پہلا لقمہ کون بنے گا

 
پہلا لقمہ کون بنے گا…؟,,,,نقش خیال…عرفان صدیقی 
 
 
 
تفصیلی فیصلہ ، محض ان دلائل، وجوہات، محرکات اور شواہد سے بحث کرتا ہے جو کسی مخصوص فیصلے پر پہنچنے کا سبب بنتے ہیں۔ قابل عمل اور لائق نفاذ اقدامات کی وضاحت مختصر حکمنامے میں ہی کردی جاتی ہے۔ عمومی روایت یہی ہے کہ انتظامیہ ، تفصیلی فیصلے کا انتظار کئے بغیر فوری طور پر مختصر فیصلے پر عمل درآمدکا اہتمام کردیتی ہے۔ دنیا بھر میں یہی ہوتا ہے اور خود ہمارے ہاں یہی مشق ہے۔ پرویز مشرف کے دور آمریت میں جب سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی بینچ نے 20/جولائی 2007ء کو معزول چیف جسٹس ، مسٹر جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کا فیصلہ صادر کیا تو مطلق العنان اور رعونت کی آخری حدوں کو چھوتے خودسر حکمران نے بھی یہ دلیل نہ دی کہ تفصیلی فیصلہ آنے میں تقریباً ڈھائی سال لگ گئے۔
این۔آر۔او کے بارے میں عدالت عظمیٰ کے سترہ رکنی بینچ کا تفصیلی فیصلہ، دراصل 16/دسمبر کے مختصر اور فوری طور پر نافذالعمل فیصلے کی تشریح و تفسیر ہے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد پاکستان کے آئین، عدالتی نظائر اور انصاف کے تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے بتایا ہے کہ این۔آر۔او کو کیوں کالعدم قرار دیا گیا۔ مختصر فیصلے کے کسی نکتے کے بارے میں اگر کوئی ابہام تھا تو وہ دور ہوگیا ہے۔ حکومت پہلے ہی نظرثانی کی درخواست دائر کرچکی ہے۔ ایسی ہی درخواستیں نیب کے اہلکاروں اور سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم کی طرف سے بھی داخل کی گئی ہیں۔ روایات کے مطابق یہی سترہ رکنی بینچ ان درخواستوں کی سماعت کرکے فیصلہ دے گا کہ کیا عدالت نے واقعی ٹھوکر کھائی ہے اور درجنوں غلطیوں کا ارتکاب کیا ہے یا سنادیا جانے والا فیصلہ ہی حتمی ہے۔
سپریم کورٹ نے این۔آر۔او کو متعدد وجوہات کی بنا پر خلاف آئین و قانون قرار دیتے ہوئے 5/اکتوبر 2009ء سے پہلے والی صورت حال ، جوں کی توں بحال کردی ہے، گویا این۔آر۔او نامی آرڈی ننس کبھی جاری ہی نہ ہوا تھا۔ کہا گیا ہے کہ بلا استثناء ان تمام شخصیات کے خلاف دائر مقدمات اسی نکتے سے شروع کئے جائیں جہاں وہ این۔آر۔او کے نفاذ سے پہلے کھڑے تھے۔ عدالت نے فلپائن کے مارکوس اور نائیجریا کے اباچا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سوئس بینکوں میں پڑی قوم کی دولت واپس لائی جانی چاہئے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ”آئین پر عمل درآمد کسی صورت میں کبھی قانون کی حکمرانی کو غیرمستحکم نہیں کرتا اس کے برعکس آئینی تقاضوں سے انحراف عدم استحکام کا باعث بنتا ہے۔ لہٰذا قانون کی بالا دستی قائم کرنے کی ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے اور اسی کو یہ ذمہ داری سنبھالنا چاہئے جسے مقننہ میں بھی اکثریت حاصل ہے۔“ عدالت مزید کہتی ہے۔ ”بہت سے لوگ ایسے بھی ہوسکتے ہیں جو معصوم اور بے گناہ ہوں لیکن انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ ایسے افراد کو یہ فیصلہ ایک اچھا موقع فراہم کرتا ہے کہ ساری عمر ایک الزام کے سائے تلے گزارنے کے بجائے وہ عدالتوں کے ذریعے اپنی بے گناہی کی سند حاصل کرلیں۔ یہ ان لوگوں کو بہترین جواب ہوگا جنہوں نے بدنیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے سیاسی حریفوں کے خلاف بے بنیاد مقدمات دائر کئے اور ان کی شہرت کو نقصان پہنچایا۔“
حکومت کا حلقہ مشاورت سر جوڑے بیٹھا ہوگا۔ ایک طرف صدر آصف علی زرداری ہیں جن کی ذات این۔آر۔او کے سارے کھیل کا مرکزی نکتہ ہے۔ ان کے سامنے دو راستے ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ واعظانہ رنگ اور خطبانہ آہنگ اختیار کئے بغیر نرم و لطیف الفاظ میں پوری سنجیدگی و متانت کے ساتھ عدالتی فیصلے کو تسلیم کرلیں۔ آئین کے آرٹیکل 248 کے بارے میں آئینی ماہرین کی رائے میں اختلاف ہے۔ بڑے حلقے کا خیال ہے کہ صدر مملکت کو کسی عدالت میں طلب نہیں کیا جاسکتا لیکن کسی مبینہ جرم کے حوالے سے ان کے خلاف تحقیقات یا کارروائی پر کوئی قدغن نہیں۔ دنیا بھر میں اس کی بیسیوں مثالیں موجود ہیں۔ ایک حلقے کے مطابق صدر کو حاصل استثناء مطلق ہے۔ اور جب تک وہ اپنے عہدے پر فائز ہیں، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوسکتی۔ ان دونوں نکتہ ہائے نظر سے ہٹ کر ، صدر خود عدالت عظمےٰ سے کہہ سکتے ہیں کہ میں اپنے خلاف عائد الزامات کے حوالے سے آرٹیکل 248 کو دفاعی ڈھال بنانے یا اس کے خول میں پناہ لینے کے بجائے مقدمات کا سامنا کرنا چاہتا ہوں۔ وہ خم ٹھونک کر میدان میں آجائیں اور ثابت کردیں کہ تمام داخلی اور خارجی مقدمات ان کے سیاسی حریفوں کی بدنیتی کا شاہکار تھے۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ عدالتوں میں اپنی پاک دامانی کا مقدمہ لڑنے کے بجائے عدالت کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہوجائیں اور اس کے دامن کی دھجیاں اڑانے لگیں۔ مزاحمت ، للکار اور پیکار کے اس رویے سے ان کے خلاف مقدمات نہیں کھل سکیں گے البتہ ایک نیا میدان ضرور سج جائے گا۔
ایک اوسط ذہانت کا حامل شخص بھی سمجھ سکتا ہے کہ دوسرا راستہ جناب زرداری کو کن بھول بھلیوں کی طرف لے جائے گا اور نوزائیدہ جمہوریت کن شدید خطرات سے دوچار ہوجائے گی۔ آئینی طور پر عدالتی فیصلے کو لفظاً اور معناً عملی جامہ پہنانے کی ذمہ داری حکومت کی ہے جس کے سربراہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور ان کی کابینہ ہے۔ سینئر قانون دان ایس۔ایم ظفر ایک ٹی وی شو میں بتارہے تھے کہ عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں عدالت عظمیٰ حکومت کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرکے وزیراعظم کو طلب کرسکتی ہے۔ ماضی میں اس کی نظیر موجود ہے جب جسٹس سجاد علی شاہ نے وزیراعظم نواز شریف کو عدالت میں طلب کرلیا تھا اور وہ عدالت کے سامنے پیش ہوگئے تھے۔ اگر عدالت وزیراعظم گیلانی کی حکومت کو عدالتی فیصلے پر عمل نہ کرنے کا ذمہ دار ٹھہرا کر توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتی ہے تو ایک نیا بحران جنم لے گا جو جانے کیا کیا کچھ بہا لے جائے گا۔
کیا جناب صدر اپنے اسی حلقہ مشاورت سے راہنمائی لیں گے جو صرف راکھ سے چنگاریاں چننے اور انہیں الاؤ میں بدلنے کا ہنر جانتا ہے؟ کاش ایسا نہ ہو۔ اس قماش کا ایک بے سروپا ٹولہ پرویز مشرف کو بھی گھیر گھار کر گھنے جنگلوں میں لے آیا تھا۔ صدر زرداری بھی ایسے ہی آتش مزاجوں کے طفیل بند گلی میں داخل ہونے کو ہیں۔ این۔آر۔او کے مختصر فیصلے کے بعد جس کسی نے بھی انہیں جارحانہ دفاع کا مشورہ دیا اور نو ڈیرو تقریر کا بارود فراہم کیا، وہ یقیناً ان کا دوست نہیں اور ہے بھی تو نادان دوست ہے۔ صدر کو بہ یک وقت فوج، عدلیہ ، میڈیا اور نرم خو اپوزیشن کے سامنے لاکھڑا کرنا ، پرلے درجے کی بے حکمتی ہے۔ جناب صدر مسلسل موت ، شہادت، قبرستان ، سازش اور چور جیسے الفاظ استعمال کررہے ہیں جن سے جھنجھلاہٹ جھلکتی ہے۔ اگر وہ آتش زیر پارہیں گے تو نہ پارٹی کے اوسان بحال ہوں گے نہ حکومت کے اعصاب کا تناؤ کم ہوگا۔
اگلے چند گھنٹے اہم ہیں۔ اگر صدر زرداری ، فتنہ گروں کے چنگل سے نکل کر ، راستی کا مستقیم راستہ نہیں چنتے اور شمشیر زنی کو ہی کلید کامیابی سمجھ بیٹھتے ہیں تو ایک ہلاکت آفرین طوفان یقینی ہے۔ اس طوفان کا پہلا لقمہ کون بنے گا؟ یہ کوئی مشکل سوال نہیں۔


    Powered by Control Oye