ذرا نم ہو تو

 
ذرا نم ہو تو… سویرے سویرے …نذیرناجی 
 
 
 
مقررنے کہا”وہ یتیم بچی ہے“ اور ہال سامعین کی تالیوں سے گونج اٹھا۔ تقریب کا اتنا حصہ پڑھ کر یقینا حیرت ہوئی ہو گی ۔ لیکن تفصیل معلوم ہونے پر آپ بھی اظہارمسرت کئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ یہ ملک بھر کے بچوں کے درمیان ہونے والے مضمون نویسی اور تقریری مقابلوں میں کامیاب ہونے والوں میں تقسیم انعامات کی تقریب تھی اور پنجاب کے وزیراعلیٰ شہبازشریف انعامات حاصل کرنے والے بچوں کے حالات بتا رہے تھے۔ وہ جس بچے کو بھی انعام دیتے‘ اس سے بطورخاص دریافت کرتے کہ آپ کے والدین کیا کرتے ہیں؟ اور جب ایک اعلیٰ انعام حاصل کرنے والی بچی سے انہوں نے یہی سوال کیا‘ تو اس کا جواب تھا کہ ”میں یتیم ہوں۔“ ایک ایسی بچی کا ملکی سطح پر اعلیٰ پوزیشن حاصل کر کے پنجاب کے وزیراعلیٰ سے انعام حاصل کرنے کی منزل تک پہنچنا‘ حاضرین کے لئے انتہائی متاثر کن تھا۔ وہ اس بچی کی تحسین میں پرزور تالیاں بجانے پر مجبور ہو گئے۔ شہبازشریف نے بتایا کہ تین درجن سے زیادہ جن بچوں کو انہوں نے انعامات دیئے ہیں‘ ان میں صرف چار بچے خوشحال گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ باقی سب غریب گھروں کے بچے تھے۔ ایک بچے نے بتایا کہ اس کے والد حجام ہیں۔ ایک اور بچے نے کہا اس کے والد مزدور ہیں۔ غرض انعامات حاصل کرنے والے بچوں کی اکثریت محنت کشوں اور غریبوں کے بچوں پر مشتمل تھی۔ اس پس منظر کو سامنے رکھیں اور پھر ان بچوں کو انعام میں ملنے والی ایک ایک لاکھ روپے کی رقم سے‘ ان بچوں کے گھر والوں کو جو خوشی ہوئی ہو گی‘ اس کا اندازہ کریں۔ شاید ان کی خوشی کا احاطہ کرنا ہمارے بس میں نہ ہو۔
شہبازشریف نے ایک غریب بچی کو گزشتہ سال ایک لاکھ روپے کی امداد دی تھی اور دوبارہ وہ جب انعام لینے کے لئے ان کے پاس آئی‘ تو بچی نے بتایا کہ ”آج میں آپ کی وجہ سے یہاں کھڑی ہوں۔ جب آپ نے ایک لاکھ روپیہ مجھے دیا تو اس وقت میری ماں شدید بیمار تھی۔ گھر کا خرچ چلانا مشکل تھا۔ میری تعلیم بند ہونے والی تھی۔ جب یہ ایک لاکھ روپیہ گھر گیا‘ تو میری ماں کا علاج شروع ہو گیا۔ وہ صحت مند ہو گئی اورمیری تعلیم ختم کرنے کا فیصلہ بھی بدل گیا۔ آج میں آپ کے سامنے ہوں۔“ بچوں میں یہ تحریری اور تقریری مقابلوں کا دوسرا سال تھا۔ انعامات حاصل کرنے والوں میں ایک بچی وہ بھی تھی‘ جس نے گزشتہ سال انعام لیا اور اسے برطانیہ میں سکولوں اور یونیورسٹیوں کا نظام دیکھنے کے لئے بھیجا گیا۔ واپس آ کر اس نے پھر انعامی مقابلے میں حصہ لیااور دوبارہ پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ ہمیں وہ گڑیا جیسی لڑکی دیکھنے کا بھی موقع ملا‘ جو ساؤتھ ایشیا کے کھیلوں میں سب سے زیادہ ماردھاڑ کرنے والی لڑکی بن کر ابھری۔ اس کا نام سارہ ناصر ہے‘ جو حال ہی میں جنوبی ایشیا کے کھیلوں میں شریک ہو کر اپنے ملک کے لئے کراٹے کا گولڈ میڈل لے کر آئی ہے۔ سب اسے دیکھ کر حیران ہو رہے تھے کہ یہ گڑیا جیسی بچی اتنا بڑا انعام کیسے جیت لائی؟ بتایا گیا کہ اس کی ماں کو بھی کراٹے کا شوق تھا اور اس نے اپنی بیٹی کو بچپن ہی سے تربیت دینا شروع کی اور وہ اپنے ملک کے لئے اتنا بڑا اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔
تقریری مقابلوں میں کامیاب ہونے والے چند بچوں کی تقریریں ہمیں بھی سننے کا موقع ملا۔ میں ان بچوں کی تقریریں سن کر اپنے ملک کے سیاسی منظر کو دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ کاش ہماری اسمبلیوں میں تقریروں کا معیار ان بچوں کے برابر ہی ہوتا۔ سٹیج پر آنے والا ہر بچہ ہماری اسمبلیوں کے بہترین مقررین سے زیادہ اچھی تقریر کر رہا تھا۔ خاص طور سے چھوٹی بچیوں نے تو مبہوت کر کے رکھ دیا۔ یہ پرائمری کی بچیاں تھیں۔ وہ اپنے ننھے منھے ہاتھوں سے الفاظ اور معانی کی اس طرح تشریح کرتیں کہ مدعا وضاحت کے ساتھ سامعین پر ظاہر ہوتا۔ لڑکوں میں مردان کے ایک نوجوان نے انگریزی میں تقریر کی۔ اس نے لہجے‘ تلفظ اور زور بیان کے ذریعے دوسری زبان میں تقریر کرنے کا حق ادا کر دیا۔وہاں ہال میں ایسے بچے بھی موجود تھے‘ جو پنجاب حکومت کے خرچ پر لمز میں زیرتعلیم ہیں۔ یہ ایسا تعلیمی ادارہ ہے‘ جہاں کسی سفارش‘ دباؤ یا بھاری رقم کے عطیے کے بل پر داخلے نہیں ملتے۔ ہر طالب علم یا طالبہ کو یونیورسٹی کے انتہائی سخت ٹیسٹ دینے پڑتے ہیں اور ان میں اچھی پوزیشن کے ساتھ کامیاب ہونے والے ہی‘ داخلے کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ مگر داخلے کی اہلیت ثابت کرنے کے بعد جن بچوں کے والدین فیس ادا کرنے کے قابل نہ ہوں‘ ان کی بے بسی اور مایوسی کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ پنجاب حکومت نے ایسے بچوں کا ہاتھ پکڑا۔ ان کے تعلیمی اخراجات جو کہ بہت زیادہ ہوتے ہیں‘ ادا کرنے کی ذمہ داری لی۔ اب یہ بچے ملک کے اعلیٰ ترین اور انتہائی مہنگے تعلیمی ادارے میں اپنی صلاحیتوں کو چمکا رہے ہیں۔ بے شک یونیورسٹیوں کی اعلیٰ تعلیم بھی مقابلے کے اس دور میں ترقی کرنے کے لئے ضروری ہے۔ لیکن پاکستان جس چیز میں بہت پیچھے ہے‘ وہ ہے سائنسی ریسرچ کا شعبہ۔
شہبازشریف اگر اس طرف توجہ دیں‘ تو ہم‘ وقت کا تقاضابہتر طریقے سے پورا کر سکتے ہیں۔ یہ کام پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون سے ہو سکتا ہے‘ جس میں بڑے بڑے صنعتی ادارے اور حکومت مل کر تحقیقاتی مراکز قائم کریں اور سائنس کے ان تمام طالب علموں کو‘ جو مختلف شعبوں میں نمایاں حیثیت حاصل کریں‘ بھاری وظیفے دے کر ان تحقیقاتی مراکز میں داخلہ دیا جائے اور انہیں ریسرچ اور تجربات کی اعلیٰ ترین سہولتیں مہیا کی جائیں۔ امریکہ اس لئے سپر پاور نہیں کہ وہ قدرتی وسائل یا صنعتی اعتبار سے ترقی یافتہ ہے۔ امریکہ کی طاقت سائنسی ریسرچ میں ہے۔ دنیا کے تمام ممالک مل کر جتنی ایجادات کرتے ہیں‘ تنہا امریکہ ان سے کئی گنا زیادہ ایجادات کرتا ہے۔ امریکہ میں تخلیقی ملکیت کی رجسٹریشن کے لئے روزانہ قریباً ایک ہزار درخواستیں موصول ہوتی ہیں۔ جس ملک میں ایجادات اتنے بڑے پیمانے پر ہو رہی ہوں‘ اس سے کون آگے نکل سکتا ہے؟ بدقسمتی سے پاکستان میں ریسرچ اور ترقی کے شعبے پر وہ لوگ بھی پیسے خرچ نہیں کرتے‘ جو اس کے نتائج سے فائدہ اٹھا کر اربوں روپے کما سکتے ہیں۔ پاکستان میں ذہانت اور ہنرمندی کی کمی نہیں۔ میں نے کامرہ میں پاکستان ایئرفورس کا ورکشاپ دیکھا ہے‘ جہاں جدید ترین طیاروں کا بڑا حصہ بنایا جاتا ہے اور مرمت اور اوور ہالنگ کی جاتی ہے۔ وہاں پر میں نے گجرات سے تعلق رکھنے والے ایک ان پڑھ شخص کو دیکھا‘ جو کوئی پرزہ بنانے میں مصروف تھا۔ پتہ چلا کہ وہ اعلیٰ تربیت یافتہ انجینئرز کی طرح کام کر تا ہے۔ یہ سولہ سترہ سال پہلے کی بات ہے۔ ہم نے یہ بھی سن رکھا ہے کہ 1965ء کی جنگ میں جب امریکہ نے طیاروں کے فالتو پرزوں کی فراہمی بند کر دی‘ تو دوران جنگ ہنگامی طور پر جن پرزوں کی ضرورت پڑی وہ گوجرانوالہ کے دیسی مستریوں نے دیکھتے ہی دیکھتے تیار کر کے‘ ایئرفورس کے حوالے کر دیئے تھے۔ وزیراعلیٰ کا تعلق ایک صنعتکار گھرانے سے ہے۔ ان سے بہتر تحقیق اور ترقی کے شعبے کے کردار کو کون سمجھ سکتا ہے؟ یہ تحقیقی یونیورسٹی تھوڑے ہی عرصے میں اپنے اخراجات خود پورے کر سکتی ہے‘ کیونکہ اس میں ہونے والی ایجادات کی پروڈکشن سے مسلسل منافع ملے گا اور اسی سے اس یونیورسٹی کے اخراجات پورے ہوتے رہیں گے اور ملک کو ترقی اور روزگار کے جو نئے نئے ذرائع دستیاب ہوں گے‘ وہ ہمیں صنعت و معیشت کی مضبوط بنیادیں مہیا کریں گے۔ 


    Powered by Control Oye