اور ہم ہنس رہے ہیں

 
اور ہم ہنس رہے ہیں,,,,سویرے سویرے … نذیر ناجی 
 
 
 
میں ابھی تک حیرت میں ہوں کہ بھارت کے فوجی سربراہ کے اس بیان پر کہ ان کا ملک پاکستان اور چین دونوں کا مقابلہ کر سکتا ہے اور انہیں ہرانے کی طاقت رکھتا ہے‘ ہمارے سیاسی اور فوجی ترجمانوں نے جو ردعمل ظاہر کیا‘وہ انتہائی سطحی اور جذباتی ہے۔ بھارت کے معاملے میں پاکستانی میڈیا کے بڑے حصے کی مخصوص ذہنیت تو کبھی غوروفکر سے کام نہیں لیتی۔ ہمارے ہاں تو ایسے ایڈیٹر بھی پائے جاتے ہیں‘ جو اس خواہش کا اظہار کرتے رہتے ہیں کہ ان کی کمر پر بم باندھ کر انہیں بھارت کی کسی تنصیب پر پھینک دیا جائے۔ کسی خدا کے بندے نے بھارتی جنرل کے اس بیان کے مضمرات جاننے کی کوشش نہیں کی۔ چین اور پاکستان کو بریکٹ کرنے کی وجہ اور اس کا پس منظر کیا ہے؟ یہ سوال کسی نے نہیں اٹھایا اور یہ بھی کسی نے نہیں سوچا کہ اس بیان کا موقع محل کیا ہے؟ ہمارے لیڈر تو جنرل کپور کو پاگل کہہ کر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے اور فوج کی طرف سے دیئے گئے‘ جواب میں کہا گیا ہے کہ جنرل کپور کو پاک فوج کا اچھی طرح پتہ ہے۔ یہ لکھتے ہوئے دل دکھتا ہے کہ 65ء‘ 71ء اورکارگل کی جنگوں کے علاوہ بھارت کو ہمارے ساتھ کسی جنگ کا تجربہ نہیں اور مذکورہ جنگوں کے بل بوتے پر دشمن کو یہ کہنا‘ وہ ہمیں جانتا ہے‘ موزوں نہیں لگتا کیونکہ ان جنگوں میں دشمن نے جو کچھ جانا‘ وہ اس کے لئے ہرگز باعث خوف نہیں اور ان جنگوں کے بعد ‘ بھارت کو ہم سے ٹکرانے کا کوئی تجربہ نہیں ہے‘ جس کے بل پرہم اسے جتا سکیں کہ وہ ہمیں اچھی طرح جانتا ہے۔ خدا کرے ایسا کوئی وقت نہ آئے کہ ان دو ایٹمی ملکوں میں محض ایک دوسرے کو سبق سکھانے کی خاطر جنگ چھڑجائے۔ سبق تو تب سیکھا جاتا ہے جب کوئی محفوظ رہے۔ ایٹمی جنگ کے بعد رہے گا کون؟ جو سبق سیکھے گا۔
جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے‘ جنرل کپور کی دھمکی میں ایک خاص صورتحال کی نشاندہی موجود ہے۔ اگر ٹھوس معلومات نہ بھی ہوں تو یہ قیاس کرنے میں کوئی دقت نہیں ہونی چاہیے کہ اس دھمکی میں ہدف پاکستان ہے اور تنبیہ چین کے لئے ہے۔ بھارت کو اچھی طرح معلوم ہے کہ نہ وہ چین پر حملہ کر سکتا ہے اور نہ ہی چین آنے والے دو عشروں میں بھارت پر حملے کا ارادہ رکھتا ہے۔ چین کی واضح پالیسی اپنی تعمیر‘ استحکام اور طاقت کا حصول ہے۔ یہ طاقت معاشی بھی ہے اور فوجی بھی۔ وہ جس رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے‘ اس کا نشانہ امریکہ اور یورپ ہیں۔ وہ یہ عزم رکھتا ہے کہ مغرب کی ان طاقتوں کے مقابلے میں اتنی بڑی معاشی اور سیاسی طاقت بن جائے کہ اس کے ساتھ کسی کو جنگ کا حوصلہ ہی نہ پڑے۔چین تیسری دنیا کے بعض ملکوں کی طرح شکست خوردگی کی ذہنیت نہیں رکھتا۔وہ اس طرح سوچتا ہی نہیں کہ اسے مغرب سے آگے نکلنا ہے۔ چین کے رہنما اور دانشور اپنی ترقی کو گم شدہ میراث کی بازیابی سے تعبیرکرتے ہیں۔ وہ یہ نہیں کہتے کہ ہم مغرب کو پیچھے چھوڑیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ مغرب ہم سے پیچھے تھا اور ہم اس سے برتر تھے۔ ہم اپنی برتری واپس لانے کے لئے کوشاں ہیں۔ ماضی پہ فخر ہم بھی کرتے ہیں‘ مگر ہم اسی فخر پہ قانع ہیں۔ ہم اسے دوبارہ حاصل کرنے کا نہ کوئی منصوبہ رکھتے ہیں‘ نہ ارادہ اور نہ ہی اس حوالے سے ہم نے کوئی تیاری کی ہے۔ ہم ایسے راہ رو ہیں ‘ جنہیں اپنی منزل کا پتہ نہیں ہے۔ ہمارے رخ کا تعین حالات کے تھپیڑے کرتے ہیں۔
چند الفاظ جملہ معترضہ کے طور پہ آ گئے‘ اصل مدعا یہ بتانا تھا کہ بھارت کو اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ اور چین باہمی جنگ کے متحمل نہیں ہیں۔ دونوں کی ترجیحات ترقی اور مضبوطی کے سفر میں آگے بڑھنے کی ہیں۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ بھارت ‘پاکستان کے خلاف مستقبل قریب میں جارحیت کا پروگرام بنا رہا ہے۔ اسے اندیشہ ہے کہ ایسی صورت میں چین پاکستان کی فوجی مدد کے لئے نہ آ جائے۔ وہ ابھی سے پیش بندی کرتے ہوئے چین پر دباؤ کے حربے استعمال کر رہا ہے۔ اس دھمکی کے ساتھ ہی اس نے چین سے باضابطہ احتجاج بھی کیا ہے کہ وہ پاکستان کو خطرناک اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔ بھارت نے آزاد کشمیر میں چین کی سرمایہ کاری پر بھی اعتراض اٹھایا ہے اور ایک بار یہ دعویٰ پھر دہرایا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر اس کا علاقہ ہے۔ بھارت موجودہ حالات میں اپنے لئے ایسے مواقع پیدا ہونے کی امید کیوں کرنے لگا ہے؟ جس کا فائدہ اٹھا کر وہ پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کر سکے‘ اس سلسلے میں کسی شک و شبہے کی گنجائش نہیں۔
افغانستان اور پاکستان کے حوالے سے صدر اوباما نے 18 ماہ کے جس منصوبے کا اعلان کیا ہے‘ وہ زیرعمل آ چکا ہے۔ ان 18مہینوں کے دن گھٹنا شروع ہو چکے ہیں۔ اندراگاندھی نے مشرقی پاکستان میں فتح حاصل کرنے کے بعد مغربی پاکستان پر حملے کا ارادہ کر لیا تھا اور اس حملے کا جواز بتاتے ہوئے انہوں نے امریکیوں سے کہا تھا کہ بھارت پختون اور بلوچ قومیتوں کی مدد کرنا چاہتا ہے۔ لیکن امریکہ نے بھارت کے اس منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دیا اور براہ راست سوویت یونین کو دھمکی دے کر‘ بھارت پر دباؤ ڈلوایا کہ وہ اپنا ارادہ بدل دے۔ وقت کے ساتھ منصوبے بدلتے نہیں ہیں۔ بھارت جس کہانی کو مکمل کرنا چاہتا تھا اور 71ء میں وہ ادھوری رہ گئی تھی‘ اب اسے تکمیل کے امکان دکھائی دے رہے ہیں۔ امریکہ 18مہینوں میں جو کچھ کرنے والا ہے‘ ہم نے اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے ‘کسی قسم کی تیاری نہیں کی۔
ہم آج بھی اسی طرح باہم دست و گریبان ہیں ۔فرقہ وارانہ‘ سیاسی اور نظریاتی انتہاپسندی سے تشدد کی جو لہر اٹھی ہے‘ اس میں شدت آتی جا رہی ہے۔ کٹی پھٹی اور لولی لنگڑی جمہوریت ‘ جو بھاری نقصانات اٹھانے کے بعد حاصل ہوئی‘ ہم اس کے دھاگے ادھیڑنے پرتلے ہیں۔ علاقائی نفرتوں کو دور کرنے کے بجائے‘ انہیں سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ ادارے اداروں کو نیچا دکھانے پر تلے ہیں۔ انصاف کا دور دور تک پتہ نہیں۔ ایک سیاسی جماعت سے وابستہ وکلا کے وارے نیارے ہو رہے ہیں۔ دوسری جماعت سے تعلق رکھنے والے وکلا کو حقارتوں کا سامنا ہے۔ صدر زرداری کو غیرجمہوری طریقے سے نکال کر‘ جمہوری نظام کی سب سے بڑی گانٹھ کھول کر اسے ادھیڑدینے کی کوششیں ہیں۔
مسلسل عدم استحکام اور سیاسی محاذ آرائی‘ بے روزگاروں کی فوج اور مہنگائی میں تیزرفتاری سے اضافہ کر رہے ہیں۔فوج اپنے ہی تیار کردہ طالبان سے جنگ پر مجبور ہے اور جنہیں سٹریٹجک اثاثے تصور کیا گیا‘ وہ سٹریٹجک خطرہ بن چکے ہیں۔ ہمیں نہیں‘ لیکن بھارت کو اندازہ ہو رہا ہے کہ پاک افغان سرحدوں پر پاکستان کے غیرریاستی عناصر اور نیٹو اور امریکہ کی فوجوں میں معرکہ آرائیاں جلد ہی شروع ہونے والی ہیں۔ پختونخواہ اور بلوچستان پر ملک کی انتظامی گرفت پہلے ہی ڈھیلی ہے۔ سندھ اس سمت میں بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ بھارت کو جغرافیائی طور پر پختونخواہ اور بلوچستان تک رسائی نہیں۔ راستے میں سندھ حائل ہے۔ جب بھی کسی آمر نے سندھ کو مزاحمت پر مجبور کیا‘ پیپلزپارٹی جغرافیائی یکجہتی کی محافظ بن کر سامنے آ گئی۔ سندھ کے قوم پرست اس کے دشمن ہیں۔ انہیں غصہ ہے کہ پیپلزپارٹی ان کی کامیابی کے راستے میں حائل ہو جاتی ہے۔ وہ اس پارٹی کو نقصان پہنچانے کے لئے اس کی دشمن وفاقی طاقتوں کے حلیف بن جاتے ہیں۔ آج بھی وہی ہو رہا ہے۔ وہ پیپلزپارٹی کے دشمنوں کو حوصلہ دے رہے ہیں کہ زرداری کو ہٹانے سے سندھ میں کوئی ردعمل نہیں ہو گا۔ لیکن جیسے ہی صدر زرداری کو غیرآئینی طریقے سے نکالا گیا‘ یہ سب سندھ پر ظلم کا نعرہ لگاتے ہوئے میدان میں نکل آئیں گے اورانہیں یقین ہے کہ اس مرتبہ زخم خوردہ پیپلزپارٹی ان کا ساتھ دے گی۔ہمارے تمام ایکٹر ملک کو ایسے حالات کی طرف دھکیل رہے ہیں‘ جن میں بھارت کو اپنے دیرینہ خوابوں کی تعبیر دکھائی دے رہی ہے۔وقت آنے سے پہلے وہ چین کو پاکستان کی مدد سے روکنے کے جتن کر رہا ہے اور ہم دشمن کی گہری چالوں پر ہنس رہے ہیں۔


    Powered by Control Oye