماشا اب ختم ہونا چاہئے۔
اس "شہر سنگ دل "کو جلا دینا چاہئے
پھر اس کی راکھ کو بھی اڑا دینا چاہئے
حکمرانوں کے نخرے ہم بہت جھیل چکے۔ مزید نہیں، اب مزید نہیں۔ میرے مال اور جسم و جان کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اپنی آدھی آمدن میں اسے دیتا ہوں ۔ فوج اورپولیس پالتاہوں کہ بچا رہوں مگر میری بہن عافیہ صدیقی کو انہوں نے بیچ دیا اور میرے مال سے وہ محلات میں آسودہ ہیں۔
میری گلیوں میں غیر ملکی گھس آئے اور حکمران طبقہ ان کے قدموں میں لوٹتا ہے۔میں نے، ایک عام آدمی نے یہ سب گوارا کیا۔ صدیوں سے وہ میری کمائی پر پلتے اور مجھے رسواکرتے آئے ہیں۔ کب تک، آخر کب تک؟ یہ تماشا اب تمام ہونا چاہئے۔بہت ہو چکی ، جنابِ وزیر اعظم بہت ہو چکی۔ آپ کے، جنرلوں، ججوں اور جاگیرداروں کے جو بھی جھگڑے ہیں ، جلدی سے وہ نمٹا لیجیے ۔ آپ سب سے ہم اب انصاف مانگتے ہیں۔خالص، کھرا، سچّا اور مکمل انصاف۔امن ہم چاہتے ہیں اور یہ ہم جانتے ہیں کہ امن انصاف کی کوکھ سے جنم لیتاہے۔ اس سے کم کچھ نہیں، رتّی برابر بھی نہیں، ہرگز نہیں اور قطعاً نہیں۔ اب ہم مزید صبر نہیں کر سکتے۔ Enough is enough Mr Prime Minister, enough is enough.

 



    Powered by Control Oye