ایسا بھی ایک وزیرِ اعظم ہے

 
ایسا بھی ایک وزیرِ اعظم ہے,,,,ناتمام…ہارون الرشید 
 
 
 
اگر اللہ حکمرانوں پر مہربان ہوا کرتا تو ان پر آشکار ہوتا کہ سادگی اور سچّائی کتنی بڑی نعمت ہے، کیسی عظیم نعمت اور کرّوفر کیسا عذاب ہے۔ اللہ مگر بے نیاز ہے۔
پون گھنٹے کی تاخیر سے وزیرِ اعظم کمرے میں داخل ہوئے اور انہوں نے کہا: معاف کیجئے ، تاخیر بہت ہو گئی"کوئی بات نہیں"میں نے جواب دیا"آپ کی نوکری ہی ایسی ہے"اس پر ایک قہقہہ پڑا ، سب لوگ اپنی کرسیوں پر بیٹھ گئے اور فوراً ہی گفتگو کا آغاز ہوا، کسی تمہید کے بغیر۔
موصوف کے ساتھ میری ایسی ہی بے تکلفی ہے ۔ ایک بات طے شدہ ہے ، ان کی سرکار سے میرا کوئی تعلق نہیں، اپنا ذاتی کام تو کیا ، کسی اور کی سفارش تک نہیں۔ اسی طرح میری اخبار نویسی سے ان کا کوئی واسطہ نہیں۔ تعلق کی نوعیت مگر ایسی ہے ، جب کشمیری رہنما یٰسین ملک نے جو ایک اور عزیز دوست ہیں، یہ سوال کیا کہ کیا وزیرِ اعظم ان کی دعوتِ ولیمہ کے لیے سری نگر آئیں گے یا نہیں تو ان کی موجودگی میں ، میں نے کہا: کیسے نہ آئیں گے، گردن سے پکڑ کر ہم لے آئیں گے۔ پرسوں پرلے روز امورِ کشمیر کے ماہر ارشاد محمود سے میں نے کہا: کتنے دن ہوگئے، وزیرِ اعظم نے ملاقات کا وعدہ کیا تھا۔ ان سے کہو ، میرے ہاں تشریف لائیں یا اپنے گھر میں دیسی مرغی پکوانے کا حکم دیں اور تاریخ سے مطلع کریں۔ چند منٹ میں انہوں نے مطلع کیا... "منگل کی شام آٹھ بجے"
آٹھ بجنے میں دس منٹ باقی تھے، جب میں پریس کلب کے قریب پہنچا اور فون پر ارشاد محمود سے کہا کہ وہ باہر آجائیں، وقت اتنا کم ہے کہ بمشکل ہم پہنچ پائیں گے۔"بہت وقت پڑا ہے"انہوں نے جواب دیا، ابھی وہ پہنچے ہی نہیں۔ پریس کلب میں ٹھنڈک بہت تھی اور ارشاد محمود غائب تھے۔ کچھ دیر میں وہ مل گئے مگر اصرار کیا کہ ابھی انتظار کرنا چاہئے، روانگی میں تعجیل نہ چاہئیے۔
آخر کار ہم روانہ ہوئے اور سیکیورٹی کے دہرے حصار سے گزرتے ہوئے منزلِ مقصود پہ جا پہنچے۔ آثار سے لیکن آشکار تھا کہ وزیرِ اعظم موجود نہیں۔ مرکزی دروازے پر تین چار آدمی منہ اٹھائے کھڑے تھے آزاد اور لا تعلق ۔ "یا خدا ، یہ کیسے لوگ ہیں" میں نے کہا" ایسے نازک زمانے میں ایسی بے اعتنائی، گاڑی کی تلاشی تک نہ ہوئی" "یہ سب کشمیری ہیں"ارشاد محمود نے کہا"میں انہیں جانتا ہوں ، وہ ہمیشہ سے ایسے ہی بے نیاز ہیں"
وہ ایسے بھی بے نیاز نہ تھے۔ تین طرح کے مشروب لائے گئے، ملک شیک ، سیب کا جوس اور مالٹے کا۔ چوہدری پرویز الٰہی مجھے یاد آئے، جون 2004ء کی بات ہے ، ملاقاتیوں کے ایک ہجوم کو میں نے دیکھا کہ آڑو کا رس ، ان میں داتا دربار کی طرح بٹ رہا تھا۔ رنج سے میں نے کہا : سنکجبین یا تربوز کا جوس کیوں نہیں؟ خیرہ کن قالین ، فوارے اور ایک میلے کا سماں ۔ ان دنوں وہ شہباز شریف پر برستے ہیں اور انہیں نالائق ثابت کرنے پر تلے ہیں۔ سرکاری وسائل میں جیسا اسراف میں نے چوہدری صاحب کو کرتے دیکھا، اس کی مثال کم ملے گی۔ ان کے مقابلے میں شہباز شریف بے حد کفایت شعار ہیں اور کہیں زیادہ متحرک۔ خامیاں ان کے اندازِ کار میں بھی پائی جاتی ہیں لیکن پرویز الٰہی؟ اپنے اخبار نویس دوستوں پر مجھے حیرت ہے ۔ وہ بھی مگر مجبور ہیں، اس ملک میں اسی طرح کے لیڈر پائے جاتے ہیں۔
ویٹر سے میں نے کہا: ایسی ٹھنڈ میں یہ شربت؟ کمال شائستگی سے اس نے جواب دیا"صاحب! پھلوں کا رس ہے"۔تین آدمیوں کے لیے چار گلاس کیوں لائے گئے؟ لیکن اتنی دیر میں ایک صاحب اور آن براجے اور فرمایا "جنرل حمید گل کے ہاں ، آپ سے ملاقات ہوئی تھی؟"ایسے لوگ مجھے بہت اچھے لگتے ہیں جو ماضی کے واقعات دہراتے رہیں اور دہراتے ہی رہیں۔
خیر اتنے میں وزیرِ اعظم آگئے اور گزرے ہوئے چند مہینوں کی روداد کا آغاز ہوا۔ ظاہر ہے امورِ مملکت نہیں مگر وہ باتیں جو بتائی جا سکتی ہیں اور یہ تو آشکار ہی تھا کہ اخبار میں لکھّی نہ جائیں گی۔ مثلاً وزیرِ اعظم بننے کے بعد صدر آصف علی زرداری کے ساتھ اپنی اولین ملاقات کی تفصیل۔ پھر جیسا کہ دوستوں میں ہوتا ہے ، کچھ ادھر ادھر کی باتیں اور پھر میاں محمد نواز شریف کے ساتھ ایک سرکاری وفد کے تبادلہء خیال کا کچھ احوال۔
ارشاد محمود نے وزیرِ اعظم کے پرسنل سیکرٹری سے آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ کہا اور وہ دونوں ہنس دئیے۔ اس شوخ چشمی پر مجھے حیرت ہوئی ۔ اگر وزیرِ اعظم نرم خو واقع ہوئے ہیں تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی پرواہ ہی نہ کی جائے۔ سبھی جانتے ہیں کہ وہ ایک سنجیدہ آدمی ہیں ؛اگرچہ پیوست زدہ نہیں مگر ایسی بھی کیا آزاد روی؟ ۔۔۔بعدمیں میرے استفسار پر ارشاد محمود نے کہا: ہم دونوں نے گھڑی کی طرف دیکھا اور سیکرٹری صاحب کی اس پیش گوئی کو یاد کر ہنس پڑے کہ جس تاریخ میں ملاقات کا آغاز ہوا ہے ، اختتام اس سے اگلی تاریخ پر ہوگا، شب بارہ بجے کے بعد۔
وزیرِ اعظم سے میں نے کہا: کیا ان کی حکومت کو جنگلات کی اہمیت کا ادراک ہے؟"جی ہاں"انہوں نے کہا"تجارتی پیمانے پر لکڑی کاٹنے کا سلسلہ جلد ہی ختم کر دیا جائے گا اور جنگلات میں اضافہ ہونے لگے گا،"سیاحت؟ "وزیرِ اعظم نے کچھ تفصیل بیان کی لیکن پھر ارشاد محمود نے ٹوکا"پن بجلی کی بات کیجئے"وزیرِ اعظم نے سر ہلا کر تائید کی مگر مشکلات کا تذکرہ نہ کیا ۔ "کیا یہ موزوں نہ ہوگا کہ چینیوں سے بات کی جائے"جی ہاں، مظفر آباد کا منصوبہ انہی کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے بعد تعلیم، ٹھیکیداری نظام، کرپشن، تعمیراتی ماہرین کی تربیت اور آخر میں خود کش حملوں پر بات ہوئی۔ میں نے کچھ ماہرین کے نام تجویز کئے ، جن سے وزیرِ اعظم کو تبادلہء خیال کرنا چاہئے۔ حیرت انگیز طور پر تمام تجاویز سے انہوں نے اتفاق کیا۔ یہ بھی عرض کیا کہ میں ان چیزوں کے لیے حاضر نہ ہوا تھا، کھانا کھانے اور گپ لگانے آیا تھا ۔ گفتگو ، اس قدر ہموار اور مرتب نہ تھی، لطیفے اور حکایات بھی۔کہا،پہلے دن سے تہیہ کر رکھا ہے کہ سفارش نہ سنوں گا، خاص طور پر عدلیہ کے معاملے میں۔لوگ مگر باز نہیں آتے۔میں نے کہا : دو راستے ہیں، خلقِ خدا کی خوشنودی یا اپنے ضمیر کی۔پہلا راستہ مشکل بہت ہے مگر آسان بھی وہی ہے۔ بولے:آسان ہے، ہمارے لیے تو اللہ نے آسان ہی رکھّا۔ خدا حافظ کہتے ہوئے، وزیرِ اعظم کو میں نے یاد دلایا کہ کس کس شخص سے ان کی ملاقات ضروری ہے اور یہ کہ اب وہ خود ہی مجھ سے رابطہ کریں گے۔
ہاں! ایک آخری بات، قدرے رنج کے ساتھ میں نے ان سے یہ کہا : اگر تاریخ سے کوئی سبق سیکھنا چاہئیے تو سرکاری روپے کا اوّلین مصرف محتاجوں کی مدد ہے، ترقیاتی منصوبے اس کے بعد آتے ہیں اور ان میں تعلیم سب سے زیادہ اہم ہے ۔ وزیرِ اعظم نے کہا: یہ بات انہیں خوب یاد ہے اور یہ بھی یاد ہے کہ ایک دن انہیں خدا کے حضور حاضر ہونا او راقتدار کے مہ و سال کا حساب دینا ہے ۔ خدا حافظ، اس دن تک کے لیے خد احافظ ، جب کہیں اور ملیں گے، شاید کسی چاندنی شب میں ، کسی جنگل میں، کسی کشادہ ریسٹ ہاؤس کے برآمدے یا صحن میں ، خدا حافظ۔
جی ہاں ، یہ ملاقات پاکستان کے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم راجا فاروق حیدر سے رہی۔ کسی پاکستانی حکمران سے ایک عام آدمی اس بے تکلفی سے کیونکر بات کر سکتا ہے۔
اگر اللہ حکمرانوں پہ مہربان ہوتا تو ان پر آشکار ہوتا کہ سادگی کتنی بڑی نعمت ہے ، کیسی عظیم نعمت اور کرّوفر کیسا عذاب ہے۔ اللہ بڑا بے نیاز ہے، حکمرانوں کو وہ مال و دولتِ دنیا تو دیتا ہے ، جاہ و حشمت بھی مگر علم اور سچّی مسرت سے اکثر انہیں بہت تھوڑا سا حصّہ ملتا ہے ۔ وہم و گماں بہت، اندیشے بہت، طاقت کی تمنّا بہت اور آنے والے دنوں کا خوف بہت۔ اللہ بے نیاز ہے، بہت بے نیاز، مگر ان سے نہیں جو جھک جاتے ہیں اور فریاد کناں ہوتے ہیں۔واپسی پر ارشاد محمود سے میں نے یہ کہا: میں تو فقط یہ دیکھنے گیا تھا کہ فاروق حیدر حکمران بن کر بدل تو نہیں گئے، خدا کا شکر ہے کہ وہ نہیں بدلے ۔ اللہ انہیں اسی حال میں رکھّے، شادمان رکھّے۔۔۔ایوانِ اقتدار میں ایک عام آدمی کی طرح، اکل کھرا، بے باک، ناتراشیدہ اور سادہ سا آدمی ۔۔۔سچ کی طرح سادہ


    Powered by Control Oye